Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 53 of 199

1104Sunan At-Tirmidhi

بغیر گواہوں کے نکاح صحیح نہیں ہوتا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ مَرْفُوعًا، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَوْقُوفًا، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَوْلُهُ: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ، هَكَذَا رَوَى أَصْحَابُ قَتَادَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَ هَذَا مَوْقُوفًا، وَفِي هَذَا الْبَاب: عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَنَسٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِشُهُودٍ، لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي ذَلِكَ مَنْ مَضَى مِنْهُمْ، إِلَّا قَوْمًا مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَإِنَّمَا اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا إِذَا شَهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ، فَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ: لَا يَجُوزُ النِّكَاحُ حَتَّى يَشْهَدَ الشَّاهِدَانِ مَعًا عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: إِذَا أُشْهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ، فَإِنَّهُ جَائِزٌ إِذَا أَعْلَنُوا ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَغَيْرِهِ، هَكَذَا قَالَ إِسْحَاق فِيمَا حَكَى عَنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: يَجُوزُ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔

Qutaybah reported from Ghundar who from Sa’eed the like of it, but did not make it marfu’, and that is sahih. --------------------------------------------------------------------------------

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1104
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ٢- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو سوائے اس کے جو عبدالاعلیٰ سے مروی ہے انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے اور سعید نے قتادہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، ٣- اور عبدالاعلیٰ سے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے یہ موقوفا بھی مروی ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو ابن عباس کے قول سے مروی ہے کہ بغیر گواہ کے نکاح نہیں، خود ابن عباس کا قول ہے، ٤- اسی طرح سے اور کئی لوگوں نے بھی سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح کی روایت موقوفاً کی ہے، ٥- اس باب میں عمران بن حصین، انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٦- صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر گواہ کے نکاح درست نہیں۔ پہلے کے لوگوں میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن متاخرین اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے، ٧- اہل علم میں اس سلسلے میں اختلاف ہے جب ایک دوسرے کے بعد گواہی دے یعنی دونوں بیک وقت مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوں تو کوفہ کے اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ نکاح اسی وقت درست ہوگا جب عقد نکاح کے وقت دونوں گواہ ایک ساتھ موجود ہوں، ٨- اور بعض اہل مدینہ کا خیال ہے کہ جب ایک کے بعد دوسرے کو گواہ بنایا گیا ہو تو بھی جائز ہے جب وہ اس کا اعلان کردیں۔ یہ مالک بن انس وغیرہ کا قول ہے۔ اسی طرح کی بات اسحاق بن راہویہ نے بھی کہی ہے جو اہل مدینہ نے کہی ہے، ٩- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نکاح میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت جائز ہے، یہ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف) (سعید بن ابی عروبہ اور قتادہ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ ہے)
1105Sunan At-Tirmidhi

بغیر گواہوں کے نکاح صحیح نہیں ہوتا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، قَالَ: التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، فَمَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ . قَالَ عَبْثَرٌ: فَفَسَّرَهُ لَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ: إِنَّ النِّكَاحَ جَائِزٌ بِغَيْرِ خُطْبَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز کے تشہد اور حاجت کے تشہد کو (الگ الگ) سکھایا، وہ کہتے ہیں صلاۃ کا تشہد یہ ہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلی عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی: سلامتی ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور حاجت کا تشہد یہ ہے: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا فمن يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے دلوں کی شرارتوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اور پھر آپ تین آیتیں پڑھتے۔ عبثر (راوی حدیث) کہتے ہیں: تو ہمیں سفیان ثوری نے بتایا کہ وہ تینوں آیتیں یہ تھی: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے اور حالت اسلام ہی میں مرو (آل عمران: ١٠٢) ، «واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ کان عليكم رقيبا» اللہ سے ڈرو، جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور جس کے واسطے سے ناطے جوڑتے ہو، بلاشبہ اللہ تمہارا نگہبان ہے (النساء: ١) ، «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور راست اور پکی بات کہو (الأحزاب: ٧٠) ۔

Sayyidina Abdullah (RA) said : Allah’s Messenger ﷺ taught us the tashahhud for the salah and the tashahhud for some need. The tashahhud in salah is: All adorations of the tongue are for Allah, as also those of the body and wealth or good things. Peace be on you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be on us and on all righteous slaves of Allah. I bear witness that there is no God but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and His Messenger. And, the tashahhud in case of need, like marriage, is: All praise belongs to Allah. We ask Him for help and seek His forgiveness. And we seek refuge in Allah from the evils of our ownselves, and (from) our wicked deeds. He whom Allah guides, none can send astray, and he whom He leaves to stray, there is no guide for him. And I testify that there is no God but Allah, and I testify that Muhammad is His slave and His Messenger”. Then three verses of the Qur’an are recited. Abthar said that Suf yan Thawri specified them: “(O you who Believe)O Fear Allah as He should be feared, and die not save you be Muslims. (3: 102) (O mankind!) Fear your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his mate, and from the twain He spread abroad many men and women. So fear Allah by whom you demand (you rights) of one another, and fear (breaking) kinship of wombs. Surely Allah is ever watchful over you. (4: 1) (O you who believe!) Fear Allah and speak words straight to the point. He will set right your deeds for you and will forgive your sins, and whosoever obeys Allah and His Messenger, he indeed hasgained a mighty trimph. (33: 70-71) [Ahmed 3877, Abu Dawud 2118, Muslim 3274, Ibn e Majah 1892]

صحيح، ابن ماجة (1892)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1105
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اسے اعمش نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے۔ نیز اسے شعبہ نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي عبيدة عن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ دونوں طریق صحیح ہیں، اس لیے کہ اسرائیل نے دونوں کو جمع کردیا ہے، یعنی «عن أبي إسحق عن أبي الأحوص وأبي عبيدة عن عبد اللہ بن مسعود عن النبي صلی اللہ عليه وسلم»، ٣- اس باب میں عدی بن حاتم ؓ سے بھی روایت ہے، ٤- اہل علم نے کہا ہے کہ نکاح بغیر خطبے کے بھی جائز ہے۔ اہل علم میں سے سفیان ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٣٣ (٣١١٨)، سنن النسائی/الجمعة ٢٤ (١٤٠٥)، والنکاح ٣٩ (٣٢٧٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٩ (١٨٩٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٥٠٦) مسند احمد (١/٣٩٢)، سنن الدارمی/النکاح ٢٠ (٢٢٤٨) (صحیح)
1106Sunan At-Tirmidhi

بغیر گواہوں کے نکاح صحیح نہیں ہوتا

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسے سبھی خطبے جس میں تشہد نہ ہو اس ہاتھ کی طرح ہیں جس میں کوڑھ ہو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Every sermon that lacks tashahhud is like the hand of a leper.” [Ahmed 8526, Abu Dawud 4841] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الأجوبة الناقصة (48)، تمام المنة - التحقيق الثاني -صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1106
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٢٢ (٤٨٤١)، ( تحفة الأشراف: ١٤٩٧)، مسند احمد (٢/٣٤٣) (صحیح)
1107Sunan At-Tirmidhi

کنواری اور بیوہ کی اجازت

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَالْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ الثَّيِّبَ لَا تُزَوَّجُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَإِنْ زَوَّجَهَا الْأَبُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَأْمِرَهَا فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الْأَبْكَارِ إِذَا زَوَّجَهُنَّ الْآبَاءُ، فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْأَبَ إِذَا زَوَّجَ الْبِكْرَ وَهِيَ بَالِغَةٌ بِغَيْرِ أَمْرِهَا فَلَمْ تَرْضَ بِتَزْوِيجِ الْأَبِ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: تَزْوِيجُ الْأَبِ عَلَى الْبِكْرِ جَائِزٌ وَإِنْ كَرِهَتْ، ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ثیبہ» (شوہر دیدہ عورت خواہ بیوہ ہو یا مطلقہ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی رضا مندی ١ ؎ حاصل نہ کرلی جائے، اور کنواری ٢ ؎ عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور اس کی اجازت خاموشی ہے ٣ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A widow is not married till She is consulted. And a virgin is not married till her permission is sought. Her permission is silence”. [Ahmed 9611, Bukhari 5136, Muslim 1419, Nisai 5611, Ibn e Majah 1871]

صحيح، ابن ماجة (1871)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1107
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، ابن عباس، عائشہ اور عرس بن عمیرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ «ثیبہ» (شوہر دیدہ) کا نکاح اس کی رضا مندی حاصل کیے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ اگر اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضا مندی کے بغیر کردی اور اسے وہ ناپسند ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک وہ نکاح منسوخ ہوجائے گا، ٤- کنواری لڑکیوں کے باپ ان کی شادی ان کی اجازت کے بغیر کردیں تو اہل علم کا اختلاف ہے۔ کوفہ وغیرہ کے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ باپ اگر کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر کر دے اور وہ بالغ ہو اور پھر وہ اپنے والد کی شادی پر راضی نہ ہو تو نکاح منسوخ ہوجائے گا ٤ ؎، ٥- اور بعض اہل مدینہ کہتے ہیں کہ کنواری کی شادی اگر باپ نے کردی ہو تو درست ہے گو وہ اسے ناپسند ہو، یہ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ٥ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رضا مندی کا مطلب اذن صریح ہے۔ ٢ ؎: کنواری سے مراد بالغہ کنواری ہے۔ ٣ ؎: اس میں اذن صریح کی ضرورت نہیں خاموشی کافی ہے کیونکہ کنواری بہت شرمیلی ہوتی ہے، عام طور سے وہ اس طرح کی چیزوں میں بولتی نہیں خاموش ہی رہتی ہے۔ ٤ ؎: ان لوگوں کی دلیل ابن عباس کی روایت «أن جارية بکراً أتت النبي صلی اللہ عليه وسلم فذکرت أن أباها زوجها وهي كارهة فخيرها النبي صلی اللہ عليه وسلم» ہے۔ ٥ ؎: ان لوگوں نے ابن عباس کی حدیث جو آگے آرہی ہے «الایم احق بنفسہا من ولیہا» کے مفہوم مخالف سے استدلال کیا ہے، اس حدیث کا مفہوم مخالف یہ ہوا کہ باکرہ ( کنواری ) کا ولی اس کے نفس کا اس سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٩ (١٤١٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١١ (١٨٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٥٣٨٤)، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٢) (صحیح)
1108Sunan At-Tirmidhi

کنواری اور بیوہ کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا احْتَجُّوا بِهِ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَهَكَذَا أَفْتَى بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ الْوَلِيَّ لَا يُزَوِّجُهَا إِلَّا بِرِضَاهَا وَأَمْرِهَا، فَإِنْ زَوَّجَهَا فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ عَلَى حَدِيثِ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ، حَيْثُ زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ «ثیبہ» (شوہر دیدہ) عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ استحقاق رکھتی ہے ١ ؎ اور کنواری سے بھی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A widow has more right to her person than her guardian while a virgin’s consent must be sought, her consent being her silence”. [Muslim 1421, Abu Dawud 2098, Nisai 3257, Ibn e Majah 1870] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1870)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1108
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شعبہ اور ثوری نے اسے مالک بن انس سے روایت کیا ہے، ٣- بعض لوگوں نے بغیر ولی کے نکاح کے جواز پر اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی دلیل بنے۔ اس لیے کہ ابن عباس سے کئی اور طرق سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کے بعد ابن عباس نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں، ٤- اور «الأيم أحق بنفسها من وليها» کا مطلب اکثر اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ ولی ثیبہ کا نکاح اس کی رضا مندی اور اس سے مشورہ کے بغیر نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خنساء بنت خدام کی حدیث کی رو سے نکاح فسح ہوجائے گا۔ ان کے والد نے ان کی شادی کردی، اور وہ شوہر دیدہ عورت تھیں، انہیں یہ شادی ناپسند ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے نکاح کو فسخ کردیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لفظ «أحق» مشارکت کا متقاضی ہے، گویا غیر کنواری عورت اپنے نکاح کے سلسلہ میں جس طرح حقدار ہے اسی طرح اس کا ولی بھی حقدار ہے یہ اور بات ہے کہ ولی کی نسبت اسے زیادہ حق حاصل ہے کیونکہ ولی کی وجہ سے اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا جب کہ خود اس کی وجہ سے ولی پر جبر کیا جاسکتا ہے، چناچہ ولی اگر شادی سے ناخوش ہے اور اس کا منکر ہے تو بواسطہ قاضی ( حاکم ) اس کا نکاح ہوگا، اس توضیح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ حدیث «لا نکاح إلا بولي» کے منافی نہیں ہے۔ ٢ ؎: اور اگر منظور نہ ہو تو کھل کر بتادینا چاہیئے کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے تاکہ والدین اس کے لیے دوسرا رشتہ منتخب کریں یا اسے مطمئن کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٩ (١٤٢١)، سنن ابی داود/ النکاح ٢٦ (٢٠٩٨، ٢١٠٠)، سنن النسائی/النکاح ٣١ (٣٢٦٢، ٣٢٦٥)، و ٣٢ (٣٢٦٦)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١١ (١٨٧٠)، موطا امام مالک/النکاح ٢ (٤)، ( تحفة الأشراف: ٦٥١٧)، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٤٣، ٢٧٤، ٢٥٤، ٣٥٥، ٣٦٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٤) (صحیح)
1109Sunan At-Tirmidhi

یتیم لڑکی پر نکاح کے لئے زبردستی صحیح نہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا . يَعْنِي: إِذَا أَدْرَكَتْ فَرَدَّتْ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي مُوسَى، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الْيَتِيمَةِ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا زُوِّجَتْ فَالنِّكَاحُ مَوْقُوفٌ حَتَّى تَبْلُغَ، فَإِذَا بَلَغَتْ فَلَهَا الْخِيَارُ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ أَوْ فَسْخِهِ، وَهُوَ قَوْلُ: بَعْضِ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْيَتِيمَةِ حَتَّى تَبْلُغَ، وَلَا يَجُوزُ الْخِيَارُ فِي النِّكَاحِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: إِذَا بَلَغَتِ الْيَتِيمَةُ تِسْعَ سَنِينَ فَزُوِّجَتْ فَرَضِيَتْ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ، وَلَا خِيَارَ لَهَا إِذَا أَدْرَكَتْ، وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ ، وَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ: إِذَا بَلَغَتِ الْجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَهِيَ امْرَأَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کی رضا مندی حاصل کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہی تو یہی اس کی رضا مندی ہے، اور اگر اس نے انکار کیا تو اس پر (زبردستی کرنے کا) کوئی جواز نہیں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “An orphan girl should be consulted about herself. If she oberves silence, that signifies her consent, but if she rejects then there is no compulsion over her”. [Ahmed 7531, Abu Dawud 2093] --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح، الإرواء (1834)، صحيح أبي داود (1825)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1109
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوموسیٰ، ابن عمر، اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یتیم لڑکی کی شادی کے سلسلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے: یتیم لڑکی کی جب شادی کردی جائے تو نکاح موقوف رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے۔ جب وہ بالغ ہوجائے گی، تو اسے نکاح کو باقی رکھنے یا اسے فسخ کردینے کا اختیار ہوگا۔ یہی بعض تابعین اور دیگر علماء کا بھی قول ہے، ٤- اور بعض کہتے ہیں: یتیم لڑکی کا نکاح جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے، درست نہیں اور نکاح میں «خیار» جائز نہیں، اور اہل علم میں سے سفیان ثوری، شافعی وغیرہم کا یہی قول ہے، ٥- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب یتیم لڑکی نو سال کی ہوجائے اور اس کا نکاح کردیا جائے، اور وہ اس پر راضی ہو تو نکاح درست ہے اور بالغ ہونے کے بعد اسے اختیار نہیں ہوگا۔ ان دونوں نے عائشہ کی اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب ان کے ساتھ شب زفاف منائی، تو وہ نو برس کی تھیں۔ اور عائشہ ؓ کا قول ہے کہ لڑکی جب نو برس کی ہوجائے تو وہ عورت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بالغ ہونے کے بعد انکار کرنے پر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٠٤٥) (حسن صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ النکاح ٢٤ (٢٠٩٣)، سنن النسائی/النکاح ٣٦ (٣٢٧٠)، مسند احمد (٢/٢٥٩، ٤٧٥) من غیر ہذا الوجہ۔
1110Sunan At-Tirmidhi

اگر دو ولی دو مختلف جگہ نکاح کردیں تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا، إِذَا زَوَّجَ أَحَدُ الْوَلِيَّيْنِ قَبْلَ الْآخَرِ فَنِكَاحُ الْأَوَّلِ جَائِزٌ وَنِكَاحُ الْآخَرِ مَفْسُوخٌ، وَإِذَا زَوَّجَا جَمِيعًا فَنِكَاحُهُمَا جَمِيعًا مَفْسُوخٌ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت کی شادی دو ولی الگ الگ جگہ کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کے لیے ہوگی، اور جو شخص کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچ دے تو وہ بھی ان میں سے پہلے کی ہوئی ۔

Sayyidina Samurah ibn Jundub reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If two guardians have given a woman in marriage then she belongs to the first of the two. And if anyone sells something to two men then it goes to the first of them”. [Ahmed 20106, Abu Dawud 2088, Nisai 4696, Ibn e Majah 2344]

ضعيف، الإرواء (1853)، أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (2224)، ضعيف أبي داود (449 / 2088) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1110
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں علماء کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ دو ولی میں سے ایک ولی جب دوسرے سے پہلے شادی کر دے تو پہلے کا نکاح جائز ہوگا، اور دوسرے کا نکاح فسخ قرار دیا جائے گا، اور جب دونوں نے ایک ساتھ نکاح (دو الگ الگ شخصوں سے) کیا ہو تو دونوں کا نکاح فسخ ہوجائے گا۔ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٢٢ (٢٠٨٨)، سنن النسائی/البیوع ٩٦ (٤٦٨٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢١ (٢١٩)، ( تحفة الأشراف: ٤٥٨٢)، مسند احمد (٥/٨، ١١)، سنن الدارمی/النکاح ١٥ (٢٢٣٩) (ضعیف) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز حسن کے سمرہ ؓ سے حدیث عقیقہ کے علاوہ دیگر احادیث کے سماع میں اختلاف ہے، مگر دیگر نصوص سے مسئلہ ثابت ہے)
1111Sunan At-Tirmidhi

اگر دو ولی دو مختلف جگہ نکاح کردیں تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ نِكَاحَ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ لَا يَجُوزُ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَغَيْرِهِمَا بِلَا اخْتِلَافٍ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کرلے، وہ زانی ہے ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Any slave who marries without his master’s permission is an adulterer”. [Ahmed 14216, Abu Dawud 2078]

حسن، ابن ماجة (1959)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1111
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث حسن ہے، ٢- بعض نے اس حدیث کو بسند «عبد اللہ بن محمد بن عقيل عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل نے جابر سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر غلام کا نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ١٧ (٢٠٧٨)، ( تحفة الأشراف: ٢٣٢٦)، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٧٧، ٣٨٢)، سنن الدارمی/النکاح ٤٠ (٢٢٧٩) (حسن)
1112Sunan At-Tirmidhi

اگر دو ولی دو مختلف جگہ نکاح کردیں تو کیا کیا جائے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْجَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اس سند سے بھی جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی وہ زانی ہے ۔

Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil reported on the authority of Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) that the Prophet ﷺ said, “Any slave who marries without his master’s pemission is a fornicator”. --------------------------------------------------------------------------------

حسن انظر ما قبله (1111)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1112
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن)
1113Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کا مہر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَجَازَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَهْرِ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْمَهْرُ عَلَى مَا تَرَاضَوْا عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لَا يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ رُبْعِ دِينَارٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ: لَا يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ.

عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتی مہر پر نکاح کرلیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تو اپنی جان و مال سے دو جوتی مہر پر راضی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں راضی ہوں۔ وہ کہتے ہیں: تو آپ نے اس نکاح کو درست قرار دے دیا۔

Aasim ibn Abduflah reported that he heard from Abdullah ibn Aamir ibn Rabi’ah on the authority of his father that a woman of Banu Fazarah married against a dower of a pair of shoes. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Are you pleased to give yourself and your property against a pair of shoes?” She said, “Yes!’ He then gave her permission. [Ahmed 15676, Ibn e Majah 1888]

ضعيف، ابن ماجة (1888) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (413)، الإرواء (1926) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1113
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عامر بن ربیعہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، ابوہریرہ، سہل بن سعد، ابو سعید خدری، انس، عائشہ، جابر اور ابوحدرد اسلمی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا مہر کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں: مہر اس قدر ہو کہ جس پر میاں بیوی راضی ہوں۔ یہ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- مالک بن انس کہتے ہیں: مہر ایک چوتھائی دینار سے کم نہیں ہونا چاہیئے، ٥- بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: مہر دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ١٧ (١٨٨٨)، ( تحفة الأشراف:؟؟)، مسند احمد (٣/٤٤٥) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہیں)
1114Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کا مہر

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا ؟ فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِزَارُكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا جَلَسْتَ، وَلَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا ، قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، قَالَ: فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ الشَّافِعِيُّ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ يُصْدِقُهَا فَتَزَوَّجَهَا عَلَى سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ وَيُعَلِّمُهَا سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: النِّكَاحُ جَائِزٌ وَيَجْعَلُ لَهَا صَدَاقَ مِثْلِهَا، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کردیا۔ پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز ہے؟ ، اس نے عرض کیا: میرے پاس میرے اس تہبند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تو بغیر تہبند کے رہ جاؤ گے، تو تم کوئی اور چیز تلاش کرو ، اس نے عرض کیا: میں کوئی چیز نہیں پا رہا ہوں۔ آپ نے (پھر) فرمایا: تم تلاش کرو، بھلے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ۔ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟ ، اس نے کہا: جی ہاں، فلاں، فلاں سورة یاد ہے اور اس نے چند سورتوں کے نام لیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کردی جو تمہیں یاد ہے ۔

Sayyidina Sahl ibn Sad Saidi (RA) reported that a woman came to Allah’s Messenger ﷺ and said, “I submit myself to you”. Then, she stood for a long time. A man said, “O Messenger of Allah, marry me to her, if you do not need her”. He said, “Do you have anything to give her (by way of dower)?’ He said, “I have nothing but this lower wrapper of the body”. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “If you give it to her then you will sit and have no lower garment on you. So, Look out for something else”. He said, “I do not find”. The Prophet ﷺ said, “Search, even if you find an iron ring”. He said, “I sought but could not find anything”. So, Allah’s Messenger asked him, “Do you have with you anything of the Qur’an?” He said, “Yes, That surah, and that surah. So Allah’s Messenger ﷺ said, “I marry you,to her with what you have of the Qur’an”. [Ahmed 22862, Bukhari 5029, Muslim 1425, Nisai 31971]

صحيح، ابن ماجة (1889)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1114
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شافعی اسی حدیث کی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور وہ قرآن کی کسی سورة کو مہر بنا کر کسی عورت سے نکاح کرے تو نکاح درست ہے اور وہ اسے قرآن کی وہ سورة سکھائے گا، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح جائز ہوگا لیکن اسے مہر مثل ادا کرنا ہوگا۔ یہ اہل کوفہ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ٩ (٢٣١٠)، والنکاح ٤٠ (٥١٣٥)، والتوحید ٢١ (٧٤١٧)، سنن ابی داود/ النکاح ٣١ (٢١١١)، سنن النسائی/النکاح ٦٩ (٣٣٦١)، ( تحفة الأشراف: ٤٧٤٢)، موطا امام مالک/النکاح ٣ (٨)، مسند احمد (٥/٣٣٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢١ (٥٠٢٩)، والنکاح ١٤ (٥٠٨٧)، و ٣٢ (٥١٢١)، و ٣٥ (٥١٢٦)، و ٣٧ (٥١٣٢)، و ٤٤ (٥١٤١)، و ٥٠ (٥١٤٩)، و ٥١ (٥١٥٠)، واللباس ٤٩ (٥٨٧١)، صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٥)، سنن النسائی/النکاح ١ (٣٢٠٢)، و ٤١ (٣٢٨٢)، و ٦٢ (٣٣٤١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٧ (١٨٨٩)، سنن الدارمی/النکاح ١٩ (٢٢٤٧)، من غیر ہذا الوجہ۔
1115Sunan At-Tirmidhi

آزاد کردہ لونڈی سے نکاح کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ صَفِيَّةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُجْعَلَ عِتْقُهَا صَدَاقَهَا، حَتَّى يَجْعَلَ لَهَا مَهْرًا سِوَى الْعِتْقِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ set free (Sayyidah) Safiyah and made her freedom her dower. [Ahmed 12839, Muslim 1365, Abu Dawud 2054, Nisai 3339, Ibn e Majah 1957] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1115
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں صفیہ ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- اور بعض اہل علم نے اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کو مکروہ کہا ہے، یہاں تک کہ اس کا مہر آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کو مقرر کیا جائے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، سنن ابی داود/ النکاح ٦ (٢٠٥٤)، سنن النسائی/النکاح ٦٤ (٣٣٤٤)، سنن الدارمی/النکاح ٤٥ (٢٢٢٨)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٧ و ١٤٢٩) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصلاة ١٢ (٣٧١)، و صلاة الخوف ٦ (٩٤٧)، والجہاد والمغازي ٣٨ (٤٢٠٠)، والنکاح ١٣ (٥٠٨٦) و ٦٨ (٥١٦٩)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٢ (١٩٥٧)، مسند احمد (٣/٩٩، ١٣٨، ١٦٥، ١٧٠، ١٨١، ١٨٦، ٢٠٣، ٢٣٩، ٢٤٢) من غیر ہذا الوجہ وبعضہم بتغیر یسیر في السیاق۔
1116Sunan At-Tirmidhi

(آزاد کردہ لونڈی سے) نکاح فضیلت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَذَاكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ جَارِيَةٌ وَضِيئَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ فَذَلِكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ،وَرَجُلٌ آمَنَ بِالْكِتَابِ الْأَوَّلِ ثُمَّ جَاءَ الْكِتَابُ الْآخَرُ فَآمَنَ بِهِ فَذَلِكَ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ .

ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ہیں جنہیں دہرا اجر دیا جاتا ہے: ایک وہ بندہ جو اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالک کا حق بھی، اسے دہرا اجر دیا جاتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جس کی ملکیت میں کوئی خوبصورت لونڈی ہو، وہ اس کی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے پھر اسے آزاد کر دے، پھر اس سے نکاح کرلے اور یہ سب اللہ کی رضا کی طلب میں کرے، تو اسے دہرا اجر دیا جاتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جو پہلے کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان لایا ہو پھر جب دوسری کتاب (قرآن مجید) آئی تو اس پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دہرا اجر دیا جاتا ہے ۔

Abu Burdah ibn Abu Musa reported on his father’s authority that Allahs Messenger ﷺ said, “Three people will be given their reward twice. A slave who gives the right of Allah and the right of his master - so, he will be given his reward two times. And a man who has a female slave (who is) beautiful and he teaches her manners after which he emancipates her and marries her seeking thereby Allah’s pleasure - so, he will get his reward twofold. And, a man who believed in an earlier Scripture (Torah, Zabur, Injeel) and then comes to him the other Book (the Qur’an), so he believes in it (too) - so, he is given his reward two times”. [Ahmed 19732, Bukhari 97, Muslim 154, Nisai 3344, Ibn e Majah 1956] --------------------------------------------------------------------------------

1117Sunan At-Tirmidhi

جو کسی شخص عورت سے نکاح کرنے کے بعد اس سے صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو کیا وہ اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے کہ نہیں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً، فَدَخَلَ بِهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا فَلْيَنْكِحْ ابْنَتَهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ يضعفان في الحديث، والعمل على هذا عند أكثر أهل العلم، قَالُوا: إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا حَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ ابْنَتَهَا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الِابْنَةَ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا لَمْ يَحِلَّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ سورة النساء آية 23 وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے ساتھ دخول کیا تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح کرنا درست نہیں ہے، اور اگر اس نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا ہے تو وہ اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے، اور جس مرد نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس نے اس سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہوگا ۔

Amr ibn Shu’ayb reported on the authority of his father who from his grandfather that the Prophet ﷺ said, “For any man who marries a woman and has sexual intercourse with her it, is not lawful to marry her daughter. But, if he has not had sexual intercourse with her then he can marry her daughter. And, as for a man who marries a woman and whether he has sexual intercourse with her or not, it is not lawful to marry her mother”.

ضعيف، الإرواء (1879) // ضعيف الجامع الصغير (2242) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1117
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے، اسے صرف ابن لہیعہ اور مثنی بن صالح نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔ اور مثنی بن صالح اور ابن لہیعہ حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔ ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی کی ماں سے شادی کرلے اور پھر اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے، اور جب آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح کرے اور اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح جائز نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وأمهات نسائكم» (النساء: ٢٣) ، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٧٣٣) (ضعیف) (مؤلف نے وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے)
1118Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے اور اس کے بعد وہ عورت کسی اور سے شادی کرلے لیکن یہ شخص صحبت سے پہلے اسے طلاق دیدے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَقَالَ: أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَالرُّمَيْصَاءِ، أَوْ الْغُمَيْصَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَنَّهَا لَا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الْأَوَّلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ جَامَعَ الزَّوْجُ الْآخَرُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں رفاعہ کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے طلاق دے دی اور میری طلاق طلاق بتہ ہوئی ہے۔ پھر میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی، ان کے پاس صرف کپڑے کے پلو کے سوا کچھ نہیں ہے ١ ؎، آپ نے فرمایا: تو کیا تم رفاعہ کے پاس لوٹ جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم ان (عبدالرحمٰن) کی لذت نہ چکھ لو اور وہ تمہاری لذت نہ چکھ لیں ٢ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: The wife of Rifa’ah Qurazi came to Allah’s Messenger and said, “I was married to Rifa’ah but he divorced me and made it an irrevocable divorce. So, I married Abdur Rahman ibn Zubayr, but he has not with him save the like of edges of the garment”. So, he asked, “Do you want to return to Rifa’ah? No, not until you taste his sweetness and he tastes your sweetness” [Ahmed 24153, Bukhari 2639. Muslim 1433, Ibn e Majah 1932] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1934)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1118
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، رمیصاء، یا غمیصاء اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر وہ کسی اور سے شادی کرلے اور وہ دوسرا شخص دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے لیے پہلے شوہر سے نکاح درست نہیں جب تک کہ دوسرے شوہر نے اس سے جماع نہ کرلیا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎ یعنی انہیں جماع کی قدرت نہیں ہے۔ ٢ ؎ «حتیٰ تذوقی عسیلتہ ویذوق عسیلتک» سے کنایہ جماع کی طرف ہے اور جماع کو شہد سے تشبیہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح شہد کے استعمال سے لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے اسی طرح جماع سے بھی لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٣ (٢٦٣٩)، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣)، سنن النسائی/النکاح ٤٣ (٣٢٨٥)، والطلاق ١٢ (٣٤٤٠)، ( تحفة الأشراف: ١٦٤٣٦)، مسند احمد ٦/٣٧)، سنن الدارمی/الطلاق ٤ (٢٣١٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الطلاق ٤ (٥٢٦)، و ٧ (٥٢٦٥)، و ٣٧ (٥٣١٧) واللباس ٦ ٥٧٩٢)، والأدب ٦٨ (٦٠٨٤)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن النسائی/الطلاق ٩ (٣٤٣٧)، و ١٠ (٢٤٣٨)، من غیر ہذا الوجہ۔
1119Sunan At-Tirmidhi

حلالہ کرنے اور کرانے والا

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ الْأَيَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ حَدِيثٌ مَعْلُولٌ، وَهَكَذَا رَوَى أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ: الشَّعْبِيُّ، عنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَائِمِ، لِأَنَّ مُجَالِدَ بْنَ سَعِيدٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا قَدْ وَهِمَ فِيهِ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَالْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، وغير واحد، عَنْالشَّعْبِيِّ، عنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے ١ ؎۔

Sayyidina jabir Ibn Abdullah (RA) and Sayyidina Ali (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ cursed the muhill and the muhallil (the one who considers the unlawful as lawful, or makes it lawful for the first husband, and the one who gets it done for himself). [Abu Dawud 2026, Ibn e Majah 1935] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1119
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی اور جابر ؓ کی حدیث معلول ہے، ٢- اسی طرح اشعث بن عبدالرحمٰن نے بسند «مجالد عن عامر هو الشعبي عن الحارث عن علي» روایت کی ہے۔ اور عامر الشعبی نے بسند «جابر بن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مجالد بن سعید کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے۔ انہی میں سے احمد بن حنبل ہیں، ٤- نیز عبداللہ بن نمیر نے اس حدیث کو بسند «مجالد عن عامر عن جابر بن عبد اللہ عن علي» روایت کی ہے، اس میں ابن نمیر کو وہم ہوا ہے۔ پہلی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٥- اور اسے مغیرہ، ابن ابی خالد اور کئی اور لوگوں نے بسند «الشعبی عن الحارث عن علی» روایت کی ہے، ٦- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «محلل» وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے، اور «محلل لہ» سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دی ہیں، اور طریقہ سے اپنی عورت سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں، حنفیہ اسے جائز کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف من حدیث جابر، ومن حدیث علی أخرجہ کل من: سنن ابی داود/ النکاح ١٦ (٢٠٧٦)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٣ (١٩٣٤)، ( تحفة الأشراف: ٢٣٤٨ و ١٠٠٣٤)، مسند احمد (١/٨٧) (صحیح) شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ جابر کی حدیث میں ” مجاہد “ اور علی ؓ کی حدیث میں ” حارث اعور “ ضعیف ہیں)
1120Sunan At-Tirmidhi

حلالہ کرنے اور کرانے والا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَغَيْرُهُمْ، وَهُوَ قَوْلُ: الْفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ: سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَ: وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ يَذْكُرُ، عَنْ وَكِيعٍ، أَنَّهُ قَالَ بِهَذَا، وقَالَ: يَنْبَغِي أَنْ يُرْمَى بِهَذَا الْبَابِ مِنْ قَوْلِ أَصْحَابِ الرَّأْيِ، قَالَ جَارُودُ: قَالَ وَكِيعٌ: وَقَالَ سُفْيَانُ: إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ لِيُحَلِّلَهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا حَتَّى يَتَزَوَّجَهَا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور کرانے والے (دونوں) پر لعنت بھیجی ہے۔

Muhmud ibn Ghaylan also reported this hadith. He reported from Abu Ahmad, from Sufyan, from Abu Qays, from Huzayl ibn Shurahbil who from Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA)that the Prophet ﷺ cursed one who makes lawful (a woman for her first husband and one who gets it done. [Nisai 3413]

صحيح انظر ما قبله (1119)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1120
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے کئی اور طرق سے بھی روایت کی گئی ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ جن میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، عبداللہ بن عمر وغیرہم ؓ بھی شامل ہیں۔ یہی تابعین میں سے فقہاء کا بھی قول ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، وکیع نے بھی یہی کہا ہے، ٤- نیز وکیع کہتے ہیں: اصحاب رائے کے قول کو پھینک دینا ہی مناسب ہوگا ١ ؎، ٥- سفیان ثوری کہتے ہیں: آدمی جب عورت سے نکاح اس نیت سے کرے کہ وہ اسے (پہلے شوہر کے لیے) حلال کرے گا پھر اسے اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھ لینا ہی بھلا معلوم ہو تو وہ اسے اپنی زوجیت میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اس سے نئے نکاح کے ذریعے سے شادی نہ کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اصحاب الرائے سے مراد امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نکاح حلالہ صحیح ہے گو حلال کرنے کی ہی نیت سے ہو۔ ان کی رائے کو چھوڑ دینا اس لیے مناسب ہے کہ ان کا یہ قول حدیث کے مخالف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ١٣ (٣٤٤٥)، (في سیاق طویل) ( تحفة الأشراف: ٩٥٩٥)، مسند احمد (١/٤٤٨، ٤٥٠، ٤٥١، ٤٦٢)، سنن الدارمی/النکاح ٥٣ (٢٣٠٤) (صحیح)
1121Sunan At-Tirmidhi

نکاح متعہ

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْءٌ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي الْمُتْعَةِ، ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ حَيْثُ أُخْبِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْرُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ١ ؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib reported that the Prophet ﷺ forbade Mutah (temporary marriage) of women, and the consuming of the flesh of domestic asses. This was during the Battle of Khaybar. [Bukhari 5115, Muslim 1406, Nisai 2262, Ibn e Majah 1961]

صحيح، ابن ماجة (1961)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1121
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سبرہ جہنی اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، البتہ ابن عباس سے کسی قدر متعہ کی اجازت بھی روایت کی گئی ہے، پھر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا جب انہیں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں اس کی خبر دی گئی۔ اکثر اہل علم کا معاملہ متعہ کی حرمت کا ہے، یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عورتوں سے مخصوص مدت کے لیے نکاح کرنے کو نکاح متعہ کہتے ہیں، پھر علی ؓ نے خیبر کے موقع سے گھریلو گدھوں کی حرمت کے ساتھ متعہ کی حرمت کا ذکر کیا ہے یہاں مقصد متعہ کی حرمت کی تاریخ نہیں بلکہ ان دو حرام چیزوں کا تذکرہ ہے متعہ کی اجازت واقعہ اوطاس میں دی گئی تھی۔ حرام ہوگیا، اور اب اس کی حرمت قیامت تک کے لیے ہے، ائمہ اسلام اور علماء سلف کا یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢١٦)، والنکاح ٣١ (٥١١٥)، والذبائح ٢٨ (٥٥٣٣)، والحیل ٤ (٦٩٦١)، صحیح مسلم/النکاح ٣ (١٤٠٧)، الصید والذبائح ٥ (١٤٠٧)، سنن النسائی/النکاح ٧١ (٣٣٦٧)، والصید ٣١ (٤٣٣٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٤ (١٩٦١)، موطا امام مالک/النکاح ٧١ (٤١)، مسند احمد (١/٧٩)، سنن الدارمی/النکاح ١٦ (٢٢٤٣) ویأتي عند المؤلف في الأطعمة ٦ (١٧٩٤) (صحیح)
1122Sunan At-Tirmidhi

نکاح متعہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ، فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ إِلا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ سورة المؤمنون آية 6 . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ متعہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ آدمی جب کسی ایسے شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنے قیام کی مدت تک کے لیے کسی عورت سے شادی کرلیتا۔ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی۔ اس کی چیزیں درست کر کے رکھتی۔ یہاں تک کہ جب آیت کریمہ «إلا علی أزواجهم أو ما ملکت أيمانهم» لوگ اپنی شرمگاہوں کو صرف دو ہی جگہ کھول سکتے ہیں، ایک اپنی بیویوں پر، دوسرے اپنی ماتحت لونڈیوں پر ، نازل ہوئی تو ابن عباس ؓ کہتے ہیں: ان دو کے علاوہ باقی تمام شرمگاہیں حرام ہوگئیں۔

Mahmud ibn Ghaylan reported from Sufyan ibn Uqbah (brother of Qabisah ibn Uqbah), from Sufyan Thawri, from Musa ibn Ubaydah, from Muhammad ibn Ka’b and he from lbn Abbas (RA) that he said, “Mutah was allowed in the beginning of Islam. If anyone travelled to a new place where he had no acquaintance then he took a wife there for as many days as he intended to stay there that she may take care of his property and serve him. This went on till this verse was revealed: Except in regard to their spouses or those whom their right hands possess. Thereafter, all sexual relationships beside these two became forbidden. --------------------------------------------------------------------------------

منكر، الإرواء (1903)، المشکاة (3158 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1122
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٤٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” موسیٰ بن عبیدہ “ ضعیف ہیں، نیز یہ شاذ بھی ہے، حافظ ابن حجر فتح الباری میں کہتے ہں ی: اس کی سند ضعیف ہے، اور یہ شاذ بھی ہے کیونکہ یہ متعہ کی اباحت کی علت کے خلاف ہے، فتح الباری ٩/١٤٨، حافظ ابن حجر بخاری کی اس روایت کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں جس میں ابو جمرہ کہتے ہیں: ” میں نے ابن عباس کو عورتوں سے متعہ کرنے کے سوال پر یہ سنا کہ آپ نے اس کی رخصت سنن الدارمی/ تو آپ کے غلام نے عرض کیا کہ یہ تو صرف سخت حالات اور عورتوں کی قلت کی بنا پر تھا یا اس طرح کی بات کہی تو ابن عباس نے کہا: ہاں، ایسا ہی ہے “ بخاری کی اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن عباس متعہ کی اباحت کے فتوے سے مطلقا رجوع ہوگئے تھے، اور اس کو مطلقا ناجائز کہتے تھے)۔
1123Sunan At-Tirmidhi

نکاح شغار کی ممانعت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ وَهُوَ الطَّوِيلُ، قَالَ: حَدَّثَالْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي رَيْحَانَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسلام میں نہ «جلب» ہے، نہ «جنب» ١ ؎ اور نہ ہی «شغار»، اور جو کسی کی کوئی چیز اچک لے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ said, There is no jalaba, no janaba and no shighar in Islam, and he who plunders is not one of us. [Ahmed 19876, Abu Dawud 2581, Nisai 3832]

صحيح، المشکاة (2947 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1123
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، ابوریحانہ، ابن عمر، جابر، معاویہ، ابوہریرہ، اور وائل بن حجر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «جلب» اور «جنب» کے دو مفہوم ہیں: ایک مفہوم کا تعلق زکاۃ سے ہے اور دوسرے کا گھوڑ دوڑ کے مقابلے سے۔ زکاۃ میں «جلب» یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے والا کافی دور قیام کرے اور صاحب زکاۃ لوگوں کو حکم دے کہ وہ اپنے جانور لے کر آئیں اور زکاۃ ادا کریں، یہ ممنوع ہے۔ زکاۃ وصول کرنے والے کو خود ان کی چراگاہوں یا پنگھٹوں پر جا کر زکاۃ کے جانور لینے چاہئیں۔ اس کے مقابلے میں جنب یہ ہے کہ صاحب زکاۃ اپنے اپنے جانور لے کر دور چلے جائیں تاکہ زکاۃ وصول کرنے والا ان کے ساتھ دوڑتا پھرے اور پریشان ہو۔ پہلی صورت یعنی «جلب» میں زکاۃ دینے والوں کو زحمت ہے اور دوسری صورت «جنب» میں زکاۃ وصول کرنے کو۔ لہٰذا یہ دونوں درست نہیں۔ گھوڑ دوڑ میں «جلب» اور «جنب» ایک دوسرے کے مترادف ہیں، مطلب یہ ہے کہ آدمی ایک گھوڑے پر سوار ہوجائے اور دوسرا تازہ دم گھوڑا ساتھ رکھے تاکہ درمیان میں جب یہ تھک جائے تو دوسرے تازہ دم گھوڑے پر سوار ہوجائے اور مقابلہ بہ آسانی جیت سکے۔ اس میں چونکہ ناانصافی اور دھوکہ ہے، لہٰذا اس معنی میں بھی «جلب» اور «جنب» درست نہیں ہے ( اور «شغار» کی تشریح خود مؤلف کے الفاظ میں اگلی حدیث کے ضمن میں آرہی ہے )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٧٠ (٢٥٨١)، مقتصرا علی قولہ ” لا جلب ولا جنب “ سنن ابی داود/ النکاح ٦٠ (٣٣٣٧)، والخیل ١٥ (٣٦٢٠)، و ١٦ (٣٦٢١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣ (٣٩٣٥)، مقتصرا علی قولہ ” من انتہب… “ ( تحفة الأشراف: ١٠٧٩٣) مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣٩) (صحیح)