کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو وہ «تشبیک» نہ کرے (یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست نہ کرے) کیونکہ وہ نماز میں ہے ۔
Sayyidina Ka’b ibn Ujrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘When one of you makes ablution, and makes it well, then resolves to go to the mosque, let him not lock the figers of one hand into those of the other because he is in prayer.”
صحيح، ابن ماجة (967)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 386
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- کعب بن عجرہ کی حدیث کو ابن عجلان سے کئی لوگوں نے لیث والی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٢- اور شریک نے بطریق: «محمد بن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور شریک کی روایت غیر محفوظ ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ شریک نے لیث اور دیگر کئی لوگوں کی مخالفت کی ہے، نیز شریک کا حافظہ کمزور ہوگیا تھا اور وہ روایت میں بہت غلطیاں کرتے تھے، اس کے برخلاف لیث بن سعد حد درجہ ثقہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
( تحفة الأشراف: ١١١٢١)، وأخرجہ مسند احمد (٤/٢٤٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٢ (٩٦٧) (ضعیف) (پہلی سند میں ایک راوی مبہم ہے، نیز اس سند میں سخت اضطراب بھی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، اور دوسری سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، جن کی حدیث کے بارے میں ترمذی کہتے ہیں کہ یہ غیر محفوظ ہے، لیکن اس حدیث کی اصل بسند اسماعیل بن امیہ عن سعید المقبری عن ابی ہریرہ مرفوعا صحیح ہے (سنن الدارمی: ١٤١٣) و صححہ ابن خزیمة وقال الحاکم: صحیح علی شرطہما وقال المنذری: وفیما قالہ نظر) تفصیل کے لیے دیکھئے: الار واء رقم: ٣٧٩)
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان ؓ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے، تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو ١ ؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا ۔
Awza’i (RA) said that Walid ibn Hisham al-Mu’ayti reported to him that Ma’dan ibn Talhah al-Ya’muri narrated to him that he met Sayyidina Thawban (RA) (the freedman of Allah’s Messenger ﷺ ) He asked him, “Guide me to a deed that should benefit me in the sight of Allah and he may admit me to Paradise.” He thought over a moment, then turning to him said. “You should make (plenty of) prostrations for. I have heard Allah’s Messenger ﷺ say, “No slave of Allah prostrates before Allah but he raises him a degree and erases from him a sin.”Ma’dan said that he then met Abu Darda (RA) and put the same question to him as he had put to Thawban. He said, “It is upon you to make prostrations, for, I have.heard Allah’s Messenger say, Hardly does a slave of Allah prostrate to Allah that he raises him in a rank and erases from him a sin.”
صحيح، ابن ماجة (1423)
صحيح، ابن ماجة (1423)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 388
معدان کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات ابو الدرداء ؓ سے ہوئی تو میں نے ان سے بھی اسی چیز کا سوال کیا جو میں نے ثوبان ؓ سے کیا تھا تو انہوں نے بھی کہا کہ تم سجدے کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جو بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 389
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- رکوع اور سجدے کثرت سے کرنے کے سلسلے کی ثوبان اور ابوالدرداء ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابوامامہ اور ابوفاطمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز میں دیر تک قیام کرنا کثرت سے رکوع اور سجدہ کرنے سے افضل ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا دیر تک قیام کرنے سے افضل ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں دونوں طرح کی حدیثیں مروی ہیں، لیکن اس میں (کون راجح ہے اس سلسلہ میں) انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی ہے۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دن میں کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا افضل ہے اور رات میں دیر تک قیام کرنا، الا یہ کہ کوئی شخص ایسا ہو جس کا رات کے حصہ میں قرآن پڑھنے کا کوئی حصہ متعین ہو تو اس کے حق میں رات میں بھی رکوع اور سجدے کثرت سے کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کا اتنا حصہ تو پڑھے گا ہی جسے اس نے خاص کر رکھا ہے اور کثرت سے رکوع اور سجدے کا نفع اسے الگ سے حاصل ہوگا، ٤- اسحاق بن راہویہ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے قیام اللیل (تہجد) کا حال بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس میں دیر تک قیام کیا کرتے تھے، رہی دن کی نماز تو اس کے سلسلہ میں یہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ آپ ان میں رات کی نمازوں کی طرح دیر تک قیام کرتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: زیادہ سے زیادہ نفل نمازیں پڑھا کرو، اور ظاہر بات ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھے گا تو ان میں زیادہ سے زیادہ رکوع اور سجدے ہوں گے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو نماز میں مارنے کا حکم دیا ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ commanded that the two black things the snake and the scorpion may be killed during salah.
صحيح، ابن ماجة (1245)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 390
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس اور ابورافع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- اور بعض اہل علم نے نماز میں سانپ اور بچھو کے مارنے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نماز خود ایک شغل ہے (اور یہ چیز اس میں مخل ہوگی) پہلا قول (ہی) راجح ہے۔
عبداللہ ابن بحینہ اسدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز ظہر میں کھڑے ہوگئے جب کہ آپ کو بیٹھنا تھا، چناچہ جب نماز پوری کرچکے تو سلام پھیرنے سے پہلے آپ نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے، آپ نے ہر سجدے میں اللہ اکبر کہا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ سہو کیے۔
Sayyidina Abdullah ibn Buhaynah (RA) al-Asadi, an ally of Banu Abdul Muttalib, reported that the Prophet ﷺ stood up in a salah of zuhr while he ought to have observed julus (the first sitting). When he completed the salah, he made two prostrations, raising the takbir in each while he was yet sitting down and had not yet made the salutation. The people prostrated with him. This was in compensation of the julus that he had forgotten.
(حديث عبد اللہ ابن بحينة) صحيح، (حديث محمد بن إبراهيم) صحيح الإسناد، إن کان ابن إبراهيم - وهو التيمي المدني - لقي أبا هريرة والسائب وهو ابن عمير .، ابن ماجة (1206 و 1207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 391
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن بحینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ اور عبداللہ بن سائب قاری ؓ دونوں سہو کے دونوں سجدے سلام سے پہلے کرتے تھے، ٤- اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ان کی رائے ہے کہ سجدہ سہو ہر صورت میں سلام سے پہلے ہے، اور یہ حدیث دوسری حدیثوں کی ناسخ ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا عمل آخر میں اسی پر رہا ہے، ٥- اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے تو وہ ابن بحینہ ؓ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے، ٦- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن بحینہ ہی عبداللہ بن مالک ہیں، ابن بحینہ کے باپ مالک ہیں اور بحینہ ان کی ماں ہیں، ٧- سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ اسے آدمی سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، ٨- اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے یہی قول اکثر فقہاء مدینہ کا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ وغیرہ کا اور یہی قول شافعی کا بھی ہے، ٩- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہی قول مالک بن انس کا ہے، ١٠- اور احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے تو ابن بحینہ ؓ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر اور عصر میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس جس صورت میں جیسے جیسے رسول اللہ ﷺ کا فعل موجود ہے، اس پر اسی طرح عمل کرے، اور سہو کی جس صورت میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔ ١ ١- اسحاق بن راہویہ بھی احمد کے موافق کہتے ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سہو کی جس صورت میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی فعل موجود نہ ہو تو اس میں اگر نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور اگر کمی ہوئی ہو تو سلام سے پہلے کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٦ (٨٢٩)، و ١٤٧ (٨٣٠)، والسہو ١ (١٢٢٥)، و ٥ (١٢٣٠)، والأیمان والنذور ١٥ (٦٦٧٠)، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٠)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٠ (١٠٣٤)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٦ (١١٧٨)، والسہو ٢٨ (١٢٦٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣١ (١٢٠٦، ١٢٠٧)، ( تحفة الأشراف: ٩١٥٤)، موطا امام مالک/الصلاة ١٧ (٦٥)، مسند احمد (٣٤٥٥، ٣٤٦) سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٠) (صحیح)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پانچ رکعت پڑھی تو آپ سے پوچھا گیا: کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ (یعنی چار کے بجائے پانچ رکعت کردی گئی ہے) تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud reported that the Prophet ﷺ once prayed five raka’at of zuhr. So, he was asked, ‘Has the salah been increased in raka’at or have you forgotten?” So, he prostrated two prostrations after salutation.
صحيح، ابن ماجة (1205 و 1211 و 1212 و 1218)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 392
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣١ (٤٠١)، و ٣٢ (٤٠٤)، والسہو ٢ (١٢٢٦)، والأیمان ١٥ (٦٦٧١)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٩)، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٦ (١٠١٩)، سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤٢)، و ٢٦ (١٢٥٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٩ (١٢٠٣)، و ٣٠ (١٢٠٥)، و ١٣٣ (١٢١١)، و ١٣٦ (١٢١٨)، ( تحفة الأشراف: ٩٤١١)، مسند احمد (١/٣٧٩، ٤٢٩، ٤٣٨، ٤٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٥ (١٥٣٩) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سہو کے دونوں سجدے سلام کے بعد کئے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ made the two prostrations after salutation. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1214)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 394
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ( ابوہریرہ ؓ کی) یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے ایوب اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ابن سیرین سے روایت کیا ہے، ٣- ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٤- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ظہر بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کی نماز درست ہے وہ سہو کے دو سجدے کرلے اگرچہ وہ چوتھی (رکعت) میں نہ بیٹھا ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٥- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے اور چوتھی رکعت میں نہ بیٹھا ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ یہ قول سفیان ثوری اور بعض کو فیوں کا ہے ا ؎۔
Notes · وضاحت
ا ؎: سفیان ثوری، اہل کوفہ اور ابوحنیفہ کا قول محض رائے پر مبنی ہے، جب کہ ائمہ کرام مالک بن انس، شافعی، احمد بن حنبل اور بقول امام نووی سلف وخلف کے تمام جمہور علماء مذکور بالا عبداللہ بن مسعود ؓ والی صحیح حدیث کی بنیاد پر یہی فتویٰ دیتے اور اسی پر عمل کرتے ہیں، کہ اگر کوئی بھول کر اپنی نماز میں ایک رکعت اضافہ کر بیٹھے تو اس کی نماز نہ باطل ہوگی اور نہ ہی فاسد، بلکہ سلام سے پہلے اگر یاد آ جائے تو سلام سے قبل سہو کے دو سجدے کرلے اور اگر سلام کے بعد یاد آئے تو بھی سہو کے دو سجدے کرلے، یہی اس کے لیے کافی ہے، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا اور آپ نے کوئی اور رکعت پڑھ کر اس نماز کو جفت نہیں بنایا تھا۔ ( دیکھئیے: تحفۃ الأحوذی: ١/٣٠٤ طبع ملتا )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہوگیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ led them in prayer and forgot (something therein). So, he made two prostrations. Then recited the tashahhud then made the salutation.
شاذ بذکر التشهد، الإرواء (403)، ضعيف أبي داود (193) // هذا رقم الشيخ ناصر الخاص به وعندنا برقم (227 / 1039) //، المشکاة (1019)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 395
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق: «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے، اور وہ یہی عمران بن حصین ؓ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا (اور اس نے پوچھا: کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں) ٣- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے (اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٢ (١٠٣٩)، سنن النسائی/السہو ٢٣ (١٢٣٧)، ( تحفة الأشراف: ١٠٨٨٥) (شاذ) (حدیث میں تشہد کا تذکرہ شاذ ہے)
عیاض یعنی ابن ہلال کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ سے کہا: ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں (یا وہ کیا کرے؟ ) تو ابو سعید خدری ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ کتنی پڑھی ہے؟ تو وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے ۔ (یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد)
Yahya ibn Abu Kathir reported from lyad ibn Hilal that he said to Sayyidina Abu Sa’eed (RA), “One of us prays, but does not recollect how he has prayed.” So he narrated that Allah’s Messenger said, “When one of you has offered salah but does not recollect how he had observed it, let him prostrate two prostrations while he is seated.”
صحيح، ابن ماجة (1204)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 396
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ا۔ ابوسعید ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عثمان، ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ وغیرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہ حدیث ابوسعید سے دیگر کئی سندوں سے بھی مروی ہے، ٤- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب تم سے کسی کو ایک اور دو میں شک ہوجائے تو اسے ایک ہی مانے اور جب دو اور تین میں شک ہو تو اسے دو مانے اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے ۔ اسی پر ہمارے اصحاب (محدثین) کا عمل ہے ١ ؎ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب کسی کو اپنی نماز میں شبہ ہوجائے اور وہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ تو وہ پھر سے لوٹائے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی راجح مسئلہ ہے۔ ٢ ؎: یہ مرجوح قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٨ (١٠٢٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٩ (١٢٠٤)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٩٦)، مسند احمد (٣/١٢، ٣٧، ٥٠، ٥١، ٥٤) (صحیح) (ہلال بن عیاض یا عیاض بن ہلال مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کے پاس شیطان اس کی نماز میں آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ چناچہ تم میں سے کسی کو اگر اس قسم کا شبہ محسوس ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, the devil comes to one of you in his prayer and makes things obscure for him till he does not remember how much he has prayed. So, if one of you experiences that then let him prostrate two prostrations while he is sitting.’
صحيح، صحيح أبي داود (943 - 345)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 397
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨)، والعمل في الصلاة ١٨ (١٢٢٢)، والسہو ٦ (١٢٣١)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٨٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٩)، والمساجد ١٩ (٥٧٠)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٨ (١٠٣٠)، سنن النسائی/الأذان ٣٠ (٦٧١)، والسہو ٢٥ (١٢٥٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣٥ (١٢١٦)، ( تحفة الأشراف: ١٥٢٣٩)، مسند احمد (٢/٣١٣، ٣٥٨، ٤١١، ٤٦٠، ٥٠٣، ٥٢٢، ٥٣١) (صحیح)
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی شخص نماز بھول جائے اور یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو؟ تو ایسی صورت میں اسے ایک مانے، اور اگر وہ یہ نہ جاسکے کہ اس نے دو پڑھی ہے یا تین تو ایسی صورت میں دو پر بنا کرے، اور اگر وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے تین پڑھی ہے یا چار تو تین پر بنا کرے، اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرلے ۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Awf (RA) narrated that he heard the Prophet ﷺ say, “When one of you forgets in his salah and does not recall whether he has prayed one or two then let him settle for one, but if he does not recall whether he has prayed two or three then let him settle for two, but if he does not know whether he has prayed three or four then let him settle for three. And he should prostrate two prostrations before he makes the salutation.”
صحيح، ابن ماجة (1209)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 398
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٢ (١٢٠٩)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٢٢)، مسند احمد (١/١٩٠، ١٩٣) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (ظہر یا عصر کی) دو رکعت پڑھ کر (مقتدیوں کی طرف) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں (آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں) تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ (یعنی سجدہ سہو کیا)
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ turned in salutation after offering two raka’at. So, DhuI Yadayn (RA) submitted to him, ‘Has the prayer been curtailed or have you forgotten Messenger of Allah? ﷺ ” The Prophet ﷺ asked, “Is Dhul Yadayn correct?” The people said, “Yes!” So, he stood up and offered the remaining two raka’at. Then, he ended with the salutation. Then he called the takbir and went into prostration as he used to make prostrations, or longer than that. Then he called the takbir and got up and then made the second prostration like he was used to do, or lengthier than that.
صحيح، ابن ماجة (1214)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 399
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہوگی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے ١ ؎، ٤- رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھالے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں، کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث کی وجہ سے ہے، ٥- امام احمد ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہوچکی ہے کوئی بات کرلے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کرلے، اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کرلے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے، انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جاسکتے تھے۔ اور ذوالیدین ؓ نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہوچکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہوگیا تھا، کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی ١ ؎، ٦- احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس پر ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں، صرف یہ کمزور دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے سے پہلے کا ہے، کیونکہ ذوالیدین ؓ کا انتقال غزوہ بدر میں ہوگیا تھا، اور ابوہریرہ ؓ نے یہ واقعہ کسی صحابی سے سن کر بیان کیا، حالانکہ بدر میں ذوالشمالین ؓ کی شہادت ہوئی تھی نہ کہ ذوالیدین کی، نیز ابوہریرہ ؓ نے صاف صاف بیان کیا ہے کہ میں اس واقعہ میں تھا ( جیسا کہ مسلم اور احمد کی روایت میں ہے ) پس یہ واقعہ نماز میں بات چیت ممنوع ہونے کے بعد کا ہے۔ ٢ ؎: یہ بات مبنی بر دلیل نہیں ہے اگر بات ایسی ہی تھی تو آپ ﷺ نے اس وقت اس کی وضاحت کیوں نہیں فرما دی، اصولیین کے یہاں یہ مسلمہ اصول ہے کہ شارع (علیہ السلام) ( نبی اکرم ﷺ ) کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ کسی بات کو بتانے کی ضرورت ہو اور آپ نہ بتائیں۔
سعید بن یزید (ابو مسلمہ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھتے تھے۔
Sa’eed ibn Yazid Abu Salamah asked Sayyyidina Anas ibn Malik (RA),“did Allah’s Messenger pray with his sandals on.’ He said “Yes!”
صحيح صفة الصلاة / الأصلصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 400
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن ابی حبیبۃ، عبداللہ بن عمرو، عمرو بن حریث، شداد بن اوسثقفی، ابوہریرہ ؓ اور عطاء سے بھی جو بنی شیبہ کے ایک فرد تھے احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہودیوں کی مخالفت کرو وہ جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے، علماء کہتے ہیں کہ اگر جوتوں میں نجاست نہ لگی ہو تو ان میں نماز یہودیوں کی مخالفت کے پیش نظر مستحب ہوگی ورنہ اسے رخصت پر محمول کیا جائے گا، مساجد کی تحسین و طہارت کے پیش نظر جہاں دریاں، قالین وغیرہ بچھے ہوں وہاں جوتے اتار کر نماز پڑھنی چاہیئے۔
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Bara ibn Aazib reported that the Prophet ﷺ used to recite the qunnt in the salah of fajr and maghrib.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 401
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، اور خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- فجر میں قنوت پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے فجر میں قنوت پڑھنے کی ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے، ٤- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ فجر میں قنوت نہ پڑھے، الا یہ کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں امام کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے دعا کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے شوافع نے فجر میں قنوت پڑھنا ثابت کیا ہے اور برابر پڑھتے ہیں، لیکن اس میں تو مغرب کا تذکرہ بھی ہے، اس میں کیوں نہیں پڑھتے؟ دراصل یہاں قنوت سے مراد قنوت نازلہ ہے جو بوقت مصیبت پڑھی جاتی ہے ( اس سے مراد وتر والی قنوت نہیں ہے ) رسول اکرم ﷺ بوقت مصیبت خاص طور پر فجر میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے، بلکہ بقیہ نمازوں میں بھی پڑھتے تھے، اور جب ضرورت ختم ہوجاتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے۔
ابو مالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ (طارق بن اشیم ؓ ) سے عرض کیا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور علی ؓ کے پیچھے بھی یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ برس تک پڑھی ہے، کیا یہ لوگ (برابر) قنوت (قنوت نازلہ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ بدعت ہے ١ ؎۔
Ahmad ibn Muni reported from Yazid ibn Harun who reported from Abu Malik Ashja’i who said that he asked his father, “O my father! you have indeed prayed behind Allah’s Messenger ﷺ and behind Abu Bakr (RA) Umar Uthman and Ali ibn Abu Taljb (RA) here in Kufah (with last-named) about five years. Did they recite the qunut?” He said, “O son! This is an innovation.”
صحيح، ابن ماجة (1241)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 402
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اس میں برابر پڑھنا مراد ہے نہ کہ مطلق پڑھنا بدعت مقصود ہے، کیونکہ بوقت ضرورت قنوت نازلہ پڑھنا ثابت ہے جیسا کہ گزرا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٣٢ (١٠٨١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤ (١٢٤١)، ( تحفة الأشراف: ٤٩٧٦)، مسند احمد (٣/٤٧٢) (صحیح)
رفاعہ بن رافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، مجھے چھینک آئی تو میں نے «الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضی» کہا جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ نماز میں کون بول رہا تھا؟ اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ نماز میں کون بول رہا تھا؟ رفاعہ بن رافع ؓ نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! آپ نے پوچھا: تم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا: یوں کہا تھا «الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه مبارکا عليه كما يحب ربنا ويرضی» تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے ۔
Sayyidina Rifaah ibn Rafi i narrated that while he was praying behind Allah’s Messenger ﷺ one day, he sneezed, So, he said: (All praise belongs to Allah, plenty of praise, pure, with blessing in it and over it, as our Lord loves it and it pleases him).
حسن، صحيح أبي داود (747)، المشکاة (992)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 404
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- رفاعہ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں انس، وائل بن حجر اور عامر بن ربیعہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کے نزدیک یہ واقعہ نفل کا ہے ١ ؎ اس لیے کہ تابعین میں سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی فرض نماز میں چھینکے تو الحمدللہ اپنے جی میں کہے اس سے زیادہ کی ان لوگوں نے اجازت نہیں دی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں: «وأفاد بشر بن عمر الزهراي في روايته عن رفاعة بن يحيى أن تلک الصلاة کانت المغرب» (یہ مغرب تھی ) یہ روایت ان لوگوں کی تردید کرتی ہے جنہوں نے اسے نفل پر محمول کیا ہے۔ مگر دوسری روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابی نے یہ الفاظ رکوع سے اٹھتے وقت کہے تھے اور اسی دوران انہیں چھینک بھی آئی تھی، تمام روایات صحیحہ اور اس ضمن میں علماء کے اقوال کی جمع و تطبیق یہ ہے کہ اگر نماز میں چھینک آئے تو اونچی آواز سے الحمد للہ کہنے کی بجائے جی میں کہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٢١ (٧٧٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٦ (٩٣٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٦٠٦)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الأذان ١٢٦ (٧٩٩)، و سنن ابی داود/ الصلاة ١٢١ (٧٧٠)، وسنن النسائی/التطبیق ٢٢ (١٠٦٣)، وما/القرآن ٧ (٢٥)، و مسند احمد (٤/٣٤٠) (صحیح) (سند حسن ہے، لیکن شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے)
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز میں بات چیت کرلیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کرلیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «وقوموا لله قانتين» اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔
Sayyidina Zayd ibn Arqam narrated that they used to converse during salah behind Allah’s Messenger ﷺ One of them would speak to his neighbour till the verse was revealed “and Stand before Allah devoutly”(2:238) .So they were commanded to observe silence and were forbidden to converse.
صحيح، صحيح أبي داود (875)، الإرواء (393)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 405
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- زید بن ارقم ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کرلے تو نماز دہرائے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہوجائے تو نماز کافی ہوگی، ٤- شافعی اسی کے قائل ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے، بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ بشرطیکہ تھوڑی ہو ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل فی الصلاة ٢ (١٢٠٠)، وتفسیر البقرة ٤٢ (٤٥٣٤)، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٨ (٩٤٩)، سنن النسائی/السہو ٢٠ (١٢٢٠)، ( تحفة الأشراف: ٣٦٦١)، مسند احمد (٤/٣٦٨)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر البقرة برقم: ٢٩٨٦) (صحیح)
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو کہتے سنا: میں جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ اس سے مجھے نفع پہنچاتا، جتنا وہ پہنچانا چاہتا۔ اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی مجھ سے بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا۔ (کیا واقعی تم نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہے؟ ) جب وہ میرے سامنے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، مجھ سے ابوبکر ؓ نے بیان کیا اور ابوبکر ؓ نے سچ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص گناہ کرتا ہے، پھر جا کر وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کردیتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا اللہ ولم يصروا علی ما فعلوا وهم يعلمون» اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کر کے فوراً استغفار کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے ۔
Asma ibn Hakam Fazari reported that he heard Sayyidina Ali (RA) say, “When I heard something from Allah’s Messeneger ﷺ Allah gave me benefit from it as much as He willed. And when one of the sahabah narrated something to me, I made him say that on oath. So, when he took the oath for me, I would confirm him. And, indeed, Abu Bakr (RA) narrated to me, and he spoke the truth, that he heard Allah’s Messenger say: There is not a man who sins then stands up, purifies himself and offers salah, and then seeks Allah’s forgiveness but Allah forgives him. Then he recited the verse “And those who when they commit an indecency or do injustice to their souls remember Allah and ask forgiveness for their faults-- and who forgives the faults but Allah” to the end of it.” --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (1395)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 406
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں، ٣- اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥٢١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٣ (١٣٩٥)، ( تحفة الأشراف: ٦٦١٠)، مسند احمد (١/٢ ویأتي عند المؤلف في تفسیر آل عمران برقم: ٣٠٠٦) (حسن)
سبرہ بن معبد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو ۔
Sabrah Juhanrii narrated that Allah’s Messener ﷺ said, “Teach the child salah (prayer) when he is seven years old and beat him for it when he is ten years old.”
حسن صحيح، المشکاة (572 - 573)، صحيح أبي داود (247)، الإرواء (247)، التعليق علی ابن خزيمة (1002)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 407
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سبرہ بن معبد جہنی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جو لڑکا دس برس کے ہوجانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی کو سلام پھیرنے سے پہلے «حدث» لاحق ہوجائے اور وہ اپنی نماز کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکا ہو تو اس کی نماز درست ہے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a man breaks wind when he is sItting towards the conclusion of his salah, before he has made salutation, then his salah is (validly) completed.”
ضعيف، ضعيف أبي داود (26 و 181) // عندنا برقم (35 / 205 و 214 / 1005) نحوه //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 408
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں، اس کی سند میں اضطراب ہے، ٢- عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم، جو افریقی ہیں کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں، ٣- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے «حدث» لاحق ہوجائے تو پھر اس کی نماز پوری ہوگئی، ٤- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب «حدث» تشہد پڑھنے سے یا سلام پھیرنے سے پہلے لاحق ہوجائے تو نماز دہرائے۔ شافعی کا یہی قول ہے، ٥- اور احمد کہتے ہیں: جب وہ تشہد نہ پڑھے اور سلام پھیر دے تو اس کی نماز اسے کافی ہوجائے گی، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: «وتحليلها التسليم» یعنی نماز میں جو چیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں، بغیر سلام کے نماز سے نہیں نکلا جاسکتا اور تشہد اتنا اہم نہیں جتنا سلام ہے کہ اس کے ترک سے نماز درست نہ ہوگی، ایک بار نبی اکرم ﷺ دو رکعت کے بعد کھڑے ہوگئے اپنی نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں کیا، ٦- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: جب تشہد کرلے اور سلام نہ پھیرا ہو تو نماز ہوگئی، انہوں نے ابن مسعود ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرم ﷺ نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا: جب تم اس سے فارغ ہوگئے تو تم نے اپنا فریضہ پورا کرلیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے کہ آدمی جب تشہد کے بعد بیٹھ چکا ہو اور اسے نماز کے آخر میں «حدث» ہوگیا یعنی اس کا وضو ٹوٹ گیا تو اس کی نماز ہوجائے گی، لیکن یہ روایت ضعیف ہے استدلال کے قابل نہیں اور اگر صحیح ہو تو اسے سلام کی فرضیت سے پہلے پر محمول کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٧٤ (٦١٧)، ( تحفة الأشراف: ٨٦١٠، و ٨٨٧٥) (ضعیف) (سند میں ” عبدالرحمن بن انعم افریقی ضعیف ہیں، نیز یہ حدیث علی ؓ کی صحیح حدیث ” تحريمها التکبير وتحليلها التسليم “ کے خلاف ہے)