3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 3:155–159

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے (احد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک خدا بخشنے والا (اور) بردبار ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی (جب) خدا کی راہ میں سفر کریں (اور مرجائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کے راستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکٹھے کیے جاؤ گے

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے ہیں تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو اور اپنے کاموں میں ان سے مشاورت لیا کرو اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسہ رکھو بیشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

قول باری ہے (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم۔ اے پیغمبر ! یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو) یہاں یہ کہا گیا ہے کہ حرف، ما، صلہ کے معنی دے رہا ہے یعنی فبرحمۃ من اللہ قتادہ سے اس قول کی روایت کی گئی ہے جیسا کہ یہ ارشاد باری ہے (عما قلیل لیصبحن ناد مین جلد ہی یہ لوگ نادم ہوجائیں گے) نیز قول باری ہے (فبما نقضھم میثاقھم، ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے میثاق کو توڑدینے کی بناپر) اس پر اہل لغت کا اتفاق ہے ان کا قول ہے کہ یہ حرف تاکید کے معنی دیتا ہے اور اس سے الفاظ کی نشست میں حسن پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اعشیٰ کا شع رہے۔ ؎ اذھبی ماالیک ادرکنی الحلم عدانی عن ھیجم اشفاقی اپنے کام سے کام رکھو، میرے اندرتحمل اور بردباری کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور تمھارے بھڑک اٹھنے کے بارے میں میراخوف مجھ سے آگے چلا گیا ہے۔ یعنی ختم ہوچکا ہے۔ یہاں حرف ما، زائد ہے۔ جولوگ قرآن میں مجاز کی نفی کے قائل ہیں ان کے قول کی یہاں تردید ہورہی ہے اس لیے کہ یہاں حرف، ما، کا ذکرمجانراکہوا ہے اور کلام سے اسے ساقط کردینے کی وجہ سے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی ۔ داعی الی اللہ کو نرم دل اور خوش اخلاق ہونا چاہے قول باری ہے (ولوکنت فظاغلیظ القلب لانفضوامن جولک، ورنہ اگر کہیں تم تندخو اورسنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے) یہ آیت دعوالی اللہ کے سلسلے میں نرمی اور نرم خوئی اختیار کرنے اور تندخوئی اور سنگ دلی ترک کرنے کے وجوب پر دلالت کررہی ہے، جیسا کہ ایک مقام پر ارشاد ہوا ہے (ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتیھی احسن۔ آپ اپنے پروردگار کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے بلائیے اور ان کے ساتھ پسند یدہ طریقے سے بحث کیجئے) اسی طرح حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا (فقولالہ قولا لینا لعلہ یتذکراؤیخشیٰ تم دونوں فرعون سے نرم انداز میں بات کروشایدا سے نصیحت ہوجائے یاڈرپیدا ہوجائے) مجلس شوری کے فوائد قول باری ہے (وشاورھم فی الامر اوردین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو) یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضور ﷺ پر وحی نازل ہوئی تھی۔ اس بناپر آپ کو اس چیز کی مطلقا ضرورت نہیں تھی کہ کسی مسئلے میں درست رائے معلوم کرنے کے لیے صحابہ کرام سے رجوع کریں یا ان کے مشوروں پرچلیں۔ پھر آپ کہ اس آیت میں ان سے مشورہ کرنے کا کیوں حکم دیا گیا ؟ اس سوال کے مختلف جوابات دیے گئے ہیں۔ قتادہ، ربیع بن انس اور محمد بن اسحاق کا قول ہے، کہ یہ حکم صرف صحابہ کرام کے دلوں کو خوش کرنے اور ان کی حیثیت بلند کرنے کی خاطردیا گیا تھا، اس لیے کہ ان کی رائے پر اعتماد کیا جاسکتا تھا اور مشورے کے لیے ان کی طرف رجوع بھی کیا جاسکتا تھا۔ سفیان بن عیینہ کا قول ہے کہ اس حکم کا مقصدیہ ہے کہ اس معاملے میں امت آپ کی پیروی کرے اور اس میں اپنی کسرشان نہ سمجھے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس پہلو سے تعریف فرمائی ہے کہ ان کے امور باہمی مشوروں ہے طے ہوتے ہیں۔ حسن اور ضحاک کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے تمام صحابہ کرام کو مشاورت میں اس لیے شامل کردیا کہ ان کی جلالت قدرظاہرہوجائے اور امت اس مسئلے میں حضور ﷺ کے نقش قدم پرچلے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ آپ کو صرف ان ہی مقامات میں مشورہ لینے کا حکم دیا گیا ہے، جو منصوص نہیں ہیں۔ اس قول کی مزید وضاحت میں ایک گروہ نے کہا ہے کہ صرف دنیاوی امور میں مشاورت کا حکم دیاگیا ہے۔ اس گروہ کے خیال میں حضور ﷺ دین کے کسی معاملے میں اپنے اجتہاد سے کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ البتہ دنیاوی امور میں یہ صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس لیے یہ جائز ہے کہ حضور ﷺ ان امور میں ان کی آراء سے مددلے لیں اور آپ کو تدبیر کی حد میں ایسی وجوہ کا علم ہوجائے کہ اگر صحابہ کرام کا مشورہ اور ان کی رائے نہ ہوتی تو آپ کو ان کا علم نہیں ہوسکتا تھا۔ معرکہ بدر کے ون حباب بن المنزرنے آپ کو پانی یعنی چشمے پر پڑاؤ ڈالنے کا مشورہ دیا تھا جسے آپ نے قبول کرلیا۔ اسی طرح حضرت سعدبن عبادہ ؓ اور سعدبن معا ؓ ذنے خندق کی جنگ میں بنوغطفان کو قریش سے توڑنے کے لیے مدینہ کے پھلوں کے ایک حصے پر مصالحت نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، اپ نے ان کا یہ مشورہ قبول کرلیا تھا اور تحریرپھاڑدی تھی۔ اسی طرح کی بہت سی اشیاء ہیں کا تعلق دنیاوی امور سے ہے۔ بعض دوسروں کا یہ قول ہے کہ حضور ﷺ اموردین، نیز ایسے نئے واقعات جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت نہ آئی ہو، اور ایسے دنیاوی امورجن میں اپنی رائے اور گمان غالب سے کام چلایاجاتا ہے صحابہ کرام سے مشورہ کرنے پر مامور اور اس کے پابند تھے۔ آپ نے غزدہ بدر کے موقعہ پر جنگی قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا تھا۔ جبکہ اس معاملے کا تعلق دینی امور سے تھا۔ آپ کا طریق کاریہ تھا کہ جب آپ صحابہ کرام سے کسی معاملے میں مشورہ کرتے تو سب سے پہلے حضرات صحابہ کرام اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے، آپ بھی رائے کے اظہار میں ان کے ساتھ شریک رہتے، اور پھر آپ کا اجتہادجس نتیجے پر پہنچتا اس پر آپ عمل کرلیتے۔ اس طریق کا ر میں بہت سے فوائد پوشدہ تھے۔ اول یہ کہ لوگوں کو یہ بتادیاجائے کہ جو امورمنصوص نہیں ہیں ان کے احکام معلوم کرنے کا ذریعہ اجتہاد اور ظن غالب ہے۔ دوم لوگوں کو صحابہ کرام کے مرتبے سے آگاہ کرکے یہ بتایاجائے کہ یہ حضرات اجتہاد کے اہل ہیں، اور ان کی آراء کی پیروی جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا درجہ اتنابلند کردیا ہے کہ اس کے نبی (ﷺ) ان سے مشورے کرتے، ان کی اجتہادی آراء کو پسند کرتے اور منصوص احکام الٰہی کی موافقت کے لیے ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں سوم۔ اس کے ذریعے یہ بتادیا گیا کہ صحابہ کرام کا باطن اللہ تعالیٰ کے ہاں پسند یدہ ہے، اس لیے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو حضور ﷺ کو ان سے مشورہ کرنے کا حکم نہ دیاجاتا۔ یہ چیز حضرات صحابہ کرام کے ایمان یقین کی صحت اور معاملات کی سوجھ بوجھ میں ان کی اونچی حیثیت، نیز نئے پیش آمدہ غیرمنصوص امور کے احکام میں اجتہاد کی گنجائش اور جواز پر دلالت کرتی ہے تاکہ حضور ﷺ کے بعد امت اس معاملے میں آپ کے نقش قدم پرچلتی رہے۔ آیت سے یہ مراد لینا درست نہیں ہے کہ حضور ﷺ کو محض صحابہ کرام کے دلوں کو خوش کرنے اور ان کی حیثیت بڑھا نے کی خاطرمش اور ت کا حکم دیا گیا تھا تاکہ بعد میں صحابہ کرام کے تعلق امت کا بھی یہی رویہ رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر صحابہ کرام کو یہ معلوم ہوتا کہ جن امور میں ان سے مشورہ لیاجارہا ہے ان کے احکام معلوم کرنے میں، نیز جن باتوں کے متعلق ان سے استفسارکیاجاریا ہے ان کے بارے میں صحیح رائے تک پہنچنے میں اپنی تمام کا دشیں صرف کرنے کے بعد بھی نہ وہ قابل قبول ہوں گی اور نہ ہی ان پر عمل کیا جائے ، تو اس کے بعد آخران کے دلوں کو خوش کرنے والی اور ان کے درجے کو بلند کرنے والی کون سی بات باقی رہ جاتی ہے۔ بلکہ اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اپنے آراء کے متعلق ایک خش پیدا ہوجاتی اور انھیں یہ احساس ہوجاتا کہ ان کی یہ آراء ناقابل قبول اور ناقابل عمل ہیں۔ اس بناپردرج بالا تاویل ساقط اور بے معنی ہے۔ اس وضاحت کے بعد اس شخص کی تاویل کی کہاں سے گنجائش نکل سکتی ہے، جس کا قول ہے کہ مشاورت کا حکم محض اس واسطے دیا گیا ہے کہ امت بھی اس رویے کو اپنالے جبکہ اس قائل کے نزدیک امت کو اس بات کا علم ہے کہ صحابہ کرام کے ساتھ حضور ﷺ کی مشاورت کانہ کوئی نتیجہ نکلا اور نہ ہی ان حضرات کے دیے ہوئے کسی مشورے پر عمل ہوا۔ اب اگر امت کو بھی اس کی اقتداء کرنی چاہیے تو پھر یہ واجب ہوگا کہ مسلمانوں کا آپس میں مشورہ اسی ڈھنگ اور اسی نہج کا ہو۔ اور مشورہ کے نتیجے میں نہ تو کسی درست رائے کا پتہ چل سکے اور نہ ہی کسی رائے پر عمل ہوسکے۔ اس لیے کہ تاویل بالا کے قائلین کے ہاں حضور ﷺ اور صحابہ کرام کے درمیان مشاورت کی یہی نوعیت تھی۔ اب اگر امت اپنے باہمی مشورے سے کسی صحیح رائے پرنہچ جاتی ہے یا کسی رائے پر عمل کرلیتی ہے تو اس کا یہ طرزعمل صحابہ کرام کے اس طرزعمل اور نقش قدم پر نہیں ہوگا جو حضور ﷺ نے ان سے مشاورت کے سلسلے میں اپنایا تھا۔ جب اس وضاحت کی روشنی میں اس قول کا بطلان ثابت ہوگیا تو اب اس کے سوا اور کوئی وجہ باقی نہیں رہی کہ حضور ﷺ کا صحابہ کرام سے مشورہ کسی درست رائے تک پہنچنے اور اسے نتیجہ خیزنبانے کی خاطر ہوتا تھا جس کے ساتھ حضور ﷺ کے لیے اپنی رائے سے کام لینے اور ان کی رائے قبول کرنے کی گنجائش ہوتی تھی۔ پھر اس صورت میں یہ جائز ہوتا کہ حضرات صحابہ کرام کی رائے حضور ﷺ کی رائے کے موافق ہوجائے یا ان میں بعض کی رائے آپ کی رائے کے موافق ہوجانے اور یہ بھی جائز ہوتا کہ حضور ﷺ سب کی رائے کے خلاف رائے دیننے اور اپنی رائے پر عمل کرلیتے ۔ مشاورکایہ پوراڈھا نچہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ صحابہ کرام اپنی رائے کا اظہارکرکے تنقیدو ملامت کا بدف نہ بنتے، بلکہ اللہ کی طرف سے دیے ہوئے حکم پر عمل پیرا ہونے کی بناپراجر کے مستحق ٹھہرتے۔ پھر جب حضور ﷺ ایک رائے پر عمل پیرا ہوجاتے تو اس صورت میں اپنی اپنی رائے ترک کرکے حضور ﷺ کی رائے کی اتباع واجب ہوجاتی۔ اس بحث کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ حضور ﷺ کی صحابہ کرام سے مشاورت امور میں ہوتی جو منصوص نہ ہوتے۔ اس لیے کہ منصوص امور میں مشاورت کی سرے سے گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ آپ کے لیے یہ ہرگز درست نہ ہوتا کہ آپ صحابہ کرام سے مثلا نماز ظہریاعصہ یا نظام زکوۃ یاصیام رمضان کے متعلق ان کی رائے معلوم کرتے۔ اب چونکہ اللہ تعالیٰ نے اموردین کو امو دنیا سے علیحدہ نہیں کیا بل کہ نظام شریعت میں دونوں کو شامل رکھا ہے اور پھر پیغمبر ﷺ کو مشاورت کا حکم دیا تو اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ مشاورت کا حکم اموردین اور دنیا دونوں سے متعلق ہو۔ نیز امور دنیا میں آپ کی مشاورت کا تعلق بھی اموردین سے ہوتا تھا۔ وہ اس طرح کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ جب آپ امور دنیا کے متعلق صحابہ کرام سے مشورہ کرتے تو یہ مشورہ کفار کے خلاف جنگی کارروائیوں اور دشمنوں کی سازشوں اور جنگی چالوں کو ناکام بنانے کے متعلق ہوتا۔ حضور ﷺ چونکہ کفاف کی زنا گی گزارتے تھے جس میں بس قوت لایموت بی کی گنجائش ہوتی تھی اس لیے آپ کو اپنی معاش اور امر دنیا کی تدبیروانتظام کے سلسلے میں سرے سے کسی مشورے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی تھی جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ صحابہ کرام سے امور دنیا کے متعلق آپ کا مشورہ دراصل اموردین سے بی تعلق رکھتا تھا۔ ایسے معاملات میں اجتہاد رانے سے کام لینے اور غیہ منصوص امور کے احکام معلوم کرنے کے لیے اجتہاد رائے کو استعمال کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے، اس طریق کا ر میں ان حضرات کے قول کی صحت کی دلیل موجود ہے جو نئے پیداشدہ امور کے احکام کے لیے اجتہادرائے سے کام لینے کے قائل ہیں، نیز اس پر بھی دلالت ہورہی ہے، کہ اجتہادرائے سے کام لینے والے ہر مجہدکاعمل مبنی برصواب ہے، نیز یہ کہ حضور ﷺ بھی غیر منصوص امور میں اجتہاد رائے سے کام لیتے تھے۔ قول باری (فاذاعزمت فتوکل علی اللہ) کا مشاورت کے ذکر کی ترتیب میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ غیر منصوص امور میں صحابہ کرام کے ساتھ مل کر اجتہاد رانے سے کام لیتے اور اپنی غالب رائے پر عمل کرتے تھے۔ اس لیے کہ اگر آپ کسی منصوص ام میں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی راہنمائی ہوجاتی۔ صحابہ کرام سے مشورہ کرتے تو یقینا آپ کی عزیمت مشاورت پر مقدم ہوتی۔ اس لیے کہ نص ک اورود، مشاورت سے پہلے ہی عزیمت کی صحت کا موجب ہوجاتا۔ اب جبکہ ترتیب آیت میں عزیمت کا ذکرمش اور ت کے بعد آیا ہے تو یہ اس پر دلالت کردیا ہے کہ عزیمت مشاورت کے نتیجے میں پیداہوئی ہے اور یہ کہ اس سے پہلے اس معاملے میں کوئی نص دارد نہیں ہوئی تھی۔
Ayahs 3:160–161

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لا حاضر کرنی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

خیانت بہت بڑاجرم ہے قول باری ہے (وماکان لنبی ان یغل ۔ کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ خیانت کرجائے) ایک قرات، می لفظ (یغل) کو حرف یاء کی رفع کے ساتھ پڑھاگیا ہے جس کے معنی یخان ، خیانت کیا جائے کے ہیں، حضور ﷺ کے ساتھ خیانت کیے جاتے کا خصوصی طور سے ذکر ہوا ہے۔ اگرچہ سب انسانوں کے ساتھ خیانت ممنوع ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ساتھ خیانت کرنا کسی اور کے ساتھ خیانت کرنے کے مقابلے میں بہت بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ قول بارے ہے (فاجتنبوالرجس من الاوثان واجتنبواقول الزور۔ تبوں کی گندگی سے بچو اورجھوٹ بولنے سے پرہیز کرو) اگرچہ برقسم کی گندگی سے ہمیں بچنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن بت برستی کی گندگی، دوسری تمام گندگیوں سے بڑھ کر ہے، اس لیے اس سے بچنازیادہ فروری ہے ۔ حسن سے یہی تاویل مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعیدبن جبیر کا قول باری (یغل) حرف یار کی رفع کے ساتھ قرات کی صورت میں، قول ہے کہ اس کے معنی یخون ، کے ہیں یعنی کہ حضور ﷺ کی ذات اقدس کی طرف خیانت کی نسبت کی جائے، ان کا کہنا ہے کہ غزوہ بدر کے موقعہ پر مال غنیمت میں سے سرخ رنگ کی ایک چھوردارچادرغائب ہوگئی ، کچھ لوگوں نے کیا کہ شاید حضور ﷺ نے یہ چادرلے لی ہو، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی جن حضرات نے لفظ (یغل) کی قرات حرف یاء کی زبر کے ساتھ کی ہے ان کے نزدیک اس کے معنی یخون کے ہیں یعنی خیانت کرے، غلول، عمومی طورپر خیانت کو کہتے ہیں لیکن بعد میں اس کا اطلاق مال غنیمت میں خیانت پر ہونے لگا۔ حضور ﷺ نے غلول کو اتنا بڑا گناہ قراردیا کہ آپ نے اسے کبائر کے درجے میں رکھا۔ قتادہ نے سالم بن ابی الجعد سے، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ سے، انھوں نے حضور ﷺ کے غلام چوبان سے روایت کی ہے کہ ہے کہ آپ فرمایا کرتے (من فارق الروح جسدہ وھوبرئی من ثلاث دخل الجنۃ الکبو والغلول والدین، جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حالت میں پرواز کرجائے کہ دہ تین باتوں ، تکبر، غلول اور قرض سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کے زمدنے میں ایک شخص تھا جو، کرکرہ، کے نام سے پکاراجاتا تھا۔ جب اس کی وفات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ وہ جہنم میں ہے، لوگوں نے اسے جاکر دیکھا تو اس کے جسم پر ایک چادریا ایک لمباکرتاتھاج سے اس نے مال غنیمت سے اڑالیا تھا۔ اس موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کے پاس اس قسم کا کوئی دھاگہ یاسوئی ہو تو وہ بھی واپس کردے۔ اس لیے کہ یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے عار جہنم کی آگ اور ذلت کا باعث بنے گی۔ ، غلول کے جرم کی پاداش کے متعلق حضور ﷺ سے بہت سی حدیثیں منقول میں تاھم خوردنی شے کو استعمال میں لے آنے اور مویشیوں کا چارہ لے لینے کے متعلق حضور ﷺ م، صحابہ کرام اور تابعین سے بکثرت روایات منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ کہتے ہیں۔ خیبر کی جنگ میں ہمیں کھانے پینے کی چیزہاتھ آگئی۔ پھر لوگ آتے اور اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق لے جاتے، مسلمان سے منقول ہے کہ مدائن کی جنگ میں انھیں میدے کی روٹیاں، پینر اور ایک چھری ساتھ آگئی۔ انھوں نے چھری سے پنیر کے ٹکڑے کیے اور لوگوں سے کہا بسم اللہ کرکے کھالو۔ روبفع بن ثابت ؓ انصاری نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا (لا یحل لاحد یومن باللہ والیوم الاخران یرکب دابۃ من فئی المسلمین حتی اذا اعجقھاردھا فیہ ولایحل لامریء یومن باللہ والیوم الاخران یلیس ثوبامن فئی المسلمین حتی اذا اخلقہ ردہ فیہ۔ کسی شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتاہویہ جائز نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے مال غنیمت سے کوئی سواری کا جانورہتھیاکرا سے اپنے استعمال میں لے آئے ۔ اگر اس نے یہ حر کرلی ہوتوخواہ وہ جانوربڈیوں کا ڈھانچہ ہی کیوں نہ رہ گیا ہو، پھر بھی وہ اسے مال غنیمت میں واپس کردے۔ اسی طرح جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے مسلمانوں کے مال غنیمت سے کوئی کپڑاچراکرپہنناحلال نہیں ہے۔ اگر کسی نے ایسا کر بھی لیاتوخواہ کپڑابوسیدہ کیوں نہ ہوچکا ہو پھر بھی وہ اسے واپس کردے اس حدیث کے حکم کو اس حالت پر محمول کیا جائے گا جب اس شخص کو اس کی ضرورت نہ ہو۔ لیکن اگر وہ ضرورت مندہوتو فقہاء کے نزدیک اس چیز کو وہ اپنے استعمال میں رکھ سکتا ہے۔ حضرت براء بن مالک سے مروی ہے کہ انھوں نے یمامہ کی جنگ میں ایک مشرک کو ضرب لگائی جس سے وہ اپنی گدی کے بل زمین پر گرپڑا۔ پھر انھوں نے اس کی تلوارلے لی اور اسے اسی تلوار سے قتل کردیا۔
Ayahs 3:162–167

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے ؟ جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (احد کے دن کفار کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے تو تم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے واقع ہوئی اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم کرلے

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے راستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا اس سے خوب واقف ہے

قول باری ہے (ولیعلم الذین نافقو اوقیل لھم تعالو اقاتلوافی سبیل اللہ اوادفعوا۔ اور تاکہ اللہ دیکھ لے کہ منافق کون ہے۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم ازکم اپنے شہر کی مدافعت ہی کرو) سدی اور ابن جریج سے (اوادفعوا) کا یہ مفہوم منقول ہے کہ اگر تم ہمارے ساتھ مل کر قتال نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم ہمارے ساتھ رہ کر ہماری جمعیت میں اضافے کا سبب بن کرمدافعت کرو۔ ابوعون انصاری کا قول ہے : اگر تم جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے ہو تو کم ازکم جنگی گھوڑوں کی دیکھ بھال کا کام سنبھال لو، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس شخص کی شمولیت مسلمانوں کی جمعیت میں اضافے، قوت مدافعت میں بہتری اور بوقت ضرورت جہاد کے گھوڑوں کی دیکھ بھال میں فائدے کا سبب بن سکتی ہو اس پر جہاد میں شمولیت فرض ہوجاتی ہے۔ قول باری ہے (یقولون بافواھھم مالیس فی قلوبھم، وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جوان کے دلوں میں نہیں ہوتیں) اس کی تفسیر میں دواقوال، میں۔ اول اس بات کی تاکید کہ ان باتوں کے کہنے والے یہی ہیں، کوئی دوسرا نہیں، کیونکہ بعض دفعہ مجازافعل کو اس کے غیرفاعل کی طرف منسوب کردیاجاتا ہے۔ اگر وہ اس فعل کو پسندید گی کی نظروں سے دیکھتا ہو جیسا کہ قول باری ہے (واذقتلتم نفسا، اور جب تم نے ایک آدمی کو قتل کردیا) ظاہر ہے کہ قتل کا ارتکاب حضور ﷺ کے زمانے میں موجود یہود نے نہیں کیا تھا بلکہ ان کے آباؤجداد کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا تھا البتہ یہ لوگ اس فعل کو ناپسند ید گی کی نظروں سے دیکھتے تھے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (فلم تقتلونانبیاء اللہ من قبل۔ تو پھر اس سے پہلے تم انبیاء کا کیوں خون بہایا کرتے تھے) دواللہ تعالیٰ نے افواہ، یعنی منہ کا ذکرکرکے زبان سے اداکیے ہوئے جملوں اور ضبط تحریر میں لائے ہوئے جملوں کے درمیان فرق بیان کردیا۔
Ayahs 3:168–169

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

شہداء زندہ میں اور اپنے رب سے رزق پا رہے ہیں قول باری ہے (ولاتحسبن الذین قتلوافی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عندربھم یرزقون۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں) بعض لوگوں کا قول ہے کہ اس سے مراد جنت میں ان کا زندہ ہونا ہے اس لیے کہ موت کے بعد ان کی روحوں کی واپسی اگر جائز ہوتی تو پھر، تناسخ اور، اواگون، کے نظریے کو درست ماننا ضروری ہوجاتا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جمہور اس بات کے قائل ہیں کہ شہداء پر موت طاری ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں زندہ کردیتا اور ان کے استحقاق اپنی نعمتوں سے انھیں نواز تا ہے حتی کہ پورے عالم کے فنا ہونے کے وقت یہ بھی فنا ہوجائیں گے اور پھر آخرت میں دوبارہ زندہ ہوکر جنت میں جائیں گے۔ اس لیے کہ اللہ نے یہ خبردی ہے کہ وہ زندہ ہیں جو اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ فی الحال زندہ ہوں۔ اگر جنت میں ان کی زندگی کی تاویل قبول کرلی جائے تو پھر اس سے آیت میں مذکورہ خبرکا کوئی فائدہ باقی نہیں رہے گا، کیونکہ کسی بھی مسلمان کو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ شہداء جنت میں دوسرے جنتیوں کی طرح زندہ ہوں گے۔ اس لیے کہ جنت میں کسی مردے کے ہونے کا سوال خارج ازبحث ہے۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول فرحین بمااتاھم اللہ من فضلہ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے اس پر وہ خوش ہیں) سے ان کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اپنی اس حالت پر خوش ہیں۔ اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے (یستبشرون با (رح) لذین لم یلحقوابھم من خلفھم۔ اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ) یہ اہل ایمان آخرت میں ان سے جاملیں گے۔ حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعو ؓ اور حضرت جابر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپنے فرمایا (لمااصیب اخوانکم باحدجعل اللہ ارواحھم فی حواصل طیورخضر تحت العرش تروانھارالجنۃ وتاکل من شہارھا وتاوی الی قناویل معلقۃ تحت العرش، جب تمہارے بھائی احد کے میدان میں شہیدہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحیں عرش کے نیچے بسنے والے سبز پرندوں کے پوٹوں میں ڈال دیں، اب وہ جنت میں بہنے والی ہزوں کا پانی پیتے، اس کے پھل کھاتے اور عرش کے نیچے معلق قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں) حسن ، عمروبن عبید، ابوحذیفہ اور واصل بن عطاء کا یہی مسلک ہے۔ اس میں تناسخ کے قائلین کے مسلک کی کوئی بات نہیں ہے۔ اس لیے کہ تناسخ کے مسئلے میں اصل قابل اعتراض جو بات ہے وہ روحوں کا دنیا میں باربار مختلف بھیسوں اور شکلوں میں آنا ہے اللہ تعالیٰ نے تو ایک قول کو مارکرانھیں زندہ کرنے کی بھی خبردی ہے چناچہ ارشاد ہے (الم ترالی الذین خسرجوامن دیارھم وھم الوف حذرالموت خقال لھم اللہ موتواثم احیاھم، تم نے ان لوگوں کے حال پر بھی غور کیا، جو موت کے ڈر سے اپنے گھریارچھوڑکرنکلے تھے اور ہزوروں کی تعداد میں تھے، اللہ نے ان سے فرمایا مرجاو۔ پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی) نیز یہ بھی خبردی کہ مردوں کو زندہ کرنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا۔ بس اسی طرح اللہ تعالیٰ شہیدوں کو بھی زندہ کردیتا ہے اور جہاں چہاہتا ہے ان کا ٹھکانہ بنادیتا ہے۔ قول باری ہے (عند ربھم یرزقون) اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اب ایسی جگر ہیں، جہاں ان کے رب کے سوا کوئی اور، نہ انھیں نفع پہنچاسکتا ہے اور نہ نقصان اس سے مرا قرب مسافت نہیں ہے۔ اسی لیے کہ اللہ کی ذات کی طرف مسافت کے ذریعے قرب اور بعد کی نسبت درست نہیں ہوتی، کیونکہ یہ باتیں جسم کے اوصاف میں بےشمارہوتی ہیں۔ ایک قول ہے کہ (عندربھم) سے مراد ان کا ایسی جگہ پر ہونا ہے جہاں ان کے احوال کا علم صرف خدا کو ہے کسی اور کو نہیں۔
Ayahs 3:170–173

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان سے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہو رہے ہیں اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا و رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

(جب) ان سے لوگوں نے آ کر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

قول باری ہے (الذٰن قال لھم الناس ان الناس قد جمعوالکم۔ اور وہ، جن سے لوگوں نے کہا، تمہارے خلاف برفوجیں جمع ہوئی ہیں۔ ) تاآخرت آیت ۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ابن اسحاق سے مروی ہے کہ جن لوگوں نے یہ خبردی تھی، وہ ایک قافلے والے تھے، اس قافلے میں ابوسفیان بھی تھا۔ مقصد یہ تھا کہ جب مسلمان احد سے واپس جانے لگیں تو انھیں روکاجائے۔ دوسری طرف مشرکین کا ارادہ یہ تھا کہ ایک بار پھر پلٹ کر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے۔ سدی کا قول ہے کہ یہ ایک بدو تھا جسے معاوضہ دے کر مسلمانوں تک یہ خبرپہنچائے پر مامور کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص پر لفظ الناس کا اطلاق کیا یہ بات ان لوگوں کے بقول ہے جنھوں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ دراصل یہ ایک شخص تھا۔ اس بناپران کے نزدیک عموم کے لفظ کا اطلاق کرکے خصوص مراد لیا گیا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں چونکہ الناس کا لفظ اسم جنس ہے اور یہ بات تو واضح ہے کہ تمام لوگوں نے یہ اطلاق نہیں دی تھی اس لیے اسم جنس اپنے مدلول کے کم سے کم عددپر مشتمل ہے، جوان میں سے صرف ایک ہے۔ یہ گنجائش اس لیے پیداہوئی کہ لفظ الناس اسم جنس ہے اور صرف ایک فردمرادلینے پر اسم جنس کا تقاضاپورا ہوجاتا ہے۔ اسی بناپر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کسی نے یہ کہا : میں نے اگر لوگوں سے کلام کیا تو میراغلام آزاد ہے، تو اس صورت میں ایک شخص سے کلام کرنے پر بھی اسے غلام آزاد کرنا ہوگا اس لیے کہ الناس ، اسم جنس ہے اور یہ بات واضح ہے کہ یہاں استغراق یعنی تمام افراد نہیں ہیں اس بناپریہ صرف ایک فرد کو شامل ہوگا۔ آزمائش کے وقت ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے قول باری ہے افاخشوھم فزادھم ایمانا، تم ان سے ڈروہ یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا) یہاں یہبات بتائی گئی ہے کہ خوف اور مشقت کے بڑھ جانے کے ساتھ ان کے یقین میں بھی اضافہ ہوگیا۔ کیونکہ یہ خبرسن کر صحابہ کرام، اپنی پہلی حالت پر نہیں رہے بلکہ اس موقعہ پر ان کا یقین اور بڑھ گیا، اور دین کے متعلق ان کی بصیرت میں اور اضافہ ہوا۔ اس کی مثال وہ آیت ہے جس میں ارشادباری ہے (ولما رأی المؤمنوں الاحزاب قالواھذا ماوعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ۔ ومازادھم الاایمانا وتسلیما۔ جب اہل ایمان نے دشمنوں کی جماعتوں کو دیکھا تو کہنے لگے، اسی کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ اس کی وجہ سے ان کا ایمان اور تسلیم و رضا کی کیفیت اور بڑھ گئی) دشمنوں کو دیکھ کر ان کے ایمان میں نیز اللہ کے حکم کے سامنے جھک جانے اور دشمنوں کے خلاف جہاد میں پیش آنے والی تکلیفوں پر صبر کرنے اور ڈٹ جانے کے جذبے میں اور اضافہ ہوگیا۔ ذرا اس اندازبیان پر غورکیجیے، کس بھرپورطریقے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف وتوصیف کی گئی ہے اور ان کی فضیلت وکمال کے اظہار کے لیے کیسا جامع پیرایہ بیان اپنایاگیا ہے۔ اس کا ایک پہلویہ ہے کہ ہمیں ان کے نقش قدم پرچلنے کی تعلیم دی جارہی ہے۔ نیز یہ بتایاجارہا ہے کہ ہم بھی اللہ کے حکم کی طرف رجوع کریں، اس کے حکم پر ڈٹ جائیں ، اسی پر بھروسہ کریں اور (حسبنا اللہ ونعم الوکیل اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے) ک اوردکریں نیز یہ کہ اگر ہم اس طریقے پر عمل پیراہوں گے تو اس کے نتیجے میں اللہ کی مدد اور تائید ہمارے شامل حال ہوجائے گی اور اس کی رضا اور ثواب کے حصول کے ساتھ ساتھ دشمن کے مکر اور شرارت کا رخ بھی موڑدیاجائے گا جیسا کہ قول باری ہے (فانقلبوابنعمۃ من اللہ وفضل لم لیسسھم سوء واتبعوارضوان اللہ۔ آخرکاروہ اللہ کی عنایت سے اس طرح پلٹ آئے کہ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضاپرچلنے کا شرف بھی انھیں حاصل ہوگیا)
Ayahs 3:174–180

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیے جاتے ہیں تو یہ انکے حق میں اچھا ہے (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں اور آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

(لوگو ! ) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا اور اللہ تم کو غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گا البتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لیے برا ہے۔ وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو معلوم ہے۔

نجیل آدمی خوداپنا دشمن ہوتا ہے قول باری ہے (ولایحسبن الذین یبخلون بما اتاھم اللہ من فضلہ ھوخیرالھم بل ھوشرالھم، سیطوقون مابخلوابہ یوم القیامۃ، جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ نجیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں بہت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روزان کے گلے کا طوق بن جائے گا) سدی کا قول ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکوۃ ادا کرنے میں نجل کریں ان کے لیے یہ حکم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اہل کتاب کے متعلق ہے، انھوں نے اپنی کتاب میں درج شدہ احکام الٰہی کو لوگوں سے بیان کرنے میں بخل کیا تھا۔ لیکن اس سے زکوۃ کے معنی لینے اولی ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولاینفقونھافی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم۔ یوم یحی علیھا فی نارجھنم فتکوی بھاجباھھم وجنوبھم وظھورھم۔ جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تم انھیں ایک درد ناک عذاب کی خبرسنادو۔ یہ عذاب اس روز واقع ہوگا جب کہ اس سونے چاندی کو دوزخ کی آگ میں تپایاجائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوؤں کو اور ان کی پشتوں کو داغاجائے گا۔ قول باری (سیطوقون مابخلوابہ) بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ سہل بن صالح نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا (مامن صاحب کنزلایوری زکوۃ کنزہ الاجیئی بہ یوم القیا مۃ وبکنزہ فیحمی بھا جبینہ وجبھتہ حتی یحکم اللہ بین عبادہ۔ جو شخص کسی خزانے کا مالک ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادانہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اسے اس کے خزانے کے ساتھ حاضر کیا جائے گا اور پھر اس خزانے کو پگھلاکر اس کی پیشانی اور چہرے کو داغاجائے گا۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ بندوں کا حساب وکتاب مکمل ہونے کے بعد ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ سنادیاجائے گا) مسروق کا قول ہے کہ اللہ کا جو حق یعنی زکوۃ وہ ادا کرنے سے بازرہا ہوگا اسے ایک سانپ کی شکل دے دی جائے گی جو اس کی گردن سے آکرلپٹ جائے گا۔ وہ شخص کہے گا کہ تیرے ساتھ میرا کیا تعلق ہے۔ جواب میں سانپ کہے گا کہ میں تیرامال ہوں۔ حضرت عبداللہ کا قول ہے کہ اس کے گلے سے ایک اژدہالپٹ جائے گا جس کے دانت ہوں گے اور پھر وہ اس سے کہے گا کہ میں تیرامال ہوں جسے اللہ کی راہ میں خرچ میں توبخل کرتا تھا۔
Ayahs 3:181–187

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتشِ ) دوزخ کے مزے چکھتے رہو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا۔

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جو لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آ کر کھاجائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا ؟

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آ چکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بہت بڑی ہمت کے کام ہیں۔

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار لیا کہ (اس میں جو کچھ لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے۔

قول باری ہے (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ، ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاددلاؤجو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا۔ انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا) اس آیت کی نظیر کا ذکرسورہ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور سدی مروی ہے کہ اہل کتاب سے مرادیہود ہیں ۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں یہودونصاری دونوں مراد ہیں۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی علم دیاگیا ہو اور پھر وہ اسے لوگوں سے چھپائے رکھے۔ حضرت ابوہریر ؓ ہ نے فرمایا، اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے حدثیں بیان نہ کرتا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب) تاآخر آیت۔ پہلے گروہ کے قول کے مطابق (لتبننہ) میں غمیرحضور ﷺ کی طرف راجع ہوگی۔ اس لیے کہ یہودنے آپ کی صفات اور آپ کی باتوں کو چھپائے رکھا تھا۔ دوسرے حضرات کے قول کے مطابق ضمیر کتاب کی طرف راجع ہوگی۔ اس صورت میں حضور ﷺ کے معاملے کا بیان اور اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں کی باتیں ان میں داخل ہوجائیں گی۔