Sunan At-Tirmidhi 2592

جہنم کا بیان

2592Sunan At-Tirmidhi

دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، وَقَالَتْ: أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ: نَفَسًا فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسًا فِي الصَّيْفِ، فَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الشِّتَاءِ فَزَمْهَرِيرٌ، وَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الصَّيْفِ فَسَمُومٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَلِكَ الْحَافِظِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھائے جا رہا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو سانسیں مقرر کردیں: ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس جاڑے میں، جہنم کے جاڑے کی سانس سے سخت سردی پڑتی ہے۔ اور اس کی گرمی کی سانس سے لو چلتی ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said ,"Hell complained to its Lord, saying, “Parts of me devour other parts.” So, He let it have two exhalations, one in winter and another in summer. Hence, its exhalation in winter causes severe cold and its exhalation in summer causes severe heat.” [Ahmed 7251,Ibn e Majah 4319]

صحيح، ابن ماجة (4319)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2592
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ٣ - مفضل بن صالح محدثین کے نزدیک کوئی قوی حافظے والے نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٩ (٥٣٧)، وبدء الخلق ١٠ (٣٢٦٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٧)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٨ (٤٢١٩) (تحفة الأشراف: ١٢٤٦٣)، وط/وقوت ٨ (٢٨)، و مسند احمد (٢/٢٣٨، ٢٧٧، ٤٦٢، ٥٠٣)، وسنن الدارمی/الرقاق ١١٩ (٢٨٨٧) (صحیح )