7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsآسان قرآن

Ayahs 7:80–84

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بھیجا (40) جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہاں کے کسی شخص نے نہیں کی ؟

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم جنسی ہوس پوری کرنے کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں) بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ (شرافت کی) تمام حدیں پھلانگ چکے ہو۔

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

ان کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا کچھ اور نہیں تھا کہ : نکالو ان کو اپنی بستی سے ! یہ لوگ ہیں جو بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ ہم نے ان کو (یعنی لوط ؑ کو) اور ان کے گھر والوں کو (بستی سے نکال کر) بچا لیا، البتہ ان کی بیوی تھی جو باقی لوگوں میں شامل رہی (جو عذاب کا نشانہ بنے)

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) ایک بارش برسائی۔ اب دیکھو ! ان مجرموں کا انجام کیسا (ہولناک) ہوا ؟

40: حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط ؑ بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم ؑ فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بناکر بھیجا، سدوم ایک مرکزی شہر تھا اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں، کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط ؑ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچائے اور عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن جب یہ لوگ اپنی خباثت سے باز نہ آئے تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور ان تمام بستیوں کو الٹ دیا گیا، آج بحر میت (dead sea) کے نام سے جو سمندر ہے، کہتے ہیں کہ یہ بستیاں یا تو اس میں ڈوب گئی ہیں یا اس کے آس پاس تھیں جن کا نشان واضح نہیں رہا، حضرت لوط ؑ کا اس قوم کے ساتھ نسبی تعلق نہیں تھا پھر بھی اس آیت میں اسے حضرت لوط ؑ کی قوم کہا گیا ہے کیونکہ یہ وہ امت تھی جس کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا . ان کے واقعے سب سے زیادہ تفصیل سورة ہود (69:11 تا 83) میں آئے گی۔ اس کے علاوہ سورة حجر (52:15 تا 84) ، سورة شعراء (160:26 تا 174) اور سورة عنکبوت (26:29 تا 35) میں بھی ان کے واقعے کی کچھ تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نیز سورة ذاریات (24:51 تا 37) اور سورة تحریم (10:66) میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (41) انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔ لہذا ناپ تول پورا پورا کیا کرو۔ اور جو چیزیں لوگوں کی ملکیت میں ہیں ان میں ان کی حق تلفی نہ کرو۔ (42) اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ (43) لوگو ! یہی طریقہ تمہارے لیے بھلائی کا ہے، اگر تم میری بات مان لو۔

41: مدین ایک قبیلے کا نام ہے اور اسی کے نام پر ایک بستی بھی ہے جس میں حضرت شعیب ؑ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا، ان کا زمانہ حضرت موسیٰ ؑ سے کچھ پہلے کا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ وہی حضرت موسیٰ ؑ کے خسر تھے، یہ ایک سرسبز شاداب علاقہ تھا اور یہاں کے لوگ خاصے خوش حال تھے، رفتہ رفتہ ان میں کفر وشرک کے علاوہ بہت سی بد عنوانیاں رواج پاگئیں، ان کے بہت سے لوگ ناپ تول میں دھوکا دیتے تھے، بہت سے زور آور لوگوں نے راستوں پر چوکیاں بنا رکھی تھیں جو گزرنے والوں سے زبردستی کا ٹیکس وصول کرتے تھے، کچھ لوگ ڈاکے بھی ڈالتے تھے، نیز جو لوگ حضرت شعیب ؑ کے پاس جاتے نظر آتے انہیں روکتے اور تنگ کرتے تھے، ان کی بد عنوانیوں کا ذکر اگلی دو آیتوں میں آرہا ہے، حضرت شعیب ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کے لئے پیغمبر بناکر بھیجا، انہوں نے مختلف طریقوں سے اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی، اللہ تعالیٰ نے تقریر اور خطابت کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا اسی لئے وہ خطیب الانبیاء کے لقب سے مشہور ہیں ؛ لیکن ان کی مؤثر تقریروں کا قوم نے کچھ اثر نہ لیا اور آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنی، حضرت شعیب ؑ اور ان کی قوم کے واقعات سب سے زیادہ تفصیل سے سورة ٔ ہود (11: 84 تا 95) میں آئے ہیں اور سورة حجر (15: 78) میں مختصر حوالہ آیا ہے۔ 42: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ناپ تول میں کمی کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کی حق تلفی کیا کرتی تھی، اس آیت میں لفظ بخس استعمال کیا گیا ہے، جس کے لفظی معنی کمی کرنے کے ہیں اور یہ لفظ خاص طور پر کسی کا حق مارلینے کے معنی میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم میں یہ فقرہ تین جگہ بڑی تاکید کے ساتھ آیا ہے اور اس میں دوسروں کی ملکیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے، اس احترام میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کسی کے مال یا جائیداد پر اس کی مرضی کے بغیر قبضہ کرلیا جائے اور یہ بھی کہ کسی کی کوئی بھی چیز اس کی خوش دلی کے بغیر استعمال کی جائے۔ 43: اس کی تشریح کیلئے دیکئے پیچے آیت نمبر 56 کا حاشیہ
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ایسا نہ کیا کرو کہ راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دو ، اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں، ان کو اللہ کے راستے سے روکو، اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اور وہ وقت یاد کرو جب تم کم تھے، پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کردیا، (44) اور یہ بھی دیکھو کہ فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ہے۔

44: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ اور یہ بھی کہ ان کو خوشحالی زیادہ نصیب ہوئی۔
Ayahs 7:87–88

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس پیغام پر ایمان لے آیا ہے جو میرے ذریعے بھیجا گیا ہے اور دوسرا گروہ ایمان نہیں لایا، تو ذرا اس وقت تک صبر کرو جب تک اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے۔ (45) اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

ان کی قوم کے سردار جو بڑائی کے گھمنڈ میں تھے، کہنے لگے : اے شعیب ! ہم نے پکا ارادہ کرلیا ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ تمام ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے، ورنہ تم سب کو ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا۔ شعیب نے کہا : اچھا ؟ اگر ہم (تمہارے دین سے) نفرت کرتے ہوں، تب بھی ؟

45: یہ درحقیقت ان کی ایک بات کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ ہمیں تو مومنوں اور کافروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ بھی خوش حالی کی زندگی بسر کررہے ہیں اگر ان کا طریقہ اللہ کو پسند نہ ہوتا تو انہیں یہ خوش حالی کیوں نصیب ہوتی ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس وقت کی خوش حالی سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی، ابھی اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو۔
Ayahs 7:89–90

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

ہم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں گے، اگر تمہارے دین کی طرف لوٹ آئیں گے، (46) جبکہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے۔ ہمارے لیے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کی طرف واپس جائیں۔ ہاں اللہ ہمارا پروردگار ہی کچھ چاہے تو اور بات ہے۔ (47) ہمارے رب نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کر رکھا ہے۔ اے ہمارے رب ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرمادے۔ اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنایا ہوا تھا (قوم کے لوگوں سے) کہنے لگے : اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو یاد رکھو اس صورت میں تمہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔

46: حضرت شعیب ؑ کے دوسرے ساتھی تو پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے، بعد میں ایمان لائے اس لئے ان کے حق میں توپرانے دین کی طرف لوٹنے کا لفظ صحیح ہے ؛ لیکن حضرت شعیب ؑ کبھی بھی ان کے دین پر نہیں رہے البتہ ان کی نبوت سے پہلے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ انہی کے دین پر ہیں، اس لئے انہوں نے آپ کے لئے بھی لوٹنے کا لفظ استعمال کیا تھا، حضرت شعیب ؑ نے جواب بھی انہی کے الفاظ میں دیا۔ 47: یہ اعلی درجے کی عبدیت کا فقرہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پکے عزم سے اللہ تعالیٰ کو کسی بات پر مجبور نہیں کرسکتا، ہم نے اپنی طرف سے تو یہ پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ کبھی تمہارا دین اختیار نہیں کریں گے لیکن اپنے اس عزم پر عمل اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اگر وہ چاہے تو ہمارے دلوں کو بھی پھیر سکتا ہے یہ اور بات ہے کہ جب کوئی بندہ اخلاص کے ساتھ راہ راست پر رہنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ اس کا دل گمراہی کی طرف نہیں پھیرتا اور ہر شخص کے اخلاص کی کیفیت کا اس کو پورا علم ہے، لہذا اخلاص کے ساتھ کسی بات کا پکا ارادہ کرلینے کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کہ وہ اس ارادے کو پورا فرمائے گا، اس طرح حضرت شعیب ؑ نے اس جملے سے یہ عظیم سبق دیا ہے کہ کوئی بھی نیکی کرتے وقت بھروسہ اپنے عزم اور عمل کے بجائے اللہ تعالیٰ پر کرنا چاہیے۔
Ayahs 7:91–93

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ انہیں زلزلے نے آپکڑا (48) اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہیں تھے۔ جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا، آخر کو نقصان اٹھانے والے وہی ہوئے۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

چنانچہ وہ (یعنی شعیب ؑ) ان سے منہ موڑ کر چل دیے، اور کہنے لگے : اے قوم ! میں نے تجھے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے تھے، اور تیرا بھلا چاہا تھا۔ (مگر) اب میں اس قوم پر کیا افسوس کروں جو ناشکری تھی۔

48: اس قوم پر جو عذاب آیا اس کے لئے قرآن نے یہاں زلزلے کا ذکر فرمایا ہے، سورة ہود میں اس کو صیحہ یعنی چنگھاڑ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور سورة شعراء میں اسے عذاب یوم الظلہ یعنی سائبان کے دن کا عذاب فرمایا گیا ہے، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان لوگوں پر پہلے سخت گرمی پڑی جس سے یہ بلبلا اٹھے پھر شہر سے ایک بادل آیا جس میں ٹھنڈی ہوا تھی یہ لوگ گھروں سے نکل کر اس کے نیچے جمع ہوگئے اس وقت اس بادل سے آگ برسائی گئی جسے سائبان سے تعبیر کیا گیا ہے، پھر زلزلہ آیا (روح المعانی) اور زلزلے کے ساتھ عموماً آواز بھی ہوتی ہے جسے چنگھاڑ کہا گیا۔
Ayahs 7:94–96

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے جس کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا، اس میں رہنے والوں کو بدحالی اور تکلیفوں میں گرفتار ضرور کیا، تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں۔ (49)

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے کیفیت بدلی، بدحالی کی جگہ خوشحالی عطا فرمائی، یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے، اور کہنے لگے کہ دکھ سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچتے رہے ہیں۔ پھر ہم نے انہیں اچانک اس طرح پکڑ لیا کہ انہیں (پہلے سے) پتہ بھی نہیں چل سکا۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرلیتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے (حق کو) جھٹلایا، اس لیے ان کی مسلسل بدعملی کی پاداش میں ہم نے ان کو اپنی پکڑ میں لے لیا۔

49:: بتایا یہ جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کیا انہیں (معاذاللہ) جلدی سے غصے میں آکر ہلاک نہیں کردیا، بلکہ انہیں سالہا سال تک راہ راست پر آنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے، اول تو پیغمبر بھیجے جو انہیں برسوں تک ہوشیار کرتے رہے، پھر شروع میں انہیں کچھ معاشی بدحالی یا بیماریوں وغیرہ کی مصیبتوں سے دوچار کیا تاکہ ان کے دل کچھ نرم پڑیں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تنگی ترشی میں بعض اوقات حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ پیدا ہوجاتی ہے، جب ایسے حالات میں پیغمبر ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ ذرا سنبھل جاؤ ابھی اللہ تعالیٰ نے ایک اشارہ دیا ہے، جو کسی وقت باقاعدہ عذاب میں تبدیل ہوسکتا ہے تو بعض لوگوں کے دل پسیج جاتے ہیں، دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان پر خوش حالی آتی ہے تو ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ اس وقت حق بات کو قبول کرنے کے لئے نسبۃً زیادہ آمادہ ہوجاتے ہیں، چنانچہ ان لوگوں کو بدحالی کے بعد خوش حالی کی نعمت بھی عطا کی جاتی ہے ؛ تاکہ وہ شکر گزار بن سکیں، حالات کی اس تبدیلی سے بعض لوگ بیشک سبق لے لیتے ہیں اور راہ راست پر آجاتے ہیں، لیکن کچھ ضدی طبیعت کے لوگ ان باتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ دکھ سکھ اور سرد گرم حالات تو ہمارے باپ داداؤں کو بھی پیش آچکے ہیں، انہیں خوامخواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ قرار دینے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس طرح جب ان لوگوں پر ہر طرح کی حجت تمام ہوچکی ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آتا ہے اور اس طرح پکڑلیتا ہے کہ ان کو پہلے سے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
Ayahs 7:97–98

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

اب بتاؤ کہ کیا (دوسری) بستیوں کے لوگ اس بات سے بالکل بےخوف ہوگئے ہیں کہ کسی رات ہمارا عذاب ان پر ایسے وقت آپڑے جب وہ سوئے ہوئے ہوں ؟ (50)

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا ان بستیوں کے لوگوں کو اس بات کا (بھی) کوئی ڈر نہیں ہے کہ ہمارا عذاب ان پر کبھی دن چڑھے آجائے جب وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہوں ؟

50: ان واقعات کے حوالے سے اب کفار مکہ کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے کسی کو بھی بےفکر ہو کر نہیں بیٹھ رہنا چاہیے، اور یہ بات صرف کفار مکہ ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص جو کسی گناہ بدعملی یا ظلم میں مشغول ہو اسے ان آیات کریمہ کا ہمیشہ دھیان رکھنا چاہیے۔
Ayahs 7:99–102

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

بھلا کیا یہ لوگ اللہ کی دی ہوئی ڈھیل (کے انجام) سے بےفکر ہوچکے ہیں ؟ (51) (اگر ایسا ہے) تو (یہ یاد رکھیں کہ) اللہ کی دی ہوئی ڈھیل سے وہی لوگ بےفکر ہو بیٹھتے ہیں جو آخر کار نقصان اٹھانے والے ہوتے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

جو لوگ کسی زمین (کے باشندوں کی ہلاکت) کے بعد اس کے وارث بن جاتے ہیں، بھلا کیا ان کو یہ سبق نہیں ملا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو (بھی) ان کے گناہوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں مبتلا کردیں ؟ اور (جو لوگ اپنی ضد کی وجہ سے یہ سبق نہیں لیتے) ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کوئی بات نہیں سنتے۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہی ہیں وہ بستیاں جن کے واقعات ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، مگر جس بات کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے، اس پر کبھی ایمان لانے کو تیار نہیں ہوئے۔ جو لوگ کفر کو اپنا چکے ہوتے ہیں، ان کے دلوں پر اللہ اسی طرح مہر لگا دیتا ہے۔

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

ہم نے ان کی اکثریت میں عہد کی کوئی پاسداری نہیں پائی، اور واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے نافرمان ہی پایا۔

51: یہاں اصل لفظ“ مکر ”ہے جس کے معنی عربی میں ایسی خفیہ تدبیر کے ہوتے ہیں جسکا مقصد وہ شخص نہ سمجھے جس کے خلاف وہ کاروائی کی جارہی ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے باوجود دنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جسکا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنی بد عملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو ان کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے، لہذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہیے اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اگر ہم راہ راست سے بھٹکے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل بھی ہوسکتی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔
Ayahs 7:103–107

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سب کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا (52) تو انہوں نے (بھی) ان (نشانیوں) کی ظالمانہ ناقدری کی۔ اب دیکھو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تھا کہ : اے فرعون ! یقین جانو کہ میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہوں۔

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میرا فرض ہے کہ میں اللہ کی طرف منسوب کر کے حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک کھلی دلیل لے کر آیا ہوں، لہذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

اس نے کہا کہ : اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو، اگر تم ایک سچے آدمی ہو۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

اس پر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک صاف صاف اژدھا بن گیا۔

52:: یہاں سے آیت نمبر : 162 تک حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے کے کچھ اہم حصے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، اس سورت میں فرعون کے ساتھ آپ کی گفتگو اور مقابلے اور اس کے غرق ہونے کی تفصیل، نیز حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا ہونے کے واقعات آرہے ہیں، آپ حضرت یعقوب ؑ کی چوتھی پشت میں آتے ہیں، سورة یوسف میں قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت یوسف ؑ جب مصر کے وزیر خزانہ بن گئے تو انہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو فلسطین سے مصر بلالیا تھا، اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی ساری اولاد جو بنو اسرائیل کہلاتی ہے پھر وہیں آباد ہوگئی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے ان کو شہری آبادی سے الگ ایک علاقہ دے دیا تھا، مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا، حضرت یوسف ؑ کی وفات کے بعد رفتہ رفتہ مصر کے بادشاہوں نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام سمجھنا شروع کردیا اور دوسری طرف تکبر میں آکر انہی میں کا ایک فرعون (جس کا نام جدید تحقیق کے مطابق منفتاح تھا) خدائی کا دعوے دار بن بیٹھا، ان حالات میں حضرت موسیٰ ؑ کو پیغمبر بناکر اس کے پاس بھیجا گیا، ان کے پیدائش، مدین کی طرف ہجرت، اور پھر نبوت عطا ہونے کے واقعات تو انشاء اللہ سورة طہ (سورة نمبر : 20) اور سورة قصص (سورة نمبر : 28) میں آئیں گے، اس کے علاوہ مزید 35 سورتوں میں آپ کے واقعات کے مختلف حصے بیان فرمائے ہیں ؛ لیکن فرعون کے ساتھ ان کے جو واقعات پیش آئے ان کا تدکرہ یہاں ہورہا ہے۔
Ayahs 7:108–111

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) کھینچا تو وہ سارے دیکھنے والوں کے لیے سامنے یکایک چمکنے لگا۔ (53)

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

فرعون کی قوم کے سردار (ایک دوسرے سے) کہنے لگے کہ : یہ تو یقینی طور پر بڑا ماہر جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری زمین سے نکال باہر کرے۔ اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ : ذرا اس کو اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دو ، اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دو۔

53: یہ دو معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمائے تھے، کہتے ہیں کہ اس زمانے میں جادوگروں کا بڑا چرچہ تھا، اس لئے آپ کو ایسے معجزات عطا فرمائے گئے جو جادوگروں کو بھی عاجز کردیں اور آپ کی نبوت ہر کس وناکس پر واضح ہوجائے۔
Ayahs 7:112–119

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

تاکہ وہ تمام ماہر جادوگروں کو جمع کر کے تمہارے پاس لے آئیں۔ (54)

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

(چنانچہ ایسا ہی ہوا) اور جادوگر فرعون کے پاس آگئے (اور) انہوں نے کہا کہ : اگر ہم (موسیٰ پر) غالب آگئے تو ہمیں کوئی انعام تو ضرور ملے گا۔

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا : ہاں، اور تمہارا شمار یقینا ہمارے مقرب لوگوں میں (بھی) ہوگا۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

انہوں نے (موسیٰ سے کہا : چاہو تو (جو پھینکنا چاہتے ہو) تم پھینکو، ورنہ ہم (اپنے جادو کی چیز) پھینکیں ؟

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : تم پھینکو ! چنانچہ جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینکیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا، ان پر دہشت طاری کردی، اور زبردست جادو کا مظاہرہ کیا۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو۔ بس پھر کیا تھا، اس نے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساری چیزیں نگلنی شروع کردیں جو انہوں نے جھوٹ موٹ بنائی تھیں

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

اس طرح حق کھل کر سامنے آگیا اور ان کا بنا بنایا کام مل یا میٹ ہوگیا۔

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

اس موقع پر وہ مغلوب ہوئے، اور شدید سبکی کی حالت میں (مقابلے سے) پلٹ کر آگئے۔

54: جا دو گروں کو جمع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دیں۔