عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے۔ تو ہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے، ہم میں سے ہر شخص نے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا۔ جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا چناچہ اس وقت آیت کریمہ «فأينما تولوا فثم وجه الله» تم جس طرف رخ کرلو اللہ کا منہ اسی طرف ہے نازل ہوئی۔
Sayyidna Abdullah ibn Aamir ibn Rabi’ah reported from his father that hesaid, “We were travelling with the Prophet ﷺ -‘--i on a dark night and did not know the direction of the qiblah. So everyone prayed in the direction opposite him. In the morning, we mentioned that to the Prophet ﷺ and the verse was revealed 1)I .m, i L.- (so withersoever you turn, there is Allah’s countenance.
حسن، ابن ماجة (1020)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 345
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ ہم اسے صرف اشعث بن سمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اشعث بن سعید ابوالربیع سمان حدیث کے معاملے میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ٢- اکثر اہل علم اسی کی طرف گئے ہیں کہ جب کوئی بدلی میں غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لے پھر نماز پڑھ لینے کے بعد پتہ چلے اس نے غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز درست ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٠ (١٠٢٠)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر البقرة (٢٩٥٧)، ( تحفة الأشراف: ٥٠٣٥) (حسن صحیح) (سند میں اشعث بن سعید السمان متکلم فیہ راوی ہیں، حتی کہ بعض علماء نے بڑی شدید جرح کی ہے، اور انہیں غیر ثقہ اور منکر الحدیث بلکہ متروک الحدیث قرار دیا ہے، لیکن امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ نہ تو متروک ہے اور نہ محدثین کے یہاں حافظ حدیث ہے، ابو احمد الحاکم کہتے ہیں: ليس بالقوي عندهم یعنی محدثین کے یہاں اشعث زیادہ قوی راوی نہیں ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس کی احادیث میں سے بعض غیر محفوظ ہیں، اور ضعف کے باوجود ان کی حدیثیں لکھی جائیں گی (تہذیب الکمال ٥٢٣) خلاصہ یہ کہ ان کی احادیث کو شواہد ومتابعات کے باب میں جانچا اور پرکھا جائے گا اسی کو اعتبار کہتے ہیں، اور ترمذی نے سند پر کلام کر کے اشعث کے بارے لکھا ہے کہ حدیث میں ان کی تضعیف کی گئی ہے، اور اکثر علماء کا فتویٰ بھی اسی حدیث کے مطابق ہے، اس شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں، مذبح میں، قبرستان میں، عام راستوں پر، حمام (غسل خانہ) میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔
Sayyidna lbn Umar narrated that the Prophet ﷺ disallowed offering salah at seven places: the laterine, slaughter house, grave, thoroughfare, bath, shed of camels, and the roof of Bayt Allah.
ضعيف، ابن ماجة (746) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (161) نحوه، الإرواء (287) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 346
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد ٤ (٧٤٦)، ( تحفة الأشراف: ٧٦٦٠) (ضعیف) (سند میں زید بن جبیرہ متروک الحدیث ہے)
A hadith like this is reported by Ali ibn Hujr from Sawayd ibn Abdul Aziz (RA) , from zayd ibn Jabirah, from Dawud ibn Husayn from Nafi who from Ibn Umar (RA)
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ٢- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر ؓ سے سنا ہے، ٣- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین، جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق: «عبد اللہ بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے، انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ١ ؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو ۔
Sayyidina Abu Hurayrah nnarrated that Allah’s Messenger said, Pray in the pens of sheep but not in the sheds of camels.
صحيح، ابن ماجة (768)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 348
Notes · وضاحت
١ ؎: «صلوا في مرابض الغنم» میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور «ولا تصلوا في أعطان الإبل» میں نہی تحریمی ہے، یعنی حرام ہے۔
اس سند سے بھی اسی کے مثل یا اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
A similar Hadith is reported by Abu Kurayb from Yahya ibn Adam, from Abu Bakr (RA) ibn Ayyash, from Abu Husayn, from Abu Salih, from Abu Hurayrah (RA) and he from the Prophet
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ہمارے اصحاب کے نزدیک عمل اسی پر ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٢- ابوحصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے غریب ہے، ٣- اسے اسرائیل نے بطریق: «أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة» موقوفاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٤- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، سبرہ بن معبد جہنی، عبداللہ بن مغفل، ابن عمر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے۔
Muhammad ibn Bashshar reported from Yahya ibn Sa’eed, from Shu’bah, from Abu Tayyab Dab’i, from Anas (RA) that Allah’s Messenger ﷺ prayed in the enclosures of sheep. --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 350
جابر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو (دیکھا کہ) آپ اپنی سواری پر مشرق (پورب) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا۔
Sayyidina Jabir (RA) narrated that the Prophet ﷺ is ﷺ sent me on a mission. When I returned to him, he was praying on his riding beast facing the east. He bowed down lower in (prostration) than in ruku (bowing).
صحيح، صحيح أبي داود (1112) دون السجودصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 351
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے، ٢- اس باب میں انس، ابن عمر، ابوسعید، عامر بن ربیعہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: واضح رہے کہ یہ جواز صرف سنن و نوافل کے لیے ہے، نہ کہ فرائض کے لیے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٧ (١٢٢٧)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٤٠)، سنن النسائی/السہو ٦ (١١٩٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٩ (١٠١٨)، ( تحفة الأشراف: ٢٧٥٠)، مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اونٹ یا اپنی سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، نیز اپنی سواری پر نماز پڑھتے رہتے چاہے وہ جس طرف متوجہ ہوتی ١ ؎۔
Sayyidna Ibn Umar (RA) said that the Propet offered salah facing his camel, or his riding-beast. He also prayed on the back of his riding-beast whichever side it faced.
صحيح، صفة الصلاة // 55 //، صحيح أبي داود (691 - 1109)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 352
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی بعض اہل علم کا قول ہے کہ اونٹ کو سترہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث کے حاشیہ میں امام ترمذی نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، ایسے میں شرط صرف یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت منہ قبلہ کی طرف کر کے اس کے بعد سواری چاہے جدھر جائے، لیکن یہ صرف نفل نمازوں میں تھا، فرض نماز میں سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر ہی پڑھتے تھے۔ ٢ ؎: اور وہ جو گزرا کہ آپ اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھتے تھے اور اس سے منع فرمایا، تو باڑے کے اندر معاملہ دوسرا ہے، اور کہیں راستے میں صرف اونٹ کو بیٹھا کر اس کے سامنے پڑھنے کا معاملہ دوسرا ہے۔
انس ؓ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز کھڑی کردی جائے ١ ؎ تو پہلے کھالو ۔
Sayyidna Anas (RA) narrated that he was aware of the hadith in which the Prophet ﷺ said, “When the food is brought and the salah is established, begin with the meal.
صحيح، ابن ماجة (933)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 353
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابن عمر، سلمہ بن اکوع، اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ انہیں میں سے ابوبکر، عمر اور ابن عمر ؓ بھی ہیں، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کھانا کھائے اگرچہ جماعت چھوٹ جائے۔ ٤- اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ پہلے کھانا کھائے گا جب اسے کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہو، لیکن جس کی طرف صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم گئے ہیں، وہ اتباع کے زیادہ لائق ہے، ان لوگوں کا مقصود یہ ہے کہ آدمی ایسی حالت میں نماز میں نہ کھڑا ہو کہ اس کا دل کسی چیز کے سبب مشغول ہو، اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ہم نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوتے جب تک ہمارا دل کسی اور چیز میں لگا ہوتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے نماز سے مغرب کی نماز مراد لی ہے اور اس میں وارد حکم کو صائم کے لیے خاص مانا ہے، لیکن مناسب یہی ہے کہ اس حکم کی علّت کے پیش نظر اسے عموم پر محمول کیا جائے، خواہ دوپہر کا کھانا ہو یا شام کا۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب شام کا کھانا (تمہارے سامنے) رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھاؤ، ابن عمر ؓ شام کا کھانا کھا رہے تھے اور امام کی قرأت سن رہے تھے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger said, “If food is laid down and the congregation stands up, then first consume the meal.”
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اونگھے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو سو جائے یہاں تک کہ اس سے نیند چلی جائے، اس لیے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھے اور اونگھ رہا ہو تو شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو لیکن اپنے آپ کو گالیاں دے بیٹھے ۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one of you feels sleepy while he is in prayer then let him go and sleep till sleep has departed from him, for, if one of you prays and he is drowsy then he might mean to make istighfar but may revile himself instead.”
صحيح، ابن ماجة (1370)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 355
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوعطیہ عقیلی کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث ؓ ہماری نماز پڑھنے کی جگہ میں آتے اور حدیث بیان کرتے تھے تو ایک دن نماز کا وقت ہوا تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ آگے بڑھئیے (اور نماز پڑھائیے) ۔ انہوں نے کہا: تمہیں میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے یہاں تک کہ میں تمہیں بتاؤں کہ میں کیوں نہیں آگے بڑھتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو کسی قوم کی زیارت کو جائے تو ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان کی امامت ان ہی میں سے کسی آدمی کو کرنی چاہیئے ۔
Budayl ibn Maysarah Uqayli reported Abu Atiyah as saying that Malik ibn Huwayrith used to visit them at their place of salah and narrate ahadith to them. One day, it was time for salah and they requested him to lead them (in prayers). He said, “Let one of you lead that I might disclose why I do not lead you in salah. I had heard Allah’s Messinger say that one who visits a people should not become their imam, but one of their own must lead them (in salah).’
صحيح دون قصة مالک، صحيح أبي داود (609)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 356
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ صاحب خانہ زیارت کرنے والے سے زیادہ امامت کا حقدار ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب اسے اجازت دے دی جائے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسحاق بن راہویہ نے مالک بن حویرث ؓ کی حدیث کے مطابق کہا ہے اور انہوں نے اس مسئلہ میں سختی برتی ہے کہ صاحب خانہ کو کوئی اور نماز نہ پڑھائے اگرچہ صاحب خانہ اسے اجازت دیدے، نیز وہ کہتے ہیں: اسی طرح کا حکم مسجد کے بارے میں بھی ہے کہ وہ جب ان کی زیارت کے لیے آیا ہو انہیں میں سے کسی آدمی کو ان کی نماز پڑھانی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٦٦ (٥٩٦)، سنن النسائی/الإمامة ٩ (٧٨٨)، مسند احمد (٣/٤٣٦)، ( تحفة الأشراف: ١١١٨٦) (صحیح) (مالک بن حویرث کا مذکورہ قصہ صحیح نہیں ہے، صرف متن حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی ٤٨١)
ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھے جب تک کہ گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ لے لے۔ اگر اس نے (جھانک کر) دیکھا تو گویا وہ اندر داخل ہوگیا۔ اور کوئی لوگوں کی امامت اس طرح نہ کرے کہ ان کو چھوڑ کر دعا کو صرف اپنے لیے خاص کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، اور نہ کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو اور حال یہ ہو کہ وہ پاخانہ اور پیشاب کو روکے ہوئے ہو ۔
Sayyidina Thawban (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “It is not lawful for a man to look into another’s house till he is given permission. If he looks in then (it is as though) he has entered the house. And the imam of a people must not make supplication exculsively for himself. If he does that then he has been treacherous with them. And one must not suppress urge to relieve oneself in order to stand in prayer.
ضعيف، لکن الجملة الأخيرة منه صحيحة، ابن ماجة (617)، ضعيف أبي داود (11 و 12) // عندنا برقم (15 / 90 و 16 / 91)، صحيح سنن ابن ماجة برقم (500) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 357
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ثوبان ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- یہ حدیث معاویہ بن صالح سے بھی مروی ہے، معاویہ نے اس کو بطریق: «سفر بن نسير عن يزيد بن شريح عن أبي أمامة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز یہ حدیث یزید بن شریح ہی کے واسطے سے بطریق: «أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ یزید بن شریح کی حدیث بطریق: «أبي حی المؤذن عن ثوبان» سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور مشہور ہے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوامامہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
الطہارة ٤٣ (٩٠)، سنن ابن ماجہ/الإمامة ٣١ (٩٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٢٠٨٩)، مسند احمد (٥/٢٨٠) (ضعیف) (سند میں ” یزید بن شریح “ ضعیف ہیں، مگر اس کے ” ولا يقوم إلى الصلاة و هو حقن “ پیشاب… “ والے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں)
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین لوگوں پر لعنت فرمائی ہے: ایک وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ دوسری وہ عورت جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرا وہ جو «حي علی الفلاح» سنے اور اس کا جواب نہ دے (یعنی جماعت میں حاضر نہ ہو) ۔
Sayyidina Hasan said that he heard Sayyidina Anas ibn Malik (RA) say that Allah’s Messenger ﷺ cursed three people: a man who acts as their imam though they dislike him, a woman who sleeps through the night while her husband is angry at her, and a man who hears “come to success” (words of Azaan) yet does not jion the congregation of salah.
ضعيف الإسناد جداصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 358
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ حقیقت میں یہ حدیث حسن (بصریٰ ) سے بغیر کسی واسطے کے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً مروی ہے، ٢- محمد بن قاسم کے سلسلہ میں احمد بن حنبل نے کلام کیا ہے، انہوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ اور یہ کہ وہ حافظ نہیں ہیں ١ ؎، ٣- اس باب میں ابن عباس، طلحہ، عبداللہ بن عمرو اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم کے یہاں یہ مکروہ ہے کہ آدمی لوگوں کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند کرتے ہوں اور جب امام ظالم (قصوروار) نہ ہو تو گناہ اسی پر ہوگا جو ناپسند کرے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اس سلسلہ میں یہ کہنا ہے کہ جب ایک یا دو یا تین لوگ ناپسند کریں تو اس کے انہیں نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، الا یہ کہ لوگوں کی اکثریت اسے ناپسند کرتی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس عبارت کا ماحصل یہ ہے کہ اس کا موصول ہونا صحیح نہیں ہے اس لیے محمد بن قاسم اسے موصول روایت کرنے میں منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں اس لیے صحیح یہی ہے کہ یہ مرسل ہے، اور مرسل ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٢٨) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن القاسم کی علماء نے تکذیب کی ہے، اس لیے اس کی سند سخت ضعیف ہے، لیکن اس کے پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے اگلی دونوں حدیثیں)
عمرو بن حارث بن مصطلق کہتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ قیامت کے روز سب سے سخت عذاب دو طرح کے لوگوں کو ہوگا: ایک اس عورت کو جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے، دوسرے اس امام کو جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں۔ منصور کہتے ہیں کہ ہم نے امام کے معاملے میں پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے مراد ظالم ائمہ ہیں، لیکن جو امام سنت قائم کرے تو گناہ اس پر ہوگا جو اسے ناپسند کرے۔
Hannad reported from Jarir from Mansur from Hilal ibn Yasaf from Ziyad ibn abu Jad who from Amr ibn Harith ibn Mustaliq that it was said,”The greatest torment is for two people: a woman who disobeys her husband, and an imam who carries on in his office in spite of the displeasure of those who are his muqtadis (followers in prayer).” Jarir said that they asked Mansur about the imam and he said, “This means a wrong-doing imam. If he adheres to sunnah then the muqtadis will be sinners that is, those who are fed up with him).”
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 359
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ( ﷺ ) نے فرمایا: تین لوگوں کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی: ایک بھگوڑے غلام کی جب تک کہ وہ (اپنے مالک کے پاس) لوٹ نہ آئے، دوسرے عورت کی جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرے اس امام کی جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں ۔
Abu Ghalib said that he heard form Sayyidina Abu Umamah (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘There are three people whose salah does not go beyond their ears: the fleeing slave till he returns, the woman who sleeps in the night but her husband is displeased with her, and the imam of a people who dislike him.”
حسن، المشکاة (1122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 360
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے سے گرپڑے، آپ کو خراش آ گئی ١ ؎ تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ہماری طرف پلٹ کر فرمایا: امام ہوتا ہی اس لیے ہے یا امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب وہ رکوع کرے، تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لک الحمد» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ i fell down from a horse once. He was hurt, so he led them in prayer while he was seated. They prayed behind him sitting. (When it was over) he turned to them and said “The imam is or the imam is made that he should be followed. When he calls the takbir, you do that. When he bows down, you should bow down. When he raises (his head), you too rise up. When he calls out, “Allah hears he who praises Him” say, “O our Lord for you is all praise”. And when he goes into prostration, you too go into prostration. And if he prays sitting down, you too pray sitting down.”
صحيح، ابن ماجة (1238)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 361
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، جابر، ابن عمر اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض صحابہ کرام جن میں میں جابر بن عبداللہ، اسید بن حضیر اور ابوہریرہ ؓ وغیرہ ہیں اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ٤- بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی پڑھیں، اگر انہوں نے بیٹھ کر پڑھی تو یہ نماز انہیں کافی نہ ہوگی، یہ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دائیں پہلو کی جلد چھل گئی جس کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل اور دشوار ہوگیا۔ ٢ ؎: اور یہی راجح قول ہے، اس حدیث میں مذکور واقعہ پہلے کا ہے، اس کے بعد مرض الموت میں آپ ﷺ نے بیٹھ کر امامت کی تو ابوبکر اور صحابہ ؓ نے کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھی، اس لیے بیٹھ کر اقتداء کرنے کی بات منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨)، والأذان ٥١ (٦٨٩)، و ٨٢ (٨٣٢)، و ١٢٨ (٨٠٥)، وتقصیر الصلاة ١٧ (١١١٤)، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٦٩ (٦٠١)، سنن النسائی/الإمامة ١٦ (٧٩٥)، و ٤٠ (٨٣٣)، والتطبیق ٢٢ (١٠٦٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٤ (١٢٣٨)، ( تحفة الأشراف: ٥١٢٣)، وکذا (١٥٢٩)، موطا امام مالک/الجماعة ٥ (١٦)، مسند احمد (٣/١١٠، ١٦٢) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی ابوبکر کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) said that in his illness before death.Allahs Messenger ﷺ prayed sitting down by the side of Sayyidina Abu Bakr
صحيح، ابن ماجة (1232)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 362
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ، اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بیماری میں نکلے اور ابوبکر ؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے ابوبکر ؓ کے پہلو میں نماز پڑھی، لوگ ابوبکر ؓ کی اقتداء کر رہے تھے اور ابوبکر ؓ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے۔ اور انہی سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ اور انس بن مالک سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں ابوبکر ؓ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے۔
Abdullah ibn Abu Ziyad narrated this hadith to us having heard it from Shababah ibn Sawwar who from Muhammad ibn Tahah who from Humayd who from Thabit and he from Sayyidina Anas (RA) that during his illness that led to his death, the Prophet ﷺ offered salah by the side Sayyidina Abu Bakr (RA) sitting down wrapped in a garment.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 363
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب نے بھی حمید سے، اور حمید نے ثابت سے اور ثابت نے انس ؓ سے روایت کیا ہے، ٣- نیز اسے اور بھی کئی لوگوں نے حمید سے اور حمید نے انس ؓ سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اس میں ثابت کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن جس نے ثابت کے واسطے کا ذکر کیا ہے، وہ زیادہ صحیح ہے۔
عامر بن شراخیل شعبی کہتے ہیں: ہمیں مغیرہ بن شعبہ ؓ نے نماز پڑھائی، دو رکعت کے بعد (بیٹھنے کے بجائے) وہ کھڑے ہوگئے، تو لوگوں نے انہیں «سبحان الله» کہہ کر یاد دلایا کہ وہ بیٹھ جائیں تو انہوں نے «سبحان الله» کہہ کر انہیں اشارہ کیا کہ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں، پھر جب انہوں نے اپنی بقیہ نماز پڑھ لی تو سلام پھیرا پھر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کئے۔ پھر لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا جیسے انہوں نے (مغیرہ نے) کیا ہے۔
Sha’bi narrated that Sayyidina Mughriah ibn Shu’bah once led them in prayer. After two raka’at, he stood up. So, people glorified Allah before him (saying Subhan Allah) and he before them. When the salah was over, he made the sajdah sahw (prostration of forgetfulness) while he was sitting down. He then said that Allah’s Messenger ﷺ had also done with them the same thing as he did.
صحيح جه (1208)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 364
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث ان سے کئی اور بھی سندوں سے مروی ہے، ٢- بعض اہل علم نے ابن ابی لیلیٰ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ احمد کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ کی حدیث لائق استدلال ہیں، ٣۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ صدوق (سچے) ہیں لیکن میں ان سے روایت نہیں کرتا اس لیے کہ یہ نہیں معلوم کہ ان کی حدیثیں کون سی صحیح ہیں اور کون سی ضعیف ہیں، اور جو بھی ایسا ہو میں اس سے روایت نہیں کرتا، ٤- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ ؓ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ٥- اسے سفیان نے بطریق: «جابر عن المغيرة بن شبيل عن قيس بن أبي حازم عن المغيرة بن شعبة» روایت کیا ہے۔ اور جابر جعفی کو بعض اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ نے ان سے حدیثیں نہیں لی ہیں، ٦- اس باب میں عقبہ بن عامر، سعد اور عبداللہ بن بحینہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٧- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ آدمی جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے تو اپنی نماز جاری رکھے اور (اخیر میں) دو سجدے کرلے، ٨- ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کرے اور بعض کا خیال ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد کرے۔ ٩- جس کا خیال ہے کہ سلام پھیر نے سے پہلے کرے اس کی حدیث زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اسے زہری اور یحییٰ بن سعید انصاری نے عبدالرحمٰن بن اعرج سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ ابن بحینہ ؓ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة (١٠٣٧)، ( تحفة الأشراف: ١١٥٠٤)، مسند احمد (٤/٢٤٧، ٢٥٣، ٢٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٢) (صحیح)