ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیشک صفیہ ایک عورت ہیں، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا، گویا یہ مراد لے رہی تھیں کہ صفیہ پستہ قد ہیں۔ آپ نے فرمایا: بیشک تم نے اپنی باتوں میں ایسی بات ملائی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بدل جائے ١ ؎۔
Sayyidah Aaisha (RA) narrated: A man was mentioned before the Prophet ﷺ . He said, “It does not please me that I should speak about a man even if there is for me (in that) such and such.” I said, “O Messenger of Allah! ﷺ Indeed Safiyah is a woman, indicating hand, “like this”, meaning, short. He said, “You have put in a word that if it is mixed with the water of an ocean that would change.” [Ahmed 25617]
صحيح، المشکاة (4853 و 4857 / التحقيق الثانی)، غاية المرام (427)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2502
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کی نقل بھی غیبت میں شامل ہے، اس لیے بطور تحقیر کسی کے جسمانی عیب کی نقل اتارنا یا تنقیص کے لیے اسے بیان کرنا سخت گناہ کا باعث ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٤٠ (٤٨٧٥) (تحفة الأشراف: ١٦١٣٢)، و مسند احمد (٦/١٨٩) (صحیح )
یحییٰ بن وثاب نے ایک بزرگ صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے ١ ؎۔
Yahya ibn Thabit (RA) reported on the authority of a companion that the Prophet ﷺ said, “If a Muslim mixes with people and endures the hardship they cause then he is better than the Muslim who does not mix with people and so does not endure the hardship they cause." [Ibn e Majah 4032, Ahmed 5022]
صحيح، ابن ماجة (4032)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2507
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن ابی عدی نے کہا: شعبہ کا خیال ہے کہ شیخ صحابی (بزرگ صحابی) سے مراد ابن عمر ؓ ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا لوگوں کے درمیان رہ کر جمعہ، جماعت، نیکی و بھلائی کے کام اور مجالس خیر میں شریک رہنا، ضرورت مندوں کی خبرگیری، مریضوں کی عیادت اور لوگوں کے دیگر مصالح کے لیے ان سے رابطہٰ و ضبط رکھنا، اس شرط کے ساتھ کہ انہیں بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور ان سے پہنچنے والی تکالیف و ایذاء پر صبر کرے تو اس سے بہتر مسلمان کوئی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٣ (٤٠٣٢) (تحفة الأشراف: ٨٥٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آپسی پھوٹ اور بغض و عداوت کی برائی سے اجتناب کرو کیونکہ یہ (دین کو) مونڈنے والی ہے ١ ؎، آپسی پھوٹ کی برائی سے مراد آپس کی عداوت اور بغض و حسد ہے اور «الحالقة» مونڈنے والی سے مراد دین کو مونڈنے والی ہے۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "It is on you that you avoid ill-will with each other, because that is what shaves."(i.e. it ruins the religion)
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپسی بغض و عداوت اور انتشار و افتراق سے اجتناب کرنا چاہیئے، کیونکہ اس سے نہ یہ کہ صرف دنیا تباہ ہوتی ہے بلکہ دین بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتادوں جو درجہ میں صلاۃ، صوم اور صدقہ سے بھی افضل ہے، صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ ضرور بتائیے ، آپ نے فرمایا: وہ آپس میں میل جول کرا دینا ہے ١ ؎ اس لیے کہ آپس کی پھوٹ دین کو مونڈنے والی ہے ۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "Shall I not inform you of the most excellent degree of fasting and salah and sadaqah”? They said, “Certainly.”He said, “Peace with each other, for, discord with each other is that which shaves." [Ahmed 27578]
صحيح غاية المرام (414)، المشکاة (5038 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2509
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہی چیز مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین کو مونڈ نے والی ہے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ آپس میں میل جول کرا دینا یہ نفلی عبادت سے افضل ہے، کیونکہ یہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار کے نہ ہونے کا ذریعہ ہے، جب کہ آپسی رنجش و عداوت دینی بگاڑ کی جڑ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٥٨ (٤٩١٩) (تحفة الأشراف: ١٠٩٨١)، و مسند احمد (٦/٤٤٤) (صحیح )
زبیر بن عوام ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے اندر اگلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے، یہ مونڈنے والی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین مونڈنے والی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں نہیں داخل ہو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، اور کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتادوں جس سے تمہارے درمیان محبت قائم ہو: تم سلام کو آپس میں پھیلاؤ۔
Sayyidina Zubair ibn Awwam (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "The disease of the people before you, jealousy and hatred has penetrated in you. It is the shaver. I do not say that it shaves the hair, but it shaves religion. By Him in Whose hand is my life, you will not enter Paradise till you believe, and you will not believe till you love each other. Shall I not inform you what strengthens that for you? Spread Salaam among yourselves.”
یحییٰ بن ابی کثیر سے اس حدیث کے روایت کرنے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے یہ حدیث: «عن يحيى بن أبي كثير عن يعيش بن الوليد عن مولی الزبير عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اس میں زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٦٤٨) (حسن) (سند میں مولی الزبیر مبہم راوی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، صحیح الترغیب والترہیب ٢٦٩٥ )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کا مرتکب زیادہ لائق ہے کہ اس کو اللہ کی جانب سے دنیا میں بھی جلد سزا دی جائے اور آخرت کے لیے بھی اسے باقی رکھا جائے ۔
Sayyidina Abu Bakr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The sins of rebellion and severing of ties of relationship are such that Allah hastens punishment to the perpetrator in this world along with what he stores up for him in the Hereafter.” [Ahmed 2002, Abu Dawud 4902, Ibn e Majah 4211]
صحيح، ابن ماجة (4211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2511
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٥١ (٤٩٠٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٣ (٤٢١١) (تحفة الأشراف: ١١٦٩٣)، و مسند احمد (٥/٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص کے اندر وہ موجود ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر و شاکر لکھے گا اور جس کے اندر وہ موجود نہ ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر اور شاکر نہیں لکھے گا، پہلی خصلت یہ ہے کہ جس شخص نے دین کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے کو دیکھا اور اس کی پیروی کی اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھا پھر اس فضل و احسان کا شکر ادا کیا جو اللہ نے اس پر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھے گا۔ اور دوسری خصلت یہ ہے کہ جس نے دین کے اعتبار سے اپنے سے کم اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ پر نظر کی پھر جس سے وہ محروم رہ گیا ہے اس پر اس نے افسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر نہیں لکھے گا ١ ؎۔
Amr ibn Shu’ayb (RA) reported from his father, from his grandfather. Abdullah ibn Amr that he heard Allah’s Messenger ﷺ say “There are two characteristics which if anyone possesses then Allah records him among the grateful and the patient. And, if anyone does not possess them then Allah does not record him as grateful or patient. If anyone looks at one who is superior to him in religion and follows him, and looks at one who is inferior to him in worldly matters and thanks Allah, praises Allah, for giving him excellence over him, then Allah writes him down as grateful and patient. And if anyone looks in matters of religion at one who is inferior to him and in worldly affairs, at one who is superior to him and rues over what he undergoes then Allah does not write him down as grateful or patient.” [Muslim 2963, Ibn e Majah 4142]
ضعيف، الضعيفة (633 و 1924) // ضعيف الجامع الصغير (2832) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2512
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا دینی معاملہ میں ہمیشہ اپنے سے بہتر اور سب سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے شخص کو دیکھنا چاہیئے، تاکہ اپنے اندر اسی جیسا دینی جذبہ پیدا ہو، اور دنیا کے اعتبار سے ہمیشہ اپنے سے کم تر پر نگاہ رہے تاکہ رب العالمین کی جانب سے ہمیں جو کچھ میسر ہے اس پر ہم اس کا شکر گزار بندہ بن سکیں، اور ہمارے اندر نعمت شناسی کی صفت پیدا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٧٧٨) (ضعیف) (سند میں مثنی بن صباح ضعیف راوی ہیں، ان کی تضعیف خود امام ترمذی نے کی ہے، اور عمرو بن شعیب بن محمد اور ان کے پردادا عبداللہ بن عمرو ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اگلی سند میں عن أبیہ کا ذکر ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفة ٦٣٣، ١٩٢٤ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کی طرف دیکھو جو دنیاوی اعتبار سے تم سے کم تر ہوں اور ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہوں، اس طرح زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی ان نعمتوں کی ناقدری نہ کرو، جو اس کی طرف سے تم پر ہوئی ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Look at those who are lower than you and do not look at those who are above you, for, it is worthier that you do not belittle the blessing of Allah upon you." [Muslim 2963, Ibn e Majah 4142, Ahmed 7453]
صحيح، ابن ماجة (4142 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2513
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٦٣/٩)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٤٢)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الرقاق ٣٠ (٦٤٩٠)، وصحیح مسلم/الزہد (٢٩٦٣/٨) (تحفة الأشراف: ١٢٤٦٧، و ١٢٥١٤)، و مسند احمد (٢/٢٥٤، ٤٨٢) (صحیح )
حنظلہ اسیدی ؓ سے روایت ہے (یہ نبی اکرم ﷺ کے کاتبوں میں سے ایک کاتب تھے) ، وہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر ؓ کے پاس سے روتے ہوئے گزرا تو انہوں نے کہا: حنظلہ! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ میں نے کہا: ابوبکر! حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے (بات یہ ہے) کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں، اور آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں گویا ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بچوں میں واپس چلے آتے ہیں تو اس نصیحت میں سے بہت کچھ بھول جاتے ہیں، ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارا بھی یہی حال ہے۔ چلو ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس، چناچہ ہم دونوں چل پڑے، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: حنظلہ! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہوگیا ہے، جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں تو ان وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بال بچوں میں واپس لوٹ جاتے ہیں تو بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں۔ حنظلہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس کیفیت میں میرے پاس ہوتے ہو تو یقین جانو کہ فرشتے تمہاری مجلسوں میں، تمہارے راستوں میں اور تمہارے بستروں پر تم سے مصافحہ کریں، لیکن اے حنظلہ! وقت وقت کی بات ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Uthman (RA) one of the scribes of Allah’s Messenger ﷺ reported from Hanzalah Usayidi that he passed by Abu Bakr. He was weeping. So, he asked, "What is with you,O Hanzalah”? He said, “Hanzalah has become a hypocrite,O Abu Bakr, when we are with Allah’s Messenger ﷺ and he mentions to us the Fire and the Paradise as though we see it with our eyes. When we return and are lost into our wives and possessions, we forget much.” He (Abu Bakr) said, “By Allah, I am like that. Come with me to Allah’s Messenger." So, they went. On seeing him, Allah’s Messenger said, “What is wrong.O Hanzalah”? He said, “Hanzalah has become a hypocrite, O Messenger of Allah! ﷺ When we are with you and you remind us of the Fire and Paradise, it is that our eyes see them. But, when we return, our wives and properties occupy us and we forget much.” Allahs Messenger ﷺ said, “If you were to continue to be on the same condition on which you are in my presence, the angels would shake hands with you in your assemblies and on your beds and when you are on your paths. But,O Hanzalah, (there is a) time and (there is another) time." [Bukhari 2514, Muslim 2750, Ibn e Majah 4236]
صحيح، ابن ماجة (4236 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2514
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں صحابہ کرام کے زہد و ورع اور تقویٰ کا ذکر ہے، معلوم ہوا کہ انسان کی حالت و کیفیت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی، بلکہ اس میں تغیر ہوتا رہتا ہے، اس لیے انسان جب بھی غفلت کا شکار ہو تو اسے بکثرت ذکر الٰہی کرنا چاہیئے، اور اس حالت کو جس میں غفلت طاری ہو نفاق پر نہیں محمول کرنا چاہیئے، کیونکہ انسان ہمیشہ ایک ہی حالت و کیفیت کا اپنے آپ کو مکلف بنا کر رکھے یہ ممکن نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خود ایک ہی آدمی کی ایمانی کیفیت وقتاً فوقتا گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٤٥٢، ٢٥١٤ (صحیح) (اور اس کے شاہد کے لیے ملاحظہ ہو: ٢٥٢٦ )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص مومن کامل نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “None of you is a believer unless he loves for his brother what he loves for himself.” [Ahmed 13630, Bukhari 13, Muslim 5, Nisai 5054, Ibn e Majah 66]
صحيح، ابن ماجة (66)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2515
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کا خیرخواہ ہونا چاہیئے، اگر مسلمان اپنے معاشرہ کو خود غرضی رشوت، بددیانتی، جعل سازی، لوٹ کھسوٹ وغیرہ سے پاک صاف رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس حدیث کو اپنے لیے نمونہ بنا کر اس پر عمل کرنا ہوگا، إن شاء اللہ جو بھی اخلاقی بیماریاں عام ہیں وہ ختم ہوجائیں گی، ورنہ ذلت اور بداخلاقی سے ہمیشہ دو چار رہیں گے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہوجائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہوگئے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) narrated: One day I was seated behind the Prophet ﷺ when he said, “O son I will teach you some things: if you remember Allah. He will remember you. If you remember Allah, you will find Him before you. O When you ask, ask from Allah (alone) and when you seek help, seek help from Allah (alone) . Know that if all people get together to benefit you to some extent, they will not be able to benefit you except to the extent Allah has decreed for you. And if they get together to hurt you to some extent, they will not be able to hurt you except to the extent Allah has decreed for you. The pens have been taken up and the scrolls have dried up.” [Ahmed 2669]
١ ؎: معلوم ہوا کہ اللہ کے فیصلہ کو کوئی نہیں بدل سکتا، اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنا شرک ہے، نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، بندہ اگر اللہ کی طرف متوجہ رہے تو اللہ اپنے اس بندے کا خیال رکھتا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اونٹ کو پہلے باندھ دوں پھر اللہ پر توکل کروں یا چھوڑ دوں پھر توکل کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے باندھ دو، پھر توکل کرو ۔ عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ حدیث منکر ہے۔
Sayyidina Anas ibn Malik reported that someone asked, “O Messenger of Allah, shall I tether it and trust in Allah or untie it and place trust in Allah”? He said, “Tie it and trust in Allah."
حسن تخريج المشکلة (22)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2517
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث انس کی روایت سے غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ ٢ - اسی طرح سے یہ حدیث عمرو بن امیہ ضمری کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔
ابوالحوراء شیبان سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی ؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا چیز یاد کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے، اور جھوٹ دل کو بےقرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے ١ ؎، اور اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔
Abul Hawra Sadi narrated: I asked Hasan ibn Ali (RA) ‘, ‘What hadith have you heard from Allah’s Messenger? He said, I have learnt from him : "Abandon that which puts you in doubt and take up that which does not cause you doubt, because truth brings contentment of heart while falsehood causes confusion and doubt.” [Ahmed 1723, Nisai 5722]
صحيح، الإرواء (12 و 2074)، الظلال (179)، الروض النضير (152)
صحيح، الإرواء (12 و 2074)، الظلال (179)، الروض النضير (152)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2518
اس سند سے بھی حسن بن علی ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2518
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوالحوراء سعدی کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ شک و شبہ والی چیزوں سے اجتناب کرو، اور جس پر قلبی اطمینان ہو، اس پر عمل کرو، سچائی کو اپنا شعار بناؤ کیونکہ اس سے قلبی اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے، جب کہ جھوٹ سے دل بےقرار اور پریشان رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأشربة ٥٠ (٥٧١٤) (تحفة الأشراف: ٣٤٠٥)، و مسند احمد (١/٢٠٠) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو عبادت و ریاضت میں مشہور تھا اور ایک دوسرے شخص کا ذکر کیا گیا جو ورع و پرہیزگاری میں مشہور تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی عبادت ورع و پرہیزگاری کے برابر نہیں ہوسکتی ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that a man was mentioned to the Prophet ﷺ as engaged in worship and religious effort while another for his keeping away from the doubtful. He said, “It (worship) cannot compare with abstinence.”
ضعيف، الضعيفة (4817) // ضعيف الجامع الصغير (6355) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2519
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٠٧٨) (ضعیف) (سند میں محمد بن عبد الرحمن بن نبیہ مجہول راوی ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حلال کھائے، سنت پر عمل کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں، وہ جنت میں داخل ہوگا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے لوگ تو اس زمانے میں بہت پائے جاتے ہیں؟ ، آپ نے فرمایا: ایسے لوگ میرے بعد کے زمانوں میں بھی ہوں گے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who consumes the pure (lawful) and goes according to the Sunnah and people are safe from his mischief will enter Paradise.” A man asked, “O Messenger of Allah, these days there are many among the people.” He said, “And there will be in generations after me.”
ضعيف، المشکاة (178)، التعليق الرغيب (1 / 41) // ضعيف الجامع الصغير (5476) ما عدا الجزء الأخير //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2520
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اس حدیث کو اسرائیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٠٧٢) (ضعیف) (سند میں ابو بشر مجہول راوی ہیں )
معاذ بن انس جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے دیا اور اللہ کی رضا کے لیے روکا اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے محبت کی، اور اللہ کی رضا کے لیے عداوت و دشمنی کی اور اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا تو یقیناً اس کا ایمان مکمل ہوگیا ۔
Sayyidina Mu’az ibn Anas Juhanni (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He who gives for Allah’s sake, refuses for Allah’s sake, loves for Allah’s sake, hates for Allah’s sake and marries for Allah’s sake has indeed perfected his faith.” [Ahmed 15617]
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣٠١)، وانظر مسند احمد (٣/٣٣٨، ٤٤٠) (حسن) (امام ترمذی نے اسے منکر کہا ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: ٣٨٠ )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے پھر بھی ان کا سایہ ختم نہ ہوگا ، نیز آپ نے فرمایا: یہی «ظل الممدود» ہے (یعنی جس کا ذکر قرآن میں ہے) ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The first group that will enter paradise will be like the moon on the night of the full moon. The second will be like the brightest star shining in the sky. Each of their men will have two wives. Each of the wives will wear seventy robes; the marrow of her legs will be visible from the back.”
صحيح ويأتى من حديث أنس (3347)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2523
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٢١) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے (پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا ) ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,“There is a tree in Paradise in whose shade a rider will be able to ride for a hundred years.” [Ahmed 9417, Bukhari 4881, Muslim 2826, Abu Dawud 67]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2525
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔