ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا (اجر و ثواب میں) صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "The grateful eater (who thanks on eating) is like the patient person who fasts.” [Ibn e Majah 1764, Ahmed 7811]
صحيح، ابن ماجة (1764 و 1765)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2486
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٥٥ (١٧٦٤، ١٧٦٥) (تحفة الأشراف: ١٣٠٧٢)، و مسند احمد (٢/٢٨٣) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس مہاجرین نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ان سے بڑھ کر ہم نے کوئی قوم ایسی نہیں دیکھی جو اپنے مال بہت زیادہ خرچ کرنے والی ہے اور تھوڑے مال ہونے کی صورت میں بھی دوسروں کے ساتھ غم خواری کرنے والی ہے۔ چناچہ انہوں نے ہم کو محنت و مشقت سے باز رکھا اور ہم کو آرام و راحت میں شریک کیا یہاں تک کہ ہمیں خوف ہے کہ ہماری ساری نیکیوں کا ثواب کہیں انہیں کو نہ مل جائے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بات ایسی نہیں ہے جیسا تم نے سمجھا ہے جب تک تم لوگ اللہ سے ان کے لیے دعائے خیر کرتے رہو گے اور ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے ١ ؎۔
١ ؎: یعنی جب تک تم ان کے حق میں خیر کی دعا کرتے رہو گے تو تمہاری یہ دعائیں ان کی نیکیوں کے بالمقابل ہوں گی، اور اس کا ثواب تمہیں ملے گا، اور تمہاری یہی دعائیں ان کی اس محنت و مشقت کا بدل ہوں گی جو انہوں نے تمہاری خاطر کیا۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے؟ جہنم کی آگ لوگوں کے قریب رہنے والے، آسانی کرنے والے، اور نرم اخلاق والے پر حرام ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I not point out to you a person whom the Fire is forbidden to touch and who is forbidden to the Fire? He is the one who makes things easy for the relatives.”
صحيح، الصحيحة (935)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2488
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو اپنے حسن اخلاق اور حسن معاملہ سے لوگوں کے دلوں میں اور دنیاوی معاملات میں دوسروں کے ساتھ آسانی، نرمی، تواضع اور مشفقانہ طرز اپنانے والا ہے اس کے لیے جہنم کی آگ حرام ہے۔
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کیا: رسول اللہ ﷺ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کہا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں مشغول ہوجاتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوجاتا تو کھڑے ہوتے اور نماز پڑھنے لگتے تھے ١ ؎۔
Aswad ibnYazid (RA) narrated: I asked Sayyidah Aaisha (RA) “What did the Prophet ﷺ do on entering his home”? She said, “He helped in the household chores and when it was the time of Salah, he offered Salah”? [Ahmed 24957, Bukhari 676]
صحيح مختصر الشمائل (293)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2489
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں تواضع کے اپنانے، غرور و تکبر چھوڑنے اور اپنے اہل و عیال کی خدمت کرنے کی ترغیب ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے جب کوئی شخص آتا اور آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکالتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ نکال لیتا، اور آپ اپنا رخ اس کی طرف سے نہیں پھیرتے، جب تک کہ وہ خود اپنا رخ نہ پھیر لیتا، اور آپ نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔
Amr ibn Shu’ayb (RA) reported from his father on the authority of his grandfather that the Prophet ﷺ said, “The arrogant will be (rasied and) gathered on the Day of Resurrection as ants in the garb of mankind.They will be covered with disgrace from all sides and they will be driven to a cell in Hell named Bulas. They will boil in the fire of Fires and will be given to drink the pus of the people of the Fire, extremely bad in odour.” [Ahmed 6689]
ضعيف إلا جملة المصافحة فهي ثابتة، ابن ماجة (3716)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2490
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٢١ (٣٧١٦) (تحفة الأشراف: ٨٤١) (ضعیف) (سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں، مگر مصافحہ والا ٹکڑا دیگر احادیث سے ثابت ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے اگلی امتوں میں سے ایک شخص ایک جوڑا پہن کر اس میں اتراتا ہوا نکلا چناچہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور زمین نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا، پس وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A man among those who were before you went out dressed in his cloak, boasting about it. So Allah commanded the earth and it seized him. He will now go on sinking into it till the last Hour.”
صحيح صحيح الجامع (3217)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2491
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اللہ کی عطا کردہ نعمت کا شکر گزار ہونا چاہیئے، خود پسندی اور تکبر میں مبتلا ہو کر اپنی حیثیت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: متکبر (گھمنڈ کرنے والے) لوگوں کو قیامت کے دن میدان حشر میں چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورتوں میں لایا جائے گا، انہیں ہر جگہ ذلت ڈھانپے رہے گی، پھر وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے کی طرف ہنکائے جائیں گے جس کا نام «بولس» ہے۔ اس میں انہیں بھڑکتی ہوئی آگ ابالے گی، وہ اس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیں گے جسے «طينة الخبال» کہتے ہیں، یعنی سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ ۔
معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے غصہ پر قابو پا لیا اس حال میں کہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ وہ جنت کی حوروں میں سے جسے چاہے پسند کرلے ۔
SahI ibn Mu’az ibn Anas (RA) reported on the authority of his father that Prophet ﷺ said, “He who checks anger while he is able to give vent to it (will find that) Allah summons him over the heads of the creatures (over the Day of Resurrection) that he may choose whichever of the maidens of Paradise he wishes.” [Ahmed 15637]
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں کہ یہ جس کے اندر پائی جائیں تو قیامت کے روز اللہ اپنی رحمت کے سایہ تلے رکھے گا، اور اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ ( ١ ) ضعیفوں کے ساتھ نرم برتاؤ کرے ( ٢ ) ماں باپ کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرے، ( ٣ ) لونڈیوں اور غلاموں پر احسان کرے ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messegner ﷺ said, ‘If anyone has three characteristics, Allah will raise him by His side (in His protection) and admit him to Paradise. They are: being mild to the weak, being kind to parents and being kind to slaves.”
موضوع، الضعيفة (92) // ضعيف الجامع الصغير (2556) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2494
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣١٤٦) (موضوع) (سند میں عبد اللہ بن ابراہیم کذاب، اور اس کا باپ مجہول راوی ہے )
ابوذر غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، اس لیے تم سب مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، اور تم سب کے سب محتاج ہو سوائے اس کے جسے میں غنی (مالدار) کر دوں، اس لیے تم مجھ ہی سے مانگو میں تمہیں رزق دوں گا، اور تم سب گنہگار ہو، سوائے اس کے جسے میں عافیت دوں سو جسے یہ معلوم ہے کہ میں بخشنے پر قادر ہوں پھر وہ مجھ سے مغفرت چاہتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار بندے کی طرح ہوجائیں تو بھی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر برابر اضافہ نہ ہوگا، اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ شقی و بدبخت کی طرح ہوجائیں تو بھی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر برابر کمی نہ ہوگی، اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب ایک ہی زمین پر جمع ہوجائیں اور تم میں سے ہر انسان مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی آرزوئیں پہنچیں اور میں تم میں سے ہر سائل کو دے دوں تو بھی میری سلطنت میں کچھ بھی فرق واقع نہ ہوگا مگر اتنا ہی کہ تم میں سے کوئی سمندر کے کنارے سے گزرے اور اس میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لے، اور ایسا اس وجہ سے ہے کہ میں سخی، بزرگ ہوں، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں، میرا دینا صرف کہہ دینا، اور میرا عذاب صرف کہہ دینا ہے، کسی چیز کے لیے جب میں چاہتا ہوں تو میرا حکم یہی ہے کہ میں کہتا ہوں ہوجا بس وہ ہوجاتی ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ narrated the saying of Allah. He said, “O My slaves all of you are astray except those whom I guide, so ask Me for guidance. I will guide you. And all of you are poor save whom I enrich, so ask Me. I will give you provision. And all of you are sinners except those whom I save. Hence, he of you who knows that I am able to forgive and seeks forgiveness from Me, I will forgive him and I do not care about it. And if the first of you and the last of you, the living among you and your dead, the fresh of you and the withered among you gather together to have hearts as the heart of the most righteous that will not increase My dominion by even so much as the wing of a mosquito. And again if the first of you and the last of you, the living among you your dead, the fresh of you and and the withered among you, gather together to have hears as the heart of the cruelest of My slaves that will not diminish My kingdom even so much as the wing of a mosquito. And, if the first of you and the last of you, your jinns and your mankind, the living among you and the dead of you. And if the . fresh among you and the stale among you gather together in one field and each one of you prays to Me for his desire I will give every seeker among you That will not diminish from My kingdom except like when one of you passes by an ocean and after immersing a needle in it withdraws it to him This because I am Jawwad Wajid Majid. I do what I will, My grant is a word and my punishment is a word. My only command to anything when I intend it is that I say to it ‘Be’ and it is." [Ahmed 21425, Bukhari 490, Muslim 2577, Ibn e Majah 4257]
ضعيف بهذا السياق، ابن ماجة (4257) // ضعيف ابن ماجة (929)، المشکاة (2350)، ضعيف الجامع الصغير (6437) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2495
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو بطریق: «عن شهر بن حوشب عن معدي كرب عن أبي ذر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٠ ٤٢٥٧٠) (تحفة الأشراف: ١١٩٦٤) (ضعیف) (اس سیاق سے یہ حدیث ضعیف ہے، سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں راوی ضعیف ہیں، لیکن اس کے اکثر حصے صحیح مسلم میں موجود ہیں ۔ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے اگر میں نے اسے ایک یا دو بار سنا ہوتا یہاں تک کہ سات مرتبہ گنا تو میں اسے تم سے بیان نہ کرتا، لیکن میں نے اسے اس سے زیادہ مرتبہ سنا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: بنی اسرائیل میں کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ کے کرنے سے پرہیز نہیں کرتا تھا، چناچہ اس کے پاس ایک عورت آئی، اس نے اسے ساٹھ دینار اس لیے دیے کہ وہ اس سے بدکاری کرے گا، لیکن جب وہ اس کے آگے بیٹھا جیسا کہ مرد اپنی بیوی کے آگے بیٹھتا ہے تو وہ کانپ اٹھی اور رونے لگی، اس شخص نے پوچھا: تم کیوں روتی ہو کیا میں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے؟ وہ بولی: نہیں، لیکن آج میں وہ کام کر رہی ہوں جو میں نے کبھی نہیں کیا اور اس کام کے کرنے پر مجھے سخت ضرورت نے مجبور کیا ہے، چناچہ اس نے کہا: تم ایسا غلط کام کرنے جا رہی ہے جسے تم نے کبھی نہیں کیا، اس لیے تم جاؤ، وہ سب دینار بھی تمہارے لیے ہیں، پھر اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب اس کے بعد میں کبھی بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا، پھر اسی رات میں اس کا انتقال ہوگیا، چناچہ صبح کو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا بیشک اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: I heard the Prophet ﷺ narrate a hadith and I did not hear it once or twice, or that I counted it seven times, but, that I heard it more often then that. I heard him say, ‘A man of Banu Isra’il, Kifi, did not cease to commit any sin. A woman came to him and he gave her sixty dinars that he might copulate with her. When he sat down over her the sitting of a man with his wife she trembled and wept. He asked, What makes you cry? Have I compelled you against your will?’ She said, “No. But, this deed, I have never at all done and nothing forced me to it but need. He said, You do it (today) while you have never done it.Go away! And it is for you’. (meaning, the dinars) And he also said, ‘No! I will never again disob Allah’. He died that night. Morning dawned with the inscription on his door: Indeed, Allah ha forgiven Kifi.” [Ahmed 4747]
ضعيف، الضعيفة (4083)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2496
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسے شیبان اور دیگر لوگوں نے اعمش سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور بعض لوگوں نے اسے اعمش سے غیر مرفوع روایت کیا ہے، ابوبکر بن عیاش نے اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے لیکن اس میں غلطی کی ہے، اور «عن عبد اللہ بن عبد اللہ عن سعيد بن جبير عن ابن عمر» کہا ہے جو کہ غیر محفوظ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧٠٤٩)، وانظر مسند احمد (٣/٢٣) (ضعیف) (سند میں سعد مولی طلحہ مجہول ہے، نیز اس کے مرفوع و موقوف ہونے میں اختلاف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: ٤٠٨٣ )
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے دو حدیثیں بیان کیں، ایک اپنی طرف سے اور دوسری نبی اکرم ﷺ کی طرف سے (یعنی ایک موقوف اور دوسری مرفوع) عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: مومن اپنے گناہ کو ایسا دیکھتا ہے گویا وہ پہاڑ کی جڑ میں ہے۔ ڈرتا ہے کہ اس پر وہ گر نہ پڑے ١ ؎، اور فاجر اپنے گناہ کو ایک مکھی کے مانند دیکھتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھی ہوئی ہے، اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی ٢ ؎۔
Harith ibn Suwayd (RA) reported that Abdullah narrated to them two ahadith from himself and the other from the Prophet ﷺ . He said: A Believer sees his sins as though he is at the base of a mountain and fears that it might fall on him. And, a sinner sees his sins as though a fly is perched on his nose. He weaves at it like this and it flies away.This was his saying, while) Allah’s Messenger said: Allah is more pleased when one of you makes repentance than a man is on finding his she camel in wilderness where he had gone with it. He loses it and looks out for it till he is on the point of death and says to himself, ‘Let me return to where I had lost it and die there.” He returns to the place and his sleepy eyes have the better of him.(Later) , he awakes and lo! His camel is by his head laden with his food and his drink and what is good for him. [Ahmed 3627, Bukhari 6308, Muslim 2744, TM 4247]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2497
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے عذاب الٰہی کا پہاڑ اپنے سامنے نظر آتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی ایک فاجر شخص اپنے گناہ کے سلسلہ میں بےخوف ہوتا ہے اور اس کی نگاہ میں اس گناہ کی کوئی اہمیت نہیں، نہ ہی اسے اس پر کوئی افسوس ہوتا ہے بلکہ اس کی حیثیت اس مکھی کی طرح ہے جو ناک پر بیٹھی ہو اور ہاتھ کے اشارہ سے بھاگ جائے، اسی طرح اس کے عقل و فہم میں اس گناہ کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا یہ ابن مسعود کی موقوف روایت ہے، (مرفوع کا ذکر آگے ہے)۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً اللہ تم میں سے ایک شخص کی توبہ پر اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بےآب و گیاہ چٹیل میدان میں ہے اور اس کے ساتھ اس کی اونٹنی ہے جس پر اس کا توشہ، کھانا پانی اور دیگر ضرورتوں کی چیز رکھی ہوئی ہے، پھر اس کی اونٹنی کھو جاتی ہے اور وہ اسے ڈھونڈنے کے لیے نکل پڑتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے تو وہ سوچتا ہے: میں اسی جگہ لوٹ جاؤں جہاں سے میری اونٹنی کھو گئی تھی، اور وہیں مرجاؤں چناچہ وہ لوٹ کر اسی جگہ پہنچتا ہے، اور اس پر نیند طاری ہوجاتی ہے، پھر جب بیدار ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی اس کے سر کے پاس موجود ہے اس پر اس کا کھانا پانی اور حاجت کی چیز بھی موجود ہے ۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2498
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، نعمان بن بشیر اور انس بن مالک ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سارے انسان خطاکار ہیں اور خطا کاروں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Every son of Adam commits sin but the best of those who sin are those who repent.” [Ahmed 13048]
حسن، ابن ماجة (4251)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2499
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف علی بن مسعدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٩ (٤٢٥١) (تحفة الأشراف: ١٣١٥) (حسن )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "He who believes in Allah and the Last Day must honour his guest. And he who believes in Allah and the Last Day must speak a good word or keep quite."
صحيح، الإرواء (2525)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2500
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ بولنے سے پہلے بولنے والا خوب سوچ سمجھ لے تب بولے، یا پھر خاموش ہی رہے تو بہتر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بھلی بات بھی الٹے نقصان دہ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٣١ (٦٠١٨)، صحیح مسلم/الإیمان ١٩ (١٤)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٧٦) (تحفة الأشراف: ١٥٢٧٢)، و مسند احمد (٢/٢٦٧، ٢٦٩، ٤٣٣، ٤٦٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو خاموش رہا اس نے نجات پائی ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger said, "One who keeps quiet is rescued."
صحيح، الصحيحة (535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2501
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خاموشی آدمی کے لیے سکون اور آخرت کے لیے نجات کا ذریعہ ہے، کیونکہ لوگوں سے زیادہ میل جول اور ان سے گپ شپ کرنا یہ دین کے لیے باعث خطرہ ہے، اس لیے اپنے فاضل اوقات کو ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں صرف کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that he asked Allah’s Messenger ﷺ ,“Which Muslim in the most excellent”? He said, “He from whose tongue and hand (other) Muslims are safe.” [Ahmed 6765, Bukhari 11, Muslim 42]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2504
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابوموسیٰ کی روایت سے اس سند سے صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زبان سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کسی مسلمان کی طعن و تشنیع، غیبت چغل خوری، بہتان تراشی نہ کرے، نہ ہی اسے گالی گلوج دے، اور ہاتھ سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے نہ کسی کو مارے، نہ قتل کرے، نہ ناحق کسی کی کوئی چیز توڑے، اور نہ ہی باطل افکار پر مشتمل کوئی تحریر لکھے جس سے کہ لوگ گمراہ ہوں۔
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے کسی دینی بھائی کو کسی گناہ پر عار دلایا تو اس کی موت نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس سے وہ گناہ صادر ہوجائے ۔
Sayyidina Mu’az ibn Jabal (RA) reproted that Allah’s Messenger ﷺ said, "If anyone shames his brother for a sin then he will not die till he does the same thing.” Ahmad said, "(It means) the sin for which he has repented.”
موضوع، الضعيفة (178) // ضعيف الجامع الصغير (5710) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2505
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی سند متصل نہیں ہے، اور خالد بن معدان کی ملاقات معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے، خالد بن معدان سے مروی ہے کہ انہوں نے ستر صحابہ سے ملاقات کی ہے، اور معاذ بن جبل کی وفات عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوئی، اور خالد بن معدان نے معاذ کے کئی شاگردوں کے واسطہ سے معاذ سے کئی حدیثیں روایت کی ہے، ٣ - احمد بن منیع نے کہا: اس سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ شخص توبہ کرچکا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣١٠) (موضوع) (خالد بن معدان کا سماع معاذ ؓ سے نہیں ہے، اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ محمد بن حسن کذاب راوی ہے، اسی نے یہ حدیث گھڑی ہوگی مگر سند متصل نہ کرسکا )
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعداء نہ کرو، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے ۔
Sayyidina Wathilah ibn Asqa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, "Do not display pleasure at a sebtack your brother suffers lest Allah has mercy on him and puts you to test."
ضعيف، المشکاة (4856 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6245) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2506
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - مکحول کا سماع واثلہ بن اسقع، انس بن مالک اور ابوھند داری سے ثابت ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا سماع ان تینوں صحابہ کے علاوہ کسی سے ثابت نہیں ہے، ٣ - یہ مکحول شامی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے، یہ ایک غلام تھے بعد میں انہیں آزاد کردیا گیا تھا، ٤ - اور ایک مکحول ازدی بصریٰ بھی ہیں ان کا سماع عبداللہ بن عمر سے ثابت ہے ان سے عمارہ بن زاذان روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے مکحول شامی کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ «ندانم» (میں نہیں جانتا) کہتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٧٤٩) (ضعیف) (سند میں حفص بن غیاث اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں یہ نہیں پسند کرتا کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے ۔
Sayyidah Aaisha (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW said, “I do not like to speak of (the faults of) anyone even if there is for me such and such (for speaking so) ."