3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 3:119–130

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو ! ) غصے میں مرجاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کئے ہوئے ہے

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر سے روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بےسروسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعۃً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے (ذریعہ) بشارت بنایا یعنی اس لئے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا ان کے حال پر مہربانی کر کے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو

سود کی ہر صورت حرام ہے قول باری ہے (لاتاکلوا الربواضعا فامضاعفۃ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو ) قول باری (اضعا فاعفۃ) کے دومعنی بیان کیے گئے ہیں اول تاجیل قرض کی ادائیگی کی مدت میں اضافے کے ساتھ سود کو رقم میں اضافہ کرتے جانا اور ہر مدت کے لیے زائد رقم کی قسط مقررکر دینا۔ دوم سودی رقموں کے ذریعے اپنے مال میں کئی گنا اضافہ کرلینایہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز کا خصوصیت کے ساتھ ذکرکر دیاجائے، وہ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کے ماسواچیزوں کا حکم کے برعکس ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر کئی کئی گنابڑھا کر سود خوری کی تحریم اس پر دلالت کرتی کہ اگر کئی کئی گنا اضافے کی صورت نہ ہو تو سود کھانا مباح ہے۔ جب سود کی مطلقا ممانعت ہوگئی خواہ اس کی مذکورہ بالا کیفیت ہو، یا نہ ہو، تو اس کی اباحت کے بارے میں لوگوں کے قول کا بطلان واضح ہوگیا بلکہ ان کے لیے یہ سمجھ لینا ضروری ہوگیا کہ اباحت پر دلالت قول باری (وحرم الربو) کی وجہ سے منسوخ ہوگئی ہے کیونکہ اب اباحت کے حکم کے لیے کوئی موقع ومحل باقی نہیں رہا۔
Ayahs 3:131–133

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور (دوزخ) کی آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کئی گئی ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

جنت کی وسعت بےکنار ہے قول باری ہے (وجنۃ عرضھا السموت والارض۔ اور جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے) ایک قول ہے کہ جنت کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمایا (وجنۃ عرضھا کعرض السماء والارض، اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کی طرح ہے) جس طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوا (ماخلقکمومابعثکم الاکنفس واحدۃ ، تمھاراپیداکرنا اور دوبارہ زندہ کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کو دوبارہ پیدا کرنے کی طرح ہے) یعنی اس طرح جیسے ایک جان کو دوبارہ زندہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی وسعت کے بیان کے سلسلے میں عرض کا ذکر فرمایا طول کا ذکر نہیں کیا اس لیے کہ عرض کا ذکر اس پر دلالت کرتا ہے کہ طول اس سے زیادہ ہوگا اور اگر طول کا ذکر ہوتاتو جنت کی وسعت پر دلالت کرنے میں یہ اس کا قائم مقام نہ ہوتا۔ اس سے حضور ﷺ کے اس ارشاد (ذکاۃ الجنین ذکاۃ امہ جنین کاذبح اس کی ماں کاذبح ہے) کے متعلق استدلال کیا جاتا ہے کہ آپ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جنین کاذبح اس کی ماں کے ذبح کی طرح ہے۔
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

غصہ پی جانا اور لوگوں سے درگزرکرنا پسند یدہ اعمال ہیں قول باری ہے (الذین ینفقون فی السّراء والضرّاء والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس، جو ہر حال میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصورمعاف کردیتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ نے (فی السرّاء والضّراء) کی تفسیر میں فرمایا تنگ دستی اور فراخی میں یعنی مال کی قلت اور کثرت دونوں حالتوں میں، ایک قول ہے کہ خوشی اور غم دونوں حالتوں میں وہ اپنامال نیکی کی راہوں میں خرچ کرتے ہیں کوئی حالت انھیں انفاق سے باز نہیں رکھ سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے تنگدستی اور فراخی دونوں حالتوں میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کی تعریف کرنے کے بعد اس پر (والکاظمین الغیظ والعافین عن النّاس) کو عطف کیا اور پھر ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو اپنے غصّے کو پی جاتے اور زیادتی کرنے والے کو معاف کردیتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے : جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ کبھی اپنا غصہ نہیں نکالتا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہے وہ کبھی اپنا غصہ نہیں نکالتا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہے وہ کبھی اپنی من مانی نہیں کرسکتا۔ اگر قیامت کا دن نہ ہوتا تو تم دنیا کی کیفیت اس سے مختلف پاتے جو آج دیکھ رہے ہو۔ غصّہ پی جانا اور لوگوں کے قصورمعاف کردینا پسند یدہ افعال ہیں، جن کی ترغیب دی گئی ہے اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:135–145

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے رہو اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون کرسکتا ہے ؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین میں سیر کر کے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہو

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہل تقوی کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور (دیکھو) بےدل نہ ہونا اور نہ کسی طرح غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور یہ بھی مقصود تھا خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے اور کافروں کو نابود کر دے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ (یعنی مرتد ہوجاؤ گے) اور جو الٹے پاؤں پھرجائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکے گا اور خدا ‌شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے (اس نے موت) کا وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال) کا بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دیں گے اور جو آخرت میں طالب ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب بہت (اچھا) صلہ دیں گے

جہاد کی ترغیب قول باری ہے (وماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ کتبامؤجلا، کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے) آیت میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اس لیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو موت نہیں آسکتی تو پھر جہاد پر جانے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونی چاہیے۔ آیت کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی وفات کی صورت میں لوگوں کو پہنچنے والے صدمے کو یہ کہہ کر زائل کیا گیا ہے کہ آپ کی وفات بھی تو اللہ کے اذن سے ہوئی ہے۔ آیت سے یہ پہلو اس لیے احتد کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے حضور ﷺ کی وفات کا تذکرہ ان الفاظ میں گزرچکا ہے ومامحمد الارسول قد خلت من قبلہ الرّسل افان مّات او قتل انقلبتم علی اعقابکم محمد اس کے سواکچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول بھی گزرچکے ہیں پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے ؟ ) قول باری ہے (ومن یردثواب الدنیا نؤتہ منھا جو شخص ثواب دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دے دیں گے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ جو شخص دنیا کے لیے کام کرے گا تو اسے دنیا ہی میں اس کا متصررحصہ دے دیاجائے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ابن اسحاق سے یہی تفسیر مروی ہے۔ ایک قول ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص جہلا کرتے ہوئے دنیا کے اجرکا ارادہ رکھے گا تو وہ مال غنیمت میں اپنے حصے سے محروم نہیں رکھاجائے گا ایک قول یہ بھی ہے کہ جو شخص نفلی عباوتوں کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہے گا جب کہ وہ اللہ کے علم میں اس وجہ سے جنت کے مستحقین میں سے نہیں ہوگا، کہ وہ کاف رہے یا اس کے اعمال حبط اور بے کار ہوگئے ہیں، تو ایسی صورتوں میں اسے دنیا ہی میں اس کی عبادتوں کا بدلہ دے دیا جائے گا، آخرت کے ثواب میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشاء لمن نرید جعلنا لہ جھنم یصلنھا مذموما مدحورا، جو کوئی دنیا کی نیت رکھے گا ہم اس کو دنیا میں سے جتنا چاہیں گے جس کے واسطے چاہیں گے فوراہی دے دیں گے پھر ہم اس کے لیے جہنم رکھیں گے اس میں وہ بدحال اور راندہ ہوکرداخل ہوگا۔
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل اللہ (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصیبتیں ان پر راہ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

قول باری ہے (وکایّن مّن نّبیّ قاتل معہ ربّیّون کثیر، اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزرچکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی) ابن عباس ؓ اور حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد علماء اور فقہاء میں مجاہد اورقتادہ نے کہا کہ بہت سے گردہوں نے ان کے ساتھ مل کر جنگ کی (فما وھنوالما اصابھم فی سبیل اللہ وماضعفواومااستکانوا۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ، انھوں نے کمزوری نہیں دکھائی اور وہ (باطل کے آگے) لفظ الوھن کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس کے معنی جسم کاٹوٹنا ہیں اور ضعف، قوت میں کمی کو کہئے ہیں۔ لفظ الا ستکانۃ کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس کے معنی اظہار ضعف کے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد جھک مارنا اور رسرنگوں ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ خدا پرست دل شکستہ نہیں ہوئے۔ نہ ہی دشمنوں کے مقابلہ میں کمزورپڑے اور نہ ہی جہاد میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے وہ اپنے دین سے ہٹ کر کسی اور طرف جھک گئے۔ آیت میں جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے، اور انبیاء سابقین کے اہل علم، صحابہ کی راہ پرچلنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نیز جہاد میں صبرو استقامت کے سلسلے میں ان کی اقتدا کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔
Ayah 3:147

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

قول باری ہے (وماکان قولھم الا ان قالواربنا اغفرلنا ذنوبنا۔ ان کی دعابس یہ تھی کہ اے ہمارے رب ہماری غلطیوں اور کو تا ہیوں سے درگزرفرما) تاآخرایت ۔ اس آیت میں انبیاء سابقین کے خدا پرست متبعین کی دعا کی حکایت ہے۔ نیز ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ میدان جنگ میں معرکہ آرائی کے موقعہ پر ہم بھی اس قسم کی دعامانگیں۔ اس لیے دشمن کے خلاف صف آراہو کر مسلمانوں کو اسی قسم کی دعامانگنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان خدا پرستوں کی یہ دعا ان کی تعریف اور اپنی پسند ید گی کے اظہار کے طور پر نقل فرمائی ہے تاکہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر ان کی طرح تعریف خداوندی کے مستحق قرارپائیں۔
Ayah 3:148

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

تو خدا نے انکو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ دے گا اور خدا نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے

قول باری ہے (فاتاھم اللہ ثواب الدنیا وحسن ثواب الاخرۃ۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہترثواب آخرت بھی عطا کیا) قتادہ، ربیع بن انس اور ابن جریچ کا قول ہے کہ دنیا کا ثواب جو انھیں دیا گیا وہ دشمن پر ان کی فتح تھی جس کی بناپروہ ان پر غالب آگئے اور ان کے مقابلے میں انھیں پوری کامیابی حاصل ہوگئی۔ اور آخرت کا ثواب جنت ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک شخص کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کا اجتماع جائز ہے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جو شخص دنیا کے لیے کام کرے گا وہ اپنی آخرت کا نقصان پہنچائے گا اور جو شخص آخرت کے لیے کام کرے گا وہ اپنی دنیا کو بگاڑلے گا۔ لیکن کبھی اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں عطاکردیتا ہے۔
Ayahs 3:149–151

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر (کر مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑجاؤ گے

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

(یہ تمہارے مددگار نہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور سب سے بہتر مددگار ہے

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی ان کا ٹھکانہ ددزخ ہے وہ ظالموں کا بہت برا ٹھکانہ ہے

قول باری ہے (سنلقی فی قلوب الذین کفروا الّرعب بما اشرکواباللہ ما لم ینزل بہ سلطانا۔ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے اس لیے کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سندنازل نہیں کی) آیت میں تقلید کے بطلان کی دلیل موجود ہے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے قول کے بطلان کا اس وجہ سے حکم لگادیا کہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی یہاں سلطان سے مراد برہان اور دلیل ہے۔ ایک قول ہے کہ سلطان کے اصل معنی قوت کے ہیں۔ بادشاہ کا سلطان اس کی قو ت ہوتی ہے۔ حجت اور دلیل کو بھی اس لیے سلطان کہتے ہیں کہ اس میں باطل کو جڑ سے اکھاڑدینے اور طابل پرست پر غالب آجانے کی قوت ہوتی ہے۔ کسی چیز پر تسلیط اور غلبہ کا مفہوم یہ ہے کہ اس بھڑکاکر اس کے خلاف قوت کا مظاہرہ کیا جائے ورا سے دبالیا جائے۔ آیت میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل موجود ہے۔ اس میں مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دینے کی خبردی گئی ہے۔ بعد میں پیش آمدہ واقعات نے اسے سچ کردکھایا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (نصرت بالرعب حتی ان العد ولیرعب منی وھوعلی مسیرۃ شھر، دشمنوں کے دل میں رعب ڈال کر میری نصرت کی گئی ہے حتی کہ دشمن ایک ماہ کی مسافت پر بھی مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے۔
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کردیا (یعنی) اس وقت جب کہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور خدا مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

اطاعت امیرضروری ہے قول باری ہے (ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذتحسونھم باذنہ۔ اللہ نے (تائید نصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس نے پورا کردیا، ابتداء میں اس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کررہے تھے) آیت میں یہ خبردی گئی ہے کہ مسلمانوں سے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں فتح ونصرت کاپیشگی وعدہ فرمایا گیا تھا، اور یہ وعدہ اس وقت تک قائم رہاجب تک انھوں نے اپنے کام میں اختلاف نہیں کیا چنانچہ غزوہ احد کے موقعہ پر بالکل یہی ہوا۔ مسلمان شروع میں اپنے دشمنوں پر غالب آگئے انھیں شکست دے دی اور انھیں جانی نقصان بھی پہنچایا۔ حضور ﷺ نے تیراندازوں کو ایک درے پر جمے رہنے کا حکم دیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ وہ کسی بھی حالت میں یہ درہ اور مورچہ نہ چھوڑیں۔ لیکن انھوں نے یہ دیکھتے ہوئے کہ مشرکین کو شکست ہوچکی ہے اور اب ان کا یہاں جمے رہنا بےکار ہے، مورچہ خالی کردیا اور درے کو چھوڑکر حضور ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ در بے کے مورچے کو چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کے متعلق بھی ان میں اختلاف پیدا ہوگیا مشرکین کے ایک سالاد خالدبن الولید کو موقعہ مل گیا۔ انھوں نے پیچھے سے ان پر حملہ کیا اس طرح ان کا بھاری جانی نقصان ہوا جس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان حضور اکرم ﷺ کے حکم کو ترک کرکے کے آپ کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل بھی موجود ہے۔ اس لیے کہ مسلمانوں نے آپ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے سے پہلے اللہ کے کیے ہوئے وعدے کو پورا ہوتے دیکھ لیا لیکن جب وہ آپ کے حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے انھیں تنہاچھوڑدیا گیا۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل موجود ہے کہ دشمنوں کے خلاف جہاد میں اللہ تعالیٰ کی مدد کے حصول کی شرط یہ ہے کہ مجاہدین اس کے حکم کی پیروی اور اس کی فرمانبرداری کی بھرپورکوشش کریں۔ دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کے لیے عادۃ اللہ یہی ہے۔ صدراول کے مسلمان مشرکین سے دین کی بنیاد پر قتال کرتے اور اسی بنیادپران کے خلاف اللہ تعالیٰ کی مدد اور ان پر غالب آنے کی امید کرتے تھے۔ ان کا یہ قتال کثرت تعداد کی بناپر نہیں ہوتا تھا۔ اسی لیے قول باری ہے (ان الذین تولومنکم یوم التقی الجمعان انما استزلھم الشیطان ببعض ماکسبواتم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادیے) آیت میں یہ بتادیا گیا کہ درے کے مورچے کو خالی کرکے حضور ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی بناپرانھیں شکست ہوئی۔ قول باری ہے (منکم من یرید الدنیا ومنکم من یریدالا خرۃ ، تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے) اور یہ شکست ان لوگوں کی وجہ سے ہوئی جو دنیا کے خواہشمند تھے۔ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ حضور ﷺ کی معیت من جہاد کرنے والوں میں سے کوئی دنیا کا خواہشمند بھی ہوسکتا ہے حتی کہ آیت (منکم من ترید الدنیا) نازل ہوئی۔ اس نبیا د پر اللہ نے مسلمانوں پر یہ فرض کردیا تھا کہ اگر ان کی تعداد بیس ہو تو وہ دوسو کے آگے سے نہ بھاگیں، چناچہ ارشاد ہے (وان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوامائتین، اگر تم میں سے صبر کرنے والے بیس افراد بھی ہوئے تو وہ دوسوپرغالب آجائیں گے) اس لیے کہ ابتدائے اسلام میں حضور ﷺ کی معیت میں جہادفی سبیل اللہ کرنے والوں کی نیت میں اخلاص ہوتا تھا اور کسی کو دنیا کی خواہش نہیں ہوتی تھی۔ غزوہ بدر میں ان کی تعدادتین سودس سے کچھ اوپر تھی، اکثر کے پاس سواری کے جانور نہیں تھے، اور نہ ہی مکمل جنگی سازوسامان تھا، جبکہ دشمن کے سواروں اور پیدل فوجیوں کی تعدادایک ہزار تھی جو پوری طرح کیل کانٹے۔ سے لیس تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی گردنیں مسلمانوں کو تھمادیں اور ان کی اس طرح نصرت فرمائی کہ انھوں نے جس طرح چاہا دشمنوں کو تہ تیغ کیا اور جسے چاہاقیدی بنالیا۔ اس کے بعد جب مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی آملے جو اپنی بصیرت اور خلوص نیت میں اس پائے کے نہیں تھے تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا فرض میں سب کے لیے تخضیف کردی، چناچہ فرمایا (الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین وان یکن منکم الف یغلبوالفین باذن اللہ، اب اللہ تعالیٰ نے تم سے تخفیف کردی ہے اور اسے تمہاری کمزوری کا علم ہوگیا ہے۔ اب اگر تم میں سے صبر کرنے والے ایک سوافرادبھی ہوئے تو وہ دوسورغالب آجائیں گے اور اگر ایک ہزار ہوئے تو وہ دوہزار پر غالب آجائیں گے) یہ بات تو واضح ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کا اشارہ جسمانی قوت کی کمزوری اور اسلحہ کی غیر موجود گی کی طرف نہیں ہے اس لیے کہ ان کی جسمانی قوت بحالہ باقی تھی، ان کی تعدادبھی پہلے کے مقابلہ میں زیادہ تھی اور اسلحہ وغیرہ بھی کافی تھا بلکہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان کے ساتھ ایسے لوگ آملے تھے جن میں اس درجے کی قوت بصیرت نہیں تھی جوان سے قبل کے مسلمانوں میں تھی۔ اس لیے یہاں ضعف سے مراد، ضعف نیت ہے، فرض کی اس تخفیف میں سب کو شامل کرلیا گیا، اس لیے کہ صاحب بصیرت افراد کو ان کے ناموں اور شخصیتوں کے ساتھ کمزوریقین اور قلت بصیرت والوں سے چھانٹ کر الگ کر دنیا مصلحت کے خلاف تھا۔ اسی بناپرجنگ یمامہ کے موقعہ پر جو مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی جب مسلمان شکست کھاکرپیچھے ہٹنے لگے تو جنگ میں شریک حضور ﷺ کے صحابہ کرام نے پکار کر کہا اخلصونا، اخلصونا، (ہمیں خالص رہنے دو ) ان کا اشارہ حضرات مہاجرین و انصار کی طرف تھا۔ یعنی یہ حضرات میدان سے نہ بھاگیں۔
Ayahs 3:153–154

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول اللہ تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصبیت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہوگئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے ؟ تم کہہ دو کہ بیشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

میدان احد میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی عجیب کیفیت قول باری ہے (ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا لیغشی طائفۃ منکم ، اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمنان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ ادنگھنے لگے) حضرت طلحہ ؓ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ، حضرت زبیر ؓ ، قتادہ، ربیع بن انس کا قول ہے کہ یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا، مسلمانوں میں سے کچھ تو شکست کھاکرپیچھے ہٹ گئے، ساتھ ہی مشرکین کی طرف سے دوبارہ حملے کی دھمکی کی، ادھر جو مسلمان میدان جنگ میں ڈٹے رہے اور دشمن سے دودوہاتھ ہونے کے لیے پوری طری تیار تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے اطمینان کی کیفیت طاری کردی اور وہ اونگھ گئے ، لیکن منافقین کو ان کے سوئے ظن اور خوف کے غلبے کی بناپر یہ کیفیت حاصل نہ ہوسکی۔ حضور ﷺ کے صحابہ کا کہنا ہے کہ ہم سوگئے حتی کہ پورے لشکر میں اونگھ کی کیفیت میں منہ سے نکلنے والی آواز پھر گئی۔ منافقین کو یہ کیفیت نصیب نہیں ہوئی بلکہ انھین اپنے جان کے لالے پڑے رہے۔ ایک صحابی نے یہ کہا کہ میں نے نیم خوابی کے عالم میں معتب بن قشیر اور کچھ دوسرے منافقین کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ، اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے۔ ایسے موقعہ پر جبکہ دشمن سرپرسوار تھا، بہت سے رفقاء شکست کھاچکے تھے اور بہت سے شہید ہوچکے تھے، یہ اللہ کا محض لطف و کرم تھا اور اس کی طرف ہے نبوت کی نشانی کا اظہار کہ مسلمانوں کو اس وقت عین دشمنوں کے مقابلہ میں کھڑے کھڑے نیند آگئی حالانکہ وہ ایسا نازک وقت تھا کہ دیکھنے والے کی آنکھوں سے بھی گھبراہٹ کی وجہ سے نینداڑجاتی ہے چہ جاٹی کہ جو دشمن کے خلاف صف آراہوں اور دشمن کی تلواریں اور نیزے ان کی جان لینے اور ان کا نام ونشان مٹادینے کے لیے لہرا رہے ہوں۔ اس واقعہ میں کئی وجوہ سے حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی بڑی سے بڑی نشانی اور قوی سے قوی حجت اور دلیل موجود ہے۔ اول ایسے وقت میں اطمینان کا حصول جبکہ بظاہر دشمن غالب ہو، کسی طرف سے کسی کمک کے آنے کی امیدنہ ہو، دشمن کا زیادہ نقصان بھی نہ ہو اہو، نیز وہ میدان چھوڑکرجانا بھی نہ چاہتا ہو اور اس کی تعدادبھی کم نہ ہو۔ ایسے نازک وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی طورپر اہل ایمان ویقین کے دلوں میں اطمینان پیدا کردینا ان کے نبی ﷺ کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے دوم ایسے نازک موقعہ پر اونگھ کی کیفیت کا طاری ہوجانا جبکہ اس منظر کا مشاہدہ کرکے لوٹنے والے کی آنکھوں سے بھی نینداڑجاتی ہے، ان لوگوں کی حالت کا آسانی سے انداز ہ لگایا جاسکتا ہے جو اس منظر میں موجود ہیں اور دشمن انھیں ختم کرنے اور ان کا نام ونشان مٹانے پر تلاہوا ہے۔ سوم، اہل ایمان اور منافقین کے درمیان خط امتیاز کھینچ دینا کہ اول الذکرگردہ کو سکون واطمینان اور راونگھ جانے کی نعمت مل گئی جبکہ موخرالذکر گروہ انتہائی خوف ودہشت اور قلق واضطراب کے عالم میں گرفتاررہا بیشک پاک ہے وہ ذات جو عزیز وعلیم ہے۔ جو نیکوکاروں کے اجر کو ضائع ہونے نہیں دیتی۔