Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 54 of 199

1124Sunan At-Tirmidhi

نکاح شغار کی ممانعت کے متعلق

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ نِكَاحَ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ، وَلَا صَدَاقَ بَيْنَهُمَا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: نِكَاحُ الشِّغَارِ مَفْسُوخٌ، وَلَا يَحِلُّ وَإِنْ جُعِلَ لَهُمَا صَدَاقًا، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ قَالَ: يُقَرَّانِ عَلَى نِكَاحِهِمَا وَيُجْعَلُ لَهُمَا صَدَاقُ الْمِثْلِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْكُوفَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade shighar. [Ahmed 4526, Bukhari 5112, Muslim 1425, Abu Dawud 2074, Nisai 3334, Ibn e Majah 1883] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1883)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1124
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ نکاح شغار کو درست نہیں سمجھتے، ٣- شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کر دے گا اور ان کے درمیان کوئی مہر مقرر نہ ہو، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح شغار فسخ کردیا جائے گا اور وہ حلال نہیں، اگرچہ بعد میں ان کے درمیان مہر مقرر کرلیا جائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٥- لیکن عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وہ اپنے نکاح پر قائم رہیں گے البتہ ان کے درمیان مہر مثل مقرر کردیا جائے گا، اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٨ (٥١١٢)، صحیح مسلم/النکاح ٧ (١٤١٥)، سنن ابی داود/ النکاح ١٥ (٢٠٧٤)، سنن النسائی/النکاح ٦١ (٣٣٣٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٦ (١٨٨٣)، ( تحفة الأشراف: ٨٣٢٣) موطا امام مالک/النکاح ١١ (٢٤)، مسند احمد (٢/، ٦٢)، سنن الدارمی/النکاح ٩ (٢٢٢٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحیل ٤ (٦٩٦٠)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) سنن النسائی/النکاح ٦٠ (٣٣٣٦)، مسند احمد (٢/١٩) من ہذا الوجہ۔
1125Sunan At-Tirmidhi

پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہ ہوں

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا . وَأَبُو حَرِيزٍ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے شادی کی جائے اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ (پہلے سے) نکاح میں ہو۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade marriage of a woman to the husband of her (paternal or maternal) aunt. [Ahmed 353]

صحيح، الإرواء (2882)، ضعيف أبي داود (352)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1125
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوحریز کا نام عبداللہ بن حسین ہے -
Takhrij · تخریج
حدیث ابن عباس: سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٧) (تحفة الأشراف: ٦٠٧٠)، مسند احمد (١/٢١٧، ٣٧٢) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو حریز “ حافظہ کے کمزور ہیں)
1126Sunan At-Tirmidhi

پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہ ہوں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا، أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، وَلَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا، أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا، فَإِنْ نَكَحَ امْرَأَةً عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا أَوِ الْعَمَّةَ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا فَنِكَاحُ الْأُخْرَى مِنْهُمَا مَفْسُوخٌ، وَبِهِ يَقُولُ: عَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: أَدْرَكَ الشَّعْبِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَرَوَى عَنْهُ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا، فَقَالَ: صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى الشَّعْبِيُّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی (پہلے سے) نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کیا جائے جبکہ اس کی بھتیجی (پہلے سے) نکاح میں ہو یا بھانجی سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی خالہ (پہلے سے) نکاح میں ہو یا خالہ سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی بھانجی پہلے سے نکاح میں ہو۔ اور نہ نکاح کیا جائے کسی چھوٹی سے جب کہ اس کی بڑی نکاح میں ہو اور نہ بڑی سے نکاح کیا جائے جب کہ چھوٹی نکاح میں ہو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger forbade that a woman should be married to the same man who had married her paternal aunt, or a paternal aunt to a man who had married her brother’s daughter; or a woman to the same man who had married her maternal aunt, or a maternal aunt to a man who had married her sister’s daughter. Neither must a younger sister be married to the man who is married to her elder sister nor an elder sister to one who is married to her younger sister [Bukhari 5108, Abu Dawud 2065, Nisai 32931 --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (6 / 289 - 290)، صحيح أبي داود (1802)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1126
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں ان کے درمیان اس بات میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں رکھے۔ اگر اس نے کسی عورت سے نکاح کرلیا جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ بھی اس کے نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کرلیا جب کہ اس کی بھتیجی نکاح میں ہو تو ان میں سے جو نکاح بعد میں ہوا ہے، وہ فسخ ہوگا، یہی تمام اہل علم کا قول ہے، ٣- شعبی نے ابوہریرہ کو پایا ہے اور ان سے (براہ راست) روایت بھی کی ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ہے، ٤- شعبی نے ابوہریرہ سے ایک شخص کے واسطے سے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خالہ پھوپھی نکاح میں ہو تو اس کی بھانجی یا بھتیجی سے اور بھانجی یا بھتیجی نکاح میں ہو تو اس کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح نہ کیا جائے، ہاں اگر ایک مرجائے یا اس کو طلاق دیدے تو دوسری سے شادی کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٧ تعلیقا عقب حدیث جابر (٥١٠٨)، صحیح مسلم/النکاح ٤ (٤٠٨/٣٩)، سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٥)، سنن النسائی/النکاح ٤٧ (٣٢٨٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٩، ٥١١٠)، صحیح مسلم/النکاح ٤ (١٤٠٨)، سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٦)، سنن النسائی/النکاح ٤٧ (٣٢٩٠-٣٢٩٦)، و ٤٨ (٣٢٩٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣١ (١٩٢٩)، موطا امام مالک/النکاح ٨ (٢٠)، مسند احمد (٢/٤٢٦) من غیر ہذا الوجہ۔
1127Sunan At-Tirmidhi

عقد نکاح کے وقت شرائط

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوفَى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ .

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کیے جانے کی مستحق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہیں حلال کی ہوں ۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘The most rightful conditions to which are faithful are those by which you make sexual intercourse lawful”. [Ahmed 17304, Bukhari 2721, Muslim 1418, Abu Dawud 3139, Nisai 3274]

1128Sunan At-Tirmidhi

اسلام لاتے وقت دس بیویاں ہوں تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ، وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَخَيَّرَ أَرْبَعًا مِنْهُنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ أَسْلَمَ، وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَإِنَّمَا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ طَلَّقَ نِسَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ أَوْ لَأَرْجُمَنَّ قَبْرَكَ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، مِنْهُمْ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ١ ؎ ثقفی نے اسلام قبول کیا، جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کرلیں ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Ghaylan ibn Salamah Thaqafi embraced Islam. He had ten wives (whom he had married) in pre-Islamic days and they too embraced Islam with him. So, the Prophet ﷺ commanded him to choose four of them. [Ahmed 4609, Ibn e Majah 1953]

صحيح، ابن ماجة (1953)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1128
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اسی طرح اسے معمر نے بسند «الزهري عن سالم بن عبدالله عن ابن عمر» روایت کیا ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے بسند «الزهري عن محمد بن سويد الثقفي» روایت کی ہے کہ غیلان بن سلمہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے پاس دس بیویاں تھیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو عمر نے اس سے کہا: تم اپنی بیویوں سے رجوع کرلو ورنہ میں تمہاری قبر کو پتھر ماروں گا جیسے ابورغال ٣ ؎ کی قبر کو پتھر مارے گئے تھے۔ ٤- ہمارے اصحاب جن میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی شامل ہیں کے نزدیک غیلان بن سلمہ کی حدیث پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غیلان بن سلمہ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا جائز نہیں، لیکن اس حکم سے نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی اور اس میں بہت سی دینی، سیاسی، مصلحتیں کار فرما تھیں آپ کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں۔ ٣ ؎: ابورغال کے بارے میں دو مختلف روایتیں ہیں، پہلی روایت یہ ہے کہ یہ طائف کے قبیلہ ثقیف کا یک شخص تھا جس نے ابرہہ کی مکہ کی جانب رہبری کی تھی وہ مغمس کے مقام پر مرا اور وہیں دفن کیا گیا اور اس کی قبر پر پتھراؤ کرنا عام رسم بن گئی، دوسری روایت ہے کہ ابورغال قوم ثمود کا وہ واحد شخص تھا جو ہلاکت سے بچ گیا تھا، ثمود کی تباہی کے وقت وہ مکیّ میں مقیم تھا اور اس جگہ کی حرمت کے باعث محفوظ رہا تاہم مکیّ سے نکلنے کے فوراً بعد مرگیا، رسول اللہ ﷺ جب اپنی فوج کے ساتھ الحجر کے مقام سے گزر رہے تھے تو آپ نے یہ بات بیان فرمائی تھی، الأغانی کی ایک حکایت میں ابورغال کو طائف کا بادشاہ اور بنو ثقیف کا جدا مجد بھی بیان کیا گیا ہے، اس کے معاملے میں حافظ ابن قتیبہ اور مسعودی ایسے مصنف ایک اور روایت نقل کرتے ہیں کہ بنو ثقیف ہی نے ابورغال کو جو ایک ظالم اور بےانصاف شخص تھا قتل کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٠ (١٩٥٣)، ( تحفة الأشراف: ٦٩٤٩) (صحیح)
1129Sunan At-Tirmidhi

نومسلم کے نکاح میں دو بہنیں ہوں تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ: قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ .

فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو منتخب کرلو ۔

Abu Wahb Jayshani reported that he heard lbn Firoz Daylami narrate on the authority of his father that he met the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah, I have embraced Islam and have two sisters as wives”. So, he said, “Choose whichever one you like”. [Ahmed 18062, Abu Dawud 2243, Ibn e Majah 1950] --------------------------------------------------------------------------------

حسن، ابن ماجة (1951)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1129
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٢٥ (٢٢٤٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٩ (١٩٥١)، ( تحفة الأشراف: ١١٠٦١) (حسن)
1130Sunan At-Tirmidhi

وہ شخص جو حاملہ لونڈی خریدے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، قَالَ: اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو وَهْبٍ الْجَيْشَانِيُّ اسْمُهُ: الدَّيْلَمُ بْنُ هَوْشَعَ.

فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جسے چاہو، منتخب کرلو ۔ (اور دوسرے کو طلاق دے دو )

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن)
1131Sunan At-Tirmidhi

وہ شخص جو حاملہ لونڈی خریدے

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْقِ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا يَرَوْنَ لِلرَّجُلِ إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً وَهِيَ حَامِلٌ أَنْ يَطَأَهَا حَتَّى تَضَعَ، وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ.

رویفع بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی (منی) کسی غیر کے بچے کو نہ پلائے ١ ؎۔

Sayyidina Ruwayfi ibn Thabit narrated that the Prophet ﷺ said, “He who believes in Allah and the Last Day must not water the child of another.” (It means he must not have sexual intercourse with a woman who is pregnant from another man, after buying her, etc.) [Abu Dawud 2158] --------------------------------------------------------------------------------

حسن، الإرواء (2137)، صحيح أبي داود (1874)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1131
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یہ اور بھی کئی طرق سے رویفع بن ثابت ؓ سے روایت کی گئی ہے، ٣- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ یہ لوگ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں سمجھتے کہ وہ جب کوئی حاملہ لونڈی خریدے تو وہ اس سے صحبت کرے جب تک کہ اسے وضع حمل نہ ہوجائے، ٤- اس باب میں ابو الدرداء، ابن عباس، عرباض بن ساریہ اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو لونڈی کسی اور سے حاملہ ہو پھر وہ اسے خریدے تو اس سے صحبت نہ کرے جب تک کہ اسے وضع حمل نہ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٤٥ (٢١٥٨)، ( تحفة الأشراف: ٣٦١٥)، مسند احمد (٤/١٠٨)، سنن الدارمی/السیر ٣٧ (٢٥٢٠) (حسن)
1132Sunan At-Tirmidhi

اگر شادی شدہ لونڈی قیدی بن کر آئے تو اس سے جماع کیا جائے یا نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي قَوْمِهِنَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبُو الْخَلِيلِ اسْمُهُ: صَالِحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ،

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے جنگ اوطاس کے دن کچھ عورتیں قید کیں۔ اور ان کی قوم میں ان عورتوں کے شوہر موجود تھے، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو یہ آیت نازل ہوئی «والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم» تم پر شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں الا یہ کہ وہ تمہاری ملکیت میں آ گئی ہوں (النساء: ٢٤) ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated : On the day of Awtas (the Battle) we got some women captives who had their husbands among their people. We mentioned that to Allah’s Messenger ﷺ . So, these words were revealed: And (also forbidden) are all married women, except those whom your right hands possess(4:24) [Ahmed 11691, Muslim 1456, Abu Dawud 2155, Nisai 3330] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1871)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1132
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اسی طرح سے اسے ثوری نے بطریق: «عثمان البتي عن أبي الخليل عن أبي سعيد» روایت کیا ہے -
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٩ (١٤٥٦)، والمؤلف في تفسیر النساء (٣٠١٧)، وانظر الحدیث الآتي ( تحفة الأشراف: ٤٠٧٧) (صحیح)
1133Sunan At-Tirmidhi

زنا کی اجرت حرام ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت ١ ؎، زانیہ کی کمائی ٢ ؎ اور کاہن کی مٹھائی ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔

Sayyidina Abu Masud Ansari (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade (taking) the price of dogs, remuneration of an adultress and sweets of the soothsayers. [Ahmed 17069, Bukhari 2237, Muslim 1567, Abu Dawud 3428, Nisai 3680, Tirmidhi 1276]

صحيح، ابن ماجة (2590)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابومسعود انصاری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں رافع بن خدیج، ابوجحیفہ، ابوہریرہ، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کتا نجس ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔ ٢ ؎: چونکہ زنا کبیرہ گناہ اور فحش امور میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ٣ ؎: علم غیب اللہ رب العالمین کے لیے خاص ہے، اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے، اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، والاجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، والطلاق ٥١ (٥٣٤٦)، والطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (البیوع ٣٠)، (١٥٦٧)، سنن ابی داود/ البیوع ٤١ (٣٤٢٨)، و ٦٥ (٣٤٨١)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٧)، البیوع ٩١ (٤٦٧٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٥٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠١٠ و موطا امام مالک/البیوع ٢٩ (٦٨)، مسند احمد (١/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، ١٤١) ویأتي عند المؤلف في البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، والطب ٢٤ (٢٠٧١) (صحیح)
1134Sunan At-Tirmidhi

کسی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجا جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَحْمَدُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: إِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ: إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَرَضِيَتْ بِهِ فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ: هَذَا عِنْدَنَا إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَرَضِيَتْ بِهِ وَرَكَنَتْ إِلَيْهِ، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ، فَأَمَّا قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ رِضَاهَا أَوْ رُكُونَهَا إِلَيْهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَخْطُبَهَا، وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، حَيْثُ جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ، أَنَّ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ، وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطَبَاهَا، فَقَالَ: أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ لَا يَرْفَعُ عَصَاهُ عَنِ النِّسَاءِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَلَكِنْ انْكِحِي أُسَامَةَ فَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ فَاطِمَةَ لَمْ تُخْبِرْهُ بِرِضَاهَا بِوَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَلَوْ أَخْبَرَتْهُ لَمْ يُشِرْ عَلَيْهَا بِغَيْرِ الَّذِي ذَكَرَتْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘Let no man offer a price against his brother and let him not propose marriage to whom his brother has already done”. [Bukhari 2140, Muslim 1413, Abu Dawud 3438, Abu Dawud 3, Nisai 3236, Ibn e Majah 1867, T 1226]

صحيح، ابن ماجة (2172)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1134
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- مالک بن انس کہتے ہیں: آدمی کے اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے کسی عورت کو پیغام دیا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہوگئی ہو، تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، ٤- شافعی کہتے ہیں کہ اس حدیث کہ آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب آدمی نے کسی عورت کو پیغام بھیجا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہوگئی ہو اور اس کی طرف مائل ہوگئی ہو تو ایسی صورت میں کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، لیکن اس کی رضا مندی اور اس کا میلان معلوم ہونے سے پہلے اگر وہ اسے پیغام دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی دلیل فاطمہ بنت قیس ؓ کی یہ حدیث ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ذکر کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں نکاح کا پیغام دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ابوجہم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا ڈنڈا عورتوں سے نہیں اٹھاتے (یعنی عورتوں کو بہت مارتے ہیں ) رہے معاویہ تو وہ غریب آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کا مفہوم (اور اللہ بہتر جانتا ہے) یہ ہے کہ فاطمہ نے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس کا اظہار کر دیتیں تو اسے چھوڑ کر آپ انہیں اسامہ ؓ سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣)، سنن ابی داود/ النکاح ١٨ (٢٠٨٠)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٠ (١٨٦٧)، والتجارات ١٣ (٢١٧٢)، ( تحفة الأشراف: ١٣١٢٣)، مسند احمد (٢/٢٣٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشروط ٨ (٢٧٢٣)، والنکاح ٤٥ (٥١٤٤)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٤٩٦)، و ٢١ (٤٥١٠)، مسند احمد (٢/٢٧٤، ٣١١، ٣١٨، ٣٩٤، ٤١١، ٤٢٧، ٤٥٧، ٤٨٧، ٤٨٩، ٥٠٨، ٥١٦، ٥٢٩)، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢١)، (وانظر إیضا الارقام: ١١٩٠ و ١٢٢٢ و ١٣٠٤) من غیر ہذا الوجہ۔
1135Sunan At-Tirmidhi

کسی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجا جائے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، قَالَتْ: وَوَضَعَ لِي عَشَرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ خَمْسَةً شَعِيرًا وَخَمْسَةً بُرًّا، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَتْ: فَقَالَ: صَدَقَ، قَالَتْ: فَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَيْتَ أُمِّ شَرِيكٍ بَيْتٌ يَغْشَاهُ الْمُهَاجِرُونَ، وَلَكِنْ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَعَسَى أَنْ تُلْقِي ثِيَابَكِ وَلَا يَرَاكِ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَجَاءَ أَحَدٌ يَخْطُبُكِ فَآذِنِينِي، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي أَبُو جَهْمٍ، وَمُعَاوِيَةُ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ، قَالَتْ: فَخَطَبَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَتَزَوَّجَنِي، فَبَارَكَ اللَّهُ لِي فِي أُسَامَةَ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْكِحِي أُسَامَةَ. حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بِهَذَا.

ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن دونوں فاطمہ بنت قیس ؓ کے پاس آئے انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی اور نہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا اور نہ کھانے پینے کا۔ اور انہوں نے میرے لیے دس بوری غلہ، پانچ بوری جو کے اور پانچ گیہوں کے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس رکھ دیں، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا، اور مجھے آپ نے حکم دیا کہ میں ام شریک کے گھر میں عدت گزاروں ، پھر مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ام شریک کے گھر مہاجرین آتے جاتے رہتے ہیں۔ تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو ۔ وہاں یہ بھی سہولت رہے گی کہ تم (سر وغیرہ سے) کپڑے اتارو گی تو تمہیں وہ نہیں دیکھ پائیں گے، پھر جب تمہاری عدت پوری ہوجائے اور کوئی تمہارے پاس پیغام نکاح لے کر آئے تو مجھے بتانا، چناچہ جب میری عدت پوری ہوگئی تو ابوجہم اور معاویہ نے مجھے پیغام بھیجا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: معاویہ تو ایسے آدمی ہیں کہ ان کے پاس مال نہیں، اور ابوجہم عورتوں کے لیے سخت واقع ہوئے ہیں ۔ پھر مجھے اسامہ بن زید ؓ نے پیغام بھیجا اور مجھ سے شادی کرلی۔ اللہ تعالیٰ نے اسامہ میں مجھے برکت عطا فرمائی۔

Mahmud ibn Ghaylan reported from Abu Dawood, from Shu’bah and he from Abu Bakr (RA) ibn Abu Jahm (RA) who narrated : I and Abu Salamah ibn Abdur Rahman (RA) visited Sayyidah Fatimah bint Qays (RA). She said to them that her husband had divorced her three times (irrevocably) without making arrangement for her lodging and provision though he had deposited for her with his cousin ten qafiz grain, of which five were barley and five wheat. She said, “I went to Allah’s Messenger ﷺ and mentioned that to him”. He said, “He has done right,” and he commanded her to spend her waiting period at the home of Sayyidah Umm Shairk (RA) . But, soon said to her, “The house of Umm Shairk is a house where the muhajirs gather, so pass your iddah (waiting period) at the home of Ibn Umm Maktum where if you have to undress, no one will see you. Then, when you have spent your iddah and anyone asks you to marry him, come to me”. When she had spent her iddah, she received proposal from Abu Jahm and Mu’awiyah. She went to Allah’s Messenger ﷺ and mentioned that to him. He said, “As for Mu’awiyah, he is a man with no property of his own. And as for Abu Jahm, he is a man severe on women’. Then, Sayyidina Usamah ibn Zayd proposed marriage to her, and he married her. And, Allah blessed her with Usamah. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء // 1804 // (6 / 209)، صحيح أبي داود (1976)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1135
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اسے سفیان ثوری نے بھی ابوبکر بن ابی جہم سے اسی حدیث کی طرح روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسامہ سے نکاح کرلو ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠)، سنن النسائی/الطلاق ١٥ (٣٤٤٧)، و ٧٢ (٣٥٨١)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٠ (٢٠٣٥)، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٣٧) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ الطلاق ٣٩ (٢٢٨٤)، سنن النسائی/النکاح ٨ (٣٢٢٤)، و ٢١ (٣٢٤٦)، والطلاق ٤ (٢٠٢٤)، و ٩ ٢٠٣٢)، موطا امام مالک/الطلاق ٢٣ (٦٧)، مسند احمد (٦/٤١٤، ٤١٥) سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٣)، والطلاق ١٠ (٢٣٢٠) من غیر ہذا الوجہ وانظر ما یأتي عند المؤلف برقم: ١١٨٠
1136Sunan At-Tirmidhi

عزل کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَعْزِلُ فَزَعَمَتْ الْيَهُودُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، فَقَالَ: كَذَبَتْ الْيَهُودُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهُ فَلَمْ يَمْنَعْهُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَالْبَرَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ١ ؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا ٢ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that they said, “O Messenger of Allah ﷺ We practice azi, but the Jews imagine that to be a minor killing”. He said, “The Jews lie. Indeed, if Allah intends to create someone, nothing prevents that”. [Ahmed 11288]

صحيح الآداب (52)، صحيح أبي داود (1887)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1136
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں عمر، براء اور ابوہریرہ، ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ عزل یہ ہے کہ جماع کے وقت انزال قریب ہو تو آدمی اپنا عضو تناسل شرمگاہ سے باہر نکال کر منی باہر نکال دے تاکہ عورت حاملہ نہ ہو۔ ٢ ؎: اس حدیث میں صرف اس بات کا بیان ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ عزل کے باوجود جس نفس کی اس مرد و عورت سے تخلیق اللہ کو مقصود ہوتی ہے اس کی تخلیق ہو ہی جاتی ہے، جیسا کہ ایک صحابی نے لونڈی سے عزل کیا اس کے باوجود حمل ٹھہر گیا۔ اس لیے یہ «مودودۃ صغریٰ» نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عشرة النساء (في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٢٥٨٧) (صحیح)
1137Sunan At-Tirmidhi

عزل کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي الْعَزْلِ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: تُسْتَأْمَرُ الْحُرَّةُ فِي الْعَزْلِ وَلَا تُسْتَأْمَرُ الْأَمَةُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتر رہا تھا ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) aid, “During the period the Quran was revealed, we used to practice azi”. (He meant that the Prophet ﷺ did not forbid them to do so) [Ahmed 14322, Bukhari 5208, Muslim 1440, Ibn e Majah 1927]

صحيح، ابن ماجة (1927)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1137
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث اور بھی کئی طرق سے ان سے مروی ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کی اجازت دی ہے۔ مالک بن انس کا قول ہے کہ آزاد عورت سے عزل کی اجازت لی جائے گی اور لونڈی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن میں اس کی ممانعت نازل کردیتا، البتہ آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل درست نہیں ہے، جیسا کہ امام مالک نے کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٩٦ (٥٢٠٨، ٥٢٠٩)، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٠ (١٩٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٢٤٦٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح ٩٦ (٥٢٠٧)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) من غیر ہذا الوجہ۔
1138Sunan At-Tirmidhi

عزل کی کراہت

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ وَلَمْ يَقُلْ: لَا يَفْعَلْ ذَاكَ أَحَدُكُمْ، قَالَا فِي حَدِيثِهِمَا: فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَدْ كَرِهَ الْعَزْلَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ ۔ ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے: اور آپ نے یہ نہیں کہا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے ، اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا ہے کہ جس جان کو بھی اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that azl (coitus interruptus) was mentioed before Allah’s Messenger ﷺ . He asked, ‘Why does one of you do it?” Ibn Umar (RA) added in his version that the Prophet ﷺ did not say, “Let not any of you do it,” and their hadith continues. The Prophet ﷺ said, “There is no creation but that Allah is its Creator”. (which is to be created will come into existence). [Bukhari 7409, Muslim 1438, Abu Dawud 1141]

صحيح الآداب (54 - 55)، صحيح أبي داود (1886)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1138
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ اس کے علاوہ اور بھی طرق سے ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، ٣- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کو مکروہ قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عزل کے جواز اور عدم جواز کی بابت حتمی بات یہ ہے کہ یہ ہے تو جائز مگر نامناسب کام ہے، خصوصا جب عزل کے باوجود کبھی نطفہ رحم کے اندر چلا ہی جاتا ہے، اور حمل ٹھہر جاتا ہے۔ تو کیوں خواہ مخواہ یہ عمل کیا جائے۔ «واللہ اعلم»
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ١٨ (تعلیقا عقب الحدیث رقم: ٧٤٠٩)، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٨)، سنن ابی داود/ النکاح ٤٩ (٢١٧٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/البیوع ١٠٩ (٢٢٢٩)، و العتق ١٣ (٢٥٤٢)، والمغازي ٣٢ (٤١٣٨)، والنکاح ٩٦ (٥٢١٠)، و القدر ٦ (٦٦٠٣)، والتوحید ١٨ (٧٤٠٩)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، موطا امام مالک/الطلاق ٣٤ (٩٥)، مسند احمد (٣/٢٢، ٢٦، ٤٧، ٤٩، ٥١، ٥٣، ٥٩، ٨٦)، سنن الدارمی/النکاح ٣٦ (٢٢٦٩) من غیر ہذا الوجہ وبعضہم بتغیر یسیر في السیاق۔
1139Sunan At-Tirmidhi

کنواری اور بیوہ کے لئے رات کی تقسیم

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَفَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ بَعْضُهُمْ، قَالَ: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِكْرًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمَا بَعْدُ بِالْعَدْلِ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ: إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا لَيْلَتَيْنِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا: سنت ١ ؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA)said: If you wish that I say that Allah’s Messenger ﷺ said but, I say, “It is sunnah that when a married man marries a virgin he should live with her seven days and when he marries a widow then he should live with her three days. [Ahmed 12970, Bukhari 5213, Muslim 1461, Abu Dawud 2124, Ibn e Majah 779] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1916)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1139
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے محمد بن اسحاق نے مرفوع کیا ہے، انہوں نے بسند «ایوب عن ابی قلابہ عن انس» روایت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣- اس باب میں ام سلمہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور کنواری سے شادی کرے، تو اس کے پاس سات رات ٹھہرے، پھر اس کے بعد ان کے درمیان باری تقسیم کرے، اور پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی غیر کنواری (بیوہ یا مطلقہ) سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات ٹھہرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥- تابعین میں سے بعض اہل علم نے کہا کہ جب کوئی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین رات ٹھہرے اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں دو رات ٹھہرے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحابی کا سنت یہ ہے کہنا بھی حدیث کے مرفوع ہونے کا اشارہ ہے، تمام ائمہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٠٠ (٥٢١٣)، و ١٠١ (٥٢١٤)، صحیح مسلم/الرضاع ١٢ (١٤٦١) سنن ابی داود/ النکاح ٣٥ (٢١٢٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٦ (١٩١٦)، سنن الدارمی/النکاح ٢٧ (٢٢٥٥)، ( تحفة الأشراف: ٩٤٤) (صحیح)
1140Sunan At-Tirmidhi

سوکنوں کے درمیان باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ هَذِهِ قِسْمَتِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْسِمُ. وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ مُرْسَلًا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْسِمُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا أَمْلِكُ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ الْحُبَّ، وَالْمَوَدَّةَ كَذَا فَسَّرَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان باری تقسیم کرتے ہوئے فرماتے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، لیکن جس کی قدرت تو رکھتا ہے، میں نہیں رکھتا، اس کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated that the Prophet ﷺ used to divide his time equally among his wives. He would pray, “O Allah! This is my division in what I possess. So, do not blame me concerning that which you possess but I do not”. [Ahmed 25165, Abu Dawud 2134, Nisai 3953, Ibn e Majah 1971]

ضعيف، ابن ماجة (1971)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1140
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عائشہ ؓ کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بسند «حماد بن سلمة عن أيوب عن أبي قلابة عن عبد اللہ بن يزيد عن عائشة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ باری تقسیم کرتے تھے جب کہ اسے حماد بن زید اور دوسرے کئی ثقات نے بسند «أيوب عن أبي قلابة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ باری تقسیم کرتے تھے اور یہ حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور جس کی قدرت تو رکھتا ہے میں نہیں رکھتا سے مراد محبت و مؤدّۃ ہے، اسی طرح بعض اہل علم نے اس کی تفسیر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٣٩ (٢١٣٤)، سنن النسائی/عشرة النساء ٢ (٣٩٥٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٩)، سنن الدارمی/النکاح ٢٥ (٢٢٥٣) (ضعیف) (حماد بن زید اور دیگر زیادہ ثقہ رواة نے اس کو ایوب سے ” عن أبي قلابة عن النبي ﷺ “ مرسلاً بیان کیا ہے، لیکن حدیث کا پہلا جزء اللهم هذا قسمي فيما أملک حسن ہے، تراجع الالبانی ٣٤٦)
1141Sunan At-Tirmidhi

سوکنوں کے درمیان باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ، فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ وهمام ثقة حافظ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کسی شخص کے پاس دو بیویاں ہوں اور ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If a man has two wives and he does not treat them equally then he will come on the Day of Resurrection with one of his sides decayed (or sagging)”. [Ahmed 25165, Abu Dawud 2133, Ibn e Majah 1969]

صحيح، ابن ماجة (1969)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1141
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے مسنداً ١ ؎ روایت کیا ہے، ٢- اور اسے ہشام دستوائی نے بھی قتادہ سے روایت کیا ہے لیکن اس روایت میں ہے کہ ایسا کہا جاتا تھا … ٣- ہم اس حدیث کو صرف ہمام ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور ہمام ثقہ حافظ ہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رسول اللہ ﷺ کے اپنے قول سے، نہ کہ عام مقولہ کے طور پر، جیسے کہا جاتا تھا جیسا کہ ہشام دستوائی کی روایت میں ہے۔ ٢ ؎: اس لیے ان کی روایت مقبول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٣٩ (٢١٣٣)، سنن النسائی/عشرة النساء ٢ (٣٩٥٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٦٩) (تحفة الأشراف: ١٢٢١٣)، مسند احمد (٢/٣٤٧، ٣٧١)، سنن الدارمی/النکاح ٢٤ (٢٢٥٢) (صحیح)
1142Sunan At-Tirmidhi

مشرک میاں بیوی میں سے ایک مسلمان ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ، بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ، مَقَالٌ: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ قَبْلَ زَوْجِهَا، ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا، وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، أَنَّ زَوْجَهَا أَحَقُّ بِهَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی لڑکی زینب کو ابوالعاص بن ربیع ؓ کے پاس نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹا دیا ١ ؎۔

lbn Shu’ayb reported from his father from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ returned his daughter, Sayyidah Zaynab (RA) to Sayyidina Abu Aas ibn Rabi (RA) against a fresh dower and a fresh marriage. [Ahmed 6956, Ibn e Majah 2010]

ضعيف، ابن ماجة (2010) // ضعيف ابن ماجة برقم (436)، الإرواء (1992) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1142
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے اور دوسری حدیث میں بھی کلام ہے، ٢- اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ عورت جب شوہر سے پہلے اسلام قبول کرلے، پھر اس کا شوہر عدت کے دوران اسلام لے آئے تو اس کا شوہر ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب وہ عدت میں ہو۔ یہی مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ابن عباس کی حدیث کے جو آگے آرہی ہے مخالف ہے اس میں ہے کہ پہلے ہی نکاح پر آپ نے انہیں لوٹا دیا نیا نکاح نہیں پڑھایا اور یہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠١٠)، ( تحفة الأشراف: ٨٦٧٢)، مسند احمد (٢/٢٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن ارطاة “ ایک تو ضعیف ہیں، دوسرے سند میں ان کے اور ” عمروبن شعیب “ کے درمیان انقطاع ہے، اس کے بالمقابل اگلی حدیث صحیح ہے)
1143Sunan At-Tirmidhi

مشرک میاں بیوی میں سے ایک مسلمان ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ، بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ وَلَكِنْ لَا نَعْرِفُ وَجْهَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَعَلَّهُ قَدْ جَاءَ هَذَا مِنْ قِبَلِ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص بن ربیع ؓ کے پاس چھ سال بعد ١ ؎ پہلے نکاح ہی پر واپس بھیج دیا اور پھر سے نکاح نہیں کیا۔

Ibn Abbas (RA) narrated: The Prophet ﷺ returned his daughter Zaynab to Abu Aas ibn Rabi’ after six years against the first marriage and did not renew the marriage.

صحيح، ابن ماجة (2009)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1143
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن ہم اس حدیث میں نقد کی وجہ نہیں جانتے ہیں۔ شاید یہ چیز داود بن حصین کی جانب سے ان کے حفظ کی طرف سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے دو سال بعد انہیں واپس کیا، اور ایک روایت میں ہے تین سال کے بعد، حافظ ابن حجر نے ان روایات میں تطبیق اس طرح سے دی ہے کہ چھ سال سے مراد زینب کی ہجرت اور ابوالعاص بن ربیع ؓ کے اسلام لانے کے درمیان کا واقعہ ہے، اور دو اور تین سے مراد آیت کریمہ «لاهن حل لهم» کے نازل ہونے اور ابوالعاص بن ربیع ؓ کے اسلام لانے کے درمیان کی مدت ہے جو دو سال اور چند مہینوں پر مشتمل۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٢٤ (٢٢٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠٠٩)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٧٣) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ داود کی روایت عکرمہ سے متکلم فیہ ہے)