ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے روز جنابت کے غسل کی طرح (یعنی خوب اہتمام سے) غسل کیا پھر نماز جمعہ کے لیے (پہلی گھڑی میں ) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، اور جو اس کے بعد والی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک گائے قربان کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک سینگوں والا مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک مرغی کا صدقہ کر کے اللہ کا تقرب حاصل کیا، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا تو گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر جب امام خطبہ کے لیے گھر سے نکل آیا تو فرشتے ذکر سننے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone had a bath on Friday, very well and goes to the mosque at the first time then it is as though he sacrificed a camel. Then, as for one who goes at the second moment, he is as though he secrificed a cow. As for one who goes at the third hour, he is as though he sacrificed a horned ram. As for him who goes at the fourth hour, he is as though he sacrificed a hen in Allah’s way. As for him who went at the fifth hour, he is as though he gave an egg for Allah’s sake. And when the imam comes to deliver the sermon the angels are occupied in listening to it.” [Ahmed9933, Bukhari 881, Muslim 850, Abu Dawud 351, Nisai 1384] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1092)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 499
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نام درج کرنے والا رجسٹر بند کر کے خطبہ سننے لگتے ہیں۔
ابوالجعد ضمری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جمعہ تین بار سستی ١ ؎ سے حقیر جان کر چھوڑ دے گا تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۔
Ubaydah ibn Sufyan reported on the authority of Sayyidina Abu Ja’d who, according to Muhammad ibn Umar, was a sahabi that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If anyone neglects Friday (salah) three times out of laziness then Allah puts a seal on his heart.” [Ahmed15498, Abu Dawud 1052, Nisai 1368, Ibn e Majah 1125] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، ابن ماجة (1125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 500
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوالجعد کی حدیث حسن ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ابوالجعد ضمری کا نام پوچھا تو وہ نہیں جان سکے، ٣- اس حدیث کے علاوہ میں ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، ٤- ہم اس حدیث کو صرف محمد بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل جمعہ چھوڑنا ایک خطرناک کام ہے، اس سے دل پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد اخروی کامیابی کی امید ختم ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢١٠ (١٠٥٢)، سنن النسائی/الجمعة ١ (١٣٦٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٣ (١١٢٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٨٣)، مسند احمد (٣/٤٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١٢) (حسن صحیح)
اہل قباء میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتا ہے - اس کے والد صحابہ میں سے ہیں - وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قباء سے آ کر جمعہ میں شریک ہوں۔ اس سلسلے میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔
Thuwayr reported from a man of Quba who from his father who was one of the Prophet’s companions that the Prophet ﷺ commanded them to present themselves from Quba for (the) Friday (salah).Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Friday (salah) is wajib on one who can return to his family by night.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد
ضعيف جدا، المشکاة (1386) // ضعيف الجامع الصغير (2661) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 501
میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا کہ ہم لوگ احمد بن حنبل کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ جمعہ کس پر واجب ہے؟ تو امام احمد نے اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز ذکر نہیں کی، احمد بن حسن کہتے ہیں: تو میں نے احمد بن حنبل سے کہا: اس سلسلہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، تو امام احمد نے پوچھا کیا نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں (نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے) ، پھر احمد بن حسن نے «حجاج بن نصير حدثنا معارک بن عباد عن عبد اللہ بن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جمعہ اس پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آسکے ، احمد بن حسن کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل مجھ پر غصہ ہوئے اور مجھ سے کہا: اپنے رب سے استغفار کرو، اپنے رب سے استغفار کرو۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 502
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں ہے، ٢- ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ اس پر فرض ہے جو رات کو اپنے گھر والوں تک پہنچ سکے ، اس حدیث کی سند ضعیف ہے، یہ حدیث معارک بن عباد سے روایت کی جاتی ہے اور معارک عبداللہ بن سعید مقبری سے روایت کرتے ہیں، یحییٰ بن سعید قطان نے عبداللہ بن سعید مقبری کی حدیث کی تضعیف کی ہے، ٣- اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ جمعہ کس پر واجب ہے، بعض کہتے ہیں: جمعہ اس شخص پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر پہنچ سکے اور بعض کہتے ہیں: جمعہ صرف اسی پر واجب جس نے اذان سنی ہو، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
احمد بن حنبل نے ایسا اس لیے کیا کہ انہوں نے اس حدیث کو کوئی حیثیت نہیں دی اور اسے کسی شمار میں نہیں رکھا، سند کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٦٩) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی ” رجل من اھل قباء “ مبہم ہے)
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٩٦٥) (ضعیف جداً ) (اس کے تین راوی ضعیف ہیں: عبداللہ بن سعید متروک، اور حجاج بن نصیر اور معارک دونوں ضعیف ہیں)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھجور کے ایک تنے پر (کھڑے ہو کر) خطبہ دیتے تھے، جب آپ ﷺ نے منبر بنا لیا تو وہ تنا رو پڑا یہاں تک کہ آپ اس کے پاس آئے اور اسے چمٹا لیا تو وہ چپ ہوگیا۔
Sayyidina lbn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ used to deliver the sermon standing by a trunk. When he took the pulpit (to deliver it), the trunk cried till he went to it and embraced it and it quietened down. [Bukhari 3583] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (2174)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 505
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، جابر، سہل بن سعد، ابی بن کعب، ابن عباس اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دیتے پھر (بیچ میں) بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، راوی کہتے ہیں: جیسے آج کل تم لوگ کرتے ہو۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ used to deliver a sermon on Friday, then sit down, and then get up and give a sermon. He said, ‘Like they do today.” [Ahmed5730, Nisai 861] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1002)، الإرواء (604)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 506
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور جابر بن سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہی اہل علم کی رائے ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرے۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتا تھا تو آپ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانا ہوتا تھا۔ (یعنی زیادہ لمبا نہیں ہوتا تھا)
Sayyidina Jabir ibn Samurah said, “I prayed with the Prophet ﷺ and indeed his prayer was moderate and his sermon was moderate. (That is, they were neither lengthy nor brief). [Ahmed2089, Muslim 866, Abu Dawud 1101, Nisai 1578, Ibn e Majah 1106] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1106)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 507
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر بن سمرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمار بن یاسر اور ابن ابی اوفی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر پڑھتے سنا: «ونادوا يا مالک» ١ ؎ اور وہ پکار کر کہیں گے اے مالک!
Safwan ibn Yala ibn Umayyah reported from his father that he heard the Prophet ﷺ recite on the minbar (pulpit) (the verse) “And they shall call out.....” (43:77) --------------------------------------------------------------------------------
١- یعلیٰ بن امیہ ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہی ابن عیینہ کی حدیث ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر بن سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے امام کے خطبہ میں قرآن کی کچھ آیتیں پڑھنے کو پسند کیا ہے ٢ ؎، شافعی کہتے ہیں: امام جب خطبہ دے اور اس میں قرآن کچھ نہ پڑھے تو خطبہ دہرائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: الزخرف: ٧٧ («مالک» جہنم کے دروغہ کا نام ہے جس کو جہنمی پکار کر کہیں گے کہ اپنے رب سے کہو کہ ہمیں موت ہی دیدے تاکہ جہنم کے عذاب سے نجات تو مل جائے، جواب ملے گا: یہاں ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے ) ٢ ؎: صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ جمعہ میں سورة ق پوری پڑھا کرتے تھے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بطور وعظ ونصیحت کے قرآن کی کوئی آیت پڑھنی چاہیئے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب منبر پر بیٹھتے تو ہم اپنا منہ آپ کی طرف کرلیتے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud narrated that when Allahs Messenger ﷺ sat down on the pulpit, they turned their faces towards him. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (2080)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 509
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- منصور کی حدیث کو ہم صرف محمد بن فضل بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- محمد بن فضل بن عطیہ ہمارے اصحاب کے نزدیک ضعیف اور ذاہب الحدیث ہیں، ٣- اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے روایت کی گئی کوئی چیز صحیح نہیں ہے ١ ؎، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ خطبے کے وقت امام کی طرف رخ کرنا مستحب سمجھتے ہیں اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٥- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سند کے لحاظ سے اس باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے لیکن متعدد احادیث وآثار سے اس مضمون کو تقویت مل جاتی ہے ( دیکھئیے الصحیحۃ رقم ٢٠٨٠) عام مساجد میں یہ چیز تو بہت آسان ہے لیکن خانہ کعبہ میں مشکل ہے، تو وہاں یہ بات معاف ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٤٥٧) (صحیح) (یہ سند سخت ضعیف ہے، اس لیے کہ اس میں راوی محمد بن فضل بن عطیہ کی لوگوں نے تکذیب تک کی ہے، لیکن براء بن عازب اور ابن عمر، انس اور ابو سعید خدری وغیرہ سے مروی شواہد کی بنا پر صحابہ کا یہ تعامل صحیح اور ثابت ہے تفصیل کے لیے دیکھئے: الصحیحة ٢٠٨٠)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا تو آپ نے اسے پوچھا: کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اٹھو اور (دو رکعت) نماز پڑھ لو ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated that while the Prophet ﷺ was delivering the sermon, a man came. So, he asked him, “Have you offered salah?” He said, “No!” The Prophet ﷺ said, ‘Get up and pray.” [Ahmed 14313, Bukhari 930, Muslim 875, Abu Dawud Nisai 1405]
صحيح، ابن ماجة (1112)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 510
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔
عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری ؓ جمعہ کے دن (مسجد میں) داخل ہوئے، مروان بن حکم خطبہ دے رہے تھے، وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، پہریدار آئے تاکہ انہیں بٹھا دیں لیکن وہ نہیں مانے اور نماز پڑھ ہی لی، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان کے پاس آ کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے قریب تھا کہ یہ لوگ آپ سے ہاتھا پائی کر بیٹھتے، تو انہوں نے کہا: میں تو یہ دونوں رکعتیں ہرگز چھوڑنے والا تھا نہیں، بعد اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص جمعہ کے دن پراگندہ حالت میں آیا، نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، اس نے دو رکعتیں پڑھیں اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ جب مسجد میں آتے اور امام خطبہ دے رہا ہوتا تو دو رکعتیں پڑھتے تھے، وہ اس کا حکم بھی دیتے تھے، اور ابوعبدالرحمٰن المقری بھی اسے درست سمجھتے تھے۔
lyad ibn Abdullah ibn Abu Sarh narrated that on a Friday, Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) enterred (the mosque) while Marwan was delivering a sermon. He stood up in prayer and the guards came to make him sit down but he did not cease till he had finished. When the prayer (of Friday) was over, the men met him and said “May Allah be Merciful to you”. These people had pressed you to sit down.” He said, “I would never have given them up (the two raka’at), having seen Allah’s Messenger He then mentioned that a man in dirty clothing came one Friday. The Prophet ﷺ commanded him to offer the two raka’at while he (the Prophet ﷺ SAW) was delivering the sermon. [Nisai 1404, Ibn e Majah 1113] --------------------------------------------------------------------------------
(حكاية عياض بن عبد اللہ بن أبي السرح عن أبي سعيد الخدري) حسن صحيح، (قول العلاء بن خالد القرشي عن الحسن البصري) ضعيف الإسناد، ابن ماجة (1113)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 511
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے سنا کہ سفیان بن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ ہیں اور حدیث میں مامون ہیں، ٣- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور سہل بن سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جب کوئی مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ بیٹھ جائے نماز نہ پڑھے، یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، ٥- پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت دو رکعت تحیۃ المسجد کی تاکید ثابت ہوتی ہے، اس باب میں اور بہت سی احادیث ہیں حتیٰ کہ تحیۃ المسجد کے لیے مکروہ اوقات کی بھی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ یہ سببی صلاۃ ہے، ہاں اگر کوئی ایسے وقت مسجد میں داخل ہو کہ جب کسی فرض وسنت صلاۃ کا وقت تھا تو فرض وسنت صلاۃ سے تحیۃ المسجد کی بھی ادائیگی ہو جائیگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٣٩ (١٦٧٥)، (مختصرا)، سنن النسائی/الجمعة ٢٦ (١٤٠٩)، والزکاة ٥٥ (٢٥٣٧)، ( تحفة الأشراف: ٤٢٧٢)، مسند احمد (٣/٢٥)، (کلہم بدون ذکر قصة مروان) (حسن صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران کسی سے کہا: چپ رہو تو اس نے لغو بات کی یا اس نے اپنا جمعہ لغو کرلیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger said, “If anyone says on Friday while the imam delivers the sermon, ‘Be quiet!’ then he has indulged in vain talk.” [Ahmed 7690, Bukhari 394, Muslim 851, Abu Dawud 1112, Nisai 1397] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 512
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن ابی اوفی اور جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر عمل ہے، علماء نے آدمی کے لیے خطبہ کے دوران گفتگو کرنا مکروہ جانا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی دوسرا گفتگو کرے تو اسے بھی منع نہ کرے سوائے اشارے کے، ٤- البتہ دوران خطبہ سلام کے جواب دینے اور چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمک الله» کہنے کے سلسلہ میں اختلاف ہے بعض اہل علم نے دوران خطبہ سلام کا جواب دینے اور چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمک الله» کہنے کی اجازت دی ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اسے مکروہ قرار دیا ہے، اور یہی شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے جمعہ کی فضیلت نہیں ملی بلکہ اس سے محروم رہا، یہ معنی نہیں کہ اس کی نماز ہی نہیں ہوئی کیونکہ اس بات پر اجماع ہے کہ اس کی نماز جمعہ ادا ہوجائے گی، البتہ وہ جمعہ کی فضیلت سے محروم رہے گا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطبہ جمعہ پورے انہماک اور توجہ سے سننا چاہیئے، اور خطبہ کے دوران کوئی ناروا حرکت نہیں کرنی چاہیئے۔
معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا ١ ؎۔
SahI ibn Muadh ibn Anas Juhanni reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “One who steps over men’s necks on Friday will be adopted as a bridge to hell.” [Ahmed 15609, Ibn e Majah 1116] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (1116) // ضعيف سنن ابن ماجة (230)، المشکاة (1392)، ضعيف الجامع الصغير (5516) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 513
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ترجمہ «اتّخَذَ» معروف کے صیغے کا ہے مشہور اعراب مجہول کے صیغے «اتُّخِذَ» کے ساتھ ہے، اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا کہ جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے گا وہ جہنم کا پل بنادیا جائے گا جس پر چڑھ کر لوگ جہنم کو عبور کریں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٨ (١١١٦)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٩٢)، مسند احمد (٣/٤٣٧) (حسن) (سند میں رشدین بن سعد اور زبان بن فائد دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی ٤٥، السراج المنیر ١٥١٢، والصحیحہ ٣١٢٢)
معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
SahI ibn Muadh reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ disallowed (the posture) habwah during the imams sermon. --------------------------------------------------------------------------------
حسن، المشکاة (1293)، صحيح أبي داود (1017)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 514
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- عام اہل علم نے جمعہ کے دن حبوہ کو مکروہ جانا ہے، اور بعض نے اس کی رخصت دی ہے، انہیں میں سے عبداللہ بن عمر وغیرہ ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ دونوں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حبوہ» ایک مخصوص بیٹھک کا نام ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ سرین پر بیٹھا جائے اور دونوں گھٹنوں کو کھڑا رکھا جائے اور انہیں دونوں ہاتھوں سے باندھ لیا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٤ (١١١٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٩٩)، مسند احمد (٣/٤٣٩) (حسن)
حصین کہتے ہیں کہ بشر بن مروان خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے دعا ١ ؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کو کہتے سنا: اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کو غارت کرے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں، اور ہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔
Ahmad ibn Mani reported from Hushaym who from Husayn that he heard Umarah ibn Ruwaybah say when Bishr ibn Marwan raised his hands in supplication while delivering the sermon, “May Allah spoil these two small hands! Indeed, I did not see Allah’s Messenger ﷺ gesture more than this.” And, Hushaym indicated with his fore-finger. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1012)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 515
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں «فی الدعاء» کا لفظ نہیں ہے، مولف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعا میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے، اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے دوران خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا، تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء ( بارش کے طلب ) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا، صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں (پہلی) اذان اس وقت ہوتی جب امام نکلتا اور (دوسری) جب نماز کھڑی ہوتی ١ ؎ پھر جب عثمان ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے زوراء ٢ ؎ میں تیسری اذان کا اضافہ کیا ٣ ؎۔
Sa’ib ibn Yazid narrated, “In the times of the Prophet ﷺ Abu Bakr (RA) and Umar (RA) the adhan (for Friday salah) was called when the imam came out Then the iqamah was called. Then when Uthman (RA) came, he added a third call from the top of az-Zawra (a wall in the markets of Madinah from which the mu’adhdhin called). [Ahmed 15228, Bukhari 912, Abu Dawud 1088, Nisai 1391, Ibn e Majah 1135] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1135)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 516
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں دوسری اذان سے مراد اقامت ہے۔ ٢ ؎: زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام تھا۔ ٣ ؎: عثمان ؓ نے مسجد سے دور بازار میں پہلی اذان دلوائی، اور فی زمانہ لوگوں نے یہ اذان مسجد کے اندر کردی ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اذان عثمان ؓ کی سنت ہے، اگر کہیں واقعی اس طرح کی ضرورت موجود ہو تو اذان مسجد سے باہر دی جائے، ویسے اب مائک کے انتظام اور اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں گھڑیوں کی موجودگی کے سبب اس طرح کی اذان کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی، جس ضرورت کے تحت عثمان ؓ یہ زائد اذان دلوائی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢)، و ٢٢ (٩١٣)، و ٢٤ (٩١٥)، و ٢٥ (٩١٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٢٥ (١٠٨٧)، سنن النسائی/الجمعة ١٥ (١٣٩٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٧ (١١٣٥)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٩٩)، مسند احمد (٣/٤٥٠) (صحیح)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ضرورت کی بات اس وقت کرتے جب آپ منبر سے اترتے۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that when the Prophet ﷺ got down from the pulpit, he did speak (to others) if there was need for it. [Ahmed 12286, Abu Dawud 1120, Nisai 1418, Ibn e Majah 1117]
شاذ، والمحفوظ الذي بعده .، ابن ماجة (1117)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 517
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ہم اس حدیث کو صرف جریر بن حازم کی روایت سے جانتے ہیں، اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جریر بن حازم کو اس حدیث میں وہم ہوا ہے، اور صحیح وہی ہے جو بطریق: «ثابت عن أنس» مروی ہے، انس ؓ کہتے ہیں کہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑا تو آپ برابر اس سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ بعض لوگوں کو اونگھ آنے لگی۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: حدیث یہی ہے، اور جریر کو کبھی کبھی وہم ہوجاتا ہے حالانکہ وہ صدوق ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ جریر بن حازم کو ثابت کی حدیث میں (بھی) جسے ثابت نے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے وہم ہوا ہے (جو یہ ہے کہ) آپ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: نیز حماد بن زید سے روایت کی جاتی ہے کہ ہم لوگ ثابت بنانی کے پاس تھے، اور حجاج صواف نے یحییٰ ابن ابی کثیر کے واسطہ سے حدیث بیان کی، جسے یحییٰ نے عبداللہ بن ابوقتادہ سے اور عبداللہ نے اپنے والد ابوقتادہ سے اور ابوقتادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو چناچہ جریر کو وہم ہوا، انہیں گمان ہوا کہ ثابت نے ان سے بیان کیا ہے اور ثابت نے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٠ (١١٢٠)، سنن النسائی/الجمعة ٣٦ (١٤٢٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٩ (١١١٧)، ( تحفة الأشراف: ٢٦٠)، مسند احمد (٣/١٢٧) (شاذ) (جریر سے وہم ہوا ہے، واقعہ عشاء کا ہے، نہ کہ جمعہ کا، جیسا کہ مسلم کی حدیث نمبر ٣٧٠ میں ہے)
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان نے ابوہریرہ ؓ کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ ؓ نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے (پہلی رکعت میں) سورة الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءک المنافقون»، عبیداللہ کہتے ہیں: تو میں ابوہریرہ ؓ سے ملا، میں نے ان سے کہا: آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی ؓ کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے سنا ہے۔
Sayyidina Ubaydulah ibn Abu Rafi (RA) freedom of Allah’s Messenger ﷺ narrated that Marwan appointed Sayyidina Abu Hurairah (RA) ,- as his deputy in Madinah and himself went away to Makkah. “So, Abu Hurairah (RA) led us in the Friday prayer, reciting surah al-Jumu’ah in the first raka’ah and al-Munafiqun in the second.” He said that he then met Abu Hurairah (RA) and said to him, “You recited these two surah which Ali recites in Kufah.” He said, “I have heard Allah’s Messenger recite them.” [Ahmed 9554, Muslim 877, Abu Dawud 1121, Ibn e Majah 1118] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1118)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 519
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «هل أتاک حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٢ (١١٢٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٠ (١١١٨)، ( تحفة الأشراف: ١٤١٠٤) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل السجدةَ»، «هل أتى علی الإنسان» پڑھتے تھے۔
Sayyidiha Urn Abba reported that on Friday. Allah’s Messenger ﷺ used to recite in the saiah of fajr surah as-Sajdah and surah ad Dahr [Ahmed 3160; Muslim 879, Abu Dawud 1074, Nisai 952, Ibn e Majah 829] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (821)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 520
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد، ابن مسعود اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- سفیان ثوری، شعبہ اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث مخول بن راشد سے روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعت (سنت) پڑھتے تھے ١ ؎۔
Saalim reported from his father from the Prophet ﷺ that he offered two raka’at after Friday salah. [Ahmed 591, Muslim 882, Ibn e Majah 1131]
صحيح، ابن ماجة (1131)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 521
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- یہ حدیث بطریق «نافع عن ابن عمر» ہے، ٤- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، اور یہی شافعی اور احمد بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں جمعہ کے بعد صرف دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے، اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت آئی ہے جس میں چار رکعتیں پڑھنے کا حکم ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں صورتیں جائز ہیں، بعض علماء نے یہ تطبیق دی ہے کہ مسجد میں پڑھنے والا چار رکعت پڑھے، اور گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے کچھ لوگ چھ رکعت کے قائل ہیں، لیکن کسی بھی صحیح مرفوع روایت سے یہ ثابت نہیں کہ کس طرح پڑھی جائے، اس میں بھی اختلاف ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاروں رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائیں اور بعض کا کہنا ہے کہ دو دو کر کے چار رکعت پڑھی جائیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ دو دو کر کے پڑھی جائیں کیونکہ صحیح حدیث میں ہے «صلاۃ اللیل والنہار مثنیٰ مثنیٰ» رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔