7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsآسان قرآن

Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی کچو کا لگ جائے تو اللہ کی پناہ مانگ لو۔ (100) یقینا وہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔

100: کچوکے سے مراد وسوسہ ہے اور اس آیت نے ہر مسلمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ جب کبھی شیطان دل میں کوئی برے خیال کا وسوسہ ڈالے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اس بات کا ذکر خاص طور پر در گذر کا رویہ اپنانے کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں در گذر کرنے کی فضیلت ہے وہاں بھی اگر شیطانی اثر سے کبھی کسی کو غصہ آجائے تو اس کا علاج بھی اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا ہے۔
Ayahs 7:201–202

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، انہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آکر چھوتا بھی ہے تو وہ (اللہ کو) یاد کرلیتے ہیں۔ (101) چنانچہ اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور جو ان شیاطین کے بھائی ہیں ان کو یہ شیاطین گمراہی میں گھسیٹے لے جاتے ہیں، نتیجہ یہ کہ وہ (گمراہی سے) باز نہیں آتے۔

101: گناہ کی خواہش نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آجاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے۔
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب تم ان کے سامنے (ان کا منہ مانگا) معجزہ پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ : تم نے یہ معجزہ خود اپنی پسند سے کیوں نہ پیش کردیا ؟ کہہ دو کہ : میں تو اسی بات کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے وحی کے ذریعے مجھ تک پہنچائی جاتی ہے۔ (102)۔ یہ (قرآن) تمہارے رب کی طرف سے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ ایمان لائیں ان کے لیے ہدایت اور رحمت (103)۔

102: آنحضرت ﷺ کے بہت سے معجزے ان لوگوں کے سامنے آ چکے تھے، لیکن وہ ضد میں آکر نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے، یہ اس کا جواب ہے کہ میں اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ میں تو ہر بات میں وحی الٰہی کا اتباع کرتا ہوں۔ 103: یعنی قرآن کریم بذات خود ایک معجزہ ہے، اس میں جو بصیرتیں ہیں، وہ ایک امی کی زبان پر جاری ہو رہی ہیں جس نے کبھی لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ اس کے بعد کسی معجزے کی ضرورت ہے۔
Ayahs 7:204–205

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو، اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحمت ہو۔ (104)

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اپنے رب کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کیے بغیر ! اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

104: اس آیت نے بتادیا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو اسے سننے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ البتہ تلاوت کرنے والے کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے مقامات پر بلند آواز سے تلاوت نہ کرے جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں۔ ایسی صورت میں اگر لوگ تلاوت کی طرف دھیان نہیں دیں گے تو اس کا گناہ تلاوت کرنے والے کو ہوگا۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

یاد رکھو کہ جو (فرشتے) تمہارے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر کر کے منہ نہیں موڑتے، اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اسی کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (105)

105: اس سے اشارہ ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے، اس میں (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ اول تو اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کی عبادت یا ذکر سے بےنیاز ہے، دوسرے اس کی ایک بڑی مخلوق یعنی فرشتے، ہر وقت اس کے ذکر میں مشغول ہیں۔ انسانوں کو جو ذکر کا حکم دیا گیا ہے، اس میں خود انسانوں کا فائدہ ہے کہ یہ ذکر جب دل میں سما جائے تو انہیں شیطان کے تصرفات سے محفوظ رکھنے کے لیے نہایت مفید ہے اور اس کے ذریعے وہ گناہوں اور جرائم و مظالم سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ آیت سجدہ تلاوت کی آیت ہے اور جو شخص عربی میں یہ آیت پڑھے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ قرآن کریم میں ایسی چودہ آیتیں ہیں، اور یہ ان میں سب سے پہلی آیت ہے۔