Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 126 of 199

2572Sunan At-Tirmidhi

جنت کی نہروں کے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ ، قَالَ: هَكَذَا رَوَى يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَوْقُوفًا أَيْضًا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے ۔

صحيح، المشکاة (2478 / التحقيق الثانی)، التعليق الرغيب (4 / 222)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2572
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے، ٢ - یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالک» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٥٦ (٥٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٤٠) (تحفة الأشراف: ٢٤٣)، و مسند احمد (٣/٢٠٨) (صحیح )
2566Sunan At-Tirmidhi

جنت کی نہروں کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ أُرَهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَغْبِطُهُمُ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ: رَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَرَجُلٌ يَؤُمُّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ: عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ وَيُقَالُ: ابْنُ قَيْسٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے ، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Three will be seated on mounds of musk.” The narrator believes that he also said, “On the Day of Resurrection.”“The first and the last will envy them. (They are:) 1. A man who calls to prayer five times every day and night (that is, the mu’azzin). 2. A man who is the imam (leader) of a people and they are pleased with him, and 3. A man who gives the right of Allah and the right of his masters.’ [Ahmed 4799]

ضعيف، المشکاة (666)، نقد التاج (184)، التعليق الرغيب (1 / 110) // ضعيف الجامع الصغير (2579) وتقدم برقم (339 / 2069) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2566
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٩٨٦ (ضعیف) (سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے، تشیع میں بھی غالی ہے )
2567Sunan At-Tirmidhi

جنت کی نہروں کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ: ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ صَدَقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا ، أُرَهُ قَالَ: مِنْ شِمَالِهِ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ كَثِيرُ الْغَلَطِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے: ایک وہ آدمی جو رات میں اٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے، دوسرا وہ آدمی جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے چھپائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور ہار جانے کے بعد پھر بھی دشمنوں کا مقابلہ کرے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported in a marfu form. He said, “There a three whom Allah, the Majestic, the Glorious, loves. 1. A man who stands up in the night reciting the Quran. 2. A man who gives sadaqah with his right hand keeping it a secret (the narrator thought that also said, “from his left hand), and, 3. A man who was in an expedition and his colleagues were routed but he continued to fight the enemy.”

ضعيف، المشکاة (1921 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2609) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2567
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ صحیح وہ روایت ہے جسے شعبہ وغیرہ نے «عن منصور عن ربعي بن حراش عن زيد بن ظبيان عن أبي ذر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ابوبکر بن عیاش بہت غلطیاں کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩١٩٩) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن عیاش سے بہت غلطیاں ہوجایا کرتی تھیں، یہاں انہوں نے ابو ذر ؓ کی روایت کو ابن مسعود “ ؓ کی روایت بنا ڈالی ہے، جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے )
2569Sunan At-Tirmidhi(2570)

جنت کی نہروں کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الْفُرَاتُ يَحْسِرُ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurariah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Furat (Euphrates) will soon uncover a treasure of gold. So, those who are present at it must not take anything from it.” [Ahmed 2139, Bukhari 7119, Muslim 2894, Abu Dawud 4313]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2569 ابوہریرہ ؓ سے اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا: سونے کا پہاڑ اگلے ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2570
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩)، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٣)، و مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (صحیح) انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٥) (صحیح )
2568Sunan At-Tirmidhi

جنت کی نہروں کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، قَال: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ أَحَدُهُمْ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ . حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَ هَذَا، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت، جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس جائے اور ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے وہ اپنے اور اس قوم کے درمیان پائے جانے والے کسی رشتے کا واسطہ دے کر نہ مانگے اور وہ لوگ اسے کچھ نہ دیں، پھر ان میں سے ایک آدمی پیچھے پھرے اور اسے چپکے سے لا کر کچھ دے، اس کے عطیہ کو اللہ تعالیٰ اور جس کو دیا ہے اس کے سوا کوئی نہ جانے۔ دوسرے وہ لوگ جو رات کو چلیں یہاں تک کہ جب ان کو نیند ان چیزوں سے پیاری ہوجائے جو نیند کے برابر ہیں تو سواری سے اتریں اور سر رکھ کر سو جائیں اور ان میں کا ایک آدمی کھڑا ہو کر میری خوشامد کرنے اور میری آیتوں کی تلاوت کرنے لگے، تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو تو اس کے ساتھی ہار جائیں پھر بھی وہ سینہ سپر ہو کر آگے بڑھے یہاں تک کہ مارا جائے یا فتح حاصل ہوجائے۔ جن تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ یہ ہیں: وہ بوڑھا جو زنا کار ہو، وہ فقیر جو تکبر کرنے والا ہو اور مالدار جو دوسروں پر ظلم ڈھائے ۔

Sayyidina Abu Zarr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There are whom Allah loves and three whom He hates. As for those whom He loves, they are: 1.If a man comes to a people and asks them for something in the name of Allah and does not ask them in the name of relationship between them, but they do not give him, then a man of them meets him in private and gives him (something) unknown to anyone except Allah and whom he gives. (This giver is the one Allah loves). 2. A man who goes with a people at night till they go to sleep, loving sleep over everthing else, but he stands up beseeching Allah and reciting His verses. 3. A man who is in a Sariyah who meet their enemy who defeat them, but he pulls out his chest and fights them till he is killed or is given victory. The three whom Allah hates are 1.An old man who commits adultery. 2.An arrogant beggar, and 3. A rich tyrant.” [Ahmed 2143, Nisai 2566]

ضعيف، المشکاة (1922) // ضعيف الجامع الصغير (2610) // ضعيف، المشکاة (1922) // ضعيف الجامع الصغير (2610) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2568 اس سند سے بھی ابوذر ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2568
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اسی طرح شیبان نے منصور کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٧ (١٦١٦)، والزکاة ٧٥ (٢٥٧١) (تحفة الأشراف: ١٩١٣)، و مسند احمد (٥/١٥٣) (سند میں ” زید بن ظبیان “ لین الحدیث ہیں) انظر ماقبلہ (ضعیف )
2569Sunan At-Tirmidhi(2570)

جنت کی نہروں کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الْفُرَاتُ يَحْسِرُ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ١ ؎۔

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2569 ابوہریرہ ؓ سے اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا: سونے کا پہاڑ اگلے ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2570
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩)، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٣)، و مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (صحیح) انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٥) (صحیح )
2571Sunan At-Tirmidhi

جنت کی نہروں کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ وَبَحْرَ الْعَسَلِ وَبَحْرَ اللَّبَنِ وَبَحْرَ الْخَمْرِ، ثُمَّ تُشَقَّقُ الْأَنْهَارُ بَعْدُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَكِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هُوَ وَالِدُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، وَالْجُرَيْرِيُّ يُكْنَى: أَبَا مَسْعُودٍ وَاسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ.

معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں پانی کا سمندر ہے، شہد کا سمندر ہے، دودھ کا سمندر ہے اور شراب کا سمندر ہے، پھر اس کے بعد چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں ۔

صحيح، المشکاة (5650 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2571
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣٩٤) (صحیح )
2572Sunan At-Tirmidhi

جنت کی نہروں کے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ ، قَالَ: هَكَذَا رَوَى يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَوْقُوفًا أَيْضًا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے ۔

صحيح، المشکاة (2478 / التحقيق الثانی)، التعليق الرغيب (4 / 222)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2572
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے، ٢ - یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالک» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٥٦ (٥٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٤٠) (تحفة الأشراف: ٢٤٣)، و مسند احمد (٣/٢٠٨) (صحیح )
2574Sunan At-Tirmidhi

جہنم کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ، وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ، يَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ: بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَبِالْمُصَوِّرِينَ ، وفي الباب عن أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ،

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہوگی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے: ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارتا ہو، اور مجسمہ بنانے والوں پر ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A neck will emerge from Hell on the Day of Ressurection. It will have two eyes with which it will see and two ears with which it will hear and a tongue with which it will speak, saying, ‘I am kited to swallow every rebellious tyrant, everyone who calls another god besides Allah and who draws pictures.” [Ahmed 84381]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،
2575Sunan At-Tirmidhi

جہنم کی گہرائی کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَعُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ: عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الصَّخْرَةَ الْعَظِيمَةَ لَتُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَتَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا وَمَا تُفْضِي إِلَى قَرَارِهَا ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ، يَقُولُ: أَكْثِرُوا ذِكْرَ النَّارِ فَإِنَّ حَرَّهَا شَدِيدٌ وَإِنَّ قَعْرَهَا بَعِيدٌ وَإِنَّ مَقَامِعَهَا حَدِيدٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا نَعْرِفُ لِلْحَسَنِ سَمَاعًا مِنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، وَإِنَّمَا قَدِمَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ الْبَصْرَةَ فِي زَمَنِ عُمَرَ وَوُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ.

حسن بصری کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان ؓ نے ہمارے اس بصرہ کے منبر پر بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر ایک بڑا بھاری پتھر جہنم کے کنارہ سے ڈالا جائے تو وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا پھر بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچے گا۔ عتبہ کہتے ہیں: عمر ؓ کہا کرتے تھے: جہنم کو کثرت یاد کرو، اس لیے کہ اس کی گرمی بہت سخت ہے۔ اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اس کے آنکس (آنکڑے) لوہے کے ہیں۔

Hasan reported that Sayyidina Utbah ibn Ghazwan (RA) narrated a hadith of Prophet ﷺ from this, our pulpit of Busra. {He narrated that the Prophet ﷺ said:} “If a large stone is thrown down from the edge of Hell, it will go on falling down but not reach its bottom.’ Utbah then narrated the saying of Umar, “Remember the Fire often, for, its heat is severe and its bottom is very far and its whips are made of iron.” [Ahmed 17586]

صحيح، الصحيحة (1612)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2575
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ہم عتبہ بن غزوان سے حسن بصری کا سماع نہیں جانتے ہیں، عمر ؓ کے عہد خلافت میں عتبہ بن غزوان ؓ بصرہ آئے تھے، اور حسن بصری کی ولادت اس وقت ہوئی جب عمر ؓ کے عہد خلافت کے دو سال باقی تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٦٧)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٢ (٤١٥٦) (مختصراً جداً ) (تحفة الأشراف: ٩٧٥٧)، و مسند احمد (٤/١٧٤)، (٥/٦١) (صحیح )
2576Sunan At-Tirmidhi

جہنم کی گہرائی کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَتَصَعَّدُ فِيهِ الْكَافِرُ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَيَهْوِي فِيهِ كَذَلِكَ مِنْهُ أَبَدًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال میں چڑھے گا اور اتنے ہی سال میں نیچے گرے گا اور یہ عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is a mountain of fire in Hell called Saud. The infidel will climb over it in seventy years and keep falling down it like that for ever.”

ضعيف، المشکاة (5677) // ضعيف الجامع الصغير (3552) وسيأتي (657 / 3561) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2576
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٦٣) (ضعیف) (سند میں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں )
2578Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اہل جہنم کے اعضاء بڑے بڑے ہونگے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ مِثْلُ الرَّبَذَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَمِثْلُ الرَّبَذَةِ: كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ، وَالرَّبَذَةِ، وَالْبَيْضَاءُ: جَبَلٌ مِثْلُ أُحُدٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہوگی، اس کی ران بیضاء (پہاڑ) جیسی ہوگی اور جہنم کے اندر اس کے بیٹھنے کی جگہ تین میل کی مسافت کے برابر ہوگی جس طرح ربذہ کی دوری ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “On the Day of Resurrection, the molar tooth of an infidel will be like Uhud. His thigh will be like the Bayda and his seat in Hell will be a journey, of three nights like Rabazah,” meaning the distance between Madinah and Rabazah. Bayda is a mountain. [Muslim 2851, Ahmed 8353]

حسن، الصحيحة (3 / 95)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2578
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - «مثل الربذة» کا مطلب ہے کہ جس طرح ربذہ پہاڑ مدینہ سے دور ہے، ربذہ اور بیضاء احد کی طرح دو پہاڑ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنة ١٣ (٢٨٥١) (تحفة الأشراف: ١٣٥٠٥، و ١٤٥٩٦)، و مسند احمد (٢/٣٢٨، ٥٣٧) (حسن) (الصحیحہ ١١٠٥ )
2579Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اہل جہنم کے اعضاء بڑے بڑے ہونگے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ، قَالَ: ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ: سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کافر کی ڈاڑھ احد جیسی ہوگی ۔

Abu Kuraib reported it (like the previous hadith, # 2587) from Mus’ab ibn Miqdam, from Fudayl ibn Ghazwan, from AbuHazim, from Abu Hurairah (RA) in a marfu form.

صحيح، التعليق الرغيب (4 / 237)، الصحيحة (3 / 96)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2579
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٣٤٢٦) (صحیح )
2580Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اہل جہنم کے اعضاء بڑے بڑے ہونگے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْكَافِرَ لَيُسْحَبُ لِسَانُهُ الْفَرْسَخَ وَالْفَرْسَخَيْنِ يَتَوَطَّؤُهُ النَّاسُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْفَضْلُ بْنُ يَزِيدَ هُوَ كُوفِيٌّ، قَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَأَبُو الْمُخَارِقِ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کافر اپنی زبان کو ایک یا دو فرسخ تک گھسیٹے گا اور لوگ اسے روندیں گے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The disbeliever will drag his tongue one or two farsakh and people will tread on it.” [Ahmed 5675]

ضعيف، المشکاة (5676)، الضعيفة (1986) // ضعيف الجامع الصغير (1518) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2580
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - فضل بن یزید کوفی ہیں، ان سے کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ٣ - ابوالمخارق غیر معروف راوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٥٩٢) (ضعیف) (سند میں ابو المخارق مجہول راوی ہے )
2577Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اہل جہنم کے اعضاء بڑے بڑے ہونگے

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ، وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کافر کے چمڑے کی موٹائی بیالیس گز ہوگی، اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "The thickness of the skin of the disbeliever will be forty-two cubits, his molar tooth will be like Uhud and his seat in Hell will be as the distance between Makkah and Madinah." [Ahmed 8418]

صحيح، المشکاة (5675)، الصحيحة (1105)، الظلال (610)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2577
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٤١١) (صحیح )
2581Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اہل جہنم کے اعضاء بڑے بڑے ہونگے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: كَالْمُهْلِ سورة الكهف آية 29، قَالَ: كَعَكَرِ الزَّيْتِ فَإِذَا قَرَّبَهُ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، وَرِشْدِينُ قَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے قول «کالمهل» کے بارے میں فرمایا: وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہوگا جب اسے (کافر) اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گرجائے گی ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported the saying of the Prophet ﷺ about Kal Muhl i.e.Molten Copper (ref. Quran 18:29) that it is like the dregs of olive oil. When the dweller of Hell nears his face to it (to drink), the skin of his face will fall into it. [Ahmed 11672]

ضعيف، المشکاة (5678)، التعليق الرغيب (4 / 234) // وسيأتي (478 / 2723 و 656 / 3556) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2581
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، اور رشدین کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٥٨) (ضعیف) (سند میں ” دراج ابو السمح “ اور ” رشدین بن سعد “ ضعیف ہیں )
2582Sunan At-Tirmidhi

دوزخیوں کے مشروبات کے متعلق

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَيَنْفُذُ الْحَمِيمُ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ، فَيَسْلِتُ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ، وَهُوَ الصَّهْرُ، ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ ، وَسَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ يُكْنَى: أَبَا شُجَاعٍ وَهُوَ مِصْرِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَابْنُ حُجَيْرَةَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُجَيْرَةَ الْمِصْرِيُّ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» (گرم پانی) انڈیلا جائے گا تو وہ (بدن میں) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹے گا یہاں تک کہ اس کے پیروں (یعنی سرین) سے نکل جائے گا۔ یہی وہ «صہر» ہے (جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Hot water would be poured on their heads. It will penetrate his insides, burning what is there and it will flow down to and out of his feet. This is sahr (melting). Then he will be restored as he was.” [Ahmed 8873]

ضعيف، المشکاة (5679)، التعليق أيضا // ضعيف الجامع الصغير (1433) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2582
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٥٩١) (حسن) (سند میں دراج ابو السمح ضعیف راوی ہیں، لیکن امام ابوداود نے یہ فرق کیا ہے کہ ابو سمح کی ابوالہیثم سے ضعیف ہے، اور ابن حجیرہ سے روایت درست ہے، اور یہاں ابو السمح کے شیخ ابن حجیرہ ہیں، تراجع الالبانی ٩٥، والصحیحہ ٣٤٧٠ )
2583Sunan At-Tirmidhi

دوزخیوں کے مشروبات کے متعلق

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ 16 يَتَجَرَّعُهُ سورة إبراهيم آية 15-16، قَالَ: يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ، فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ ، يَقُولُ اللَّهُ: وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ سورة محمد آية 15 وَيَقُولُ: وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ سورة الكهف آية 29 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، وَلَا نَعْرِفُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ لَهُ أَخٌ قَدْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُخْتُهُ قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ أَخَا عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ.

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ويسقی من ماء صديد يتجرعه» (ابراہیم: ١٦ ) کے بارے میں فرمایا: «صديد» (پیپ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اسے ناپسند کرے گا جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گرجائے گی اور جب اسے پیئے گا تو اس کی آنت کٹ جائے گی یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وسقوا ماء حميما فقطع أمعاء هم» وہ «ماء حمیم» (گرم پانی) پلائے جائیں گے تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا (سورۃ محمد: ١٥ ) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وإن يستغيثوا يغاثوا بماء کالمهل يشوي الوجوه بئس الشراب» اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہوگا چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برا مشروب ہے (الکہف: ٢٩ )

Sayyidina Abu Umamah (RA) reported the Prophet’s ﷺ saying about the verse: "And he is given to drink of fetid water, which he gulps." (Al-Quran 14:16-17) And He says; "And if they seek aid, they will be aided with water like molten copper that shall scald their faces how evil the drink and how vile the resting-place".(Al-Quran 18:29) [Ahmed 22348]

ضعيف، المشکاة (5680)، التعليق أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2583
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی سند میں «عن عبيد اللہ بن بسر» کہا ہے اور ہم عبیداللہ بن بسر کو صرف اسی حدیث میں جانتے ہیں، ٣ - صفوان بن عمر نے عبداللہ بن بسر سے جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں، ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنی ہے اور ان کی ایک بہن نے بھی نبی اکرم ﷺ سے حدیث سنی ہے۔ جس عبیداللہ بن بسر سے صفوان بن عمرو نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ صحابی نہیں ہیں کوئی دوسرے آدمی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٤٨٩٤) (سند میں عبید اللہ بن بسر مجہول راوی ہے )
2584Sunan At-Tirmidhi

دوزخیوں کے مشروبات کے متعلق

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ بْنَ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْدَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَالْمُهْلِ سورة الكهف آية 29: كَعَكَرِ الزَّيْتِ فَإِذَا قُرِّبَ إِلَيْهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ .

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «کالمهل» یعنی تلچھٹ کی طرح ہوگا جب اسے (جہنمی) اپنے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گرجائے گی ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said, about Kal Muhl (molten copper) that is the dregs of olive oil. When it is brought near his face, the skin of his face falls into it.” Through the same sanad it is reported that the Prophet ﷺ (SAW )said, “The fences of the Fire are four walls of Hell, the thickness of each is as the distance travelled in forty years.” Through the same sanad it is reported that the Prophet ﷺ said, “If a bucket containing the puss of the dwellers of Hell were poured into the world, it would make them rotten.” [Ahmed 11234]

ضعيف، وهو مکرر الحديث (2707) // (475 - 2720) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2584
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٥٨١ (ضعیف )
2585Sunan At-Tirmidhi

دوزخیوں کے مشروبات کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی «اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» تم اللہ سے ڈرنے کی طرح ڈرو اور مسلمان ہی رہتے ہوئے مرو (آل عمران: ١٠٢ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر «زقوم» تھوہڑ کا ایک قطرہ بھی دنیا کی زمین میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی معیشت بگڑ جائے، بھلا اس آدمی کا کیا ہوگا جس کی غذا ہی «زقوم» ہو۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ recited this verse: "Fear Allah as He should be feared and die not save you be Muslims." (Al-Quran 3:102) Then, he said, “If a drop of zuqqum were to fall on earth it would spoil the means of livelihood of the people. Then (imagine) what will it be with those whose food it is?” [Ibn e Majah 4325, Ahmed 2735]

ضعيف، ابن ماجة (4325) // ضعيف ابن ماجة برقم (944) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2585
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٤ (٤٣٢٥) (تحفة الأشراف: ٦٣٩٨) (ضعیف )