نافع سے روایت ہے ابن عمر ؓ جب جمعہ پڑھ لیتے تو (گھر) واپس آتے اور دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے پھر کہتے رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
Nafi reported from Sayyldina lbn Umar (RA) that after he had offered the Friday salah, he offered, at home two raka’at. And he said afterwards, The Prophet ﷺ used to do it.” [Ahmed 6063, Muslim 822, Ibn e Majah 1130]
صحيح، ابن ماجة (1130)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 522
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو تم میں سے جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چاہیئے کہ چار رکعت پڑھے ۔
Sayyidina Abe Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone of you will pray after the Friday prayer then let him pray four raka’at.” [Ahmed 7404, Muslim 881, Nisai 713, Ibn e Majah 1133] --------------------------------------------------------------------------------
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز میں ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “If anyone gets one raka’ah of salah (with congregation) then he got the salah.” [Ahmed 2669, Bukhari 580, Muslim 607, Abu Dawud 1121, Nisai 49, Ibn e Majah 1122] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 524
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی تو وہ دوسری رکعت (خود سے) پڑھ لے اور جس نے لوگوں کو سجدے میں پایا تو وہ چار رکعت (ظہر کی نماز) پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جماعت کی فضیلت اس نے پالی، یا اس نے نماز کا وقت پا لیا، اس کے عموم میں جمعہ کی نماز بھی داخل ہے، اس لیے جمعہ کی دو رکعتوں میں اگر کوئی ایک رکعت بھی پالے تو گویا اس نے پوری نماز جمعہ جماعت سے پالی۔ ٢ ؎: کیا نماز جمعہ میں امام کے ساتھ دوسری رکعت کے کسی بھی حصے میں شامل ہونے والا ظہر کی پوری چار رکعت پڑھے گا یا صرف دو رکعت مکمل کرے گا؟ اس موضوع پر تفصیل جاننے کے لیے قول ثابت اردو شرح مؤطا امام مالک کی کتاب وقوف الصلاۃ کے باب وقت الجمعۃ کا مطالعہ کرلیں، بموجب صحیح مسلک بالاختصار یہ ہے کہ ایسا مقتدی دو رکعت ہی پڑھے، چار نہیں۔
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمعہ کے بعد ہی کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔
Sayyidina Sahi ibn Sa’d (RA) narrated ‘We did not eat (our meal) nor had a short nap in the times of Allah’s Messener ﷺ but after Friday salah. [Ahmed 22910, Bukhari 939, 859, Bukhari 1086, Ibn e Majah 1099] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1099)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 525
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سہل بن سعد کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٤٠ (٩٣٩)، والحرث ٢١ (٢٣٤٩)، والاطعمة ١٧ (٥٤٠٣)، والاستئذان ١٦ (٦٢٤٨)، و ٣٩ (٦٢٧٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٤ (١٠٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٤٦٩٨)، مسند احمد (٥/٣٣٦) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اونگھے تو اپنی جگہ بدل دے ۔
Sayyidiha lbn tJmár narrated that the Prophet ﷺ said,”Tf anyone dozes off on Friday then he must get up from his place and sit elsewhere. [Ahmed4841, Abu Dawud 1119] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1025)، التعليق علی ابن خزيمة (1819)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 526
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٩ (١١١٩)، ( تحفة الأشراف: ٨٤٠٦)، مسند احمد (٢/٢٢، ١٣٥) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو ایک سریہ میں بھیجا، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا، ان کے ساتھی صبح سویرے روانہ ہوگئے، انہوں نے (اپنے جی میں) کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہوں۔ پھر میں ان لوگوں سے جا ملوں گا، چناچہ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: تمہیں کس چیز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانے سے روک دیا؟ ، عرض کیا: میں نے چاہا کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر میں ان سے جا ملوں گا۔ آپ نے فرمایا: اگر تم جو کچھ زمین میں ہے سب خرچ کر ڈالو تو بھی ان کے صبح روانہ ہونے کا ثواب نہیں پاس کو گے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ sent Abdullah ibn Rawahah on an expedition (with an army) and that happened to be a Friday. While his companions departed in the morning, he said, “I will stay behind, pray. (the Friday) with Allah’s Messenger then join them.” When h prayed with the Prophet ﷺ he saw him and asked, “What prevented you from going with your companions,” He said, “I intended to pray with you and then join them.” He (the Prophet) said,” If you were to spend all that is on earth (in charity), ou would not attain the excellence of their morning departure.” [Ahmed 2317] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 527
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم صرف اسی سند سے اسے جانتے ہیں، ٢- یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ کہتے ہیں کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ حدیثیں سنی ہیں اور شعبہ نے انہیں گن کر بتایا تو یہ حدیث شعبہ کی گنی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی۔ گویا حکم نے یہ حدیث مقسم سے نہیں سنی ہے، ٣- جمعہ کے دن سفر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے جمعہ کے دن سفر پر نکلنے میں کوئی حرج نہیں جانا ہے جب کہ نماز کا وقت نہ ہوا ہو اور بعض کہتے ہیں، جب جمعہ کی صبح ہوجائے تو جمعہ پڑھے بغیر نہ نکلے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے سفر کی مشروعیت پر دلالت کر رہی ہے، لیکن ضعیف ہے، مگر جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے خاص طور پر زوال کے بعد سفر سے ممانعت کی کوئی صحیح حدیث وارد بھی نہیں ہے اس لیے اس بابت علماء میں اختلاف ہے کہ کیا بہتر ہے؟ دونوں طرف لوگ گئے ہیں جس کا تذکرہ مولف نے کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: مسند احمد (١/٢٢٤)، ( تحفة الأشراف: ٦٤٧١) (ضعیف الإسناد) (حکم نے یہ حدیث مقسم سے نہیں سنی ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے)
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کریں اور ہر ایک اپنے گھر والوں کی خوشبو میں سے خوشبو لگائے، اگر اسے خوشبو میسر نہ ہو تو پانی ہی اس کے لیے خوشبو ہے ۔ اس باب میں ابوسعید ؓ اور ایک انصاری شیخ سے بھی روایت ہے۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is the duty of every Muslim that he should have a bath on Friday and apply from the perfume of his house. But if he cannot get it then water is perfume for him.”
ضعيف، المشکاة (1400) // ضعيف الجامع الصغير (2737) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 528
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر مسند احمد (٤/٢٨٢، ٢٨٣) (تحفة الأشراف: ١٧٨٧) (ضعیف) (سند میں اسماعیل التیمی اور یزید بن ابی زیاد دونوں ضعیف راوی ہیں)
Ahmad ibn Mani’ reported from Hushaym and he from Yazid ibn Abu Ziyad a hadith like it. [Ahmed 18514]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- براء ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- ہشیم کی روایت (رقم ٥٢٩) اسماعیل بن ابراہیم تیمی کی روایت (رقم ٥٢٨) سے زیادہ اچھی ہے، ٣- اسماعیل بن ابراہیم تیمی کو حدیث کے سلسلے میں ضعیف گردانا جاتا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن یزید بن ابی زیاد جن پر اس حدیث کا دارومدار ہے خود ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف) (اس کے راوی ” یزید بن ابی زیاد “ ضعیف ہیں)
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ عید کے لیے پیدل جانا اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے۔
Sayyidina Ali narrated that it is the sunnah (Prophets practice) to walk up to the place ofeidprayer and to eat somethhlg before going out (of the home). --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (1294 - 1297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 530
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے وہ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی عید کے لیے پیدل جائے اور عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کچھ کھالے، ٣- مستحب یہ ہے کہ آدمی بلا عذر سوار ہو کر نہ جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٦١ (الشق الأول فقط ) ( تحفة الأشراف: ١٠٠٤٢) (حسن) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور اس کے بعد خطبہ دیتے تھے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that AlIahs Messenger ﷺ , Abu Bakr (RA) , and Umar (RA) prayed the salah of the two eid days before sermon. Then they delivered the sermon. [Ahmed4602, Bukhari 83, Muslim 888, Ibn e Majah 1276] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1276)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 531
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہوگی، ٤- اور کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا وہ مروان بن حکم تھا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مگر ایک صحابی رسول ﷺ نے اسے اس بدعت کی ایجاد سے روک دیا تھا ؓ وارضاہ۔
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عیدین کی نماز ایک اور دو سے زیادہ بار یعنی متعدد بار بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھی ہے۔
Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) narrated that he prayed the eid prayer with the Prophet ﷺ more than once or twice without adhan or iqamah. [Ahmed20891, M887, Abu Dawud 1148] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، صحيح أبي داود (1042)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 532
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر بن سمرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ عیدین کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جائے گی اور نہ نوافل میں سے کسی کے لیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العیدین (٨٨٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٥٠ (١١٤٨)، ( تحفة الأشراف: ٢١٦٦)، مسند احمد (٥/٩١) (حسن صحیح)
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «هل أتاک حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔
Sayyidina Numan him Bashir (RA) narrated that the Prophet ﷺ recited in (the salah of) eid and Friday the surah al-Ala and al-Ghasbiyah Ifeidfell on Friday then he recited both surah (in both prayers). [Muslim 62]
صحيح، ابن ماجة (1119)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 533
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو واقد، سمرہ بن جندب اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی طرح سفیان ثوری اور مسعر نے بھی ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٤- رہے سفیان بن عیینہ تو ان سے روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان کی ایک سند یوں ہے: «عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حبيب بن سالم عن أبيه عن النعمان بن بشير» اور ہم حبیب بن سالم کی کسی ایسی روایت کو نہیں جانتے جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہو۔ حبیب بن سالم نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے نعمان بن بشیر سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور ابن عیینہ سے ابراہیم بن محمد بن منتشر کے واسطہ سے ان لوگوں کی طرح بھی روایت کی گئی ہے ٢ ؎ اور نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں «سورة ق» اور «اقتربت الساعة» پڑھتے تھے ٣ ؎ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سند میں حبیب بن سالم اور نعمان بن بشیر کے درمیان حبیب کے والد کا اضافہ ہے، جو صحیح نہیں ہے۔ ٢ ؎: یعنی: بغیر «عن أبیہ» کے اضافہ کے، یہ روایت آگے آرہی ہے۔ ٣ ؎: اس میں کوئی تضاد نہیں، کبھی آپ یہ سورتیں پڑھتے اور کبھی وہ سورتیں، بہرحال ان کی قراءت مسنون ہے، فرض نہیں، لیکن ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کی طرح ان مسنون سورتوں کو پڑھے ہی نہیں۔ مسنون عمل کو بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٢ (١١٢٢)، سنن النسائی/الجمعة ٤٠ (١٤٢٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٠ (١١٢٠)، و ١٥٧ (١٢٨١)، موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٦١٢)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٣ (١٦٠٩) (صحیح)
عمرو بن عوف مزنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عیدین میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔
Kathir ibn Abdullah reported from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ called in the salah of the eeds seven takbirs before recital in the first raka;ah and five in the second before recital. [Ibn e Majah 1277]
صحيح، ابن ماجة (1279)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 536
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- کثیر کے دادا کی حدیث حسن ہے اور یہ سب سے اچھی روایت ہے جو نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں روایت کی گئی ہے۔ ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- اور ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے مدینے میں اسی طرح یہ نماز پڑھی، ٥- اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٦- عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے عیدین کی تکبیروں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ نو تکبیریں ہیں۔ پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہے ١ ؎ اور دوسری رکعت میں پہلے قرأت کرے پھر رکوع کی تکبیر کے ساتھ چار تکبیریں کہے ٢ ؎ کئی صحابہ کرام سے بھی اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ اہل کوفہ کا بھی قول یہی ہے اور یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ پانچ، یعنی پہلی میں چار زائد تکبیریں۔ ٢ ؎: یہ کل سات تکبیریں زائد ہوئیں اس کی سند ابن مسعود ؓ تک صحیح ہے، لیکن یہ موقوف ہے خود آپ ﷺ کا عمل بارہ زوائد تکبیرات پر تھا، ولنا المرفوع۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٦ (١٢٧٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٧٧٤) (صحیح) (سند میں کثیر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے: صحیح أبی داود ١٠٤٥-١٠٤٦، والعیدین ٢٦/٩٨٩)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کے دن نکلے، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ نے نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ came out on the eid ul Fitr and prayed two raka’at He did not pray any salah before it or after it [Ahmed2332 Bukhari 964 Muslim 884 Abu Dawud 1159 Nisai 1583 Ibn e Majah 1291]
صحيح، ابن ماجة (1291)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 537
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو اور ابوسعید سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ عیدین کی نماز کے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٤)، و ٢٦ (٩٨٩)، والزکاة ٢١ (٤٣١)، واللباس ٥٧ (٥٨٨١)، و ٥٩ (٥٨٨٣)، صحیح مسلم/العیدین ٢ (١٣/٨٨٤)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٥٦ (١١٥٩)، سنن النسائی/العیدین ٢٩ (١٥٨٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٦٠ (١٢٩١)، ( تحفة الأشراف: ٥٥٥٨)، مسند احمد (١/٣٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٩ (١٦٤٦) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ عید کے دن نکلے تو انہوں نے نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد اور ذکر کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسے ہی کیا ہے۔
It is reported that Sayyidina lbn Umar (RA) came out (of his home) to pray the eid saiah and did not pray any prayer before or after theeidsalah.’He said, ‘The Prophet ﷺ did like that. [Ahmed5212] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، الإرواء (3 / 99)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 538
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں کنواری لڑکیوں، دوشیزاؤں، پردہ نشیں اور حائضہ عورتوں کو بھی لے جاتے تھے۔ البتہ حائضہ عورتیں عید گاہ سے دور رہتیں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہتیں۔ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس کی بہن کو چاہیئے کہ اسے اپنی چادروں میں سے کوئی چادر عاریۃً دیدے ١ ؎۔
Sayyidah Umm Atiyah reported that Allah’s Messenger -L would instruct unmarried girls, young women, those observing the veil and the menstruating women to come out to theeidprayers. As for the menstruating women, they stood away from the place of prayer and joined the supplication of the Muslims. One of them asked, “O Messenger of Allah, if one does not have a veil?” He said, “Her sister may lend her, her own veil.” [Ahmed20815, Bukhari 971, Ibn e Majah 1307, Muslim 890, Abu Dawud 138, Nisai 1555]
صحيح، ابن ماجة (1307 و 1308)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 539
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کو نماز عید کے لیے عید گاہ لے جانا مسنون ہے، جو لوگ اس کی کراہت کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں: یہ ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے تاکہ اہل اسلام کی تعداد زیادہ معلوم ہو اور لوگوں پر ان کی دھاک بیٹھ جائے، لیکن یہ تاویل صحیح نہیں کیونکہ ابن عباس ؓ سے بھی اس طرح کی روایت آتی ہے اور وہ کمسن صحابہ میں سے ہیں، ظاہر ہے ان کی یہ گواہی فتح مکہ کے بعد کی ہوگی جس وقت اظہار قوت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب عید کے دن ایک راستے سے نکلتے تو دوسرے سے واپس آتے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ took one road for the eid salah, he returned by other than it. [Ahmed8462, Ibn e Majah 1301] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1301)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 541
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر اور ابورافع ؓ سے احادیث آئی ہیں، ٣- ابوتمیلہ اور یونس بن محمد نے یہ حدیث بطریق: «فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبدالله» کی ہے، ٤- بعض اہل علم نے اس حدیث کی پیروی میں امام کے لیے مستحب قرار دیا ہے کہ جب ایک راستے سے جائے تو دوسرے سے واپس آئے۔ شافعی کا یہی قول ہے، اور جابر کی حدیث (بمقابلہ ابوہریرہ) گویا زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی پیروی میں مسلمانوں کو بھی راستہ تبدیل کر کے آنا جانا چاہیئے، کیونکہ اس سے ایک تو اسلام کی شان وشوکت کا مظاہرہ ہوگا دوسرے قیامت کے دن یہ دونوں راستے ان کی اس عبادت کی گواہی دیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف من حدیث ابی ہریرة واخرجہ فی العیدین ٢٤ (٩٨٦) بنفس الطریق لکنہ من حدیث جابر، وقال حدیث جابر أصح (ای من حدیث ابی ہریرة) ( تحفة الأشراف: ١٢٩٣٧) (صحیح)
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔
Abdullah ibn Buraydah (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ , d- did not go out for the salah ofeidul-fitr till he had eaten (something) but he did not eat (anything) oneidul-adha till he had prayed. (Ahmed23041 Ibn e Majah 1757]
صحيح، ابن ماجة (1756)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 542
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بریدہ بن حصیب اسلمی ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ثواب بن عتبہ کی اس کے علاوہ کوئی حدیث مجھے نہیں معلوم، ٣- اس باب میں علی اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے کہ آدمی عید الفطر کی نماز کے لیے کچھ کھائے بغیر نہ نکلے اور اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ کھجور ١ ؎ کا ناشتہ کرے اور عید الاضحی کے دن نہ کھائے جب تک کہ لوٹ کر نہ آ جائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں نے پتہ نہیں کہاں سے یہ حتمی رواج بنا ڈالا ہے کہ سوئیاں کھا کر عید گاہ جاتے ہیں، اور آ کر بھی کھاتے کھلاتے ہیں، اس رواج کی اس حد تک پابندی کی جاتی ہے کہ عیدالفطر اور سوئیاں لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں، جیسے عید الاضحی میں گوشت، اس حد تک پابندی بدعت کے زمرے میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٩ (١٧٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٤) (صحیح)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں کھالیتے تھے۔
Sayyidina Anas ibn Maahk (RA) narrated that the Prophet ﷺ had a breakfast of dates oneidul-fitr before going to the place ofeidsalah. [Ahmed1227O Ibn e Majah 17054]
صحيح، ابن ماجة (1754)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 543