Ayahs 3:27–28قول باری ہے (لایت خدا لمومنون الکافریناولیاء من دون المؤمنین، اہل ایمان مسلمانوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا اپناہمدرد نہ بنائیں) تاآکر آیت۔ اس میں کافروں کو دوست بنانے کی نہی ہے۔ اس لیئے کہ آیت میں داردفعل (لایتخذ) مجزوم ہے اس لیئے اس میں نہی کے معنی ہیں خبر کے معنی نہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے نرمی برتنے سے روک دیا ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے۔ (لاتخذوایطانتۃ من دونکم لایألوتکم خیالا اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدارنہ بناؤوہ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے) نیز قول باری ہے (لاتجد قوما یومنون یا اللہ والیوم الاخریوادون من حاد اللہ ورسولہ ولو کا تواباء ھم اوابناء ھم جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ انہیں نہ پائیں گے کہ وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ خواہ وہ لوگ ان کے باپ یا ان کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں) تاآخر آیت۔
نیزقول باری ہے (فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین یاد آجانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو) نیزقول باری ہے (فلاتقعدوامعھم حتی یخوضوافی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم، ان کے ساتھ نہ بیٹھویہاں تک کہ دہ کسی اور گفتگو میں مصروف ہوجائیں ورنہ تم بھی ان کی طرح ہوجاؤ گے۔ نیز قول باری ہے (ولا ترگنوالی الذین ظلموافتمسکم النار، تم ظالموں کی طرف ہرگز نہ جھکو کہ پھر تمھیں جہنم کی آگ چھوجائے) نیز قول باری ہے (فاعرض عمن تولی عن ذکرنا ولم یردالاالحیوۃ الدنیا اس شخص سے منہ پھیرلوجس نے ہماری یاد سے روگردانی کی اور دنیا کی زندگی کے سوا اور کچھ نہیں چاہا) نیز قول باری ہے (واعرض عن الجاھلین، اور جاہلو سے منہ پھیرلیجیے) نیز قول باری ہے (یایھا النبی جاھدالکفاروالمنافقین واغلظ علیھم، اے نبی ! کافروں اور منافقوں کے خلاف جہاد کیجیے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آیئے) نیزارشاد ہے۔ (یایھا الذین امنو الا تتخذوالیھو د والنصاری اولیاء بعضھم اولیاء بعض اسے ایمان والو ! یہودونصاری کو اپنا ہمدردوہمسازنہ بناؤان میں بعض بعض کے ہمدردوہمساز ہیں) نیز ارشاد ہے (ولاتمدن عینیک الی مامتعنا بہ ازواجامنھم زھرۃ الحیوۃ الدنیا لنفتتھم فیہ، اور ہرگز آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھیے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے ان کے گروہوں کو متمتع کررکھا ہے۔ ان کی آزمائش کے لیے کہ وہ محض وینوی زندگی گمی کی رونق ہے) ان آیات میں یہودونصاری اور کفارو منافقین کی مجالست اور ان کی دنیوی مال ودولت اور احوال وکوائف ظاہر بنیی کی بناپران سے نرم برتاؤ اور میل ملاپ سے پے درپے روکاگیا ہے۔ روایت ہے کہ حضور ﷺ کا گذربنی الصطلق کے اونٹوں کے پاس سے ہواجواتنے موٹے اور فربہ تھے کہ بہی کی بناپران کاپیشاب ان کی رانوں پر خشک ہوگیا تھا۔ آپ نے اپنے کپڑے کا پلو اپنے چہرے پر ڈال لیا اور وہاں سے گذرگئے ان پر نظر ڈالنا بھی گوار انہیں کیا اس لیے کہ ارشادباری ہے (ولاتمدن عینیک الی مامتعنا بہ ازواجا منھم) نیز قول باری ہے۔ (یایھا الذین امنوالاتتخذواعدوی وعدو کم اولیاء تلقون الیھم بالمدہ ۃ اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست اور ہمدردنہ بناؤ کہ تم ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو)
مسلمان کا گھر مشرک سے دورہو
حضور ﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا (انابریء من کل مسلم مع مشرک ، میں ہر اس مسلمان سے کنارہ کشی ہوں جو کسی مشرک کے ساتھ رہتاہو) آپ سے وجہ پوچھ گئی تو آپ نے فرمایا (لاتراء ی ناراھما، ان دونوں کے گھروں میں جلنے والی آگ ایک دوسرے کو نظرنہ آئے) یعنی مسلمان کے لیے یہ لازم اور اس پر یہ واجب ہے کہ اس کا گھر مشرک کے گھر سے دورہو، نیز فرمایا (انابرئی من کل مسلم اقام بین اظھرالمشرکین، میں ہراس مسلمان سے کنارہ کش ہوں جس نے مشرکوں کے درمیان سکونت اختیار کرلی ہو) یہ آیتیں اور احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ایک مسلمان کافروں کے ساتھ اس وقت تک سختی اور بے رخی کے ساتھ پیش آئے اور نرمی اور ملاطفت سے کام نہ لے جب تک اس کی حالت ایسی نہ ہو جس میں اسے اپنی یا اپنے کسی عضو کے تلف ہوجانے یا سخت نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ اگر ا سے اس قسم کا کوئی خطرہ درپیش ہوتوایسی صورت میں ان سے دوستی ادرنرمی کا اظہار جائز ہے۔ پیشرطی کہ وہ اسطرز عمل کی صحت کا یقین اپنے دل میں پیدانہ کرلے۔ ولا یعنی دوستی تعاون وغیرہ کی دوصورتیں ہوتی ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ جسی شخص کا فعل اور طرز عمل پسند یدہ ہو امداد تعاون اور نگرانی کے ذریعے اس کے امور کی پوری پوری سرپرستی کی جائے۔ ایسا شخص سعاون ومنصورکہلائے گا قول باری ہے۔ (اللہ ولی الذین وامنوا، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا ولی اور دوست ہے) اہل ایماناس معنی میں اللہ کے دوست اور ولی ہیں کہ اللہ کی نصرت پوری طرح ان کے شامل حال رہتی ہے۔ چناچہ ارشاد باری ہے (الاان اولیاء اللہ لاخوف علیھم ولاھم حزنون، آگاہ رہو، اللہ کے اولیاء کونہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے) ۔
خطرے کی صورت میں جان بچانے کی رخصت ہے
قول باری ہے (الاان تتقوامنھم تقۃ، ہاں یہ تمہیں معاف ہے کہ ان کے ظلم سے بچنے کے لیئے تم بظاہرایساطر زعمل اختیارکرجاؤ) یعنی اگر تمھیں اپنی جان یا جسمانی اعضاء کے تلف ہوجانے کا خطرہ ہو اور پھر تم ان سے دوستی اور تعاون کے اظہار کے ذریعے اپنے آپ کو ان کی چیرہ دستیوں سے بچالو تو اس میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ تم اس طرزعمل کی صحت کا اعتقاداپنے دل میں پیدانہ کرو۔ آیت کے الفاظ کے ظاہر کا یہی تقاضا ہے اور جمہورکامسلک بھی یہی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے ، انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے قتادہ سے قول باری (لایتخذالمؤمنون الکافرین اؤلیاء من دون المؤمنین) کی تفسیر میں یہ قول نقل کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیئے یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے دینی معاملات میں کسی کافر کو اپنا دوست اور ولی یعنی سرپرست بنالے۔ قول باری (الاان تتقوامنھم تقۃ) کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا کہ اس قاعدے سے ایک صورت مستثنیٰ ہے وہ یہ کہ مسلمان اور کافر کے درمیان قرابت ہو اور پھر مسلمان اس رشتہ داری کی بناپر اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے اس طرح تقیہ کا مفہوم قرابت کی بناپر کافر کے ساتھ صلئہ رحمی قراردیا گیا۔ آیت میں بچاؤ کی خاطر اظہارکفر کے جواز کا اقتضاء موجود ہے، اس کی نظیریہ قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان، جو شخص اللہ پر ایمان لانے کے بعد کافرہوجائے بجز اس صورت کے کہ اس پر زیردستی کی جائے۔ درآنحالیکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تو وہ مستثنیٰ ہے)
ایسے مواقع پر جان بچانے کی رخصت ہے واجب وافضل نہیں۔
ایسے مواقع پربچاؤ کی خاطر اظہارکفر وغیرہ کی اجازت دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے۔ یہ واجب نہیں ہے بلکہ اس کا ترک افضل ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جس شخص پر کافرہوجانے کے لیے زبردستی کی جائے لیکن وہ ایمان پر ڈٹا رہے اور اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تو اس کا درجہ اظہارکفر کرنے والے سے بڑھ کرہوگا۔ مشرکین نے حضرت خبیب بن عدی کو پکڑلیا تھا لیکن آپ نے تقیہ کا راستہ اختیار نہیں کیا تھا یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے۔ مسلمانوں کے نزدیک آپ کا درجہ حضرت عماربن یاسر سے بڑھ کر تھا۔ جنہوں نے یہ راستہ اختیار کرتے ہوئے اظہارکفر کرلیا تھا۔ حضور ﷺ نے ان سے اظہارکفر کی صورت میں ان کے دل کی کیفیت کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے عرض کیا کہ میرادل ایمان پر مطمئن تھا۔ اس پر حضور ﷺ نے انہیں فرمایا کہ، اگر یہ صورت دوبارہ پیش آجائے تو تم پھر یہی طرز عمل اختیار کرلینا۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد دراصل رخصت عطا کرنے کی بناپر تھا۔
عزیمت رخصت سے افضل ہے
روایت ہے کہ مسیلمہ کذاب نے دوصحابیوں کو پکڑلیا۔ ایک سے پوچھا کہ محمد (ﷺ) کی رسالت کی گواہی دیتے ہو، انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر پوچھا کہ تم میری رسالت کو گواہی دیتے ہو۔ انہوں نے پھر اثبات میں جواب دیا۔ مسیلمہ نے انہیں جانے دیا، دوسرے صاحب کو بلاکران سے بھی سوالات کیئے۔ تو انہوں نے مسیلمہ کی رسالت کی گواہی دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ، میں بہراہوںِمسیلمہ نے اپناسوال تین دفعہ دہرایا، انہوں نے تینوں دفعہ یہی جواب دیا، اس پر اس نے انہیں شہید کردیا۔ حضور ﷺ کو جب اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا (ماھذالمقتول فمضی علی صدقہ ویقینہ واخذبفضیلۃ فھنیئا لہ واما الاخرفقبل رخصۃ اللہ قلاتبعۃ علیہ، یہ کشتہ راہ خدا اپنے صدق اور یقین پر ڈٹارہا اور فضیلت کا سزاوار ٹھہرا، یہ مرتبہ اسے مبارک ہو۔ دوسرے شخص نے اللہ تعالیٰ کردہ رخصت کو قبول کرلیا اس لیئے اس پر بھی گرفت نہیں) اس روایت میں یہ دلیل ہوجود ہے کہ تقیہ کا راستہ رخصت ہے اور تقیہ کا اظہارنہ کرنا افضل ہے۔ اسی طرح ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ ہرایساعمل جس میں دین کا اعزاز ہو اس کے لیئے اقدام کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردینا اس سے ہٹ کر رخصت پر عمل کرنے سے بہتر اور افضل ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص دشمنوں کے خلاف اپنے آپ کو جہاد میں جھونک دے اور شہید ہوجائے اس کا درجہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ کر اپنی جان بچالینے والے سے بڑھ کرہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے شہادت حاصل کرلینے کے بعد شہیدوں کے احوال وکوالف بیان فرمائے ہیں اور انہیں زندہ نیزرزق پانے والے قراردیا ہے۔ اسی طرح اللہ کے دین کے اظہار اورکفر کے عدم اظہا کے نتیجے میں جان دے دیناتقیہ کا راستہ اختیار کرنے سے افضل ہے۔ اس آیت اور اسی طرح کی دوسری آیتوں میں اس بات پر دلالت ہورہی ہے کہ مسلمان پر کافرکو کسی معاملے میں دلایت اور سرپرستی حاصل نہیں ہوتی اور یہ کہ اگر کافرکا کوئی نابالغ بچہ ہوجوماں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے مسلمان ہو تو اس کافرکواس پر کوئی کسی قسم کی ولایت اور سرپرستی حاصل نہیں ہوگی۔ نہ مالی تصرف وغیرہ میں اور نہ ہی نکاح کرانے میں۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ذحی مسلمان کے فوجداری جرم کا اور مسلمان ذحی کے فوجداری کا جرمانہ نہیں بھرے گا اس لیئے کہ اس بات کا تعلق ولایت نصرت اور معونت سے ہے جوان دونوں کے درمیان مفقود ہے۔
Ayahs 3:29–33ال اور اہل ایک ہی چیز ہیں
قول باری ہے (وال ابراھیم وآل عمران آل ابراہیم اور آل عمران کو) حضرت ابن عباس اور حسن بصری سے مروی ہے کہ آل ابراہیم وہ اہل ایمان ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر قائم ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آل عمران سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اس لیئے کہ وہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں۔ جو عمران کی بیٹی تھیں۔ ایک قول ہے کہ آل عمران سے مراد آل ابراہیم ہی ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض، یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ ) ان سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ہیں جو عمران کے بیٹے تھے۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک لفظ آل اور لفظ اہل بیت دونوں کا مفہوم ایک ہے اس لیے اگر کوئی شخص فلاں کی ال کے لیئے وصیت کرتا ہے تو اس کی حیثیت وہی ہوگی جو فلاں کے اہل بیت کے لیے وصیت کی ہے۔ اس لیے یہ وصیت ان سب کے لیے ہوگی جو اس فلاں کے ساتھ دادا میں شریک ہوجاتے ہیں جس کی طرف یہ سب کے سب اپنے آباء کے واسطے منسوب ہوتے ہیں۔
اس لیے مثلا آل النبی ﷺ اور اہل بیت النبی ﷺ دونوں ایک ہی مفہوم ادا کرتے ہیں۔ البتہ سے یہ صورت خارج ہے کہ کوئی شخص ایسا ہو جس کی طرف آل منسوب ہو تو اس صورت میں اس سے مراد گھرانہ یا خاندان ہوگا جوا س کی طرف منسوب ہوگا۔ مثلا ہم کہتے ہیں آل عباس آل علی وغیرہ تو اس سے مراد عباس اور علی کی اولاد ہے جو اپنے آباء کی وساطت سے ان دونوں کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ یہ معنی اس اصول پر مبنی ہے جو لوگوں میں متعارف ومعتاد ہے۔
Ayah 3:34قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض) حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ دین میں ایک دوسرے کی ہمنوائی اور مدد کے لحاظ سے یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے۔ جس طرح کہ قول باری ہے (المنافقون والمنافقات بعضھم من بعض) ، منافق مرد اور مفافق عورتیں یہ سب ایک سلسلے کے لوگ ہیں) یعنی گمراہی اور ضلال پر اکھٹے ہونے کے لحاظ سے پھر ارشا ہوا (والمومنون المومنات بعضھم اولیاء بعض، اہل ایمان مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے دینی رفیق ہیں) یعنی ہدایت پر اکھٹے ہوجانے میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بعض کا قو ل ہے کہ (ذریۃ بعضھا من بعض) ایک ہی نسل سے پیدا ہونے کے لحاظ سے اس لیئے کہ یہ سب حضرت آدم پھر حضرت نوح اور پھر حضرت ابراہیم السلام کی نسل سے تھے۔
Ayahs 3:35–36نذرصرف اللہ کے لیے مانی جائے
قول باری ہے (اذقالت امرا ۃ عمران رب انی نذرت لک مافی بطنی محررافتقبل منی، جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ، میرے پروردگار ! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں وہ نیزے ہی کام کے لئے وقف ہوگا میری اس پیشکش کو قبول فرما) شعبی سے مروی ہے کہ (محورا) سے مراد ہے۔ خالص تیری عبادت کے لیئے۔ مجاہد کا قول ہے۔ تیری عبادت گاہ کی خدمت کے لیے۔ محمد بن جعفربن الزبیرکاقول ہے۔ دنیوی امور سے آزاد صرف اللہ کی اطاعت وعبادت کے لیے۔ تحریر کے دومعنی ہیں اول آزادکرنا یہ حریۃ، سے نکلا ہے۔ دوم تحریر کتاب جس کا مفہوم ہے کتاب کو فساد اوراضطراب سے پاک رکھنا۔ عمران کو بیوی کا قول (انی نذرت لک مافی بطنی محررا، اگر اس سے ان کی عبادت کے لیے مختص کرنا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ اس بچے کی پرورش اسی نہج پر کریں گی اور اسے صرف عبادت میں مشغول رکھیں گی اور کوئی دوسراکام کرنے نہیں دیں گی۔ اگر اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کو عبادت گاہ کا خادم بنادیں گی یا دنیوی امور سے آزاد کرکے صرف اللہ کی اطاعت اور عبادت میں لگادیں گی۔
تویہ تمام معانی ایک دوسرے سے قریب قریب ہیں اور یہ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ عمران کی بیوی نے لفظ ، نذرت، کہہ کر اللہ کے لیے نذرمانی تھی۔ پھر یہ دعا کی تھی (فتقبل منی انک انت السمیع العلیم، میری اس پیش کش کو قبول فرما بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے) ہماری شریعت میں بھی اس قسم کی نذرورست ہے۔ مثلا کوئی شخص یہ نذرمان لے کہ وہ اپنے بیٹے کی پرورش اللہ کی اطاعت اور عبادت کے نہج پر کرے گا اور اسے اس کے سوا کسی اور کام میں نہیں لگائے گا اور یہ کہ اسے قرآن فقہ اور علوم دینیہ کی تعلیم دلائے گا۔ اس قسم کی نذر کی تمام صورتیں درست ہیں اس لیے کہ ان میں تقرب الی اللہ ہوتا ہے۔ عمران کی بیوی کا یہ قول (نذرت لک) اس پرولالت کرتا ہے کہ یہ ایجاب کا مقتضی ہے اور یہ کہ جو شخص تقرب الی اللہ کی خاطر کوئی نذرمانے اسے پوراکرنا اس پر لازم ہے نیزیہ اس لیے کہ یہ تو معلوم ہے کہ عمران کی بیوی کا یہ قول (نذرت لک مافی بطنی محررا) ان کی اس مراد کو ظاہرکررہا ہے کہ یہ سب کچھ بچے کی پیدائش کے بعد اور اس وقت کے آنے پر ہوگا جب اس جیسے کے لیے صرف اللہ کی عبادت کے لیے مختص ہوجانا درست ہوگا۔
نادیدہ چیز کی نذرمانناجائز ہے
آیت کی اس بات پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ مجہول چیز کی نذرمان لینا بھی جائز ہے۔ اس لیئے کہ عمران کی بیوی نے نذرتومان لی تھی لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ بچہ مذکرہوگا یامؤنث۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ ماں کو اپنے بچے پر اس کی تعلیم و تربیت اور اسے اپنے پاس رکھ لینے کے لحاظ سے ایک گونہ ولایت اور سرپرستی کا حق ہوتا ہے۔ اس لیئے کہ اگر عمران کی بیوی کو یہ حق حاصل نہ ہوتا تو وہ اپنے بچے کے سلسلے میں اس قسم کی نذرنہ مانتیں۔
بچے کا نام ماں بھی رکھ سکتی ہے
نیز اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ ماں کو اپنے بچے کا نام رکھنے کا حق حاصل ہے اور اس کا رکھا ہوا نام درست ہوگا۔ خواہ باپ نے نام نہ بھی رکھا ہو اس لیے کہ عمران کی بیوی نے یہ کہا تھا (وانی سمینھا مریم، اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے ماں کے رکھے ہوئے نام کو برقراررکھا ہے۔
Ayah 3:37قول باری ہے (فتقبلھا ربھا بقبول حسن، اس لڑکی کو اس کے رب نے بہت عمدہ طریقے سے قبول کرلیا ) اس سے مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ عمران کی بیوی نے اس بطی کو بیت المقدس میں عبادت ک لیے مختص کرنے کی اخلاص نیت کے ساتھ جو نذرمانی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی نذرقبول کرتے ہوئے اپنی عبادت کے لیے اسے پسند کرلیا۔ اس سے پہلے اللہ نے کسی مؤنث کو اس معنی میں قبول نہیں قبول باری ہے (وکفلھا زکریا، اور زکریاکواس کا سرپرست بنادیا) اگر لفظ (کفلھا) کی قرأت قول باری ہے (وکفلھا زکریا، اور زکریاکواس کا سرپرست بنادیا) اگر لفظ (کفلھا) کی قرات حرف فاء کی تشدید کے بغیر کی جائے تو اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ان کی ساری ذمہ داری اپنے سرلے لی جیسا کہ حضور ﷺ سے مروی ہے (اناوکافل الیتیم فی الجنۃ کھاتین، میں یتیم کفالت کرنے والاجنت میں قریب قریب ہوں گے) آپ نے یہ فرماکر اپنی ددانگلیوں سے اشارہ کیا آپ کی مراد یہ ہے کہ جو شخص یتیم کی ذمہ داری اپنے سرلے لے گا اسے یہ مرتبہ ملے گا۔ اگر اس لفظ کو حرف فاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا کو مریم کا کفیل بنادیا اور انہیں ان کی ذمہ داری سونپ کر ان کو دیکھ بھال اور نگرانی کا حکم دے دیا۔ دونوں قرأتیں درست ہیں اور مجموعی طورپرمعنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا کو حضرت مریم کی کفالت سپرد کردی اور آپ ان کے کفیل بن گئے۔
Ayah 3:38قول باری ہے (قال رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ، زکریا نے کہا پروردگار ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولادعطاکر) کسی چیز کو اس کی قیمت لیے بغیر کسی کی ملکیت میں دے دیناہبہ کہلاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں، قدتواھبوا !ؒلامربینھم، (لوگوں نے اس معاملے کو آپس میں ایک دوسرے کو ہبہ کردیا ہے) اللہ تعالیٰ نے اسے بطورمجازہبہ کا نام دیا ہے۔ اس لیے کہ اس میں ہبہ کا حقیقی معنی نہیں ہے کیونکہ اس میں کسی چیز کی تملیک موجود نہیں ہے۔ پیدا ہونے والا بچہ آزاد ہوتا ہے۔ اس پر کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا کو خاص طوپرایسا بیٹادینے کا ارادہ فرمایا جوان کی تمنا اور خواہش کے مطابق ہو۔ یعنی وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ ان کی نبوت کا وارث ہو۔ اور ان کے علم کا جانشین ہو تو اس پر لفظ ہبہ کا اطلاق کیا جائے گا جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خاطر جہاد میں اپنی جان لڑادینے کا نام شراء یعنی خرید رکھا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ، بیشک اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے اس بات کے بدلے ان کی جان ومال کی خریداری کرلی ہے کہ انہیں جنت ملے گی) حالانہ اللہ تعالیٰ ان کے جہاد پر جانے سے پہلے اور اس کے بعد بھی ان سب کی جان ومال کا مالک تھا۔ اس نے جہاد کرنے والوں کو اجرجزیل دینے کا جو وعدہ کررکھا ہے اس بناپر اس عمل کا نام شرارکھا ہے۔ بعض دفعہ ایک کہنے والا کہتا ہے، ھب لی جنایۃ فلان، (فلاں پر عائدہونے والاجرمانہ مجھے ہبہ کردو) کہنے والے کی اس سے مادتملیک نہیں ہوتی بلکہ جرمانے کے حکم کا اسقاطہ مراد ہوتا ہے۔
Ayah 3:39سیدوہ ہوتا ہے جس کی اطاعت کی جائے اور غیر اللہ کو بھی سیدکہہ سکتے ہیں
قول باری ہے (وسیداوحصورانبیا من الصالحین، اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہوگی، کمال درجے کا ضابطہ ہوگا، نبوت سے سرفرازہوگا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا آیت اس پر دلالت کررہی ہے کہ غیر اللہ کو سید کے نام سے موسم کرنا جائز ہے۔ اس لیئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو سید کے نام سے موسوم کیا اور سیدوہ ہوتاجس کی طاعت واجب ہوتی ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ جب حضرت سعدبن معاذ آپ کے اور بنی قریظہ کے درمیان حکم یعنی ثالث تسلیم کرلیے گئے تو آپ نے ان کی آمدپرانصارکوحکم دیا کہ (قوموا الی سیدکم، اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجاؤ) اسی طرح آپ نے حضرت حسن ؓ کے متعلق فرمایا (ان ابنی ھذاسید، میرایہ بیٹا سید یعنی سردار ہے) آپ نے بنی سلمہ سے پوچھا، اے بنی سلمہ ! تمھاراسردارکون ہے ؟ انہوں نے جو اباعرض کیا، الحربن قیس ہمارے سردار ہیں، البتہ ان میں بخل پایاجاتا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا۔ بخل سے بڑھ کر کونسی بیماری ہوسکتی ہے۔ لیکن تم لوگوں کے سردارسفید گھنگھریایالے بالوں والے عمروبن الجموح ہیں۔
یہ تمام روایات اس پرولالت رتی ہیں کہ جس شخص کی طاعت واجب ہوا سے سیدکہنا جائز ہے۔ سیدوہ نہیں ہوتا جو صرف کسی چیز کا مالک ہو۔ اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ کہنا درست ہوتا کہ، فلاں شخص غلام کاسید ہے۔ روایت ہے کہ بنوعامرکا ایک وفدحضور ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا۔ اور عرض کیا، آپ ہمارے سید اور ہم پر بخشش کرنے والے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا، سیدتو اللہ تعالیٰ ہے، تم اپنی بات کرو شیطان تمہیں بہکاوے میں نہ ڈالے، حضور ﷺ اگرچہ اولادآدم کے سرداروں میں سب سے افضل تھے۔ لیکن جب آپ نے انہیں دیکھاتو وہ یہ کہتے ہوئے تکلف سے کام لے رہے ہیں تو آپ نے اسے تاپسند کیا۔ جس طرح آپ کا ارشاد ہے (ان ابفضکم الی الثرثارون المتشدقون المتفیھقون، میرے لیے تم میں سب سے ناپسند دیدہ وہ لوگ ہیں جو بک بک کرنے والے باچھین پھیلاکربغیر کسی احتیاط کے بولنے والے اور منہ پھیلاکرباتیں کرنے والے ہیں) آپ نے تصنع اور بناوٹ کے طورپر ان کی تکلفانہ گفتگوکوناپسند فرمایا۔
منافق کو سیدنہ کہاجائے
آپ سے مروی ہے کہ (لاتقولوالمنافق سیدافانہ ان یک سیدا ھلکتم، منافق کو سیدمت کہو اس لیے کہ اگر وہ سیدہوگیا توپھرتمھاری تباہی آجائے گی) آپ نے منافق کو سیدکہنے سے منع فرمادیا اس لیے کہ اس کی اطاعت واجب نہیں ہوتی۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول باری ہے (ربنا اطعنا سادتناوکبرآء نافاضلوناالسبیلا، اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے بڑوں اور سرداروں کی پیروی کی انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے ہٹاکرگمراہ کردیا) لوگوں نے اپنے سرداروں کو سادات کا نام دیاحالان کہ وہ گمراہ تھے، اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ لوگوں نے انہیں وہ مرتبہ دے دیاتھاجو اس شخص کا ہوتا ہے جس کی طاعت واجب ہوتی ہے اگرچہ وہ اس طاعت کا مستحق نہیں ہوتا۔ اس طرح یہ لوگ ان کے نزدیک اور ان کے اعتقاد میں ان کے سید اور سردار تھے جس طرح کہ قول باری ہے (فمااغنت عنھم الھتکم، ان کے معبودان باطل ان کے کچھ کام نہ آئے) حالانکہ حقیقت میں یہ ان کے معبود نہیں تھے۔ لیکن انہوں نے ان کو معبودوں کے نام سے موسوم کررکھا تھا اس لیئے کلام کو بھی ان کے زعم باطل اور اعتقاد فاسد کے مطابق جاری کیا گیا۔
Ayahs 3:40–41راتوں کے شمار میں دن اور دنوں کے شمار میں راتیں خودبخود آجاتی ہیں۔
قول باری ہے (قال رب اجعل لی ایۃ قال ایتک الاتکلہ الناس ثلثۃ ایام الارمزا، عرض کیا، مالک ! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقررفرمادے، کہا نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرسکوگے) کہاجاتا ہے کہ حضرت زکریاعلیہ السلام نے وقت حمل کے لیئے نشانی طلب کی تاکہ خوشی کے حصول میں عجلت ہوجائے، انہیں یہ نشانی دی گئی کہ ان کی زبان رک گئی۔ اور وہ اشارہ کے سوالوگوں سے گفتگو کرنے کے قابل نہ رہے۔ حسن بصری ربیع اور قتادہ سے یہی مروی ہے۔ اس آیت میں قول باری ہے (ثلثۃ آیام) اور سورئہ مریم میں بعینہ اس واقعہ کے سلسلے میں ارشاد ہے۔
(ثلث لیال سویا۔ تین پوری راتیں) اللہ تعالیٰ نے اس مدت کو کبھی دنوں کے ذکر سے تعبیر کیا اور کبھی راتوں کے ذکر سے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ رات اور دن کی تعداد میں سے جس کسی کا بھی علی الاطلاق ذکر ہوگا۔ دوسرے وقت کی تعدادخودبخود سمجھ میں آجاتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جب اللہ تعالیٰ نے راتوں اور دنوں کے درمیان فرق کرنا چاہاتو دونوں کا علیحدہ علیحدہ ذکر کیا۔ ارشادہوا (سبع لیال وثمانیۃ ایام حسوما، منحوس سات راتیں اور آٹھ دن) اس لیے کہ اگر پہلے عدد کے ذکرپراقتصارہوتا تو دوسرے وقت سے بھی اسی جیسا مفہوم سمجھ میں آجاتا۔
Ayah 3:42طہارت مومن یہ کہ نجاست کفر سے محفوظ ہے
قول باری ہے (واذقالت الملئکۃ یا مریم ان اللہ اصطفاک وطھرک واصطفاک علی نساء العالمین، اور جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطاکی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا) قول باری (واصطفاک) کے معنی یوں بیان کیئے گئے کہ اے مریم ! تجھے اللہ نے دنیا والوں کی تمام عورتوں پر فضیلت دے کر برگزیدہ بنادیا۔ حسن اور ابن جریج سے یہی تفسیر مروی ہے۔ ان دونوں کے علاوہ دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مریم اللہ تعالیٰ نے دلادتمسیح کی جلیل القدرخصوصیت دے کر دنیا کی تمام عورتوں میں برگزیدہ بنادیا۔ حسن اور مجاہدکاقول ہے کہ ارشاد باری (وطھرک) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے تجھے ایمان کی دولت دے کر کفر کی نجاست سے پاکیزگی عطاکی۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس تفسیر کی گنجائش موجود ہے جس طرح کہ کافرپر اس کے کفر کی وجہ سے نجاست کے اسم کا اطلاق جائز ہے۔ قول باری ہے (انما المشرکون نجس، بیشک مشرکین نجس ہیں) یہاں کفر کی نجاست مراد ہے۔ اسی طرح قول باری (وطھرک) میں ایمان کی طہارت اور پاکیزگی مراد لی جاسکتی ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا (المومن لیس نجبس مومن نجس نہیں ہوتا) اس سے آپکی مراد کفر کی نجاست ہے۔ اور یہ ارشاد اس قول باری کی طرح ہے (انمایرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا، اے اہل بیت نبی ! اللہ تعالیٰ تم سے آلودگی کو دور رکھنا اور تمھیں پوری طرح پاکیز گی عطاکرنا چاہتا ہے۔ ) یہاں ایمان اور طاعت کی پاکیز گی مراد ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قول باری (وطھرک) سے مراد حیض اور نفاس وغیرہ کی آلود گیوں سے پاکیزگی ہے۔
فرشتوں نے حضرت مریم کی کس طرح تطہیر کی جبکہ وہ نبی نہیں تھیں اس لیے کہ ارشادباری ہے۔ (وماارسلنامن قبلک الارجالانوحی الیھم، اور آپ سے پہلے ہم صرف مردوں کو رسول بناکربھیجتے رہے جن کی طرف ہم وحی کرتے رہے) درج بالاسوال کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں۔ کسی کا قول یہ ہے کہ دراصل یہ حضرت زکریاعلیہ السلام کا معجزہ تھا۔ کچھ دوسروں کا یہ قول ہے کہ یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی نبوت کی بنیادرکھنے کے طوپرہوا۔ جس طرح کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی بعثت سے پہلے بدلی کا سایہ فگن ہونا اور اس قسم کے دوسرے واقعات پیش آتے رہے۔
Ayah 3:43طویل قیام والی نماز افضل ہے
قول باری ہے (یامریم اقنتی لربک واسجدی وادکعی مع الراکعین، اے مریم ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ اس کے سامنے سجدہ ریزہوجا اور جھکنے والوں کے ساتھ جھک جا) سعید کا قول ہے۔ اپنے رب کے لیے مخلص ہوجا۔ قتادہ کا قول ہے۔ ہمیشہ اپنے رب کی اطاعت پر کمربستہ رہ۔ مجاہد کا قول ہے۔ نماز میں طویل قیام کر۔ قنوت کے اصل معنی کسی چیزپردوام کرنا ہیں۔ مذکورہ بالاتمام وجوہ میں حضرت مریم کے حال کی زیادہ مناسب وجہ نماز میں طویل قیام کا حکم ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا (افضل الصلوہ طول القضوت، افضل ترین نماز وہ جس میں طول قنوت ہو اس پر قول باری (واسجدی وارکعی) کا عطف بھی دلالت کرتا ہے۔ حضرت مریم کو قیام رکوع اور سجود کا حکم دیا گیا اور تینوں باتیں ارکان صلوۃ ہیں۔ اسی بناپرتمام اہل مقامات قرار پائے اس لیئے کہ یہاں سجدہ کے ذکرکے ساتھ رکوع اور قیام کا بھی ذکر ہے اس لیے یہ نماز کا حکم قرارپایا۔ یہاں اس بات پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ حرف واؤ ترتیب کو واجب نہیں کرتا اس لیے کہ معنی کے لحاظ سے رکوع سجدے پر مقدم ہوتا ہے۔ جبکہ یہاں الفاظ میں سجدے کو مقدم کردیاگیا ہے۔
Ayah 3:44حلال کاموں میں قرعہ اندازی جائز ہے
قول باری ہے (وماکنت لدیھم اذیلقون اقلامھم ایھم یکفل مریم) تم اس وقت وہاں موجودنہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سرپرست کون ہو، اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرناق نے، انہیں معمرنے قتادہ سے قول باری (اذیلقون اقلامھم) کی تفسیر میں یہ بیان کیا کہ ہیکل کے مجادروں نے حضرت مریم کی کفالت کے سلسلے میں آپس میں قرعہ اندازی کی۔ حضرت زکریا کے نام قرعہ نکلا۔ ایک قول ہے کہ قلموں سے یہاں وہ تیرمراد ہیں جن کے ذریعے قرعہ اندازی کی جاتی تھی۔ مجاوروں نے اپنے اپنے قلم پانی کی ایک گذرگاہ میں ڈال دیئے تھے۔ تمام مجاوروں کے قلم پانی کے بہاؤ کے رخ نیچے کی طرف بہتے چلے گئے لین حضرت زکریا کا قلم پانی کے چڑھاؤ کے رخ بہتا رہا۔ یہ حضرت زکریا کا معجزہ تھا۔ اس طرح قرعہ آپ کے نام نکل آیا۔ ربیع بن انس سے اسی قسم کی روایت ہے، اس تاویل کی رو سے مجاوروں کے باہمی قرعہ اندازی کی وجہ یہ تھی کہ ہر ایک حضرت مریم کی کفالت کا خواہشمند تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملک میں قحط اور خوراک کی سنگیں صورت حال کے تحت مجاوروں نے قرعہ اندازی کے ذریعے حضرت مریم کی کفالت کی ذمہ داری سے بچنا چاہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت زکریاعلیہ السلام کو بہترین کفالت کی ذمہ داری مل گئی۔ لیکن پہلی تاویل زیادہ صحیح ہے۔ اس لیئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی کہ اس نے زکریا کو کفیل بنادیا اور یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت زکریاکوان کی کفالت کی بڑی آرزو تھی۔
بعض لوگ اس واقعہ سے درج ذیل مسئلے میں قرعہ اندازی کے جوازپراستدلال کرتے ہیں۔ مسئلے کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنے مرض الموت میں اپنے غلام آزاد کردیتا ہے اور پھر مرجاتا ہے۔ ان غلاموں کے سواوہ اپنے پیچھے اور کوئی مال نہیں چھوڑتا۔ ایسی صورت میں غلاموں میں قرعہ اندازی جائز ہے اور جس غلام کے نام قرعہ نکلے گا اسے پھر سے غلام بنالیا جائے گا۔ کیونکہ مرنے والا صرف اپنے تہائی مال سے ان غلاموں کو آزادی دے سکتا تھا۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس مسئلے یعنی غلاموں کی آزادی میں اس واقعہ سے استدلال کی کوء گنجائش نہیں ہے۔ اس لیئے کہ کفالت کے مسئلے میں اگر قرعہ اندازی کے بغیران مجاوروں میں سے کسی ایک کے کفیل بننے پر سب کا اتفاق ہوجاتا ہے تو اس کا کفیل بننا جائز اور درست ہوتالیکن غلاموں کے مسئلے میں انہیں آزادی ملنے کے بعد کسی ایک کی دوبارہ غلامی پر باہمی رضامندی اور اتفاق جائز نہیں ہے۔ مرنے والے نے اپنے تمام غلاموں کو آزادی دے دی تھی۔ اس لیئے قرعہ اندازی کے ذریعے اس عتق کو ایک دوسرے کی طرف منتقل کرنا جائز نہیں ہوگا۔ جس طرح کہ کسی ایک سے آزادی کی منتقلی پر باہمی رضامندی اور اتفاق جائز نہیں ہے۔ قلموں کو بہتے ہوئے پانی میں ڈال دینا تقسیم میں قرعہ اندازی اور حاکم کے سامنے مقدمہ پیش کرنے کے مشابہ ہے۔ اس کی نظیروہ روایت ہے جو حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سب سفرکا ارادہ فرماتے تو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ اور یہ اس لیے کہ قرعہ جس کے نام نکلا، قرعہ اندازی کے بغیر بھی اس پر اتفاق اور باہمی رضامندی جائز تھی یہی صورت حضرت مریم کی کفالت کے مسئلے کی تھی۔ لیکن غلاموں کی آزادی کے مسئلے کا جہاں تک تعلق ہے اس میں اس بات پر باہمی رضامندی جائز نہیں ہے کہ جس غلام کو آزادی مل گئی ہے اس سے اس آزادی کو کسی اور کی طرف منتقل کردیاجائے۔
Ayah 3:45قاصدمالک کی طرف سے بشارت دے سکتا ہے
قول باری ہے (واذقالت الملئکۃ یا مریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح، اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا) بشارت ایک خاص وصف والی خبرکوکہتے ہیں۔ اصل کے لحاظ سے ہر خوش کن بات کو بشارت کہتے ہیں۔ اس لیے کہ بشارت کی وجہ سے چہرے پر سرور کے آثارپیدا ہوجاتے ہیں۔ اور بشرہ ادھوڑی یعنی چہرے کی ظاہری جلدکوکہتے ہیں۔ فرشتوں نے بشارت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردی اگرچہ فرشتے ان سے مخاطب تھے لیکن بشارت دینے والا اللہ تعالیٰ تھا اس لیے اس کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی۔ اسی بناپر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اگر فلاں کو فلاں کی آمد کی خوشخبری دوں تو میراغلام آزادی ہے۔ اس کے بعد وہ شخص آجائے اور یہ قسم کھانے والا اس فلاں کی طرف قاصد بھیج کر اس دوسرے کی آمد کی اطلاع دے قاصد اس سے جاکریہ کہے کہ فلاں شخص نے تجھے پیغام بھیجا ہے کہ اس فلاں کی آمدہوگئی ہے تو اس میں قسم کھانے والا حانث ہوجائے گا اور اسے غلام آزادکرناپڑے گا۔ اس لیئے اس صورت میں قاصدبھیجنے والاہی دراصل خوشخبری دینے والا ہے۔ قاصدخوشخبری دینے والا نہیں ہے۔ ہم نے بشارت کے معنی کی وضاحت میں یہ بیان کیا تھا کہ اس میں خوشی پیدا کرنے کا پہلوہوجودہوتا ہے۔ اس بناپر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ خوشخبری دینے والا وہ شخص ہوگاجوسب سے پہلے خبروے دوسرے نمبرپرخبردینے والا مبشر نہیں کہلاسکتا اس لیے کہ اس کی خبر سے خوشی اور مسرت کا ظہور نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ لفظ بشارت کا اطلاق کرکے اس سے صرف خبرمراد لی جاتی ہے۔ جیسا کہ قول باری ہے (فبشرھم بعذاب الیم، انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیئے)
عیسیٰ کلمۃ اللہ ہیں۔
قول باری ہے (بکلمۃ منہ) اس کی تین طرح سے تفسیر کی گئی ہے اول یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو بن باپ کے پیداکردیاجیسا کہ خودارشاد فرمایا (خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون ، اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر فرمایا ہوجاپس وہ ہوگیا) جب حضرت عیسیٰ کی پیدا پیدائش باپ کے بغیر اس طریقے پر ہوئی تو ان پر مجازا لفظ کلمۃ کا اطلاق کردیا گیا، جیسا کہ فرمایا (وکلمتہ 47 الی مریم، عیسیٰ اللہ کے کلمہ تھے جسے اس نے مریم کی طرف ڈال دیا) چودوم چونکہ حضرت عیسیٰ کے متعلق کتب قدیمہ میں بشارت موجود تھی اس لیے ان پر لفظ کلمہ کا اطلاق کیا گیا۔ سوم اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہا السلام کے ذریعے بندوں کی ہدایت کا اسی طرح سامان کیا تھا جس طرح اپنے کلمہ اور امر کے ذریعے ان کی ہدایت کی تھی۔
Ayahs 3:46–61مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت ہے، قتادہ کا قول ہے کہ یہ بات اس وقت کہی گئی جب قرآن کے الفاظ میں حضرت عیسیٰ کا قول اس طرح نقل کیا گیا (ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم وجئتکم بایۃ من ربکم فاقم ا اللہ واطیعون ان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ ، تاکہ میں تمہارے لیے بعض وہ باتیں حلال کردوں جو تم پر حرام تھیں۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی نشانی لے کرآیاہوں، اس لیئے اللہ سے ڈرو اورمیری پیروی کرو۔ لیے شک اللہ میرا اور تمھارارب ہے۔ اس لیے اسی کی عبادت کرو۔
واضح رہے کہ یہ باتیں انجیل میں بھی موجو د ہیں اس میں حضرت عیسیٰ کا یہ قول موجود ہے۔ میں اپنے اور تمھارے باپ اور اپنے اور تمہارے رب کی طرف جارہاہوں۔ اس زبان میں آقا اور مالک پر اب کے لفظ کا اطلاق ہوتا تھا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا۔ اپنے اور تمھارے باپ کی طرف۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ آپ کی اس سے وہ ابوۃ یعنی باپ ہونے کی صفت مراد نہیں ہے۔ جو کسی کے بیٹا ہونے کی متقاضی ہوتی ہے۔ جب عیسائیوں پر ان دلائل کی بناپرحجت قائم ہوگئی جن سے وہ واقف تھے اور جن کا انہیں اعتراف تھا نیز بن باپ کے بیٹا ہونے کے متعلق حضرت آدم (علیہ السلام) کی مثال دے کر ان کا شبہ باطل کردیاگیا توا نہیں مباہلہ کی دعوت دی گئی چناچہ قول باری ہے (فمن حاجک فیہ من بعدماجاء ک من العلم فقل تعالواندع ایناء نا واینائکم علیہ علم آجانے کے بعد اب جو کوئی بھی اس معاملہ میں تم سے جھگڑاکرے تو اے محمد ! اس سے کہو۔ آؤہم تم خودبھی آجائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں) تاآخر آیت سیروتواریخ کے راویوں اور ناقلین روایات نے متفقہ طورپریہ نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ حضرت حسن ؓ حضرت حسین ؓ کا ہاتھ پکڑا اور بحث کرنے والے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔ لیکن وہ ڈرکرپیچھے ہٹ گئے اور مباہلہ سے کنارہ کش ہوگئے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ کہ اگر تم نے مباہلہ کرلیا تو تمھارے لیئے یہ وادی آگ کا آلاؤبن جائے گی اور پھر قیامت تک ایک عیسائی مرد یا عورت بائی نہیں رہے گی۔
ان آیات میں عیسائیوں کے اس شبہے کو باطل کردیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (نعوذباللہ) الٰہ یا الٰہ کے بیٹے ہیں۔ اس میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر بھی دلالت موجود ہے۔ اس لیے کہ اگر انہیں یقینی طورپر یہ معلوم نہ ہوتا کہ آپ نبی ہیں توا نہیں مباہلہ کرنے سے کونسی چیز ردک سکتی تھی۔ ؟ لیکن جب اس معاملے میں انہوں نے منہ کی کھائی اور پہلوبچاگئے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ انہیں گذشتہ انبیاء کرام کی کتابوں میں حضور ﷺ کے متعلق بیان کردہ نشانیوں اور لاجواب کردینے والے دلائل کے بند پر آپ کی نبوت کی صحت کا پوراپوراعلم تھا۔
حضور کے نواسے اولاد میں شامل ہیں
اس میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے کہ حضرت حسن ؓ اور حسین حضور ﷺ کے بیٹے ہیں اس لیئے کہ جب آپ نے مباہلہ کے لیے جانے کا ارادہ کیا تو حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کے ہاتھ پکڑلیے اور عیسائیوں سے فرمایا۔ ہم تم خودبھی آجائیں اور اپنے بال بچوں کو بلالیں۔ اس وقت ان دونوں نواسوں کے سوا حضور ﷺ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت حسن سے فرمایا (ان ابنی ھذاسید، میرایہ بیٹا سردار ہے) اسی طرح جب ان دونوں سے ایک نے آپ پر پیشاب کردیاتو آپ نے فرمایا (لاتزرموا ابنی، میرے اس بیٹے کو مت روکو) حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ آپ کی ذریت یعنی اولاد میں سے بھی ہیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو حضرت ابراہیم کی ذریت یعنی اولاد میں سے قراردیا۔ چناچہ ارشاد باری ہے (ومن ذریتہ داؤد و سلیمان، اور ابراہیم کی اولاد میں سے داؤ د اور سلیمان کو۔ ) تاقول باری (وذکریا ویحیٰ وعیسیٰ ، اور زکریا یحییٰ اور عیسیٰ کو) حضرت ابراہیم کی طرف نسبت ماں کے داسطے سے ہے اس لیے کہ حضرت عیسیٰ بن باپ کے تھے۔
بعض لوگوں کا یہ قول ہے کہ حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو حضور ﷺ کے بیٹے کہنا صرف ان دونوں کے ساتھ خاص ہے۔ کسی اور پر اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ حضور ﷺ سے اس سلسلے میں ایک روایت بھی منقول ہے جوان دونوں حضرات کی اس خصوصیت پر دلالت کرتی ہے جس میں کوئی اور شامل نہیں۔ آپ سے یہ مروی ہے (کل سبب ونسب منقطع یوم القیا مۃ الاسبہی ونسبی، قیامت کے دن ہر تعلق اور ہر رشتہ منقطع ہوجائے گا، صرف میرے ساتھ تعلق اور میرارشتہ باقی رہے گا) امام محمد کا قول ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کے ولد کے لیے کوئی وصیت کرے اور اس شخص کی کوئی صلبی اولاد نہ البتہ اس کے بیٹے اور بیٹی کی اولاد ہو تو اس صورت میں وصیت کی حق دار اس کے بیٹے کے اولاد ہوگی۔ بیٹی کی ادلاد نہیں ہوگی۔ تاہم حسن بن زیادہ نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ بیٹی کی اولاداس میں داخل ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس بارے میں قول باری اور قول نبی ﷺ کی روشنی میں یہ صرف حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی خصوصیت ہے کہ حضور ﷺ کی طرف علی الاطلاق ان کی نسبت کرنا جائز ہے۔
بچوں کا نسب ماں کے بجائے باپ کی طرف ہوگا
ان کے سوایاتی ماندہ تمام لوگوں کی نسبت ان کے اپنے آباء اور آباء کو قوم کی طرف ہوگی۔ ماؤں کی قوم کی طرف نہیں ہوگی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کسی ہاشمی کے گھر اس کی روحی یاحبشی لونڈی کے بطن سے کوئی بچہ پیدا ہوجائے تو اس بچے کی نسبت اس کے باپ کی قوم کی طرف ہوگی ماں کی قوم کی طرف نہیں۔
شاعرنے بھی اپنے ایک شعر میں یہی کچھ کہا۔
؎ بنونابنوابناء نا وبناتنا بنوھن ابناء الرجال الاباعد
ہماری اولاد وہ ہے جو ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کی اولاد ہے اور ان عورتوں کی الادوہ ہے جو اجنبی اور دور کے رشتہ داروں کے صلب سے پیداہوئی ہے۔ اس لیے حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی حضور ﷺ کی طرف علی الاطلاق بیٹے ہونے کی نسبت صرف ان دونوں حضرات کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس میں ان کے سوا کوئی اور شامل نہیں ہے ان دونوں حضرات کی نسبت کے سوالوگوں میں جو ظاہر اور متعارف بات ہے وہ یہی ہے کہ نسبت باپ اور باپ کی قوم کی طرف ہوتی ہے ماں کی قوم کی طرف نہیں۔
Ayahs 3:62–64اطاعت نبی دراصل اطاعت الٰہی ہے
قول باری ہے (قل یا اھل الکتاب تعالوالی کلمۃ سوآء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللہ، کہو اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے دہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں) تاآخر آیت قول باری (کلمۃ سوآء) سے مراد ۔ واللہ علم ہمارے اور تمھارے درمیان انصاف کی بات جس میں ہم سب یکساں ہیں کیونکہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر خودہی ان الفاظ میں بیان کی (الانعبدالا اللہ ولانشرک بہ ولایتخذبعضنا بعضا اربابا حن دون اللہ، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور اللہ کو چھوڑکرہم ایک دوسرے کو اپنارب نہ بنالیں) یہی وہ کلمہ ہے جس کی صحت کی عقول انسانی گواہی دیتی ہیں۔ کیونکہ تمام انسان اللہ کے بندے ہیں ان میں سے بعض کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں سے اپنی عبادت کرواتیں اور ان پر اللہ کی طاعت کے سوا اور کسی ذات کی طاعت واجب نہیں الا یہ کہ اللہ کی طاعت میں کسی اور کی طاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی طاعت کو اس شرط کے ساتھ مشروط کردیا ہے۔ کہ وہ معروف میں ہو۔ منکر میں نہ ہو۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ نبی کریم ﷺ معروف ہی کا حکم دیں گے لیکن اس کے باوجود درج بالا شرط اس لیے عائد کردی تاکہ کسی کے لیے یہ گنجائش پیدانہ ہوسکے کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کسی پر اپنی ذات کی طاعت لازم کردے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں سے بعیت لینے کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (ولایعصینک فی معروف فبایعھن، اور یہ عورتیں کسی معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں تو ان سے بیعت لے لو) اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر نبی کریم ﷺ کی معروف کے اندرجس کا آپ حکم کریں نافرمانی نہ کرنے کی شرط عائد کردی۔ یہ شرط تاکید کے طورپرلگائی گئی ہے تاکہ کسی پر غیر اللہ کی طاعت لازم نہ آئے سوائے اس صورت کے جس میں اللہ کی طرف سے کسی کو ایسا کرنے کا حکم دیاگیا ہو اور جو اللہ ہی کی طاعت کی ایک شکل ہو۔
غیر اللہ رب نہیں ہوسکتے
قول باری ہے (ولایتخذبعضنابعضا اربابا من دون اللہ) یعنی کسی چیز کی تحلیل یاتحریم میں کوئی کسی کی پیروی نہ کرے صرف اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حلال اور حرام کردہ چیز کو حرام تسلیم کیا جائے اس کی نظیر یہ قول باری ہے (اتخذوا احیارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح بن مریم، انہوں نے اللہ کو چھوڑکر اپنے احبار و رہبان یعنی علماء اور درویشوں اور مسیح ابن مریم کو اپنارب بنالیا ہے) عبدالسلام بن حرب نے عطیف ابن اعین سے انہوں نے مصعب بن سعد سے انہوں نے عدی بن حاتم سے روایت کی ہے۔ عدی ؓ کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا۔ اس وقت میرے گلے میں سونے کی صلیت لٹک رہی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اس بت کو اپنے گلے سے اتارپھینکو۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ) میں نے عرض کیا کہ ہم ان کی پرستش نہیں کرتے تھے پھر آیت میں یہ بات کیوں کہی گئی ؟ اس پر آپ نے فرمایا کیا ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کہ یہ علماء اور ورویش اللہ کی حرام کردہ باتوں کو ان کے لیئے حلال کردیتے اور یہ انہیں حلال سمجھ لیتے اسی طرح اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو یہ ان کے لیے حرام قراردیتے اور پھر یہ انہیں حرام سمجھ لیتے ؟ یہی ان کی طاعت اور عبادت کا مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی یہ بری بات کہ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اپنارب بنالیا تھا۔ اس لیے بیان کی کہ ان لوگوں نے انہیں اس لحاظ سے اپنے رب اور خالق کا درجہ دے رکھا تھا کہ جن چیزوں کو اللہ نے حلال یا حرام قرار نہیں دیا تھا۔ ان کی تحلیل وتحریم کے سلسلے میں اس کی اطاعت کی جائے۔ تمام کے تمام مکلف بندے اللہ کی عبادت کے لزوم، اس کے حکم کی پیروی اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنے میں یکساں حکم رکھتے ہیں۔