3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاحکام القرآن

Ayah 3:104

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی فرضیت قول باری ہے (ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر، تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیئے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتا رہے اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے اول امربالمعروف اور نہی عن المنکرکاوجوب۔ دوم یہ فرض کفایہ ہے۔ ہر شخص پر فرض عین نہیں۔ جب ایک شخص اس فرض کا داداکردے گا تو دوسرے پر اس کی فرضیت باقی نہیں رہے گی اس لیے کہ قول باری (ولتکن منکم امۃ) اس کی حقیقت کا تقاضا کہ بعض پر فرض اور دوسرے بعض پر نہ ہو۔ جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ فرض کفایہ ہے کہ جب کچھ لوگ اسے داداکر لیں گے توباقیوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجائے گی۔ بعض لوگوں کا یہ قول ہے کہ یہ فرض عین ہے یعنی اس کی فرضیت ہر شخص پر عائد ہوتی ہے۔ یہ لوگ اس قول باری (ولتکن منکم امۃ) کے اندازبیان کو مجاز اخصوص پر محمول کرتے ہیں (لیکن حکم میں عموم ہے جس طرح کہ یہ قول باری ہے (یغفرلکم من ذنوبکم، اللہ تعالیٰ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا) اس کے معنی ہیں کہ تمہارے سب گناہ بخش دے گا۔ فرض کفایہ کے قول کی صحت پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ جب کچھ لوگ امربالمعروف اور رنہی عن المنکر کرلیں گے تو باقی ماندہ لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجائے گی۔ جس طرح کہ جہاد، مردوں کی تغسیل وتکفین اور جنازے کی نماز اور ان کی تدفین کا مسئلہ ہے۔ اگر یہ فرض کفایہ نہ ہوتا تو بعض کی طرف سے اس کی ادائیگی کی بناپردوسروں سے اس کی فرضیت ہرگز ساقط نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کئی اور مقامات پر بھی ذکر فرمایا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر، اب دنیا میں تم وہ بہترین گروہ ہوج سے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیئے دنیا میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو) اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان (علیہ السلام) کے الفاظ میں فرمایا (یا بنی اقم الصلوۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکرواصبرعلی مااصابک، اے میرے بیٹے ! قائم کرنی کی کا حکم دے اور برائی سے روک اور اس سلسلے میں) جو تکلیفیں تجھے اٹھانی پڑیں انہیں برداشت کر) نیز قول باری ہے (وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوافاصلحوابینھما فان یغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ، اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کرنے لگ جائیں تو ان کے درمیان اصلاح کرادو۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس سے لڑوجوزیادتی کررہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرلے۔ ) نیز فرمایا (یعن الذین کفروامن بنی اسرائیل علی لسان داؤد وعیسیٰ بن مریم ذلک بماعصواوکانوایعتدون۔ کانوالا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوایفعلون، بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفراختیار کیا۔ ان پر داود اورعیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت ہوء۔ یہ اس لیئے کہ انہوں نے نافرمانیاں کیں اور وہ حد سے آگے نکل نکل جاتے تھے۔ جو برائی انہوں نے اختیارکررکھی تھی اس سے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ جو کچھ وہ کررہے تھے وہ بہت ہی برا تھا۔ ) یہ آیتیں اور ان جیسی دوسری آیتیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے ایجاب کا تقاضا کرتی ہیں۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے کئی مراحل ہیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے کئی مراحل ہیں۔ اول کسی برائی کو ہاتھ سے یعنی اگر ممکن ہو تو بزور طاقت بدل ڈالنا اور روک دینا۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور اسے اس برائی کو بزور روکنے میں اپنی جان کا خوف ہو تو اس پرا سے اپنی زبان سے روکنا اور اس کے خلاف بولنا لازم ہے۔ اگر درج بالاوجہ کی بناپریہ بھی مشکل ہو تو پھر اس برائی کو دل سے برا سمجھنا اس پر لازم ہوگا۔ اس سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن جعفربن احمد بن فارس نے روایت بیان کی انہیں یونس بن حبیب نے انہیں ابوداؤ دطیالسی نے انہیں شعبہ نے انہیں قیس بن مسلم نے کہ میں نے طارق بن شہاب کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ مروان بن الحکم نے نماز پر خطبے کو مقدم کردیا۔ ایک شخص نے کھڑے ہوکرکہا امیر ! تم نے سنت کے خلاف عمل کیا خطبہ نما ز کے بعد ہوا کرتا تھا۔ مروان نے سن کر کہا اس بات کو چھوڑو اے فلاں کے باپ شعیہ کہتے ہیں کہ مروان اونچی آوازوالا تھا اس کی یہ آوازسن کر ابوسعید خدری ؓ اٹھے اور فرمایا مروان سے یہ بات کہنے والا کون شخص ہے، اس نے اپنا فرض پوراکردیا ہے۔ ہم سے حضور ﷺ نے فرمایا تھا (من رای منکم منکوافلینکرہ بیدہ فان لم یستطع فلینکرہ بلسانہ فان لم یستطع فلینکرہ بقلبہ وذلک ضعف الایمان، تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے توا سے اپنے ہاتھوں سے ہٹادے اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو تو اس کے خلاف اپنی زبان استعمال کرلے اگر ا سے اس کی بھی طاقت نہ ہوتوا سے اپنے دل سے براجانے اور یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے۔ ہمیں محمد بن بکربصری نے روایت بیان کی انہیں ابوداؤدنے انہیں محمد بن علاء نے انہیں ابو معاویہ نے اعمش سے انہوں نے اسماعیل بن رجاء سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو سعید اور قیس بن مسلم سے انہوں نے طارق بن شہاب سے انہوں نے ابوسعید خدر ؓ ی سے کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (من رای منکم منکراواستطاع ان یغیرہ بیدہ فلیغیرہ بیدہ ، فان لم یستطع فبقلبہ وذاک اضعف الایمان، تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے ہٹاسکتا ہو تو اسے اپنے ہاتھوں سے ہٹادے اگر ا سے اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے یہ کام کرے۔ اگر اس کی بھی اس میں طاقت نہ ہو تو اسے اپنے دل سے براس مجھے اور یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے۔ ) برائی کو روکنا حالا و امکان کے مطابق ہے حضور ﷺ نے یہ بتادیا کہ منکر اوربرائی کو روکنا حالات و امکان کے مطابق ان تین مرحلوں میں ہوتا ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر دہ اپنے ہاتھوں سے منکر یعنی برائی کو ہٹانہ سکے تو پھر اپنی زبان سے ہٹائے یعنی اس کے خلاف زبانی جہاد کرے۔ اگر اس کے لیئے یہ ممکن نہ ہو تو اس پر اس سے زیادہ اور کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ دل سے اسے براس مجھے۔ برائی سے نہ روکنے والا اس کی زد میں آسکتا ہے ہمیں عبداللہ بن جعفرنے روایت بیان کی انہیں یونس بن حبیب نے انہیں ابوداؤدنے انہیں شعبہ نے ابواسحاق سے انہوں نے عبداللہ بن جریرالنجلی سے انہوں نے والد حضرت جریرالجبلی ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (مامن قوم یعمل بینھم بالمعامی ھم اکثرواعزممن یعملہ ثم لم یغیروا الاعمھم اللہ منہ یعقاب، جو قوم ایسی ہو کہ اس کے اندر بےڈھرک معاصی کا ارتکاب ہورہاہو۔ اس میں ایسے لوگ موجودہوں جوان مرتکبین سے بڑھ کر اثردرسوخ دالے ہوں اور ان کی عددی اکثیریت بھی ہو اس کے باوجود وہ ان معاصی کو ختم نہ کرائیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ایسی سزانازل کرے گا جس کی لپیٹ میں سب آجائیں گے) ہمیں محمد بن ب کرنے روایت بیان کی انہیں ابوداؤد نے انہیں عبداللہ بن محمد النفیلی نے انہیں یونس بن راشد نے علی بن بدیمہ سے انہوں نے ابوعبیدہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعو ؓ د سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ (ان اول مادخل النقص علی بنی اسرائیل کان الرجل یلقی الرجل فیقول یاھداتق اللہ ودع ماتصنع فانہ لا یحل لک ثم یلقاہ من الغد فلا یمنعہ ذلک ان یکون اکیدہ وشریبہ وقعیدہ فلما فعلواذلک ضرب اللہ تعالیٰ قلوب بعضھم ببعض، بنی اسرائیل میں سب سے پہلے جو خرابی پیداہوئی اس کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا اور اسے اس کی معاصی پر سرزنش کرتے ہوئے کہتا کہ اے فلاں ! اللہ سے ڈر اوریہ کام چھوڑکیون کہ یہ تیرے لیئے حلال نہیں ہے پھر وہی نصیحت کرنے والا دوسرے روز اس سے ملتا لیکن اس کی خطاکاری اور معاصی اسے اس کے اٹھتے بیٹھنے اور کھانے پینے سے نہ روکتے جب بنی اسرائیل نے یہ طرز عمل اختیارکیاتو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ایک دوسرے کے ذریعے مہرلگادی۔ ) برائیوں سے صرف نظرلعنت خداوندی کی موجب ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (لعن الذین کفروامن بنی اسرئیل علی لسان داؤدوعیسیٰ بن مریم ذلک بماعصواوکانویعتدون) تاقول باری (فاسقون) پھر آپ نے فرمایا (کلا، واللہ لتامرن بالمعروف ولتنھون عن المنکرولتاخذن علی یدی الظالم ولتاطرنہ علی الحق اطرا وتقرنہ علی الحق قصرا، ہرگز نہیں سبخدا تم ضرورنی کی کا حکم دوگے اور برائی سے ضرورروکوگے۔ ظالم کا ہاتھ پکڑکرا سے ظلم سے بازرکھوگے۔ اور اسے حق کی طرف موڑدوگے۔ نیزا سے حق کی طرف لوٹادوگے) ابوداؤد نے کہا ہمیں خلف بنی ہشام نے انہیں ابوشہاب الحناط نے العلاء بن المسیب سے انہوں نے عمروبن مرہ سے انہوں نے سالم سے انہوں نے ابوعبیدہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعو ؓ د سے انہوں نے حضور ﷺ سے اس طرح کی روایت بیان کی البتہ اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بھی کیا (اولیضربن اللہ یقلوب بعضکم علی بعض ثم لیلعنتکم لعنھم، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں پر ایک دوسرے کے ذریعے مہرلگادے گا اور تم پر اسی طرح لعنت بھیجے گا جس طرح ان پر یعنی بنی اسرائیل پر لعنت بھیجی تھی) حضور ﷺ نے یہ بتادیا کہ نہی عن المنکر کی ایک شرط یہ ہے کہ برائی سے روکنے والاخود اس برائی کو براسمجھتا ہو۔ نیز برائی اور معصیت میں گرفتارانسان کے ساتھ نہ اٹھے بیٹھے اور نہ ہی کھائے پیئے۔ حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے دراصل اس قول باری کا بیان ہے۔ اور اس کی وضاحت ہے (تری کثیرامنھم یتولون لذین کفروا، تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھو گے کہ وہ کافروں سے دوستی گا نھتے ہیں) یعنی وہ لوگ معاصی کے مرتکبین کے ساتھ اٹھنے بیٹھتے اور کھانے پینے کی وجہ سے خود نہی عن المنکرکے ترک کے مرتکب قرارپائے۔ اس لیے کہ قول باری ہے (کانوالا یتناھون عن منکرفعلوہ) حضور ﷺ نے یہ بتادیا کہ اگر ایک شخص برائی کی زبان سے تردیدکرے لیکن وہ اس برائی کے مرتکبین کے ساتھ اٹھنابیٹھنا اور کھانا پینا بھی جاری رکھے تو اس کی یہ زبانی تردید اس کے لیئے فائد ہ مند نہیں ہوگی۔ اس بارے میں حضور ﷺ سے روایت ہے جسے ہمیں محمد بن ب کرتے بیان کی انہیں ابوداؤد نے انہیں وہب بن بقیہ نے انہیں خالد نے اسماعیل سے انہوں نے قیس سے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے حمدوثنا کے بعد فرمایا لوگو ! تم اس آیت (لایضرکوم من ضل اذا اھتدیتم ، جب تم ہدایت پر ہوگے تو گمراہ ہونے والوں کی وجہ سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ کی تلاوت کرتے ہو لیکن اسے اس کے درست معنی پر محمول نہیں کرتے ہم نے تو حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ سنا ہے (ان الناس اذاروا الظالم فلم یاخذواعلی یدیہ یوشک ان یعمھم اللہ بعقاب، لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور پھر اس کا ہاتھ پکڑکرا سے ظلم کرنے سے نہ روک دیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عمومی سزادے) ہمیں محمد بن ب کرنے روایت بیان کی انہیں ابوداؤدنے انہیں ابوالربیع سلیمان بن داؤد العتکی نے انہیں ابن المبارک نے عقبہ بن ابلی حکم سے انہیں عمروبن جاریہ الخمی نے انہیں ابوامیہ شعبانی نے کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی سے آیت (علیکم انفسکم) کے متعلق سوال کیا انہوں نے جواب میں فرمایا کہ میں نے یہی سوال حضور ﷺ سے کیا تھا۔ جس کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا کہ۔ بات ایسی نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو نیکی کا حکم دو اوربرائی سیروکو۔ حتی کہ تم جب یہ دیکھ لو کہ بخل کی پیروی کی جاتی ہے۔ خواہشات کی اتباع کی جاتی ہے دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے اور ہر شخص اپنی رائے کے متعلق خوش فہم نظر آتا ہے تو اس وقت تم صرف اپنی ذات کی فکر کرو اورلوگوں کو ان کے حال پرچھوڑدو۔ تمہارے اوپر آنے والے دن صبر کے دن ہوں گے اور اس وقت صبر کرنا انگارے کو مٹھی میں لینے کے مترادف ہوگا ایسے لوگوں میں رہ کر شریعت پر عامل انسان کا اجر پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ہوگا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابوثعلبہ ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ آیا اس شخص کو اس زمانے کے پچاس آدمیوں کے عمل کے برابراجر ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ تمہارے زمانے یعنی صحابہ کرام کے پچاس آدمیوں کے عمل کے برابر اجرملے گا۔ ان ردایات میں اس بات پر دلالت ہورہی ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی دوصورتیں ہیں۔ ایک صورت تو وہ ہے جس میں ایک بدی کو بدل ڈالنا اور ختم کردینا ممکن ہو ایسی صورت میں ہراس شخص پر اس بدی کو مٹا ڈالنا فرض ہے جس کے لیے اسے اپنے ہاتھوں سے ایسا کرنا ممکن ہو۔ ہاتھوں سے اسے مٹا ڈالنے کی بھی کئی شکلیں ہیں ایک شکل تو یہ ہے کہ تلوار کے سوا اس کا ازالہ ممکن نہ ہو یعنی اس بدی کے مرتکب کی جب تک جان ن لے لی جائے اس وقت تک اس کا ازالہ ممکن نہ ہو ایسی صورت میں اسے یہ کرگزرنا چاہیے۔ مثلا کوئی شخص کسی کو اس کی اپنی جان یا کسی اور کی جان کے درپے دیکھے یا اس کا مال ہتھیانے کی فکر میں ہویا کسی عورت سے زنا کے ارتکاب پر کمر بستہ ہو یا اس قسم کی اور کوئی صورت حال ہو اورا سے علم ہو کہ زبان سے روکنے یا ہتھیار کے علا وہ کسی اور چیز سے مقابلہ کرنے پر بھی وہ باز نہیں آئے گا تو ایسی صورت میں وہ اسے قتل کردے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے (من راہ منکرا فلیغرہ بیدہ) ایسی صورت میں اگر اس کے لیئے اس بدی کو اپنے ہاتھ سے ہٹادینا ممکن نہ ہو الایہ کہ اس بدی پر اڑے رہنے والے شخص کا خاتمہ کرکے ہی اس بدی سے چھٹکارامل سکتا ہو تو اس پر اس شخص کو ختم کردینا فرض ہوگا۔ اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ اگر زبان سے یا ہاتھ سے ہتھیاراستعمال کیئے بغیر اسے روکنے سے وہ رک جائے گا تو پھر اس کے لیے اس شخص کو قتل کردینے کا اقدام جائز نہیں ہوگا۔ اگر اس کا گمان غالب یہ ہو کہ ہاتھ یا زبان سے روکنے پر وہ اڑ جائے گا اور مقابلہ پر اترآئے گا اور اس کے بعد اسے ہٹانا اور قتل کا اقدام کیئے بغیر اس بدی کو دور کرنا ممکن نہیں رہے گا تو ایسی صورت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ اسے خبردار کیئے بغیر قتل کرڈالے ۔ ابن رستم نے امام محمد سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کا سامان غصب کرلے تو پھر تمہارے لیے ایسے شخص کو قتل کردینے کی گنجائش ہے تاکہ غصب شدہ سامان اس سے برآمد کرکے اصل مالک کو لوٹادو۔ امام ابوحنیفہ فے چور کے متعلق بھی یہی فرمایا ہے کہ جب وہ سامان چراکربھاگے تو تمھارے لیے گنجائش ہے کہ اس کاپیچھاکرکے اسے پکڑلو اورسامان کی واپسی سے انکارپرا سے قتل کردو۔ امام محمد نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اگر چورگھر میں نقب لگاکرگھس جائے تو تمہارے لیے اسے قتل کردینے کی گنجائش ہے۔ آپ نے اس شخص کے متعلق جو تمھارے دانت اکھاڑناچاہتا ہو یہ فرمایا کہ اگر جگہ ایسی ہو جہاں تم کسی کو اپنی مدد کے لیے بلانہ سکتے ہو تو پھر اسے قتل کردینا تمہارے لیے جائز ہوگا۔ اس پر قول باری (فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ) دلالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان سے قتال کرنے کا حکم دیا ، اور ان کے خلاف قتال کا اقدام اس وقت ہی ختم ہوگا جب کہ ایسے لوگ سرکشی اور بدی کے ارتکاب سے منہ موڑکر اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں گے۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان (من رای منکم مکرافلیغیر ہ بیدہ ) بھی اس چیز کو واجب کرتا ہے اس لیے کہ آپ نے بدی کو جس طریقے سے بھی ممکن ہو، دور کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اگر بدی کے مرتکب کو قتل کیئے بغیر اس کادورکرنا ممکن نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ قتل کا اقدام کرکے اس بدی کو ووکردے۔ ٹیکس اور محصول چنگی وصول کرنے والوں کا خون مباح ہے لوگوں کے مال ومتاع ٹیکس اور محصول چنگی وصول کرنے والوں کے متعلق بھی ہمارا یہی قول ہے کہ ان کا خون مباح ہے اور مسلمانوں پر انہیں قتل کردینا واجب ہے بلکہ ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ ان میں سے جو بھی اس کے قابو میں آجائے اسے خبردارکیئے بغیر اور زبانی طورپر روکے بغیر اور زبانی طورپرروکے بغیر، اس کا خاتم کردے اس لیے کہ ایسے لوگوں کی یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جب یہ ٹیکس اور محصول وغیرہ وصول کرنے پر کمربستہ ہوجائیں تو باوجودیکہ انہیں اس قسم کی وصولی کی ممانعت کا علم ہے یہ کسی کی بات سننے یا ماننے پر تیار نہیں ہوتے اور جب کوئی انہیں اس قسم کی وصولی کی ممانعت کا علم ہے یہ کسی کی بات سننے یا ماننے پر تیار نہیں ہوتے اور جب کوئی انہیں اس سے یاز رہنے کی دھمکی دے تو اس کے خلاف صف آراء ہوجاتے ہیں حتی کہ ان کی ذات سے وابستہ لوگوں کو قتل کردینا جائز ہے۔ جان کا خطرہ ہو تو صرف قطع تعلق کافی ہے ساتھ ہی ساتھ جس شخص کو یہ خوف ہو کہ اگر وہ ایسے لوگوں کے خلاف قتل کا اقدام کرے گا تو اس کی اپنی جان چلی جائے گی، ایسی صورت میں انہیں ان کے حال پرچھوڑدینا اس کے لیے جائز ہوگا۔ البتہ اس پر ان سے دوررہنا ان کے ساتھ سختی سے پیش آنا اور ان سے قطع تعلق کرنا لازم ہوگا۔ یہی حکم ان لوگوں کے متعلق بھی ہے جو دین وایمان کے لیے تباہ کن معصیت کے مرتکب ہوں۔ اس پر ان کا اصرارہو، اور وہ کھلم کھلا اس کا ارتکاب کرتے ہوں۔ ایسی بدی اور معصیت کو ہر ممکن طریقے سے روکنا لازمی ہے، اگر ہاتھ سے روکنا ناممکن ہو تو اپنی زبان سے روکے ، یہ اس وقت کرے جب اسے یہ امید ہو کہ زبانی طورپر اس کے خلاف آواز اٹھا نے سے یہ لوگ اس برائی سے باز آجائیں گے اور اسے ترک کردیں گے۔ بدی کے خلاف طاقت نہ ہوتوخاموش رہنا مباح تو ہے افضل نہیں لیکن اگر اسے یہ امید نہ ہو، بلکہ غالب گمان یہ ہو کہ جروتوبیخ اور زبانی تنقید کا ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جبکہ انہیں خود بھی اس بدمی کے متعلق علم ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کے لیئے خاموش رہنے کی گنجائش ہے تاہم ان سے قطع تعلقی اورعلیحد گی ضرور ہے اس لیے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ (فلیغیرہ بلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ) آپ کے اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ اگر زبانی جہاد کے باوجود برے لوگ برائی سے بازنہ آئیں تو پھر ایسے لوگوں کو دل سے برا سمجھنا ضروری ہے خواہ یہ اپنے بچاؤ کی شکل میں ہو یا کسی اور صورت میں اسی لیے کہ آپ کا یہ فرمانا کہ اگر ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو اس کا اس کا مفہوم یہی ہے کہ اگر کہنے سننے اور زبان سے روکنے کے باوجود یہ لوگ باز نہ آئیں اور برائی کو دور کرنا ممکن نہ ہو، تو ایسی حالت میں خاموش ہوجانے کی اباحت ہے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے حکمت سے کام لیاجائے حضرت ابن مسعو ؓ د سے قول باری (علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا ھتدیتم) کے متعلق مروی ہے آپ نے فرمایا امربالمعروف اور نہی عن المنکر، اسی مقام پر کروجہاں تمہاری بات مان لی جائے اگر بات نہ مانی جائے تو پھر تم صرف اپنی ذات کے ذمہ دارہو، حضرت ابوثعلیہ ؓ خشنی کی روایت بھی ۔۔ جس کا ہم پہلے ذکرکر آئے ہیں۔۔ اس پر دلالت کرتی ہے۔ اس حدیث کا مطلب ۔۔ واللہ اعلم۔۔ یہی ہے کہ جب لوگ تمہاری بات نہ مانیں بلکہ اپنی ہواء وہوس میں لگ کر اپنی رائے پر ڈٹ جائیں تو ایسی صورت میں تمہارے لیے گنجائش ہے کہ تم انہیں چھوڑکر اپنی ذات کی فکر کرو اورا نہیں ان کی حالت پر رہنے دو ۔ حضور ﷺ نے ایسے لوگوں کو زبانی طورپر روکنے سے کنارہ کشی کی اجازت دے دی ۔ صحابہ کرام کے نزدیک علم کی قدر عکرمہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا : مجھے ان لوگوں کے انجام کا علم نہیں ہوسکاجواصحاب سبت (بنی اسرئیل کا ایک گروہ جو یوم السبت یعنی ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑا کرتا تھا جبکہ اسرائیلی شریعت میں ہفتے کا دن صرف عبادت کے لیے مخصوص تھا اور دنیا دی کاموں کی ممانعت تھی اس خلاف ورزی کی انہیں یہ سزادی گئی کہ ان کی شکلیں مسخ کردی گئیں۔ ) کو ہفتے کے دن کی خلاف ورزی پر ٹوکتے اور انہیں اس کام سے روکتے نہیں تھے۔ یہ سن کر عکرمہ ؓ نے کہا : میں آپ کو بتاتاہوں، آپاگلی آیت (انجیناالذین یتھون عن السوء ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو برائی سے لوگوں کو روکتے تھے) تلاوت کرین، یہ سن کر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ، تم نے ٹھیک کہا پھر آپ نے میری اس بات سے خوش ہوکر ایک جو ڑاپہننے کے لیے عنایت کیا، حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہلاک کردیا جو برائی کرتے تھے یعنی ہفتے کے دن کی حرمت اور تقدس کو پامال کرتے تھے۔ نیز انہیں بھی ہلاک کردیاجوا نہیں اس برائی سے روکتے اور اس پر ٹوکتے نہیں۔ آپ نے عذاب کی لپیٹ میں آنے کے لحاظ سے ایسے لوگوں کو بھی اس برائی کے مرتکبین جیسا قراردیا۔ ہمارے نزدیک اس کی تاویل یہ ہے کہ مؤخرالذکرلوگ اس بدی کے مرتکبین کے اعمال سے راضی تھے۔ اور ان پر گرفت نہیں کرتے تھے اور نہ ہی دل سے انہیں براسمجھتے تھے۔ فعل قبیح پر رضا مندی ارتکاب قبیح کے مساوی ہے حضور ﷺ کے زمانے میں موجودیہودیوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے انبیائے سابقین کے قتل کی نسبت ان الفاظ میں کی (قدجاء کم رسل من قبلی بالبینات وبالذی قلتم فلم قتلتموھم) تمہارے پاس مجھ سے پہلے بھی رسول نشانیاں اور (قربانی کو آگ کھانے جانے کا) معجزہ جو تم چاہتے ہو لے کر آئے تھے، پھر تم نے ان کو کیوں قتل کردیا) نیز (فلم تقتلون اتبیاء اللہ من قبل ان کنتم مؤمنین ، تم اس سے پہلے اللہ کے پیغمبروں کو کیوں قتل کردیتے تھے۔ اگر تم سچے ہو) اس کی وجہ یہی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانے کے یہوداپنے اسلاف سے جو انبیاء کے قاتل تھے محبت کرنے اور ان سے تعلق برقراررکھنے میں کوئی ہچکچا ہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس بناپرقتل کی نسبت ان کی طرف کردی گئی اگرچہ واقعہ براہ راست وہ انبیائے کرام کے قتل میں ملوث نہیں تھے۔ لیکن صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے اسلاف کے اس فعل قبیح پر رضامند تھے انہیں قاتل گروانا گیا۔ ٹھیک اسی طرح اصحاب سبت میں جو لوگ ہفتے کے دن کے تقد س کو پامال کرتے تھے ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی ملحق کردیا گیا جو اس فعل قبیح سے انہیں روکتے نہیں تھے۔ دراصل وہ ان لوگوں کی اس حرکت پر نہ صرف راضی تھے بلکہ ان سے دوستی اور تعلق باقی رکھ کر گویا عملی طورپرا سے پسند بھی کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص اپنے دل سے کسی برائی کو براسمجھتا ہو اور اس میں اتنی طاقت نہ ہو کہ دوسروں کو اس برائی سے روک سکے تو ایسا شخص اس وعید میں میں داخل نہیں ہوگا جو اس برائی کے مرتکبین کو سنائی گئی ہو بلکہ اس کا شماران لوگوں میں ہوگا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم) ہمیں مکرم بن احمد القاضی نے روایت بیان کی انہیں احمد بن عطیہ الکونی نے انہیں الحمانی نے انہوں نے ابن المبارک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام ابوحنیفہ کو جب ابراہیم الصائغ کے قتل کی اطلاع ملی تو آپ اس قدرروئے کہ ہم نے یہ خیال کیا کہ شائد روتے روتے آپ کی وفات ہوجائے گی۔ جب تنہائی ہوئی تو آپ نے فرمایا بخدا، ابراہیم ایک عقلمند انسان تھے مجھے خطرہ تھا کہ ان کے ساتھ یہی کچھ ہوگا۔ میں نے عرض کیا۔ اس قتل کا سبب کیا تھا ؟ آپ نے فرمیاا، وہ میرے پاس آتے اور مجھ سے سوالات کرتے، اللہ کی طاعت میں وہ اپنی جان لگادیتے تھے انتہائی متقی اور پرہیزگار تھے۔ بعض دفعہ میں ان کے سامنے کھانے کی کوئی چیز پیش کرتا تو اس کے متعلق مجھ سے پوچھناشروع کردیتے پھر ایسا ہوتا کہ وہ چیزا نہیں پسند نہ آتی اور اسے وہ ہاتھ بھی نہ لگاتے اور بعض دفعہ پسند آجاتی توکھالیتے ۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے عملی اقدام کے متعلق امام ابوحنیفہ کا مسلک ایک دفعہ مجھ سے، امربالمعروف اور نہی عن المنکرکے متعلق سوالات کیئے پھر بحث ومباحثہ کے بعد ہم اس پر مفتق ہوگئے کہ یہ اللہ کی طرف سے مقررکردہ ایک فرض ہے پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہاتھ بڑھاؤ میں بیعت کرتاہوں۔ ان کے قتل کے بعد اب میری نظروں میں دنیا تاریک ہوگئی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ وہ کیسے ؟ فرمایا مجھے انہوں نے اللہ کے ایک حق کی طرف بلایا لیکن میں نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا اور ان سے یہ کہہ دیا کہ اگر، امربالمعروف اورنہی عن المنکر ، کی دعوت اکیلا شخص لے کر اٹھے گا تو قتل کردیاجائے گا اور لوگوں کی ایک بات بھی درست نہیں ہوسکے گی۔ لیکن اگر ا سے نیک اور مخلص ساتھی مل جائیں جن کا سردار کوئی ایسا شخص ہو جس کی دینی حالت پوری طرح قابل اطمینان ہو تو اس صورت میں اس دعوت کے راستے میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوسکتی۔ آپ نے مزید فرمایا، ابراہیم جب کبھی میرے پاس آتے تو اس پر نکلنے کے لیے مجھ سے اس قدرشدید تقاضا کرتے جس طرح قرض خواہ ہاتھ دھو کرمقروض سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب کبھی وہ میرے آتے تو مجھ سے یہی تقاضا کرتے۔ میں ان سے یہی کہتا کہ یہ ایک آدمی کا کام نہیں ہے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی جب تک غیبی امداد حاصل نہیں ہوگئی انہیں اس کام کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس فرض کی نوعیت دیگر فرائض سے مختلف ہے اس لیے کہ دوسرے فرائض کی ادائیگی ایک شخص خود تنہا کرسکتا ہے اور یہ فرض ایسا ہے کہ جب ایک آدمی تنہا اس کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا تو گویا وہ اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کردے گا۔ اس لیے ان کے بارے میں مجھے ہمیشہ یہی خطرہ رہتا کہ وہ اپنے قتل کا سامان خود ہی پیداکر رہے ہیں۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اس راستے میں ایک آدمی قتل ہوجائے تو کسی اور کو اس کام کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے میں نے انہیں انتظار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ آخرفرشتوں نے بھی تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کیا تھا۔ اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الد ماء ونحن نسبح بحمد ک ونقد س لک قال انی اعلم ما لاتعلمون، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑدے گا اور خونریزی کرے گا۔ آپ کی حمد وثناء کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس توہم کر ہی رہے ہیں۔ فرمایا : میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے) ابراہیم امام ابوحنیفہ کے پاس سے نکل کرمروچلے گئے جہاں ابومسلم خراسانی (عباسی حکومت کی جڑیں مضبوط کرنے والا مشہورجرنیل) مقیم تھا وہاں جاکر اس کے ساتھ سخت کلامی کی جس کی بناپر اس نے انہیں پکڑلیا۔ لیکن خراسان کے فقہاء اور دیندارلوگوں کی کوششوں سے انہیں رہائی مل گئی ابراہیم نے پھر وہی طرزعمل اختیار کیا اور ابومسلم کو اس کی غلط کاریوں پر ٹوکا۔ اس نے انہیں تنبیہ کی۔ لیکن ابراہیم پھر اس کے پاس گئے۔ اور کہنے لگے کہ میری نظر میں نیزے خلاف جہاد سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں جو میں اللہ کی خاطرسرانجام دے سکوں۔ لیکن میرے ہاتھ میں چونکہ کوئی قوت نہیں ہے اس لیے میں تیرے خلاف زبانی جہاد جاری رکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے راستہ دکھادیا ہے میں اس کی خاطر تجھ سے ہمیشہ نفرت رکھوں گا۔ ابومسلم یہ باتیں سن کر طیش میں آگیا اور انہیں قتل کرادیا۔ ابوبکر جصاص کا استنباط ابوبکرجصا ص کہتے ہیں کہ سابقہ سطور میں قران وحدیث کی روشنی میں جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ، امربالمعروف اورنہی عن المنکر، کرنا امت پر عائدشدہ ایک فریضہ ہے اور یہ چیز بھی واضح کردی گئی کہ اس کی نوعیت فرض کفایہ کی ہے کہ جب کچھ افراد اس کی ادائیگی کریں تو باقیماندہ لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے، تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ اس کی فرضیت کے لزوم میں نیک اور بد کے درمیان کوئی فرق نہ ہو، اس لیے کہ بعض فرائض کے ترک سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایسے انسان سے دوسرے فرائض بھی ساقط ہوجائیں، آپ نہیں دیکھتے کہ ایک اگر نماز ترک کردے تو اس کی بناپر اس سے روزے کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی اور دوسری تمام عبادات بھی اس پر لازم رہتی ہیں ٹھیک اسی طرح جو شخص تمام نیکیاں نہیں کرتا اور تمام برائیوں سے باز نہیں رہتا، اس سے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر، کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔ طلحہ ؓ بن عمرونے عطاء ؓ بن ابی رباح سے انہوں نے حضرت ابوہریر ؓ ہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کے چند صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض کرنے لگے کہ حضور کیا ہمارے لیے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی گنجائش اس وقت پیدا ہوگی جب ہم تمام نیکیاں کر گزریں گے اور تمام برائیوں سے باز آجائیں گی ؟ جواب میں آپ نے فرمایا (مروابالمعروف وان لم تعملوابہ کلہ وانھوا عن المنکروان لم تنھواعنہ کلہ، اگرچہ تم تمام نیکیوں پر خود عمل پیرانہ بھی ہو پھر بھی امربالمعروف کرواسی طرح اگرچہ تم تمام برائیوں سے خود باز نہ بھی آئے ہو پھر بھی لوگوں کو برائیوں سے روکو) حضور ﷺ نے بعض فرائض میں کوتاہی کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ادائیگی کے لزوم کے (رح) لحاظ سے دوسرے فرائض کے برابر قراردیا۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق جاہلانہ تصور علمائے امت اور فقہائے ملت میں سے خواہ ان کا تعلق سلف سے ہو یا خلف سے کسی نے بھی امربالمعروف اور نہی عن المنکر، کے وجوب کا انکار نہیں کیا۔ البتہ نام نہاداصحاب حدیث کا ایک جاہل اور علم سے تہی دامن گروہ مسلمانوں کے کسی باغی گروہ کے خلاف جنگی اقدامات کا قائل نہیں ہے۔ یعنی وہ ہتھیار کے سہارے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر، کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کی نظروں میں اس کام کے لیے اگر ہتھیاراٹھا نے اور باغی گروہ سے قتال کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو یہ تبلیغ نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک فتنہ ہوگا، حالانکہ ان کے کافوں میں اس قول باری (فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ) کی آوازپہنچ چکی ہے اور ان کے سامنے اس آیت کے الفاظ کا مقتضی بھی واضح ہے اور یہ مقتضیٰ باغی گروہ کے ساتھ قتال بالسیف کے وجوب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ اس گروہ کا یہ زعم بھی باطل ہے کہ سلطان یا صاحب اقتداراگرظلم وجورکرے نیز بےگناہوں کے خون سے ہاتھ رنگے تو اس کے خلاف لب کشائی نہ کی جائے، البتہ سلطان کے علاوہ کوئی اور شخص ایسی حرکتیں کرے تو اس کے خلاف صرف زبانی یا ہاتھ سے کارروائی کی جائے ہتھیارپھر بھی استعمال نہ کیے جائیں۔ ان جاہلوں نے اپنے اس طرزعمل سے امت کو اس سے زیادہ نقصان پہنچایاجتنا دشمنوں کے ہاتھوں سے اسے پہنچ سکتا تھا۔ اس لیے کہ انہوںنی اپنے اس زعم باطل کا پرچارکرکے مسلمانوں کو باغی گروہوں کے خلاف ہتھیاراٹھا نے اور سلطان یابرسراقتدار شخص کے ظلم وجور کے خلاف لب کشائی کرنے سے روک دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاسقوں اورفاجروں بلکہ محبوسیوں اور دشمنان اسلام کو زورپکڑنے اور حکومت پر قبضہ جمانے کا موقعہ مل گیا جس سے بلاد اسلامیہ کی سرحدیں غیر محفوظ ہوگئیں، ظلم وستم کا بازارگرم ہوگیا ، شہراجڑگئے، علاقے تباہ ہوگئے اور دین ودنیا دونوں ہاتھ سے گئے دوسری طرف فکر ی اتنشار کے نتیجے میں زندیقیت ، بےتباہ ہوگئے اور دین ودنیا دونوں ہاتھ سے گئے دوسری طرف فکر ی اتنشار کے نتیجے میں زندہ لقیت بےدینی اور تشیع کو ہواملی نہ صرف یہ بلکہ ثنویت ، مزوکیت اور خرمیت جیسے باطل خیالات عام ہونے لگے یہ تمام خرایباں دراصل ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر، کے فریضہ کو ترک کرنے نیز ظالم سلطان کے خلافآواز بلند نہ کرنے نہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔ دو خداؤں یعنی یزدان وہرمن کا نظر یہ جس کے مطابق یزدان خالق خیر اور اہرمن خالق شر ہے۔ فرقہ خرمیہ دراصل مجوسیوں کا طائفہ تھا جو تناسخ کا قائل تھا۔ ان کے ہاں محرمات کی اباحت تھی ۔ یعنی ایک انسان اپنی ماں بہن وغیرہ سے نکاح کرسکتا تھا۔ اس فرقے کی نسبت ایران کے ایک گاؤں خرمہ کی طرف ہے، مزدکیت بھی ان ہی نظریات کی حامل تھی البتہ اسکاوجود فرقہ خرمیہ سے پہلے ہوا تھا۔ قرآن وسنت کی روشنی میں جاہلانہ تصورد ہمیں محمد بن ب کرنے روایت بیان کی انہیں ابوداؤدنے ، انہیں محمد بن عبادالوواسطی نے، انہیں یزید بن ہاون نے انہیں اسرائیل نے انہیں محمد بن حجادہ نے عطیہ عوفی سے انہوں نے ابوسعید خدری سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (افضل الجھاد کلمہ عدل عند سلطان جائراوامیرجائر۔ ظالم وجابرسلطان یاحاکم کے سامنے کلمہ حق وانصاف بلند کرنا افضل ترین جہاد ہے۔ ) ہمیں محمد بن عمر نے روایت بیان کی انہیں احمد بن محمد بن عمروبن مصعب المروزی نے انہوں نے ابوعمارہ سے انہوں نے الحسن بن رشید سے ، انہوں نے امام ابوحنیفہ سے، آپ نے فرمایا، میں نے ابراہیم صائغ کو عکرمہ سے ایک روایت بیان کی جو انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی تھی کہ حضور ﷺ نے فرمایا (سیدالشھداء حمزہ بن عبدالمطلب ورجل قام الی امام جائرفامرہ ونھا ، فقتلہ، شہیدوں کے سروارحمزہ ؓ بن عبدالمطلب ہیں نیزوہ شخص بھی ہے جو کسی ظالم حاکم کے پاس جاکرامربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں شہید ہوجائے) قول باری ہے (وما اللہ یرید ظلما للعباد، اور اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ بندوں پر ظلم ہو) یہ قول باری (من کل الوجوہ ارادہ ظلم کی نفی کا متقاضی ہے۔ یعنی نہ تو اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ یہ چاہتا ہے کہ بندے ایک دوسرے پر ظلم کریں اس لیے کہ ظلم کی یہ دونوں صورتیں قبیح ہونے کے لحاظ سے یکساں ہیں۔ کیونکہ اگر یہ جائز ہوتا کہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا اللہ کے ارادے میں ہے تو اس کی طرف سے بندوں پر ارادہ ظلم بھی جائز ہوتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ایسے دو شخصوں کے درمیان عقلی لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا جن میں سے ایک غیر کی خاطر اپنے اوپر اور دوسرا غیر کی خاطر کسی اور پر ظلم کرنے کا ارادہ کرے۔ فعل قبیح کے ارتکاب کے لحاظ سے دونوں کی حیثیت یکساں ہوتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اور بندوں دونوں سے ارادہ ظلم کی نفی ہونی چاہیے۔
Ayahs 3:105–110

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہوگئے اور احکام بین کے آنے کے بعد ایک دوسرے سے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو (قیامت کے دن) بڑا عذاب ہوگا

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے ؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہونگے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہل عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

(مومنو ! ) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں

قول باری ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر) قول باری (کنتم) کے معنی میں کئی وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ جن میں مختلف امتوں کے متعلق بشارتیں آئی ہیں اور ان کے بارے میں خبریں دی گئی ہیں۔ ان میں ہم سب سے اخری امت ہیں لیکن اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کرمرتبے اور عزت والے ہیں۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحق نے روایت بیان کی انہیں حسن بن ابی ربیع نے انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے بہزبن حکیم سے انہوں نے اپنے والد حکیم سے انہوں نے اپنے والد سے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو آیت (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس ، کے سلسلے میں فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (انتم تتمون سبعین امۃ انتم خیرھا واکرمھا عند اللہ ، تم پر ستر امتوں کی گنتی پوری ہوتی ہے تم ان میں سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں سب سے بڑھ کر عزت اور مرتبے والے ہو) اس طرح آیت کے معنی یہ ہوں گے، تم ان تمام امتوں میں سب سے بہتر تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اپنی نازل کردہ کتابوں کے ذریعے خبردی تھی، ایک قول یہ ہے کہ جملہ پر فعل ناقص کان کا دخول اور عدم دخول دونوں یکساں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وخول کی صورت میں یہ لامحالہ کسی امر کے وقوع کی تاکید کی خبردیتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک بات حقیقت میں پیش آچکی ہے جس طرح کہ قول باری (وکان اللہ غفورارحیما) نیز اوکان اللہ علیما حکیما) کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بات حقیقت میں پیش آچکی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ (کنتم خیرامۃ) ، حدثتم خیرامۃ، کے معنی میں ہے یعنی تمھاراحدوث خیرامت کی صورت میں ہوا۔ اس صورت میں (خیرامۃ) حال کے معنی میں ہوگا، ایک قول ہے کہ (کنتم) صدانتم، کے معنی میں ہے۔ تاکہ یہ دلالت ہوسکے کہ امت مسلمہ کی یہ حیثیت اول دن سے ہے۔ اجماع امت بھی حق ہے۔ آیت میں کئی وجوہ سے اجماع امت کی صحت پر دلالت موجود ہے (اول) امت مسلمہ کو بہترین امت کہا گیا اور یہ بات واضح ہے کہ امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعریف کی اس بنا پر مستحق ہوئی ہے ۔ کہ وہ اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں ہمیشہ سے کمربستہ ہے اور گمراہی سے دور ہے (دوم) اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے متعلق یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سلسلے میں یہ امر بالمعروف کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ جو خود ایک ام رہے کیونکہ، معروف، اللہ کے امرکانام ہے۔ اس لیے امت اجتماعی طورپر جس چیز کا حکم دے وہ معروف ہونے کی بناپرامر اللہ بن جائے گا (سوم) اہل ایمان منکر کو روکتے ہیں اور منکروہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو روک دیاہو۔ اس بناپر اس امت کے افراداس صفت کے اس وجہ سے مستحق قرارپائے کہ ان کی مرضی وہی ہوتی ہے جو اللہ کی ہے اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ امت جس چیز سے رک جانے کا حکم دے وہ منکر، اور جس چیز کے کرنے کا حکم دے وہ معروف، ہے اور اللہ کا حکم بھی یہی ہے ۔ اس میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ گمراہی پر امت کا اجماع نہیں ہوسکتا۔ نیز اس سے یہ بات واجب ہوجاتی ہے کہ جس چیزپرامت کا اجماع ہوجائے اس کی حیثیت حکم اللہ کی ہوجاتی ہے۔ دلیل نبوت نمبر 1 قول باری ہے (لن یضروکم الا اذی وان یقاتلوکم یولو الادبارثم لاینصرون، یہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستاسکتے ہیں۔ اگر یہ تم سے لڑیں گے تو مقابلے میں پیٹھ دکھائیں گے پھر ای سے بےبس ہوجائیں گ کہیں سے ان کو مدد نہیں ملے گی) آیت میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت موجود ہے۔ اس لیے کہ اس میں ان یہودیوں کے متعلق خبردی گئی ہے جو مسلمانوں کے دشمن اور مدینہ منورہ کے اطراف میں آباد تھے۔ یعنی بنونضیر، بنوقریضہ، بنوقینقاع اور یہود خیبر، اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ بتادیا کہ مسلمانوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ صرف زبان سے طعن تشنیع کے کلمات اداکرکے دکھ پہنچاسکتے ہیں۔ نیز اگر مقابلہ پر اترآئیں گے تو منہ کی کھائیں گے۔ اور پیٹھ دکھائیں گے۔ چناچہ واقعاتی طورپر یہود کے ساتھ یہی کچھ ہوا، اور چونکہ ان باتوں کا تعلق آنے والے واقعات کے ساتھ تھا۔ اس بناپرا سے علم غیب شمار کیا جائے گا جو نبوت کی صحت کی دلیل ہے۔ دلیل نبوت نمبر 2 قول باری ہے (ضربت علیھم الذلۃ اینما ثقفوا الا بحبل من اللہ وحبل من الناس ، یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مارہی پڑی۔ کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے) ان سے مراد یہود ہیں جن کا ذکر پہلے اوپر سے چلاآرہا ہے۔ اس میں بھی حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی دلیل ہے۔ اس لیے کہ یہ یہودجہاں بھی گئے ان پر ذلت ومسکنت کی مار پڑتی رہی۔ البتہ جہاں کہیں مسلمانوں نے اللہ کے نام پر اور اس کے عہد کے تحت انہیں امان دے دی۔ دہاں انہیں اس ذلت سے چھٹکارانصیب ہوگیا۔ اس لیے کہ یہاں لفظ حبل کا مفہوم عہد اور امان ہے۔
Ayahs 3:111–113

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت کو دیکھو گے کہ ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آجائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لئے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اسکے) پیغمبروں کو ناحق قتل کردیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ (حکم خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اسکے آگے) سجدے کرتے ہیں

سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں قول باری ہے (کیسواسواء من اھل الکتب امۃ قائمۃ یتلون ایات اللہ آناء للیل وھم یسجدون، مگر سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں۔ راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریزہوتے ہیں) ابن عباس ؓ قتادہ اور ابن جریج کا قول ہے کہ جب عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ایک گروہ مسلمان ہوگیا تو یہود کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) پر ہمارے بدترین لوگ ایمان لائے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی حسن کا قول ہے کہ (قائمۃ) سے مراد عادلہ ہے۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اس سے مراد اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہنے والے گول ہیں سدی کا قول ہے کہ اس سے اللہ کی طاعت پر ثابت قدم رہنے والے لوگ مراد ہیں۔ قول باری (وھم یسجدون) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اس سے مراد وہ سجدہ ہے جو نماز میں معروف ہے۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں اس لیے کہ سجدے میں قرأت نہیں ہوتی اور نہ ہی رکوع میں انہوں نے حرف واؤ کو حال کے معنی میں لیا ہے۔ یہی فرآء کا بھی قول ہے۔ پہلے گروہ کا کہنا ہے کہ یہاں واؤ عطف کے لیے ہے ۔ گویا کہ یوں ارشاد ہوا، وہ راتوں کوا للہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے ساتھ سجدے بھی کرتے ہیں۔
Ayah 3:114

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

مومن اہل کتاب کی صفت قول باری ہے (یؤمنوں باللہ والیوم الاخرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر، وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں) اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لے آئے تھے ان کی یہ صفت بیان ہورہی ہے۔ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ۔ پھر انہوں نے لوگوں کو حضور ﷺ کی تصدیق کی طرف بلایا اور جو لوگ آپ کی مخالفت کرتے تھے انہیں اس مخالفت سے روکا اس لیے ان کا شماران لوگوں میں ہوگیا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا پچھلی آیت میں ارشاد ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس) ہم نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے وجوب پر قرآنی دلائل کا پہلے ذکرکر دیا ہے۔ مذاہب فاسدہ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے اگریہ کہاجائے کہ آیا مذاہب فاسدہ کے عقائد کا ازالہ جو تاویل کے سہارے اپنا لیے گئے ہیں اسی طرح واجب ہے جس طرح غلط اور منکر افعال کا ؟ تو اس کے جواب میں یہ کہاجائے گا کہ اس کی دو صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ فاسد عقائد کا حامل کوئی شخص اگر اپنے غلط عقائد کی دعوت دے رہاہو اور اس طرح وہ شبہات پیداکرکے لوگوں کو گمراہ کررہاہو، تو اسے ہر ممکن طریقے سے اس سے ہٹانا اور باز رکھنا واجب ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے فاسد عقائد کو اپنی ذات تک محدودرکھے اور لوگوں کو ان کی دعوت نہ دے، تو اسے دلائل دے کر حق کی دعوت دی جائے گی اور اس کے شبہات کو دورکیاجائے گا۔ یہاں تک تو اس کے ساتھ یہی معاملہ رکھا جائے گا ، لیکن اگر وہ اہل حق کے خلاف تلوار اٹھائے گا اور جتھابندی کرکے امام المسلمین کے خلاف صف آراء ہوجائے گا، اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے باطل عقائد کی لوگون کو دعوت دینا شروع کردے گا۔ تو پھر وہ باغی شمارہوگا ، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس سے جنگ کی جائے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹنے پر مجبورہوجائے۔ فاسد مذہب اور حضرت علی ؓ کی رائے حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ آپ کوفہ کی جامع مسجد میں منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ مسجد کے ایک گوشے سے خوارج کے ایک ٹولے نے (لاحکم الاللہ) ، حکم صرف اللہ کا چلے گا) کا نعرہ بلند کیا، آپ نے اپنا خطبہ منقطع کرکے فرمایا : بات تو درست کہی گئی ہے۔ لیکن جس مقصد کے لیے کہی گئی ہے وہ غلط اور باطل ہے، لوگو ! سنو، ان لوگوں کے سلسلے میں ہمارا طریق کاریہ ہے کہ جب یہ ہمارا ساتھ دیتے رہیں گے ہم انہیں مال غنیمت میں سے ان کا حصہ ادا کرتے رہیں گے۔ ہم انہیں اپنی مسجدوں میں اللہ کی عبادت کرنے سے نہیں روکیں گے، اور جب تک یہ ہمارے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائیں گے ہم ان کے خلاف کوئی جنگی کارروائی نہیں کریں گے۔ حضرت علی ؓ نے لوگوں کو یہ بتایا کہ ان خارجیوں کے خلاف اس وقت تک قتال واجب نہیں ہوگا جب تک وہ جنگ پر کمربستہ نہ ہوجائیں۔ جب حروراء کے مقام پر یہ لوگ آپ کے خلاف صف آراء ہوگئے تو آپ نے سب سے پہلے انہیں واپس آملنے کی دعوت دی، پھر ان کے ساتھ مباحثہ ومناظرہ بھی کیا جس کا یہ اثرہوا کہ بہت سے لوگ ان خارجیوں کا ساتھ چھوڑکر آپ کے لشکر سے آملے۔ یہ طرزعمل تاویل کی بناپرفاسدمذاہب اختیار کرنے اور باطل عقائد رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اصل اور بنیاد ہے۔ یعنی ایسے لوگ جب تک کھلم کھلااپنے مذہب اور عقیدے کا پرچار نہ کریں اور اہل حق کے خلاف صف آرانہ ہوجائیں اس وقت تک ان کے خلاف جنگی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اور انہیں ان کے حال پرچھوڑدیاجائے گا، بشرطیکہ ان کا یہ مذہب اور عقیدہ صریح کفرنہ ہو، اس لیے کہ کسی کافرکوکفر کی حالت پرچھوڑدینا جائز نہیں ہے بلکہ اس پر جزیہ عائد کرنا ضروری ہے۔ جبکہ ایسا شخص جو تاویل کی بناپر کفراختیار کرلے اسے جزیہ پر قرار رکھنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کی حیثیت مرتدجیسی ہوگی۔ کیونکہ اس نے پہلے توحید کا اقرار کیا تھا، رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آیا تھا۔ اس لیے اب اگر وہ ان باتوں کو تسلیم نہ کرتے ہوئے کوئی اور راستہ اختیارکرے گا تو وہ مرتدقرارپائے گا۔ تاویل کرنے والے گمراہ مذاہب کے بارے میں ابوالحسن کی رائے بعض لوگ انہیں اہل کتاب کا درجہ دیتے ہیں، ابوالحسن یہی کہا کرتے تھے۔ چناچہ ان کے قول کے مطابق ایسے لوگوں کی بیٹیوں سے نکاح جائز ہے لیکن مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی بیٹیاں انہیں نکاح میں دیں۔ ان کاذبیحہ بھی کھانا درست ہے اس لیے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کی نسبت قرآن کے حکم کی طرف کرتے ہیں۔ اگرچہ قرآن پر عمل پیرا ہونے کے لیئے تیار نہیں ہوتے۔ جس طرح کہ کوئی شخص نصرانیت یایہودیت کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرلے، اس کا حکم بھی یہودیوں اور نصرانیوں جیسا ہوگا۔ اگرچہ وہ ان کی شریعت کی تمام باتوں کی پابندی نہ بھی کرتاہو۔ قول باری ہے (ومن یتولھم منکم فانہ منھم) تم میں سے جو شخص ان کے ساتھ دوستی گانٹھے گا وہ ان ہی میں سے ہوجائے گا۔ امام محمد کی رائے امام محمد نے، الزیادات، میں فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے باطل عقائد اختیار کرلیتا ہے جن کے ماننے والوں کی تکفیر کی جاتی ہے، توای سے شخص کی وصیتیں مسلمانوں کی وصیتوں کی طرح ہوں گی، یعنی مسلمانوں کی وصیتوں کی جو صورتیں جائڑہوں گی ان کی بھی جائز ہوں گی اور جو ناجائز ہوں گی ان کی بھی ناجائز ہوں گی۔ امام محمد کی یہ بات بعض صورتوں میں اس مسلک کی موافقت پر دلالت کرتی ہے جو ابوالحسن نے اختیار کیا تھا۔ بعض دیگر اہل علم کی آراء بعض لوگوں کے نزدیک ان کی حیثیت ان منافقین کی طرح ہے جو حضور ﷺ کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے کفرونفاق کا علم تھا یا انہیں ان کے نفاق پر قائم رہنے دیا گیا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک ان کی حیثیت ذمیوں جیسی ہے۔ جو لوگ یہ بات تسلیم نہیں کرتے انہوں نے منافقین اور اہل الذمہ کے درمیان یہ فرق کیا ہے کہ اگر ایک منافق کے نفاق کا علم ہوجائے توہم اسے اس پر برقراررہنے نہیں دیں گے اور اس سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی بات قبول نہیں کریں گے، اس کے برعکس ذمیوں سے جزیہ لے کر انہیں ان کی حالت پر برقراررکھاجاتا ہے جبکہ ایسے لوگوں سے جزیہ لینا جائز نہیں ہے جو تاویل کی بناپرکفر میں مبتلا ہوں اور اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہوں انہیں جزیہ کے بغیر چھوڑنا بھی درست نہیں ہے۔ اس لیے اس بارے میں ان کا حکم یہ ہے کہ ہمیں ان میں سے کسی کے متعلق جب کفر کے اعتقادکاعلم ہوجائے گا تو اس پرا سے برقرار رہنے دیا جانا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ اس پر مرتدین کے احکامات جاری کیئے گے۔ اس پر کافروں کے احکام جاری کرنے کے سلسلے میں اس امکان پر انحصار نہیں کیا جائے گا کہ ہوسکتا ہے کہ اس کا عقیدہ درست ہو اور اسے غلطی لگ گئی ہوبل کہ وہ اپنے مافی الضمیرکا اظہار کرتے ہوئے اگر ہمارے سامنے ایسے اعتقاد کا اظہارکرے گا جو اس کی تکفیرواجب کردے تو اس صورت میں اس پر مرتدین کے احکام جاری کرنا جائز ہوگا یعنی اس سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے اس غلط عقیدے سے توبہ کرے۔ ورنہ اسے قتل کردیاجائے گا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 3:115–118

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے عذاب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کردے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

مومنو ! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی (اور فتنہ انگیزی کرنے میں) کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنادی ہیں

ذمیوں سے استعانت کا بیان قول باری ہے (یایھا الذین امنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم لایألونکم خبالاؤدواماعنتم قدبدت البخضاء من افواھھم وماتخفی صدورھم اکبر، اے ایمان والو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدانہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائد ہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بعض ان کے منہ سے نکلاپڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے پھرتے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ انسان کا بطانہ، ان لوگوں کو کہاجاتا ہے جو اس کے خاص ہوتے ہیں اور اس پر اپنا حکم چلاسکتے ہیں نیز جن پر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس بات سے روک دیا کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑکراہل کفر کو اپناراز داربنائیں اور اپنے خصوصی معاملات میں ان سے مدد کے طلب گارہوں۔ پھر اپنے قول (لایألونکم خبالا) کے ذریعے مسلمانوں کو ان کافروں کے پوشیدہ جذبات سے آگا ہ کردیاجویہ مسلمانوں کے متعلق رکھتے ہیں۔ اس فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کافرتمھارے معاملات کو خراب کرنے کے کسی بھی موقعہ کو ہاتھ سے جانے نہٰں دیئے اس لیے کہ خیال کے معنی فساد کے ہیں۔ پھر فرمایا (ودواماعنتم) سدی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ لوگ تمہیں تمہارے دین سے گمراہ کرنے کی تمنا رکھے ہوئے ہیں۔ ابن جریج کا قول ہے کہ یہ لوگ اس بات کے متمنی ہیں کہ تم اپنے دین کے معاملے میں مشقت می پڑجاؤ، اور پھر تمہیں دین پر عمل پیرا ہونے میں مشقتیں برداشت کرنی پڑیں۔ اس لیے کہ عنت کے اصل معنی مشقت کے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی کہ انھیں ہر وہ چیز ہے جو تمہاری مشقت اور نقصان کا سبب بنتی ہو۔ قولباری ہے (ولوشاء اللہ لاعنتکم۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتاتو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا) مسلمانوں کے معاملات حکومت میں اہل ذمہ سے مددلینا جائز نہیں ہے آیت اس بات پر دلالت کررہی کہ مسلمانوں کے معاملات میں اہل الذمہ سے مددلینا جائز نہیں ہے مثلا کسی ذمی کو مسلمانوں کے کسی علاقے کا انتظام سپرد کردینا یا کسی حاکم یاعامل کا کسی ذمی کو اپنا کاتب یعنی سٹینوبنالینا وغیرہ۔ حضرت عمر ؓ کے متعلق مروی ہے کہ جب آپ کو پتا چلا کہ آپ کے مقررکردہ گور نرحضرت ابوموسی اشعری نے کسی ذمی کو اپنا کاتب بنالیا ہے تو آپ نے فورا انھیں تحریری طورپرسرزنش کی اور دلیل کے طورپر آیت (یایھا الذین امنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم) کا حوالہ دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جب انھیں ذلیل کردیا ہے تو تم اب انھیں عزت کا مقام نہ دو ۔ ابوحیان تیمی نے فرقدبن صالح سے، انھوں نے ابو وہقانہ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت عمر ؓ سے گزارش کی کہ ایک شخص حیرہ کا رہنے والا ہے (ہم نے اس جیسی یادداشت کا مالک اور اس جیسا خوش نویس کسی کو نہیں پایا) میراخیال ہے کہ آپ اسے اپنا کاتب مقرر کرلیں۔ حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر جواب دیا۔ اگر میں ایسا کرلوں تو گویا میں مسلمانوں کو چھوڑکرغیروں کو اپنا راز دار بنانے کے جرم کا ارتکاب کروں گا۔ ہلال طائی نے وسق رومی سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں حضرت عمر ؓ کا غلام تھا۔ آپ ہمیشہ مجھے مسلمان ہوجانے کے لیے کہتے اور فرماتے کہ اگر تو مسلمان ہوجاتا تو میں مسلمانوں کے معاملات میں تجھ سے مددلیتا کیونکہ میرے لیے یہ مناسب نہیں کہ میں مسلمانوں کے معاملات میں کسی ایسے شخص سے مددلوں جوان میں سے نہ ہو۔ میں انکار کردیتا۔ پھر آپ فرماتے کہ دین کے معاملے میں کوئی خبر نہیں۔ جب آپ کی وفات قریب ہوئی تو آپ نے مجھے آزاد کرکے فرمایا کہ اب جہاں مرضی ہے چلے جاؤ۔