Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 127 of 199

2586Sunan At-Tirmidhi

دوزخیوں کے مشروبات کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغَصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ، فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ، فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ، فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قَطَّعَتْ مَا فِي بُطُونِهِمْ، فَيَقُولُونَ: ادْعُوا خَزَنَةَ جَهَنَّمَ، فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، قَالُوا: بَلَى، قَالُوا: فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: ادْعُوا مَالِكًا فَيَقُولُونَ: يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ سورة الزخرف آية 77، قَالَ: فَيُجِيبُهُمْ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ سورة الزخرف آية 77 ، قَالَ الْأَعْمَشُ: نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَبَيْنَ إِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ 106 رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ 107 سورة المؤمنون آية 106-107 قَالَ: فَيُجِيبُهُمْ اخْسَئُوا فِيهَا وَلا تُكَلِّمُونِ سورة المؤمنون آية 108 قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالنَّاسُ لَا يَرْفَعُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: إِنَّمَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَوْلَهُ: وَلَيْسَ بِمَرْفُوعٍ، وَقُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنمیوں پر بھوک مسلط کردی جائے گی اور یہ عذاب کے برابر ہوجائے گی جس سے وہ دوچار ہوں گے، لہٰذا وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی «ضريع» (خاردار پودا) کے کھانے سے کی جائے گی جو نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ ان کی بھوک ختم کرے گا، پھر وہ دوبارہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی گلے میں اٹکنے والے کھانے سے کی جائے گی، پھر وہ یاد کریں گے کہ دنیا میں اٹکے ہوئے نوالے کو پانی کے ذریعہ نگلتے تھے، چناچہ وہ پانی کی فریاد کریں گے اور ان کی فریاد رسی «حميم» (جہنمیوں کے مواد) سے کی جائے گی جو لوہے کے برتنوں میں دیا جائے گا جب مواد ان کے چہروں سے قریب ہوگا تو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور جب ان کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا، وہ کہیں گے: جہنم کے داروغہ کو بلاؤ، داروغہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس رسول روشن دلائل کے ساتھ نہیں گئے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، داروغہ کہیں گے: پکارتے رہو، کافروں کی پکار بیکار ہی جائے گی ۔ آپ نے فرمایا: جہنمی کہیں گے: مالک کو بلاؤ اور کہیں گے: اے مالک!چاہیے کہ تیرا رب ہمارا فیصلہ کر دے (ہمیں موت دیدے) ، آپ نے فرمایا: ان کو مالک جواب دے گا: تم لوگ (ہمیشہ کے لیے) اسی میں رہنے والے ہو ۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا کہ ان کی پکار اور مالک کے جواب میں ایک ہزار سال کا وقفہ ہوگا، آپ نے فرمایا: جہنمی کہیں گے: اپنے رب کو پکارو اس لیے کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ہے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے اوپر شقاوت غالب آ گئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے، اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم پھر ویسا ہی کریں گے تو ظالم ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ انہیں جواب دے گا: پھٹکار ہو تم پر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو ، آپ نے فرمایا: اس وقت وہ ہر خیر سے محروم ہوجائیں گے اور اس وقت گدھے کی طرح رینکنے لگیں گے اور حسرت و ہلاکت میں گرفتار ہوں گے ۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said:"The people of Hell will be made to suffer hunger so that it will complement their punishment which they are suffering. So, they will beg for help and will be helped with dari (dried thorn and plants which are very bitter) that will neither fatten them nor remove hunger. They will again seek with food and will be given such food as will not go down their throat. They will recall that they used to gulp such food down with water in the world. So, they will seek water and hamim (hot water) will be handed over to them in glasses of iron. When it is brought near their mouths, it will scorch their faces and when the water goes into their bellies, it will cut off whatever is inside.They will say, “Call the guards of Hell.” They will ask, “Did not Messengers come to you with clear signs.” They will confirm, “Certainly.” They will say, “Then go on pray yourselves, for, praying of the disbelivers is only in error.” They will then say, “Call Malik” and will cry, "O Keeper! Let your Lord make an end of us.”They will be told “Surely you shall tarry (here).”

ضعيف، المشکاة (5686)، التعليق الرغيب (4 / 236) // ضعيف الجامع الصغير (6444) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2586
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کہتے ہیں: لوگ اس حدیث کو مرفوعاً نہیں روایت کرتے ہیں، ٢ - ہم اس حدیث کو صرف «عن الأعمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء» کی سند سے جانتے ہیں جو ابودرداء کا اپنا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٩٨٤) (ضعیف) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں )
2587Sunan At-Tirmidhi

دوزخیوں کے مشروبات کے متعلق

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ سورة المؤمنون آية 104، قَالَ: تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْهَيْثَمِ اسْمُهُ: سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيُّ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس آیت کریمہ «وهم فيها کالحون» کافر جہنم کے اندر بد شکل ہوں گے (المؤمنون: ١٠٤ ) کے بارے میں فرمایا: ان کے چہروں کو آگ جھلس دے گی تو ان کے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر بیچ سر تک پہنچ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف سے جا لگے گا ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said about (the verse) "While they shall be glum therein.(23:104) that the fire will roast them so that their upper lips will retract and come to the middle of their heads, and their lower lips will hang down to their navels." [Ahmed 11836]

ضعيف، المشکاة (5684) // سيأتي (621 - 3402) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2587
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٦١)، ویأتي في تفسیر المؤمنون (٣١٧٦) (ضعیف) (سند میں دراج ابو السمح ضعیف راوی ہیں )
2588Sunan At-Tirmidhi

دوزخیوں کے مشروبات کے متعلق

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ رُصَاصَةً مِثْلَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ الْجُمْجُمَةِ أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ هِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتَ الْأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ، وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ أَصْلَهَا أَوْ قَعْرَهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ مِصْرِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس کے برابر ایک ٹکڑا (اور آپ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا) آسمان سے زمین کی طرف جو پانچ سو سال کی مسافت ہے، چھوڑا جائے تو زمین پر رات سے پہلے پہنچ جائے گا اور اگر وہی ٹکڑا زنجیر (جس کا ذکر) قرآن میں آیا ہے:«ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعا فاسلکوه» (الحاقة: ٣٢ ) کے سر سے چھوڑا جائے تو اس زنجیر کی جڑ یا اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال رات اور دن کے گزر جائیں ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr al-Aas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said pointing to the skull, “If a piece of lead like this is dropped from heaven towards earth on a journey of five hundred years it would come to earth before night. But, if it were dropped from one end of the chain then it would be in motion for forty years, day and night, before touching its root or its bottom.” [Ahmed 6873]

ضعيف، المشکاة (5688)، التعليق الرغيب (4 / 232) // ضعيف الجامع الصغير (4805) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2588
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے، ٢ - سعید بن یزید مصری ہیں۔ ان سے لیث بن سعد اور کئی ائمہ نے حدیث روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٩١٠) (ضعیف) (سند میں دراج ابو السمح ضعیف راوی ہیں )
2589Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَارُكُمْ هَذِهِ الَّتِي يُوِقِدُ بَنُو آدَمَ جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ ، قَالُوا: وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ هُوَ أَخُو وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ وَهْبٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری (دنیا کی) آگ جسے تم جلاتے ہو جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ٹکڑا (حصہ) ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر یہی آگ رہتی تو کافی ہوتی، آپ نے فرمایا: وہ اس سے انہتر حصہ بڑھی ہوئی ہے، ہر حصے کی گرمی اسی آگ کی طرح ہے ۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “This your the children of Aadam kindle is one part of the seventy parts of the heat of Paradise.” They (the Sahabah) asked, “By Allah, but this (itself) was enough,O Messenger of Allah.” He said, (than that) by sixty-nine parts, each of which is like the heat (of the earthly fire).” [Muslim 2843, Ahmed 8132]

صحيح، التعليق الرغيب (4 / 226)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2589
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٦٩٠) (صحیح )
2590Sunan At-Tirmidhi

اسی کے متعلق

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنِ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَارُكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ لِكُلِّ جُزْءٍ مِنْهَا حَرُّهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اس کے ہر حصے کی گرمی اسی طرح ہے ۔

Sayyidina Abu Saeed(RA) reported that the Prophet ﷺ said, “This, your fire is one part of the seventy parts of the fire of Hell, every part of it being as hot as your fire.”

صحيح بما قبله (2589)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2590
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابوسعید کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٢٣) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
2591Sunan At-Tirmidhi

اسی کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ هُوَ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ .

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہنم کی آگ ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہوگئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، اب وہ سیاہ ہے اور تاریک ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, the Fire (of Hell) was kindled for a thousand years till it became red. Then, it was kindled for a thousand years till it turned white. Then, it was kindled for a thousand years till it was black and dark.”

ضعيف، ابن ماجة (4320) // ضعيف سنن ابن ماجة (941)، ضعيف الجامع الصغير نحوه برقم (2125) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2591
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٨ (٤٣٢٠) (تحفة الأشراف: ١٢٨٠٧) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے کمزور راوی ہیں )
2592Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، وَقَالَتْ: أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ: نَفَسًا فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسًا فِي الصَّيْفِ، فَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الشِّتَاءِ فَزَمْهَرِيرٌ، وَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الصَّيْفِ فَسَمُومٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَلِكَ الْحَافِظِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھائے جا رہا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو سانسیں مقرر کردیں: ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس جاڑے میں، جہنم کے جاڑے کی سانس سے سخت سردی پڑتی ہے۔ اور اس کی گرمی کی سانس سے لو چلتی ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said ,"Hell complained to its Lord, saying, “Parts of me devour other parts.” So, He let it have two exhalations, one in winter and another in summer. Hence, its exhalation in winter causes severe cold and its exhalation in summer causes severe heat.” [Ahmed 7251,Ibn e Majah 4319]

صحيح، ابن ماجة (4319)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2592
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ٣ - مفضل بن صالح محدثین کے نزدیک کوئی قوی حافظے والے نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٩ (٥٣٧)، وبدء الخلق ١٠ (٣٢٦٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٧)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٨ (٤٢١٩) (تحفة الأشراف: ١٢٤٦٣)، وط/وقوت ٨ (٢٨)، و مسند احمد (٢/٢٣٨، ٢٧٧، ٤٦٢، ٥٠٣)، وسنن الدارمی/الرقاق ١١٩ (٢٨٨٧) (صحیح )
2593Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، وَقَالَ شُعْبَةُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مِنَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً ، وَقَالَ شُعْبَةُ: مَا يَزِنُ ذُرَةً مُخَفَّفَةً، وفي الباب عن جَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم سے نکلے گا (شعبہ نے اپنی روایت میں کہا ہے: (اللہ تعالیٰ کہے گا، اسے جہنم سے نکال لو) جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھلائی تھی۔ (شعبہ نے کہا ہے: جوار کے برابر بھلائی تھی) ۔

Sayyidina Anas (RA) reported in a marfu form that (according to Hisham) he who says or (but, according to Shu’bah) they who say There is no God but Allah and have faith in their hearts so much as a grain of barley, will come out of Hell; who say There is no God but Allah and have faith in their hearts so much as the weight of a grain wheat will come out of Hell; who say and have faith in their hearts so much as the weight of an atom will come out of Hell." [Ahmed 12154, Bukhari 4476, Muslim 193,Ibn e Majah43121]

صحيح، ابن ماجة (4312)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2593
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، ابو سعید خدری اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٣ (٤٤)، والتوحید ١٩ (٧٤١٠) (في سیاق حدیث الشفاعة الکبری) و ٣٦ (٧٥٠٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٨٣ (١٩٣/٣٢٥) (تحفة الأشراف: ١٢٧٢، و ١٣٥٦)، و مسند احمد (٣/١١٦، ١٧٣، ٢٤٨، ٢٧٦) (صحیح )
2594Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْأَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہے گا: اسے جہنم سے نکال لو جس نے ایک دن بھی مجھے یاد کیا یا ایک مقام پر بھی مجھ سے ڈرا ۔

Sayyidina Ans (RA) reported that the Prophet ﷺ said, that Allah will say, "Take out of Hell who rememberred Me any day or feared Me at any place."

ضعيف الظلال (833)، التعليق الرغيب (4 / 138)، المشکاة (5349 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6436) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2594
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٨٦) (ضعیف) (سند میں مبارک بن فضالہ تدلیس تسویہ کیا کرتے ہیں اور یہاں روایت عنعنہ سے ہے )
2595Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ لِيَدْخُلَ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ، قَالَ: فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَعَشْرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، وہ ایسا آدمی ہوگا جو سرین کے بل چلتے ہوئے نکلے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ جنت کی تمام جگہ لے چکے ہوں گے ، آپ نے فرمایا: اس سے کہا جائے گا: چلو جنت میں داخل ہو جاؤ، آپ نے فرمایا: وہ داخل ہونے کے لیے جائے گا (جنت کو اس حال میں) پائے گا کہ لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں، وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں؟!، آپ نے فرمایا: اس سے کہا جائے گا: کیا وہ دن یاد ہیں جن میں (دنیا کے اندر) تھے؟ وہ کہے گا: ہاں، اس سے کہا جائے گا: آرزو کرو ، آپ نے فرمایا: وہ آرزو کرے گا، اس سے کہا جائے گا: تمہارے لیے وہ تمام چیزیں جس کی تم نے آرزو کی ہے اور دنیا کے دس گنا ہے ۔ آپ نے فرمایا: وہ کہے گا: (اے باری تعالیٰ! ) آپ مذاق کر رہے ہیں حالانکہ آپ مالک ہیں ، ابن مسعود کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہنستے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی کے دانت نظر آنے لگے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "I know the last of the people of Hell to come out of it. He will crawl out of Hell and say,O Lord, people have already taken up the places. It will be said to him, ‘Turn towards Paradise and enter it. He will go to enter and see people having occupied the places. He will return and ‘O Lord, the people have taken up the places.’ It will be said to him, ‘Do you remember the time you were in Hell?’ He will say, ‘Yes.’ It will be said to him, ‘Make a wish.’ He will make it, and will be told, ‘For you is what you have wished to have, and ten times more of the world.’ He will ask, ‘Do You make fun of me while You are The King?’ The narrator remarked that he saw Messenger ﷺ laughed till his back teeth were visible.” [Ahmed 3595, Bukhari 6571, Muslim 186,Ibn e Majah4339]

صحيح، ابن ماجة (4339)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2595
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ادنیٰ ترین جنتی کا حال ہے کہ اسے جنت کی نعمتیں اور دیگر چیزیں اتنی تعداد میں ملیں گی کہ وہ دنیا کی دس گناہوں گی، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اعلیٰ مقام و مراتب پر فائز ہونے والے جنتیوں پر رب العالمین کا کس قدر انعام و اکرام ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٥١ (٦٥٧١)، والتوحید ٣٦ (٧٥١١)، صحیح مسلم/الإیمان ٨٣ (١٨٦)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٣٩) (تحفة الأشراف: ٩٤٠٥)، و مسند احمد (١/٤٦٠) (صحیح )
2596Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، يُؤْتَى بِرَجُلٍ فَيَقُولُ: سَلُوا عَنْ صِغَارِ ذُنُوبِهِ وَاخْبَئُوا كِبَارَهَا، فَيُقَالُ لَهُ: عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، قَالَ: فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَقَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ مَا أَرَاهَا هَا هُنَا، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) کہے گا: اس سے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کے بارے میں پوچھو اور اس کے بڑے گناہوں کو چھپا دو، اس سے کہا جائے گا: تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کئے تھے، تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کیے تھے؟ ، آپ نے فرمایا: اس سے کہا جائے گا: تمہارے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی ہے ۔ آپ نے فرمایا: وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے کچھ ایسے بھی گناہ کیے تھے جسے یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ۔ ابوذر ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہنستے ہوئے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی دانت نظر آنے لگے۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: "I the last of the people of Hell to come out of it and the last of the people of Paradise to enter man would be brought and Allah would say, “Ask him about his minor sins and conceal his major sins.” So, it will be said to him, “You did this and that on this day and that day, and did that on this day and that day.” And, he will be told, “Against every sin, there is for you a piety." He will exclaim, “O Lord, but indeed, I had done things I do not see here!” The narrator remarked that Allah’s Messenger ﷺ laughed till his back teeth were visible. [Ahmed 21548, Muslim 190]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2596
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٤ (١٩٠) (تحفة الأشراف: ١١٩٨٣) (صحیح )
2597Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونُوا فِيهَا حُمَمًا ثُمَّ تُدْرِكُهُمُ الرَّحْمَةُ فَيُخْرَجُونَ وَيُطْرَحُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَاءَ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حِمَالَةِ السَّيْلِ ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: موحدین میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دئیے جائیں گے، یہاں تک کہ کوئلہ ہوجائیں گے، پھر ان پر رحمت الٰہی سایہ فگن ہوگی تو وہ نکالے جائیں گے اور جنت کے دروازے پر ڈال دئیے جائیں گے ۔ آپ نے فرمایا: جنتی ان پر پانی چھڑکیں گے تو وہ ویسے ہی اگیں گے جیسے سیلاب کی مٹیوں میں دانہ اگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "I have been commanded to fight people till they say There is no God but Allah. So, if they say that then they have protected from me their blood and their property, save against a right on them, and their reckoning is with Allah.” [Abu Dawud 2640, Nisai 29861, Bukhari 927, Ahmed 89131]

صحيح، الصحيحة (2451)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2597
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ دوسری سند سے بھی جابر سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٣٣٢)، وانظر مسند احمد (٣/٣٩١) (صحیح )
2598Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ شَكَّ فَلْيَقْرَأْ: إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ سورة النساء آية 40، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہنم سے وہ آدمی نکلے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، ابو سعید خدری ؓ نے کہا: جس کو شک ہو وہ یہ آیت پڑھے «إن اللہ لا يظلم مثقال ذرة» اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے (النساء: ٤٠ ) ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said,"Every person who has faith in his heart so much as the weight of an atom will be taken out of Hell." Abu Sa’eed said, “If anyone doubts it then let him recite "Surely, Allah wrongs not even so much as the weight of an atom.” (al-Quran 4:40) [Bukhari 6560]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2598
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف و راجع: صحیح البخاری/التوحید ٢٤ (٧٤٣٩)، و صحیح مسلم/الإیمان ٨١ (١٨٣) (تحفة الأشراف: ٤١٨١)، وانظر مسند احمد (٣/٩٤) (صحیح )
2599Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَنْعُمَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ رَجُلَيْنِ مِمَّنْ دَخَلَ النَّارَ اشْتَدَّ صِيَاحُهُمَا، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: أَخْرِجُوهُمَا، فَلَمَّا أُخْرِجَا قَالَ لَهُمَا: لِأَيِّ شَيْءٍ اشْتَدَّ صِيَاحُكُمَا ؟ قَالَا: فَعَلْنَا ذَلِكَ لِتَرْحَمَنَا، قَالَ: إِنَّ رَحْمَتِي لَكُمَا أَنْ تَنْطَلِقَا فَتُلْقِيَا أَنْفُسَكُمَا حَيْثُ كُنْتُمَا مِنَ النَّارِ، فَيَنْطَلِقَانِ فَيُلْقِي أَحَدُهُمَا نَفْسَهُ فَيَجْعَلُهَا عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، وَيَقُومُ الْآخَرُ فَلَا يُلْقِي نَفْسَهُ، فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُلْقِيَ نَفْسَكَ كَمَا أَلْقَى صَاحِبُكَ ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا بَعْدَ مَا أَخْرَجْتَنِي، فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ: لَكَ رَجَاؤُكَ، فَيَدْخُلَانِ جَمِيعًا الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ، لِأَنَّهُ عَنْ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمَ وَهُوَ الْأَفْرِيقِيُّ، وَالْأَفْرِيقِيُّ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے دو آدمیوں کی چیخ بلند ہوگی ۔ رب عزوجل کہے گا: ان دونوں کو نکالو، جب انہیں نکالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تمہاری چیخ کیوں بلند ہو رہی ہے؟ وہ دونوں عرض کریں گے: ہم نے ایسا اس وجہ سے کیا تاکہ تو ہم پر رحم کر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم دونوں کے لیے ہماری رحمت یہی ہے کہ تم جاؤ اور اپنے آپ کو اسی جگہ جہنم میں ڈال دو جہاں پہلے تھے۔ وہ دونوں چلیں گے ان میں سے ایک اپنے آپ کو جہنم میں ڈال دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم کو ٹھنڈا اور سلامتی والی بنا دے گا اور دوسرا کھڑا رہے گا اور اپنے آپ کو نہیں ڈالے گا۔ اس سے رب عزوجل پوچھے گا: تمہیں جہنم میں اپنے آپ کو ڈالنے سے کس چیز نے روکا؟ جیسے تمہارے ساتھی نے اپنے آپ کو ڈالا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے امید ہے کہ تو جہنم سے نکالنے کے بعد اس میں دوبارہ نہیں داخل کرے گا، اس سے رب تعالیٰ کہے گا: تمہارے لیے تیری تمنا پوری کی جا رہی ہے، پھر وہ دونوں اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے ۔

Sayyidin Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Two men of those admitted to Hell will shriek loudly. So, the Lord, who is Blessed and Exalted, will say, “Get them out.” When they are brought out, He will ask them, “Why did you shout loudly?” They will say, “We did that so that You may have mercy on us.” He will say, “My mercy on you is that you go and cast yourselves where you were in Hell.” They will go and one of them will put himself in the Fire and He will make it cool for him, and safe. The other will stand and not put himself (in the Fire). The Blessed and Exalted Lord will say to him, “And what prevented you from throwing yourself (in the Fire) as your colleague has done?” He will say, “I have hope that You will not return me to it after having taken me out of it “The Lord Blessed and Exalted that He is, will say to him, “For you is your hope materialised !“ So, both will be admitted to Paradise by Allah’s mercy.

ضعيف، المشکاة (5605)، الضعيفة (1977) // ضعيف الجامع الصغير (1859) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2599
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس لیے کہ یہ رشدین بن سعد کے واسطہ سے مروی ہے، اور رشدین بن سعد محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور رشدین عبدالرحمٰن بن انعم سے روایت کرتے ہیں، یہ ابن انعم افریقی ہیں اور افریقی بھی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٤٤٨) (ضعیف) (سند میں ابو عثمان لین الحدیث، مجہول ہیں اور رشد ین بن سعد اور افریقی ضعیف ہیں )
2600Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّونَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ اسْمُهُ: عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ وَيُقَالُ: ابْنُ مِلْحَانَ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت کی ایک جماعت میری شفاعت کے سبب جہنم سے نکلے گی ان کا نام جہنمی رکھا جائے گا ۔

Sayyidina Imran ibn Husain (RA) narrated: The Prophet ﷺ said, “Some of people of my ummah will come out of Hell through my intercession. They will be named Jahannamis (people of Hell).” [Ahmed 19918,Ibn e Majah4315]

صحيح، ابن ماجة (4315)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2600
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٥٠ (٦٥٥٩)، سنن ابی داود/ السنة ٢٣ (٤٧٤٠)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣١٥) (تحفة الأشراف: ١٠٨٧١)، و مسند احمد (٤/٤٣٤) (صحیح )
2601Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْحَدِيثِ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ، وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ وَهُوَ مَدَنِيٌّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے جہنم جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والے سو رہے ہیں اور جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس کے طلب کرنے والے سو رہے ہیں ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "I have not seen anything like Hell where one who flees from it sleeps, and nothing like Paradise whose seeker sleeps.”

حسن، الصحيحة (951)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2601
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس کو ہم صرف یحییٰ بن عبیداللہ کی سند سے جانتے ہیں اور یحییٰ بن عبیداللہ اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ان کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے۔ یحییٰ بن عبیداللہ کے دادا کا نام موہب ہے اور وہ مدنی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤١٢٤) (حسن) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة: ٩٥٣ )
2602Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہوگی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں اور جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I looked inside Paradise and saw that most of its inhabitants are the poor and I looked inside Hell and saw that most of its inhabitants are women.” [Ahmed 21841, Bukhari 3241, Muslim 2737]

صحيح الضعيفة تحت الحديث (2800)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2602
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٦ (تعلیقا عقب حدیث ٦٤٤٩)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٦ (٢٧٣٧) (تحفة الأشراف: ٦٣١٧)، و مسند احمد (١/٢٩٤، ٣٥٩) (صحیح )
2603Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہوگی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ هُوَ ابْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا يَقُولُ عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَيَقُولُ أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكِلَا الْإِسْنَادَيْنِ لَيْسَ فِيهِمَا مَقَالٌ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو رَجَاءٍ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ عَوْفٍ أَيْضًا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں اور جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں ۔

Sayyidina Imran ibn Husain (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "I looked at Hell and saw most of its occupiers being women, and I looked at paradise and saw that most of its inhabitants are the poor.” [Ahmed 19873, Bukhari 5198, Muslim 2738]

صحيح انظر ما قبله (2602)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2603
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عوف نے سند بیان کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے: «عن أبي رجاء عن عمران بن حصين» اور ایوب نے کہا: «عن أبي رجاء عن ابن عباس»، دونوں سندوں میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ ابورجاء نے عمران بن حصین اور ابن عباس دونوں سے سنا ہو، عوف کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث ابورجاء کے واسطہ سے عمران بن حصین سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٢٤١)، والنکاح ٨٨ (٥١٩٨)، والرقاق ١٦ (٦٤٤٩)، و ٥١ (٦٥٤٦) (تحفة الأشراف: ١٠٨٧٣)، و مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٤٣) (صحیح )
2604Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب والا وہ جہنمی ہوگا جس کے تلوے میں دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "The lightest punishment in Hell awarded to any man will be two sandal-straps on the soles of his feet. His brain will bubble like a pot because of it.” [Ahmed 18418]

صحيح، الصحيحة (1680)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2604
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عباس بن عبدالمطلب، ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اغلب یہی ہے کہ اس سے ابوطالب مراد ہیں کیونکہ مسلم اور دیگر لوگوں کی دیگر روایات میں اس کی صراحت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٥ (٦٥٦١، ٦٥٦٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٩١ (٢١٣) (تحفة الأشراف: ١١٦٣٦)، و مسند احمد (٤/٢٧٤) (صحیح )
2605Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَال: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُتَكَبِّرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

حارثہ بن وہب خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ ہر کمزور حال آدمی جسے لوگ حقیر سمجھیں اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ ہر سرکش، بخیل اور متکبر ، (جہنم میں جائے گا۔ )

Sayyidina Harithah ibn Wahb al-Kuzai (RA) narrated that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “Shall I not inform you about the people of Paradise? (They are:) every weak person whom people regard as lowly; but if he were to swear an oath on Allah then he would fulfil it. Shall I not inform you about the people of Hell? Every surly, niggardly and arrogant person." [Ahmed 18755, Bukhari 6657, Muslim 2853,Ibn e Majah4116]

صحيح، ابن ماجة (4116)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2605
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة القلم ١ (٤٩١٨)، والأدب ٦١ (٦٠٧١)، والأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٧)، صحیح مسلم/الجنة ١٣ (٢٨٥٣)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٤ (٤١١٦) (تحفة الأشراف: ٣٢٨٥)، و مسند احمد (٤/٣٠٦) (صحیح )