7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsآسان قرآن

Ayahs 7:160–162

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) بارہ خاندانوں میں اس طرح تقسیم کردیا تھا کہ وہ الگ الگ (انتقامی) جماعتوں کی صورت اختیار کر گئے تھے۔ اور جب موسیٰ کی قوم نے ان سے پانی مانگا تو ہم نے ان کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی فلاں پتھر پر مارو۔ (79) چنانچہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ ہر خاندان کو اپنی پانی پینے کی جگہ معلوم ہوگئی۔ اور ہم نے ان کو بادل کا سایہ دیا، اور ہم نے ان پر من وسلوی (یہ کہہ کر) اتارا کہ : کھاؤ وہ پاکیزہ رزق جو ہم نے تمہیں دیا ہے۔ اور (اس کے باوجود انہوں نے ناشکری کی تو) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب ان سے کہا گیا تھا کہ : اس بستی میں جاکر بس جاؤ، اور اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ، اور یہ کہتے جانا کہ (یا اللہ) ہم آپ کی بخشش کے طلب گار ہیں، اور (بستی کے) دروازے میں جھکے ہوئے سروں کے ساتھ داخل ہونا، تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے، (اور) نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ (ثواب) بھی دیں گے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ جو بات ان سے کہی گئی تھی ان میں سے ظالم لوگوں نے اسے بدل کر دوسری بات بنا لی۔ تب ہم نے ان کی مسلسل زیادتیوں کی وجہ سے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا۔

79: آیت نمبر 160 تا 162 میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ سورة بقرہ (2۔ 57 تا 61) میں گزرچکے ہیں، تشریح کیلئے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس بستی کے بارے میں پوچھو جو سمندر کے کنارے آباد تھی، جب وہ سبت (سینچر) کے معاملے میں زیادتیاں کرتے تھے۔ (80) جب ان (کے سمندر) کی مچھلیاں سینچر کے دن تو اچھل اچھل کر سامنے آتی تھیں، اور جب وہ سینچر کا دن نہ منا رہے ہوتے تو وہ نہیں آتی تھیں۔ اس طرح ان کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ہم انہیں آزماتے تھے۔ (81)

80: یہ واقعہ بھی اختصار کے ساتھ سورة بقرہ (2۔ 65، 66) میں گزرا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ سنیچر کو عربی اور عبرانی زبان میں سبت کہتے ہیں، یہودیوں کے لئے اسے ایک مقدس دن قرار دیا گیا تھا، جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں، جن یہودیوں کا یہاں ذکر ہے وہ (غالباً حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں) کسی سمندر کے کنارے رہتے تھے، اور مچھلیاں پکڑا کرتے تھے، سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑ نا ان کے لئے ناجائز تھا، مگر شروع میں انہوں نے کچھ حیلے کرکے اس حکم کی خلاف ورزی کرنی چاہی، اور پھر کھلم کھلا مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں، کچھ نیک لوگوں نے انہیں سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے، بالآخر ان پر عذاب آیا اور ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں بندر بنادیا گیا، سورة بقرہ میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اگرچہ موجودہ بائبل میں موجود نہیں ہے لیکن عرب کے یہودی اس سے خوب اچھی طرح واقف تھے 81: جب کوئی قوم نافرمانی پر کمر باندھ لیتی ہے تو بعض اوقات اللہ تعالیٰ اسے ڈھیل دیتے ہیں جیسا کہ آگے آیت نمبر 182 میں خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ سنیچر کے دن معاشی سرگرمیوں سے باز رہنا اپنی ذات میں کچھ اتنا ناقابل برداشت نہیں تھا، لیکن جس قوم کی سرشت ہی میں نافرمانی تھی، اس نے جب کسی معقول وجہ کے بغیر احکام کی خلاف ورزی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ ڈھیل دی کہ سنیچر کے دن مچلیاں اتنے افراط کے ساتھ نظر آنے لگیں کہ دوسرے دنوں میں اتنے افراط کے ساتھ نظر نہیں آتی تھیں۔ اس سے ان کو نافرمانی کا اور حوصلہ ہوا، اور وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف ڈھیل اور آزمائش ہے۔ اور انہوں نے ایسے ایسے حیلے کیے کہ سنیچر کے دن مچھلی کی دم میں رسی اٹکا کر اسے زمین کی کسی چیز سے باندھ دیا۔ اور اتوار کے دن اسے پکا کھایا۔ جب ان حیلوں سے نافرمانی کا حوصلہ بڑھا تو کھلم کھلا شکار شروع کردیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی شخص کو گناہ کے وافر مواقع میسر آرہے ہوں تو اسے ڈرنا چاہیے کہ یہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل نہ ہو جس کے بعد وہ ایک دم پکڑ لیا جائے۔
Ayahs 7:164–165

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور (وہ وقت انہیں یاد دلاؤ) جب انہی کے ایک گروہ نے (دوسرے گروہ سے) کہا تھا کہ : تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کر رہے ہو جنہیں اللہ یا تو ہلاک کرنے والا ہے، یا کوئی سخت قسم کا عذاب دینے والا ہے ؟ (82) دوسرے گروہ کے لوگوں نے کہا کہ : یہ ہم اس لیے کرتے ہیں تاکہ تمہارے رب کے حضور بری الذمہ ہوسکیں اور شاید اس (نصیحت سے) یہ لوگ پرہیزگاری اختیار کرلیں۔ (83)

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پھر جب یہ لوگ وہ بات بھلا بیٹھے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو برائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچا لیا، اور جنہوں نے زیادتیاں کی تھیں، ان کی مسلسل نافرمانی کی بنا پر ہم نے انہیں ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا۔

82: دراصل ان لوگوں کے تین گروہ ہوگئے تھے، ایک گروہ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے تھا دوسرا گروہ شروع میں انہیں سمجھاتا رہا اور جب نہ مانے تو مایوس ہو کر بیٹھ گیا تیسرا گروہ مایوس ہونے کے بجائے بدستور انہیں نصیحت کرتا رہا، اب دوسرے گروہ نے تیسرے گروہ سے کہا جب یہ لوگ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے اس لئے ان کو سمجھانا وقت ضائع کرنا ہے۔ 83: يیہ تیسرے گروہ کا جواب ہے اور بڑا عارفانہ جواب ہے، انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی دو وجہیں بیان کیں، ایک یہ کہ ہمارے نصیحت کرتے رہنے کا پہلا مقصد تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری پیشی ہو تو ہم یہ کہہ سکیں کہ یا اللہ ہم اپنا فریضہ ادا کرتے رہے تھے اس لئے ہم ان کے جرائم سے بری الذمہ ہیں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ ہماری بات سن لے اور گناہ سے باز آجائے، اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جواب خاص طور پر نقل فرما کر ہر مسلمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ جب معاشرے میں نافرمانی کا دور دورہ ہوجائے تو ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچالے، بلکہ دوسروں کو راہ راست کی دعوت دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے جس کے بغیر وہ مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہوسکتا، اور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حق کے ایک داعی کو کبھی مایوں ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اس امید کے ساتھ اپنا پیغام پہنچاتے رہنا چاہیے کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ بات سمجھ جائے۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

چنانچہ ہوا یہ کہ جس کام سے انہیں روکا گیا تھا جب انہوں نے اس کے خلاف سرکشی کی تو ہم نے ان سے کہا : جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ (84)

84: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں واقعی بندر بنادیا گیا، ہمارے دور کے بعض لوگ اس قسم کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے قرآن کریم میں تاویلات بلکہ تحریفات کا دروازہ کھول دیتے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ جب ڈارون کسی قطعی دلیل کے بغیر یہ کہے کہ بندر ترقی کرکے انسان بن گیا تھا تو اسے ماننے میں انہیں تامل نہیں ہوتا ؛ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے قطعی کلام میں یہ فرمائیں کہ انسان تنزل کرکے بندر بن گیا تو یہ حضرات شرما کر اس کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayahs 7:167–168

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (یاد کرو وہ وقت) جب تمہارے رب نے اعلان کیا کہ وہ ان پر قیامت کے دن تک کوئی نہ کوئی ایسا شخص مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بری بری تکلیفیں پہنچائے گا۔ (85) بیشک تمہارا رب جلد ہی سزا دینے والا بھی ہے، اور یقینا وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان بھی ہے۔

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے دنیا میں ان کو مختلف جماعتوں میں بانٹ دیا۔ چنانچہ ان میں نیک لوگ بھی تھے اور کچھ دوسری طرح کے لوگ بھی۔ اور ہم نے انہیں اچھے اور برے ھالات سے آزمایا، تاکہ وہ (راہ راست کی طرف) لوٹ آئیں۔

85: یہود کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ واقعی ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان پر کوئی نہ کوئی جابر مسلط ہوتا رہا ہے جس نے ان کو اپنا محکوم بناکر طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں، البتہ ظاہر ہے کہ ہزاروں سال کی تاریخ میں ایسے وقفے بھی آتے رہے جن میں وہ خوش حال رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے خود یہ فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمایا جس سے واضح ہے کہ ان پر خوش حالی کے دور بھی آتے رہے ہیں مگر مجموعی تاریخ کے مقابلے میں وہ کم ہیں۔
Ayahs 7:169–170

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ان کی جگہ ایسے جانشین آئے جو کتاب (یعنی تورات) کے وارث بنے، مگر ان کا حال یہ تھا کہ اس ذلیل دنیا کا سازو سامان (رشوت میں) لیتے، اور یہ کہتے کہ : ہماری بخشش ہوجائے گی۔ حالانکہ اگر اسی جیسا سازوسامان دوبارہ ان کے پاس آتا تو وہ اسے بھی (رشوت میں) لے لیتے۔ (86) کیا ان سے کتاب میں مذکور یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کریں ؟ اور اس (کتاب) میں جو کچھ لکھا تھا وہ انہوں نے باقاعدہ پڑھا بھی تھا۔ اور آخرت والا گھر ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں۔ (اے یہود) کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

86: یہ ان کی اس بد عنوانی کا ذکر ہے کہ وہ رشوت لے کر اللہ کی کتاب کی غلط تفسیر کردیتے تھے، اور ساتھ ہی بڑے یقین کے ساتھ یہ بھی کہتے کہ ہمارے اس گناہ کی بخشش ہوجائے گی۔ حالانکہ بخشش تو توبہ سے ہوتی ہے، جس کا لازمی حصہ یہ ہے کہ آئندہ اس گناہ سے پرہیز کیا جائے۔ لیکن ان کا حال یہ تھا کہ اگر انہیں دوبارہ رشوت کی پیشکش کی جاتی تو وہ دوبارہ لینے کو بےتکلف تیار رہتے تھے۔ اور یہ سب کچھ وہ دنیا کی خاطر کرتے تھے۔ حالانکہ اگر عقل ہوتی تو یہ دیکھتے کہ آخر کی زندگی کہیں بہتر ہے۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اس طرح اٹھا دیا تھا جیسے وہ کوئی سائبات ہو (87) اور انہیں یہ گمان ہوگیا تھا کہ وہ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے (اس وقت ہم نے حکم دیا تھا کہ) ہم نے تمہیں جو کتاب دی ہے اسے مضبوطی سے تھامو اور اس کی باتوں کو یاد کرو، تاکہ تم تقوی اختیار کرسکو۔

87: یہ واقعہ سورة بقرہ (63:2) اور سورة نساء (154:4) میں بھی گذرا ہے اور سورة بقرہ کی متعلقہ آیت کے تحت ہم نے اس کا خلاصہ بیان کیا ہے وہاں ہم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ عربی زبان کے لحاظ سے اس آیت کا یہ ترجمہ بھی ممکن ہے کہ : ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اس طرح زور زور سے ہلایا کہ انہیں یہ گمان ہوگیا کہ وہ ان کے اوپر گرنے والا ہے۔ْ
Ayahs 7:172–174

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور (اے رسول ! لوگوں کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب تمہارے پروردگار نے آدم کے بیٹوں کی پشت سے ان کی ساری اولاد کو نکالا تھا، اور ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا تھا، (اور پوچھا تھا کہ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا تھا کہ : کیوں نہیں ؟ ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ (88) (اور یہ اقرار ہم نے اس لیے لیا تھا) تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ : ہم تو اس بات سے بیخبر تھے۔

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ نہ کہہ دو کہ : شرک (کا آغاز) تو بہت پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا، اور ہم ان کے بعد انہی کی اولاد بنے۔ تو کیا آپ ہمیں ان کاموں کی وجہ سے ہلاک کردیں گے جو غلط کار لوگوں نے کیے تھے ؟

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نشانیوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ (حق کی طرف) پلٹ آئیں۔

88: اس آیت کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے، حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے، پھر ان سے یہ عہد لیا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں ؟ سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں (روح المعانی بحوالہ نسائی وحاکم و بیہقی وغیرہ) جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے اپنی اطاعت کا اقرار لے لیا تھا، دنیا میں ایسے حضرات بھی ہوئے ہیں جن کو یہ واقعہ دنیا میں آنے کے بعد بھی یاد رہا ہے مثلاً حضرت ذوالنون مصری ؒ سے ان کا یہ ارشاد منقول ہے کہ : یہ عہد مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں۔ (معارف القرآن ج : 4، ص 115) لیکن یہ درست ہے کہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر باقی انسان اس واقعے کو ایک عہد کی شکل میں تو بھول چکے ہیں مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ یاد نہ رہنے کے باوجود اپنا طبعی اثر چھوڑ جاتے ہیں، یہ اثر آج بھی دنیا کے اکثر وبیشتر انسانوں میں موجود ہے کہ وہ اس کائنات کے ایک پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی عظمت وکبریائی کے گن گاتے ہیں، جو لوگ مادی خواہشات کے گرداب میں پھنس کر اپنی فطرت خراب کرچکے ہوں ان کی بات تو اور ہے ؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت ہر انسان کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کبھی فطرت سے دور کرنے والے بیرونی عوامل دور ہوتے ہیں تو انسان حق کی طرف اس طرح دوڑتا ہے جیسے اس کو اپنی کھوئی ہوئی پونجی اچانک مل گئی ہو۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور (اے رسول) ان کو اس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں مگر وہ ان کو بالکل چھوڑ نکلا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔ (89)

89: عام طور سے مفسرین نے اس آیت کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اس میں بلعام بن باعور کی طرف اشار ہے۔ فلسطین کے علاقے مو آب میں یہ ایک عابد و زاہد شخص تھا۔ اور اس کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس وقت اس علاقے پر بت پرست قوموں کا قبضہ تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ کی فوجیں مو آب کے دروازے تک پہنچ گئیں تو وہاں کے بادشاہ نے بلعام سے کہا کہ وہ ان کے خلاف بد دعا کرے تاکہ وہ ہلاک ہوجائیں۔ بلعام نے شروع میں انکار کیا۔ مگر بادشاہ نے اسے رشوت دی تو وہ بد دعا پر راضی ہوگیا۔ مگر جب دعا کرنی شروع کی تو الفاظ بد دعا کے بجائے حضرت موسیٰ ؑ کے حق میں دعا کے نکلے۔ بعد میں بلعام نے بادشاہ کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنی عورتوں کو بنی اسرائیل کے خیموں میں بھیج دیں، تاکہ وہ بدکاری میں مبتلا ہوجائیں بدکاری کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے بنی اسرائیل اپنی بدکاری کی وجہ سے اللہ کی مدد سے محروم ہوجائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بنی اسرائیل اس فتنے میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے ان میں عذاب کے طور پر طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔ یہ قصہ بائبل میں بھی تفصیل کے ساتھ مذکور ہے (دیکھئے، گنتی، بان 22 تا 25، اور 16:31) قرآن کریم نے یہاں اس شخص کا نام نہیں لیا جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے اور نہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ کر کس طرح اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔ اور جو قصۃ اوپر بیان کیا گیا ہے، وہ بھی آنحضرت ﷺ سے منقول نہیں ہے۔ اس لیے یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان آیات میں وہی مراد ہے۔ تاہم قرآن کریم کا اصل مقصد اس شخص کی تعیین پر موقوف نہیں ہے۔ سبق یہ دینا مقصود ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم اور عبادت کے شرف سے نوازا ہو، اس کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط اور تقویٰ سے کام لینا چاہیے۔ اگر ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کی خلاف ورزی کر کے ناجائز خواہشات کے پیچھے چل پڑے، تو اس کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں برابر ہوتا ہے۔
Ayahs 7:176–178

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی بدولت اسے سربلند کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا رہا، اس لیے اس کی مثال اس کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان لٹکا کر ہانپے گا، اور اگر اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپے گا۔ (90) یہ ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ لہذا تم یہ واقعات ان کو سناتے رہو، تاکہ یہ کچھ سوچیں۔

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

کتنی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جسے اللہ ہدایت دے بس وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے، تو ایسے ہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھاتے ہیں۔

90: عام جانور اسی وقت ہانپتے ہیں جب کوئی بوجھ اٹھائیں یا کوئی ان پر حملہ کرے۔ لیکن کتا ایسا جانور جسے سانس لینے ہر حال میں ہانپنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جن حضرات نے اس واقعے کو بلعام بن باعور کا واقعہ قرار دیا ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی بد عملی کی سزا میں اس کی زبان کتے کی طرح باہر نکل پڑی تھی، اس لیے اسے اس آیت میں کتے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ در اصل یہ تشبیہ اس شخص کی نفسانی حرص کی ہے۔ اگر کتے پر کوئی چیز پھینکی جائے تو خواہ وہ اسے مارنے کے لیے پھینکی گئی ہو، کتا اپنی زبان نکال کر اس پر اس حرص میں لپکتا ہے کہ شاید یہ کوئی کھانے کی چیز ہو۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی حرص میں گرفتار ہو وہ ہر واقعے سے دنیا کا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے ہر حال میں ہانپتا ہی رہتا ہے۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لیے پیدا کیے۔ (91) ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

91: یعنی ان کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ایسے کام کریں گے جو انہیں جہنم تک لے جائیں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ تقدیر میں لکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جہنم کے کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، بلکہ بلا تشبیہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک استاد اپنے کسی شاگرد کے حالات کے پیش نظر یہ لکھ کر رکھ دے کہ یہ فیل ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ استاد نے اسے فیل ہونے پر مجبور کردیا۔ بلکہ اس نے جو کچھ لکھا تھا، اس کا مطلب یہی تھا کہ یہ شاگرد محنت کرنے کے بجائے وقت ضائع کرے گا اور اس کے نتیجے میں فیل ہوگا۔
Ayahs 7:180–182

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اسمائے حسنی (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہذا اس کو انہی ناموں سے پکارو۔ (92) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ (93) وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا بدلہ انہیں دیا جائے گا۔

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو حق کا راستہ دکھاتی ہے اور اسی (حق) کے مطابق انصاف سے کام لیتی ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے انہیں ہم اس طرح دھیرے دھیرے پکڑ میں لیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔

92: اس سے پہلی آیت میں نافرمانوں کی بنیادی بیماری یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے سامنے جواب دہی کے احساس سے غافل ہیں۔ اور غور کیا جائے تو اس دنیا میں ہر قسم کی برائی کا اصل سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اس لیے اب اس بیماری کا علاج بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اپنی ہر حاجت اسی سے مانگی جائے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کا جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے، وہ دونوں باتوں کو شامل ہے، اس کی تسبیح و تقدیس کے ذریعے اس کا ذکر کرنا، اور اس سے دعائیں مانگنا۔ غفلت کے دور ہونے کا یہی راستہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دونوں طریقوں سے پکارے۔ البتہ اس کو پکارنے کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اچھے اچھے نام (اسمائے حسنی) خود اللہ تعالیٰ نے یا اس کے رسول ﷺ نے بتا دئیے ہیں، انہی ناموں سے اس کو پکارا جائے۔ ان اسمائے حسنی کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر اشارہ فرمایا ہے (دیکھئے سورة بنی اسرائیل 110:17 و سورة طہ 8:20 و سورة حشر 24:59) اور صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ یہ ننانوے نام ترمذی اور حاکم نے روایت کیے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انہی اسمائے حسنی میں سے کسی اسم مبارک کے ساتھ کرنا چاہیے اور اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام نہیں گھڑ لینا چاہیے۔ 93 بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا اس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام یا کوئی صفت بنالی تھی یہ آیت متنبہ کررہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کردیں۔
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں، یقین جانو کہ میری خفیہ تدبیر بڑی مضبوط ہے۔ (94)

94: یہ ان لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو مسلسل نافرمانی کئے جارہے ہوں اور پھر بھی دنیا کے عیش و عشرت سے لطف اندوز ہورہے ہوں، اور جنہیں کبھی یہ خیال بھی نہ آتا ہو کہ انہیں کسی دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، کیونکہ ایسی نافرمانیوں اور ایسی غفلت کے ساتھ جو دنیوی عیش و عشرت میسر آتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے جس کو قرآن کریم نے استدراج کا نام دیا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ ایسا شخص اچانک پکڑلیا جاتا ہے کبھی تو یہ پکڑ دنیا میں ہوجاتی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو آخرت میں تو ہونی ہی ہونی ہے
Ayahs 7:184–187

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

بھلا کیا ان لوگوں نے سوچا نہیں کہ یہ صاحب جن سے ان کا سابقہ ہے (یعنی آنحضرت ﷺ ان میں جنون کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ وہ اور کچھ نہیں، بلکہ صاف صاف طریقے سے لوگوں کو متنبہ کرنے والے ہیں۔ (95)

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

اور کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پر اور اللہ نے جو جو چیزیں پیدا کی ہیں ان پر غور نہیں کیا، اور یہ (نہیں سوچا) کہ شاید ان کا مقررہ وقت قریب ہی آپہنچا ہو ؟ اب اس کے بعد آخر وہ کونسی بات ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے ؟

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس کو اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت نہیں سے سکتا، اور ایسے لوگوں کو اللہ (بےیارومددگار) چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(اے رسول) لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب برپا ہوگی ؟ کہہ دو کہ : اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے۔ وہی اسے اپنے وقت پر کھول کر دکھائے گا، کوئی اور نہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری چیز ہے، جب آئے گی تو تمہارے پاس اچانک آجائے گی۔ یہ لوگ تم سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے تم نے اس کی پوری تحقیق کر رکھی ہے۔ کہہ دو کہ : اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے۔

95: مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کو پیغمبر ماننے کے بجائے کبھی معاذاللہ آپ کو مجنون قرار دیتے، کبھی شاعر یا جادوگر کہتے تھے، یہ آیت بتارہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایسے بےسروپا تبصرے وہی کرسکتا ہے جو بےسوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہو، اگر یہ لوگ ذرا بھی غور کرلیں تو ان پر اپنے ان الزامات کی حقیقت واضح ہوجائے۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہو کہ : جب تک اللہ نہ چاہے میں خود اپنے آپ کو بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اچھی اچھی چیزیں خوب جمع کرتا، اور مجھے کبھی کوئی تکلیف ہی نہ پہنچتی (96) میں تو بس ایک ہوشیار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں، ان لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔

96: یعنی اگر مجھے غیب کی ساری باتیں معلوم ہوجایا کرتیں تو میں دنیا کے سارے فائدے اکھٹے کرلیتا اور کبھی مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی ؛ کیونکہ ہر کام کا انجام مجھے پہلے سے معلوم ہوجاتا، حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مجھے غیب کی ساری باتوں کا علم نہیں دیا گیا، البتہ جو باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں ان کا مجھے بھی علم ہوجاتا ہے، یہ ان کافروں کی بھی تردید ہے جو پیغمبر کیلئے ضروری سمجھتے تھے کہ اسے خدائی کے اختیارات حاصل ہوں اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو اپنے پیغمبروں کی تعظیم میں حد سے نکل کر انہیں خدائی کا درجہ دے دیتے ہیں، اور جس شرک کو مٹانے کے لئے انبیاء کرام (علیہم السلام) تشریف لائے تھے ان کی تعظیم کے نام پر اسی شرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں۔
Ayahs 7:189–194

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس کے پاس آکر تسکین حاصل کرے۔ (97) پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو عورت نے حمل کا ایک ہلکا سا بوجھ اٹھا لیا، جسے لے کر وہ چلتی پھرتی رہی۔ (98) پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں (میاں بیوی) نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ : اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم ضرور بالضرور تیرا شکر ادا کریں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

لیکن جب اللہ نے ان کو ایک تندرست بچہ دے دیا تو ان دونوں نے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا شروع کردیا، حالانکہ اللہ ان کا مشرکانہ باتوں سے کہیں بلند اور برتر ہے۔

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسی چیزوں کو (اللہ کے ساتھ خدائی میں) شریک مانتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود ان کو پیدا کیا جاتا ہے ؟

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور جو نہ ان لوگوں کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں کسی صحیح راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری بات نہ مانیں، (بلکہ) تم انہیں پکارو یا خاموش رہو، ان کے لیے دونوں باتیں برابر ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو تم پکارتے ہو، وہ سب تمہاری طرح (اللہ کے) بندے ہیں۔ اب ذرا ان سے دعا مانگو، پھر اگر تم سچے ہو تو انہیں تمہاری دعا قبول کرنی چاہیے۔

97:”ایک جان“ سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کی بیوی سے مراد حضرت حواء (علیہما السلام) 98: اب یہاں سے حضرت آدم ؑ کی ایسی اولاد کا ذکر ہورہا ہے جس نے بعد میں شرک کا راستہ اختیار کیا
Ayahs 7:195–199

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا کیا ان کے پاس پاؤں ہیں جن سے وہ چلیں ؟ یا ان کے پاس ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں ؟ یا ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھیں ؟ یا ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنیں ؟ (ان سے کہہ دو کہ) تم ان سب دیوتاؤں کو بلا لاؤ جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، پھر میرے خلاف کوئی سازش کرو، اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ (99)

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا رکھوالا تو اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک لوگوں کی رکھوالی کرتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور تم اس کو چھوڑ کر جن جن کو پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں نہ اپنی مدد کرتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں صحیح راستے کی طرف بلاؤ تو وہ سنیں گے بھی نہیں۔ وہ تمہیں نظر تو اس طرح آتے ہیں جیسے تمہیں دیکھ رہے ہوں، لیکن حقیقت میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے پیغمبر) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو ، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔

99: کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے کہ آپ ہمارے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ان میں کچھ بھی طاقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے دیوتا آپ کو (معاذ اللہ) سزا دیں گے۔ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے۔