زیاد بن علاقہ کہتے ہیں کہ ہمیں مغیرہ بن شعبہ ؓ نے نماز پڑھائی، جب دو رکعتیں پڑھ چکے تو (تشہد میں) بغیر بیٹھے کھڑے ہوگئے۔ تو جو لوگ ان کے پیچھے تھے انہوں نے سبحان اللہ کہا، تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ تم بھی کھڑے ہوجاؤ پھر جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیرا، اور کہا: ایسے ہی رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔
Abdullah ibn Abdur Rahman reported from Yazib ibn Harun, who from Mas’udi who from Ziyad ibn Ilaqah that: Mughirah ibn Shu’bah led them in salah. After two raka’at, instead of sitting down, he should up. So the muqtadis called out subhan Allah, and he indicated to them that they too shoud stand up. When the prayer was over, he made the salutaion and made two prostrations of sajdah sahw and made salutation again. He said, “Allah’s Messenger ﷺ had also done it.”
صحيح انظر الذي قبله (364)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 365
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ ؓ کے واسطے سے اور بھی سندوں سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پہلی دونوں رکعتوں میں بیٹھتے تو ایسا لگتا گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں ١ ؎، شعبہ (راوی) کہتے ہیں: پھر سعد نے اپنے دونوں ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دی ٢ ؎ تو میں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہوجاتے؟ تو انہوں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہوجاتے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that when Allah’s Messenger sat down at the end of the first two raka’at was as though he was on hot stones. (meaning hurried through). Shu’bah said, “Sa’d then moved his lips in murmur. So I added: Till he stood up. Sad also confirmed, Till he had stood.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (915)، ضعيف أبي داود (177)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 366
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، مگر ابوعبیدہ کا اپنے باپ سے سماع نہیں ہے، ٢- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ کو لمبا نہ کرے اور تشہد سے زیادہ کچھ نہ پڑھے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نے تشہد سے زیادہ کوئی چیز پڑھی تو اس پر سہو کے دو سجدے لازم ہوجائیں گے، شعبی وغیرہ سے اسی طرح مروی ہے ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بہت جلد اٹھ جاتے۔ ٢ ؎: یعنی چپکے سے کوئی بات کہی جسے میں سن نہیں سکا۔ ٣ ؎: ابن مسعود ؓ کا یہ اثر تو سنداً ضعیف ہے، مگر ابوبکر ؓ سے مروی اثر جو اسی معنی میں ہے صحیح ہے، اور اسی پر امت کا تعامل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٨ (٩٩٥)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٥ (١١٧٧)، ( تحفة الأشراف: ٩٦٠٩)، مسند احمد (١/٣٨٦، ٤١٠، ٤٢٨، ٤٦٠) (ضعیف) (ابو عبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ صہیب ؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، راوی (ابن عمر) کہتے ہیں کہ میرا یہی خیال ہے کہ صہیب نے کہا: آپ نے اپنی انگلی کے اشارے سے جواب دیا ١ ؎۔
Sayyidina Suhayb (RA) reported that Allah’s Messenger was offering salah when he passed by. So, he greeted him with salaam. The Prophet ﷺ gestured his response. The narrator said, “I do not know whether he said that he gestured with his fingers.”
صحيح، صحيح أبي داود (858)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 367
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- صہیب کی حدیث حسن ہے ٢ ؎، ٢- اس باب میں بلال، ابوہریرہ، انس، ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا مشروع ہے، یہی جمہور کی رائے ہے، بعض لوگ اسے ممنوع کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پہلے جائز تھا بعد میں منسوخ ہوگیا، لیکن یہ صحیح نہیں، بلکہ صحیح یہ ہے کہ پہلے نماز میں کلام کرنا جائز تھا تو لوگ سلام کا جواب بھی وعلیکم السلام کہہ کردیتے تھے، پھر جب نماز میں کلام کرنا ناجائز قرار دے دیا گیا تو وعلیکم السلام کہہ کر سلام کا جواب دینا بھی ناجائز ہوگیا اور اس کے بدلے اشارے سے سلام کا جواب دینا مشروع ہوا، اس اشارے کی نوعیت کے سلسلہ میں احادیث مختلف ہیں، بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا اس طرح کہ ہاتھ کی پشت اوپر تھی اور ہتھیلی نیچے تھی، اور بعض احادیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے سر سے اشارہ کیا ان سب سے معلوم ہوا کہ یہ تینوں صورتیں جائز ہیں۔ ٢ ؎: اگلی حدیث نمبر ٣٦٨ کے تحت مولف نے اس حدیث پر حکم لگایا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے بلال ؓ سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کو جب وہ سلام کرتے اور آپ نماز میں ہوتے تو کیسے جواب دیتے تھے؟ تو بلال نے کہا: آپ اپنے ہاتھ کے اشارہ سے جواب دیتے تھے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) asked Sayyidina Bilal (RA) , “How did the Prophet ﷺ (RA) respond to them when they greeted him while he was engaged in salah.” He said, “He gestured with his hand.”
صحيح، ابن ماجة (1017)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 368
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور صہیب کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف لیث ہی کی روایت سے جانتے ہیں انہوں نے بکیر سے روایت کی ہے اور یہ زید ابن اسلم سے بھی مروی ہے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے بلال سے پوچھا: نبی اکرم ﷺ کس طرح جواب دیتے تھے جب لوگ مسجد بنی عمرو بن عوف میں آپ کو سلام کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ اشارے سے جواب دیتے تھے۔ میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اس لیے کہ صہیب ؓ کا قصہ بلال ؓ کے قصے کے علاوہ ہے، اگرچہ ابن عمر ؓ نے ان دونوں سے روایت کی ہے، تو اس بات کا احتمال ہے کہ انہوں نے دونوں سے سنا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٠ (٩٢٥)، ( تحفة الأشراف: ٢٠٣٨)، مسند احمد (٦/١٢) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز میں مردوں کے لیے سبحان اللہ کہہ کر امام کو اس کے سہو پر متنبہ کرنا اور عورتوں کے لیے دستک دینا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah ﷺ reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The tasbih is for men and the tasfiq is for women (if the imam forgets in prayer and they have to call his attention to it).”
صحيح، ابن ماجة (1034 - 1036)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 369
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، سہل بن سعد، جابر، ابوسعید، ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- علی ؓ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگتا اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ سبحان اللہ کہتے، ٤- اہل علم کا اسی پر عمل ہے احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب امام نماز میں بھول جائے تو مرد سبحان اللہ کہہ کر اسے متنبہ کریں اور عورتیں زبان سے کچھ کہنے کے بجائے سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر مار کر اسے متنبہ کریں، کچھ لوگ سبحان اللہ کہنے کے بجائے اللہ اکبر کہہ کر امام کو متنبہ کرتے ہیں یہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Yawning in prayer is from the devil. If one gets the urge to yawn, he must suppress it by shutting his mouth as far as possible (trying to prevent it).”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 370
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری اور عدی بن ثابت کے دادا (عبید بن عازب) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے نماز میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں جمائی کو کھنکھار سے لوٹا دیتا ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اگر روکنا ممکن نہ ہو تو منہ پر ہاتھ رکھے، کہتے ہیں: ہاتھ رکھنا بھی اسے روکنے کی کوشش ہے، جس کا حکم حدیث میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١١ (٣٢٨٩)، والأدب ١٢٥ (٦٢٢٣)، و ١٢٨ (٦٢٢٦)، صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٣٩٦٢)، وکذا (١٣٠١٩)، مسند احمد (٢/٢٦٥، ٣٩٧، ٤٢٨، ٥١٧)، ویأتي عند المؤلف في الأدب برقم: ٢٧٤٦) (صحیح)
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آدمی کی نماز کے بارے میں پوچھا جسے وہ بیٹھ کر پڑھ رہا ہو؟ تو آپ نے فرمایا: جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ بیٹھ کر پڑھنے والے کے بالمقابل افضل ہے، کیونکہ اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا، اور جو لیٹ کر پڑھے اسے بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ملے گا ١ ؎۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) said that he asked Allah’s Messneger ﷺ about the prayer of a man while he is sitting down. He said, “He who prays while standing is more excellent. And he who prays while sitting down, for him is reward half of one who is standing. One who prays lying down, for him is reward a1f of he who is sitting.”
صحيح، ابن ماجة (1231)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 371
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمران بن حصین کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، انس، سائب اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ فرمان نفل نماز کے بارے میں ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٥)، و ١٨ (١١١٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٩ (٩٥١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢١ (١٦٦١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤١ (١٢٣١)، ( تحفة الأشراف: ١٠٨٣١)، مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٥، ٤٤٢، ٤٤٣) (صحیح)
یہ حدیث ابراہیم بن طہمان کے طریق سے بھی اسی سند سے مروی ہے، مگر اس میں یوں ہے: عمران بن حصین کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مریض کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: کھڑے ہو کر پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر پہلو کے بل پڑھو ۔
It is also reported from Ibrahim ibn Tahman from the same isnad, but his words are: Imran ibn Husayn (RA) said that he asked Allah’s Messenger ﷺ about the salah of a sick person and he said, “He should offer it standing up. If he cannot, then sitting down, but if he cannot offer it even siting down then lying down.”
صحيح، ابن ماجة (1231)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 371
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اہل علم کے نزدیک اس حدیث میں جس نماز کا ذکر ہے اس سے مراد نفلی نماز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٩ (١١١٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٩ (٩٥٢)، وانظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٠٨٣١) (صحیح)
ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ جب وفات میں ایک سال رہ گیا تو آپ بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے لگے۔ اور سورت پڑھتے تو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہوجاتی۔
Sayyidah Hafsah (RA) the Prophet’s wife, said, “I had never seen Allah’s Messenger ﷺ offer the optional salah sitting down till one year before his death he began to offer it sitting down and whichever surah he recited in it, he recited with pauses till it became lengthier than it was.”
صحيح، صفة الصلاة // 60 //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 373
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حفصہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہے، ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہوجاتے اور قرأت کرتے پھر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ ہی کر کرتے۔ ٤- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دونوں حدیثیں صحیح اور معمول بہ ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے سے آپ ﷺ کا اجر امتیوں کی طرح آدھا نہیں ہے، یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرأت بھی بیٹھ ہی کر کرتے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہوجاتے اور انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔
Sayyidah Aisha (RA) said that the Prophet ﷺ used to offer salah sitting down. He recited the Qur’an while he was seated, and when there remained in his recital the equal of thirty or forty verses, he stood up and recited. Then he went into ruku and sajdah. Then he observed the same thing in the second raka’ah.
صحيح، ابن ماجة (1226)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 374
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٢٠ (١١١٨، ١١١٩)، والتہجد ١٦ (١١٤٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٩ (٩٥٣، ٩٥٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٤٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٠ (١٢٢٧)، ( تحفة الأشراف: ١٧٧٠٩)، موطا امام مالک/الجماعة ٧ (٢٣)، مسند احمد (٦/١٧٨٤٦، ٢٣١) (صحیح)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ رات تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور دیر تک بیٹھ کر پڑھتے جب آپ کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے کھڑے کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی کرتے۔
Abdullah ibn Shaqiq narrated that he asked Sayyidah Aisha (RA) about the salah of Allah’s Messenger the supererogatory thereof. She said that he used to pray long into the night, standing up. And (he used to pray) long into the night, sitting down. If he recited while he was standing then he went into ruku and sajdah from there. And if he recited while he was seated then he went into ruku and sajdah from there
صحيح، ابن ماجة (1228)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 375
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی! جب نماز میں ہوتا ہوں اور اس وقت بچے کا رونا سنتا ہوں تو اس ڈر سے نماز کو ہلکی کردیتا ہوں کہ اس کی ماں کہیں فتنے میں نہ مبتلا ہوجائے ١ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Mallik reported that Allah’s Messenger L said, “Hardly do I hear a child cry that I shorten my salah so that its mother may not worry.”
صحيح، ابن ماجة (989)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 376
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوقتادہ ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کو ایسی صورت میں یا اسی طرح کی صورتوں میں بروقت نماز ہلکی کر دینی چاہیئے، تاکہ بچوں کی مائیں ان کے رونے اور چلانے سے گھبرا نہ جائیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کی جاتی ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The salah of a young girl without a veil is not approved.”
صحيح، ابن ماجة (655)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 377
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب عورت بالغ ہوجائے اور نماز پڑھے اور اس کے بال کا کچھ حصہ کھلا ہو تو اس کی نماز جائز نہیں، یہی شافعی کا بھی قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عورت اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ کھلا ہو جائز نہیں، نیز شافعی یہ بھی کہتے ہیں کہ کہا گیا ہے: اگر اس کے دونوں پاؤں کی پشت کھلی ہو تو نماز درست ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے سر کے بال ستر میں داخل ہیں، اور ستر کو ڈھکے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ ٢ ؎: اس مسئلہ میں اگرچہ علماء کا اختلاف ہے مگر تحقیقی بات یہی ہے کہ عورت کے قدم ستر میں داخل نہیں ہیں، اس لیے کھلے قدم نماز ہوجائے گی جیسے ہتھیلیوں کے کھلے ہونے کی صورت میں عورت کی نماز جائز ہے، عورتوں کے پاؤں ڈھکنے کی حدیث جو ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، جو موقوفاً و مرفوعاً دونوں حالتوں میں ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٨٥ (٦٤١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣٢ (٦٥٥)، ( تحفة الأشراف: ١٧٨٤٦)، مسند احمد (٦/١٥٠، ٢١٨، ٢٥٩) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ disallowed sadl in salah.
حسن، المشکاة (764)، التعليق علی ابن خزيمة (918)، صحيح أبي داود (650)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 378
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ہم ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو عطا کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی ہے عسل بن سفیان ہی کے طریق سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں ابوجحیفہ ؓ سے بھی روایت ہے۔ ٣- سدل کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں سدل کرنا مکروہ ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح یہود کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نماز میں سدل اس وقت مکروہ ہوگا جب جسم پر ایک ہی کپڑا ہو، رہی یہ بات کہ جب کوئی کرتے کے اوپر سدل کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ٢ ؎ یہی احمد کا قول ہے لیکن ابن مبارک نے نماز میں سدل کو (مطلقاً ) مکروہ قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سدل کی صورت یہ ہے کہ چادر یا رومال وغیرہ کو اپنے سر یا دونوں کندھوں پر ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو لٹکتا چھوڑ دیا جائے اور سدل کی ایک تفسیر یہ بھی کی جاتی ہے کہ کرتا یا جبہ اس طرح پہنا جائے کہ دونوں ہاتھ آستین میں ڈالنے کے بجائے اندر ہی رکھے جائیں اور اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا جائے۔ ٢ ؎: اس تقیید پر کوئی دلیل نہیں ہے، حدیث مطلق ہے اس لیے کہ سدل مطلقاً جائز نہیں، کرتے کے اوپر سے سدل میں اگرچہ ستر کھلنے کا خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے نماز میں خلل تو پڑتا ہی ہے، چاہے سدل کی جو بھی تفسیر کی جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٨٦ (٦٤٣)، (تعلیقا من طریق عسل عن عطائ، ومتصلاً من طریق سلیمان الأحول عن عطائ) ( تحفة الأشراف: ١٤١٩٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٤ (١٤١٩) (حسن) (عسل بن سفیان بصری ضعیف راوی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، لیکن ابو جحیفہ کے شاہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے)
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے سے کنکریاں نہ ہٹائے ١ ؎ کیونکہ اللہ کی رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When one of you stands up for prayer, he must not brush aside the pebbles, for, indeed, the mercy is in front of him.
ضعيف، ابن ماجة (1027)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 379
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوذر کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں معیقیب، علی بن ابی طالب، حذیفہ، جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے نماز میں کنکری ہٹانے کو ناپسند کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ہٹانا ضروری ہو تو ایک بار ہٹا دے، گویا آپ سے ایک بار کی رخصت مروی ہے، ٤- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ نمازی نماز میں نماز کے علاوہ دوسری چیزوں کی طرف متوجہ نہ ہو، اس لیے کہ اللہ کی رحمت اس کی جانب متوجہ ہوتی ہے، اگر وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ کرتا ہے تو اندیشہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس سے روٹھ جائے اور وہ اس سے محروم رہ جائے اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔
معیقیب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں کنکری ہٹانے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اگر ہٹانا ضروری ہی ہو تو ایک بار ہٹا لو ۔
Sayyidina Mu’ayqib said that he asked Allah’s Messenger ﷺ about brushing aside pebbles while in salah. He said, “If you must do it, then (do) just once.”
صحيح، ابن ماجة (1026)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 380
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل فی الصلاة ٨ (١٢٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٢ (٥٤٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٥ (٦٤٦)، سنن النسائی/السہو ٨ (١١٩٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٢ (١٠٢٦)، ( تحفة الأشراف: ١١٤٨٥)، مسند احمد (٣/٤٢٦)، و (٥/٤٢٥، ٤٢٦) سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٧) (صحیح)
ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمارے (گھر کے) ایک لڑکے کو دیکھا جسے افلح کہا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ہے، تو آپ نے فرمایا: افلح! اپنے چہرے کو گرد آلودہ کر ١ ؎۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ عباد بن العوام نے نماز میں پھونک مارنے کو مکروہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی نے پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز باطل نہ ہوگی۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ اسی کو ہم بھی اختیار کرتے ہیں۔
Sayyidina Umm Salamah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ saw, a boy whom we called Aflah, blow (on the ground) when he prostrated. So, he said to him, “O Aflah, let your face get the dust.”
ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 193)، المشکاة (1002)، الضعيفة (5485) // ضعيف الجامع الصغير (6378) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 381
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو بعض دیگر لوگوں نے ابوحمزہ کے واسطہ سے روایت کی ہے۔ اور «غلاما لنا يقال له أفلح» کے بجائے «مولی لنا يقال له رباح» (ہمارے مولیٰ کو جسے رباح کہا جاتا تھا) کہا ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said that the Prophet ﷺ disallowed that a man should pray with his hands placed on his ribs.
صحيح، صفة الصلاة (69)، صحيح أبي داود (873)، الروض النضير (1152)، الإرواء (374)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 383
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- بعض اہل علم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے، اور بعض نے آدمی کے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلنے کو مکروہ کہا ہے، اور اختصار یہ ہے کہ آدمی نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھے، یا اپنے دونوں ہاتھ اپنی کوکھوں پر رکھے۔ اور روایت کی جاتی ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت اس لیے ہے کہ یہ تکبر کی علامت ہے جب کہ نماز اللہ کے حضور عجز و نیاز مندی کے اظہار کا نام ہے۔
ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ وہ حسن بن علی ؓ کے پاس سے گزرے، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی گدی پر جوڑا باندھ رکھا تھا، ابورافع ؓ نے اسے کھول دیا، حسن ؓ نے ان کی طرف غصہ سے دیکھا تو انہوں نے کہا: اپنی نماز پر توجہ دو اور غصہ نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ یہ شیطان کا حصہ ہے ۔
Sa’eed ibn Sa’eed Maqburi reported from his father who on that he came across Sayyidina Hasan ibn Ali (RA) who was praying. He had tied his hair in a knot on his nape. Abu Rafi unknotted it. Sayyidina Hasan (RA) looked at him in anger, but he said, “Continue your salah and do not show anger. I have heard Allah’s Messenger say that this is the devil’s rump.
حسن، صحيح أبي داود (653)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 384
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابورافع ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ اور عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ ان لوگوں نے اس بات کو مکروہ کہا کہ نماز پڑھے اور وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہو ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن یہ مردوں کے لیے ہے، عورتوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، عورتوں کو تو نبی اکرم ﷺ نے غسل جنابت تک میں جوڑا کھولنے سے معاف کردیا ہے، نماز میں عورت کے جوڑا کھولنے سے اس کے بال اوڑھنی سے باہر نکل سکتے ہیں جب کہ عورت کے بال نماز کی حالت میں اوڑھنی سے باہر نکلنے سے نماز باطل ہوجائے گی، نیز ہر نماز کے وقت جوڑا کھول دینے اور نماز کے بعد باندھ لینے میں پریشانی بھی ہے۔
فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، نماز خشوع و خضوع، مسکنت اور گریہ وزاری کا اظہار ہے، اور تم اپنے دونوں ہاتھ اٹھاؤ۔ یعنی تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے رب کے سامنے اٹھاؤ اس حال میں کہ ہتھیلیاں تمہارے منہ کی طرف ہوں اور کہہ: اے رب! اے رب! اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ ایسا ایسا ہے ۔
Sayyidina Fadl ibn Abbas (RA) said that Allah’s Messenger said, “Salah is in twos, the tashahhud after every two rakaat. It is to be humble and pleading, fearful and beseeching and to raise both hands.” The narrator explained that the insides of the hands should be towards the face and raised, and one should plead, “O my Lord, O my Lord!” One who does not do that is like this and like that.”
ضعيف، ابن ماجة (1325) // ضعيف سنن ابن ماجة (277)، ضعيف الجامع الصغير (3512)، ضعيف أبي داود (282 / 1296) نحوه //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 385
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مبارک کے علاوہ اور لوگوں نے اس حدیث میں «من لم يفعل ذلک فهي خداج» جس نے ایسا نہیں کیا اس کی نماز ناقص ہے کہا ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ شعبہ نے یہ حدیث عبدربہ بن سعید سے روایت کی ہے اور ان سے کئی مقامات پر غلطیاں ہوئی ہیں: ایک تو یہ کہ انہوں نے انس بن ابی انس سے روایت کی حالانکہ وہ عمران بن ابی انس ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے «عن عبدالله بن حارث» کہا ہے حالانکہ وہ «عبدالله بن نافع بن العمياء عن ربيعة بن الحارث» ہے، تیسرے یہ کہ شعبہ نے «عن عبدالله بن الحارث عن المطلب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کہا ہے حالانکہ صحیح «عن ربيعة بن الحارث بن عبدالمطلب عن الفضل بن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» ہے۔ محمد بن اسماعیل (بخاری) کہتے ہیں: لیث بن سعد کی حدیث صحیح ہے یعنی شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے (ورنہ اصلاً تو ضعیف ہی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ورواہ النسائی في الکبری فی الصلاة (١١٩) (تحفة الأشراف: ١١٠٤٣) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن نافع ضعیف ہیں)