ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہوجا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ narrated: Allah says, ‘O son of Aadam, busy yourself in My worship. I will fill your breast with contentment (and unconcern) and keep away your poverty, (otherwise) if you do not do so, both your hands will be occupied yet I will not remove your poverty (and need).” [Ahmed 8704, Ibn e Majah 4107]
صحيح، ابن ماجة (4107)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2466
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢ (٤١٠٧) (تحفة الأشراف: ١٤٨٨١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک باریک پردہ تھا جس پر تصویریں بنی تھیں، پردہ میرے دروازے پر لٹک رہا تھا، جب اسے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو فرمایا: اس کو یہاں سے دور کر دو اس لیے کہ یہ مجھے دینا کی یاد دلاتا ہے ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہمارے پاس ایک روئیں دار پرانی چادر تھی جس پر ریشم کے نشانات بنے ہوئے تھے اور اسے ہم اوڑھتے تھے۔
Sayyidah Aaisha (RA) narrated: We had a fine curtain on which was a picture (which I) Hung on the door, Allah’s Messenger ﷺ saw it and said, “Remove it for it reminds me world.” We also had an old cotton cloak with patches of silk with which we used to cover ourselves.” [Muslim 2107, Nisai 5318, Ahmed 24321]
صحيح غاية المرام (136)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2468
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس چمڑے کا ایک تکیہ (بستر) تھا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس میں کھجور کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی ١ ؎۔
Sayyidah Aaisha (RA) reported that the pillow on which Allah’s Messenger rested was made of leather in which fibre of dates was filled.
صحيح مختصر الشمائل (282)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2469
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس ذات گرامی کی سادہ زندگی کا حال تھا جو سید المرسلین تھے، آج کی پرتکلف زندگی آپ ﷺ کی اس سادہ زندگی سے کس قدر مختلف ہے، کاش ہم مسلمان آپ کی اس سادگی کو اپنے لیے نمونہ بنائیں، اور اسے اختیار کریں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک بکری ذبح کی، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا اس میں سے کچھ باقی ہے؟ عائشہ ؓ نے کہا: دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے، آپ نے فرمایا: دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے ١ ؎۔
Sayyidah Aaisha narrated that they slaughtered a goat. Allah’s Messenger ﷺ asked, “What remains from it?” She said, “Nothing of it remains except for the shoulder piece.” He said, “There remains everything of it except its shoulder blade.”
صحيح، الصحيحة (2544)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2470
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ ذبح کی گئی بکری کا جتنا حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ یہی صدقہ کیا ہوا مال درحقیقت باقی ہے، رہا وہ حصہ جو تمہارے پاس ہے وہ باقی نہیں ہے، اس سے آپ ﷺ کا اشارہ رب العالمین کے اس فرمان کی طرف ہے، «ماعندکم ينفد وما عند اللہ باق» جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے، اور رب العالمین کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم آل محمد ( ﷺ ) ایسے تھے کہ ایک ایک مہینہ چولہا نہیں جلاتے تھے، ہمارا گزر بسر صرف کھجور اور پانی پر ہوتا تھا۔
Sayyidina Aaisha said, “We, the family of Muhammad ﷺ would go through a month without burning fire (in our house) except that (we consumed) water and dates.” [Muslim 2972, Ibn e Majah 4144]
صحيح مختصر الشمائل (111)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2471
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اس وقت ہمارے پاس تھوڑی سی جو تھی، پھر جتنی مدت تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسی سے کھایا، پھر ہم نے لونڈی کو جو تولنے کے لیے کہا، تو اس نے تولا، پھر بقیہ جو بھی جلد ہی ختم ہوگئے، لیکن اگر ہم اسے چھوڑ دیتے اور نہ تولتے تو اس میں سے اس سے زیادہ مدت تک کھاتے ١ ؎۔
Sayyidah Aaisha (RA) said: “When Allah’s Messenger died, we had some barley. We ate from it what we wished to eat. Then I said to the female servant, ‘Weigh it’. Once she weighed it, it did not last long. If we had let it be (as it was) we would have eaten it for more than that time.” [Ahmed 24822, Bukhari 3097, Muslim 2973, Ibn e Majah 3345]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہاں عائشہ ؓ کے قول «شطر» کا معنی قدرے اور تھوڑا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں فقر و تنگ دستی کی زندگی گزار نے والوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اہل دنیا اور ان کو میسر آسائشوں کی طرف نہ دیکھیں، بلکہ رسول اور ازواج مطہرات کی زندگیوں کو سامنے رکھیں، اور فقر و فاقہ کی زندگی کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے پینے کی چیزوں کو بلا تولے ناپے استعمال کیا جائے تو اس میں برکت ہوتی ہے، اور جس حدیث میں طعام کے تولنے کے بارے میں ہے کہ تولنے سے برکت ہوتی ہے وہ طعام بیچنے کے موقع سے ہے، کیونکہ اس وقت دو آدمیوں کے اپنے اپنے حقوق کی جانکاری کی بات ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ کی راہ میں ایسا ڈرایا گیا کہ اس طرح کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں کہ اس طرح کسی کو نہیں پہنچائی گئیں، مجھ پر مسلسل تیس دن و رات گزر جاتے اور میرے اور بلال کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوتا کہ جسے کوئی جان والا کھائے سوائے تھوڑی سی چیز کے جسے بلال اپنی بغل میں چھپالیتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ I was threatened in Allah’s path as no one was threatened and I was annoyed in Allah’s path as no one was annoyed.O There came upon me thirty days and nights when Bilal (RA) and I had no food which ‘those with a liver’ eat, except which was kept under Bilal (RA) ’s armpit.” [Ahmed 14057, Ibn e Majah 151]
صحيح، ابن ماجة (151)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2472
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ـ اسحدیث میں وہدنمراد ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہوسلم اہلم کہ سے بیزارہوکرم کہ سے نکلگئے تھے اور ساتھ میں بلالرضیاللهعنہ تھے، انکے پاسکچھکھاناتھاج سے وہبغل میں دبائے ہوئے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کلمہ کی سربلندی اور اس کے دین کے اظہار کے لیے آپ نے کس قدر جسمانی تکالیف برداشت کی ہیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ مسلسل کئی کئی دن گزر جاتے اور آپ بھوکے رہتے، ظاہر ہے بلال نے اپنی بغل میں جو کچھ چھپا رکھا تھا وہ کب تک ساتھ دیتا، اس حدیث میں داعیان حق کے لیے عبرت و نصیحت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥١) (تحفة الأشراف: ٣٤١) (صحیح )
علی بن ابی طالب کہتے ہیں کہ ایک ٹھنڈے دن میں رسول اللہ ﷺ کے گھر سے میں نکلا اور ساتھ میں ایک بدبودار چمڑا لے لیا جس کے بال جھڑے ہوئے تھے، پھر بیچ سے میں نے اسے کاٹ کر اپنی گردن میں ڈال لیا اور اپنی کمر کو کھجور کی شاخ سے باندھ دیا، مجھے بہت سخت بھوک لگی ہوئی تھی، اگر رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کچھ کھانا ہوتا تو میں اس میں سے ضرور کھا لیتا، چناچہ میں کچھ کھانے کی تلاش میں نکلا، راستے میں ایک یہودی کے پاس سے گزرا جو اپنے باغ میں چرخی سے پانی دے رہا تھا، اس کو میں نے دیوار کی ایک سوراخ سے جھانکا تو اس نے کہا: اعرابی! کیا بات ہے؟ کیا تو ایک کھجور پر ایک ڈول پانی کھینچے گا؟ میں نے کہا: ہاں، اور اپنا دروازہ کھول دو تاکہ میں اندر آ جاؤں، اس نے دروازہ کھول دیا اور میں داخل ہوگیا، اس نے مجھے اپنا ڈول دیا، پھر جب بھی میں ایک ڈول پانی نکالتا تو وہ ایک کھجور مجھے دیتا یہاں تک کہ جب میری مٹھی بھر گئی تو میں نے اس کا ڈول چھوڑ دیا اور کہا کہ اتنا میرے لیے کافی ہے، چناچہ میں نے اسے کھایا اور دو تین گھونٹ پانی پیا، پھر میں مسجد میں آیا اور وہیں رسول اللہ ﷺ کو موجود پایا ١ ؎۔
Sayyidina Ali bin Abi Talib (RA) narrated: We were sitting with Allahs Messenger ﷺ in the mosque when Musab bin Umayr came to us. He had on him a cloak patched with fur. On seeing him, Allahs Messenger ﷺ wept recalling how he had lived in blessing and what hiscondition has become today. He said, "How will it be with you when one of you goes out tomorrow in a mantle and returns in a mantle and a dish is placed before him as another is removed, and you cover your homes as the Ka’bahh is covered." They said, "O Allahs Messenger, on that day, we shall be better than we are today having enough time to worship and enough of what we need." He said, "No, you are better today than you would be then."
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کی زندگی کس قدر فقر و تنگ دستی سے دو چار تھی، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی بھی یہی حالت تھی، اس فقر و فاقہ کے باوجود کسب حلال کا راستہ اپناتے تھے، اور جو کچھ میسر ہوتا اسی پر قانع ہوتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٣٣٨) (ضعیف) (محمد بن کعب قرظی کے استاذ راوی مبہم ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کو ایک مرتبہ بھوک لگی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو صرف ایک ایک کھجور دی۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) said that (once when) they were afflicted with hunger, Allah’s Messenger ﷺ gave them a date each. [Bukhari 5411, Ibn e Majah 4157]
شاذ، ابن ماجة (4157)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2474
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٢ (٤١٥٧) (تحفة الأشراف: ١٣٦١٧) (شاذ) (مؤلف اور ابن ماجہ کے یہاں جو متن ہے وہ صحیح بخاری میں اسی سند سے مروی متن سے مختلف ہے، صحیح بخاری میں فی نفر سات سات کھجوریں ملنے کا تذکرہ ہے، دیکھیے: صحیح البخاری/الأطعمة ٢٣ (٥٤١١)، و ٣٩ (٥٤٤٠ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین سو کی تعداد میں بھیجا، ہم اپنا اپنا زاد سفر اٹھائے ہوئے تھے، ہمارا زاد سفر ختم ہوگیا نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہر آدمی کے حصہ میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی، ان سے کہا گیا: ابوعبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہوگا؟ جب وہ بھی ختم ہوگئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی، انہوں نے فرمایا: ہم سمندر کے کنارے پہنچے آخر ہمیں ایک مچھلی ملی، جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، چناچہ ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک جس طرح چاہا سیر ہو کر کھاتے رہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir bin Abdullah (RA) narrated, "Allahs Messenger ﷺ sent us, three hundred men. We carried our provision on our riding beasts. Soon, our provision was exhausted and we only had one date for one man each day." Someone said to Jabir, "O Abu Abdullah, how could a date suffice one man?" He said, "When even that was exhausted, we realized its value. We then came upon a sea and suddenly found a fish that the sea had thrown on shore. We ate from it for eighteen days to our content." [Bukhari 2483, Muslim 935, Ibn e Majah 4159, Nisai 435]
صحيح، ابن ماجة (4159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2475
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث جابر کے واسطے سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، ٣ - اس حدیث کو مالک بن انس نے وہب بن کیسان سے اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ صحابہ کرام دنیا سے کس قدر بےرغبت تھے، فقر و تنگدستی کی وجہ سے ان کی زندگی کس طرح پریشانی کے عالم میں گزرتی تھی، اس کے باوجود بھوک کی حالت میں بھی ان کا جذبہ جہاد بلند ہوتا تھا، کیونکہ وہ صبر و ضبط سے کام لیتے تھے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر ١ ؎ آئے ان کے بدن پر چمڑے کی پیوند لگی ہوئی ایک چادر تھی، جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کی اس ناز و نعمت کو دیکھ کر رونے لگے جس میں وہ پہلے تھے اور جس حالت میں ان دنوں تھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہوگا تمہارا اس وقت جب کہ تم میں سے ایک شخص ایک جوڑے میں صبح کرے گا تو دوسرے جوڑے میں شام کرے گا اور اس کے سامنے ایک برتن کھانے کا رکھا جائے گا تو دوسرا اٹھایا جائے گا، اور تم اپنے مکانوں میں ایسے ہی پردہ ڈالو گے جیسا کہ کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے؟ ٢ ؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اس وقت آج سے بہت اچھے ہوں گے اور عبادت کے لیے فارغ ہوں گے اور محنت و مشقت سے بچ جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم آج کے دن ان دنوں سے بہتر ہو ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated One wintry night, I went out of the house of Allah’s Messenger ﷺ . I took a bad smelling leather, slit it in the middle and put it on my neck and tied my waist with a branch of a palm tree. I was very hungry. If there had been some food in the Prophet’s r.L., house, I would have eaten from it. I was looking for something when I came across a Jew with his property. He was watering his garden with his water-wheel. I peeped inside through a hole in the wall. He said, “What is with you,O villager?” Will you draw a bucket against a date?” I said, “Yes. Open the gate that I may enter.” He opened it and I went in. He gave me a bucket. Against every bucket that I drew, he gave me a date till I had a handful; I returned the bucket and said, “Enough.” I ate them and then I drank the water. Then I came to the mosque and found Allah’s Messenger there.
ضعيف، المشکاة (5366 / التحقيق الثاني)، وانظر الحديث (2591) // ضعيف الجامع الصغير (4293) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2476
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یزید بن زیاد سے مراد یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس اور دیگر اہل علم نے روایت کی ہے اور (دوسرے) یزید بن زیاد دمشقی وہ ہیں جنہوں نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان سے (یعنی دمشقی سے) وکیع اور مروان بن معاویہ نے روایت کیا ہے، اور (تیسرے) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مصعب بن عمیر ؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، یہ اپنا سارا مال و متاع مکہ میں چھوڑ کر ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، عقبہ ثانیہ کے بعد آپ نے ان کو قرآن کی تعلیم دینے اور دین کی باتیں سکھانے کے لیے مدینہ بھیجا، مدینہ میں ہجرت سے پہلے جمعہ کے لیے لوگوں کو سب سے پہلے جمع کرنے کا شرف انہی کو حاصل ہے، زمانہ جاہلیت میں سب سے زیادہ ناز و نعمت کی زندگی گزار نے والے تھے، لیکن اسلام لانے کے بعد ان سب سے انہیں بےرغبتی ہوگئی۔ ٢ ؎: یعنی ایک وقت ایسا آئے گا کہ مال ومتاع کی ایسی کثرت ہوجائے گی کہ صبح و شام کپڑے بدلے جائیں گے، قسم قسم کے کھانے لوگوں کے سامنے ہوں گے، لوگ اپنے مکانوں کی تزئین کریں گے، گھروں میں عمدہ اور قیمتی کپڑوں کے پردے لٹکائیں گے، جیسا کہ آج کل ہے۔ ٣ ؎: امام ترمذی ان تین لوگوں کے درمیان فرق بیان کر رہے ہیں جو یزید کے نام سے موسوم ہیں: ( ١ ) یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں، جو اس حدیث کی سند میں مذکور ہیں ( ٢ ) یزید بن زیاد مشقی ہیں، ( ٣ ) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ٠ التحفة: ١٠٣٣٩) (ضعیف) (محمد بن کعب قرظی سے استاذ راوی مبہم ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، وہ مال اور اہل و عیال والے نہ تھے، قسم ہے اس معبود کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بھوک کی شدت سے میں اپنا پیٹ زمین پر رکھ دیتا تھا اور بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، ایک دن میں لوگوں کی گزرگاہ پر بیٹھ گیا، اس طرف سے ابوبکر ؓ گزرے تو میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت اس وجہ سے پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں لیکن وہ چلے گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لیا، پھر عمر ؓ گزرے، ان سے بھی میں نے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں مگر وہ بھی آگے بڑھ گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ پھر ابوالقاسم ﷺ کا گزر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر مسکرایا اور فرمایا: ابوہریرہ! میں نے کہا: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ساتھ چلو اور آپ چل پڑے، میں بھی ساتھ میں ہو لیا، آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے پھر میں نے بھی اجازت چاہی، چناچہ مجھے اجازت دے دی گئی، وہاں آپ نے دودھ کا ایک پیالہ پایا، دریافت فرمایا: یہ دودھ کہاں سے ملا؟ عرض کیا گیا: فلاں نے اسے ہدیہ بھیجا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ابوہریرہ! میں نے کہا: حاضر ہوں، آپ نے فرمایا: جاؤ اہل صفہ کو بلا لاؤ، یہ مسلمانوں کے مہمان تھے ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، گھربار تھا نہ کوئی مال، آپ ﷺ کے پاس جب کوئی صدقہ آتا تھا تو اسے ان کے پاس بھیج دیتے تھے، اس میں سے آپ کچھ نہیں لیتے تھے، اور جب کوئی ہدیہ آتا تو ان کو بلا بھیجتے، اس میں سے آپ بھی کچھ لے لیتے، اور ان کو بھی اس میں شریک فرماتے، لیکن اس ذرا سے دودھ کے لیے آپ کا مجھے بھیجنا ناگوار گزرا اور میں نے (دل میں) کہا: اہل صفہ کا کیا بنے گا؟ اور میں انہیں بلانے جاؤں گا، پھر آپ ﷺ مجھے ہی حکم دیں گے کہ اس پیالے میں جو کچھ ہے انہیں دوں، مجھے یقین ہے کہ اس میں سے مجھے کچھ نہیں ملے گا، حالانکہ مجھے امید تھی کہ اس میں سے مجھے اتنا ضرور ملے گا جو میرے لیے کافی ہوجائے گا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، چناچہ میں ان سب کو بلا لایا، جب وہ سب آپ کے پاس آئے اور اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: ابوہریرہ! یہ پیالہ ان لوگوں کو دے دو ، چناچہ میں وہ پیالہ ایک ایک کو دینے لگا، جب ایک شخص پی کر سیر ہوجاتا تو میں دوسرے شخص کو دیتا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گیا، ساری قوم سیر ہوچکی تھی (یا سب لوگ سیر ہوچکے تھے) پھر آپ ﷺ نے وہ پیالہ لے کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا پھر اپنا سر اٹھایا اور مسکرا کر فرمایا: ابوہریرہ! یہ دودھ پیو ، چناچہ میں نے پیا، پھر آپ نے فرمایا: اسے پیو میں پیتا رہا اور آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق لے کر بھیجا ہے اب میں پینے کی گنجائش نہیں پاتا، پھر آپ نے پیالہ لیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور بسم اللہ کہہ کر دودھ پیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) ﷺ narrated: The Ahlus as Suffah were guests of the adherents of Islam. They owned no house and no property. By Allah besides Whom there is no God, I used to rest my liver on the ground and tie a stone on my belly because of severe hunger. One day, I sat down on the path on which they passed when Abu Bakr (RA) came by. I asked him about a verse from Allah’s Book and I did not ask him but only that he might take me along but he went away without doing that. Then, Umar came by and I asked him about a verse Book, and I had not asked him except that he might take me along, but he moved ahead without doing that. Then Abul Qasim came by and smiled on seeing me. I said, “Here I am, O Messenger of Allah.” He said, “Come along.” and walked ahead and I followed him. He entered his house and I sought his permission which he gave me. He found a bowl of milk and asked. ‘From where has this milk come to you.’ He was told “It is presented to us by so-and-so.”He said, “O Abu Hurayrah.” I said, “Here am I.” He said, “Fetch the Ahl as Suffah. Invite them. They are the guests of the Muslims. They own neither house nor property.” when he received charity, he sent that to them and did not take anything from it for himself. And when he received a gift, he summoned i, took from it and shared it with them.O But, I did not like it (that day) , for, he sent me to summon them over a bowl of milk. What is a bowl of milk for them? He will then ask me to take the bowl round to, each of them and I will find nothing for me while I had hoped to drink from it to satiation point. And it was just that much. However I had to obey. so like it or not I fetched them. When they came in and sat down at their places, he gave me the bowl, saying. “Give them to drink.” I gave it to each, one by one. Everyone drank to his full and returned the bowl to me and I gave it to the next man till I had finished with them and come to Allah’s Messenger. He took the bowl and kept it in his hand, raised his head and smiled. He said, “O Abu Hurayrah, drink!" So, I drank from it. He said again, “Drink!” And I did not cease to drink and he to say, "Drink!", till I said, “By Him Who sent you with the truth, I find no possibility for any more.” So, he took the bowl, praised Allah, took his name and drank. [Ahmed 10684, Bukhari 6246]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2477
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اہل و عیال اور مال والے نہ ہوں ان کا خاص خیال رکھا جائے، اصحاب صفہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی محبت اسی خاص خیال کا نتیجہ ہے، آپ کے پاس جب ہدیہ کی کوئی چیز آتی تو اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے، دودھ کی کثرت یہ آپ کے معجزہ کی دلیل ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ مہمان کو مزید کھانے پینے کے لیے کہنا چاہیئے، اور کھانے کی مقدار اگر کافی ہے تو خوب سیر ہو کر کھانا پینا بھی جائز ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص نے ڈکار لیا، تو آپ نے فرمایا: تم اپنی ڈکار ہم سے دور رکھو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا رہے گا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man let out a belch in the presence of the Prophet ﷺ . He said, “Keep your belch away from us for, those who eat much to overfill their bellies in this world will have a lengthy hunger on the Day of Resurrection.” [Ibn e Majah 3350]
حسن، ابن ماجة (3350 - 3351)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2478
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوجحیفہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ڈکار عموماً زیادہ کھانے سے آتی ہے، اس لیے آپ نے اس آدمی سے یہ فرمایا اور اگر ڈکار گیس کی بیماری کی وجہ سے آئے تو اس ڈکار پر یہ حدیث صادق نہیں آئے گی، کیونکہ یہ تو مجبوری کی حالت میں ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اگر تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نصیب ہوتی تھی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے۔
Sayyidina Abu Musa (RA) said to his son, Son, if you had observed us during times of the Prophet ﷺ while rain fell on us, you would have perceived on us the odour of a ram.’ [Ahmed 19779, Abu Dawud 4033, Ibn e Majah 3562]
صحيح، ابن ماجة (3562)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2479
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کے کپڑے اون کے ہوتے تھے، جب اس پر بارش کا پانی پڑتا تو اس سے بھیڑ کی جیسی بو آنے لگتی تھی ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس وقت اون کا کپڑا موٹا جھوٹا ہوتا تھا، جیسا گڈریوں کا ہوتا ہے، آج کل کا قیمتی اونی کپڑا مراد نہیں ہے۔
معاذ بن انس جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص زینت کا لباس خالص اللہ کی رضا مندی اور اس کی تواضع کی خاطر چھوڑ دے باوجود یہ کہ وہ اسے میسر ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو قیامت کے دن تمام خلائق کے سامنے بلائے گا تاکہ وہ اہل ایمان کے لباس میں سے جسے چاہے پسند کرے، اور پہنے۔
Sayyidina Mu’adh ibn Anas Juhanni (RA) reported that Allah’s Messegner ﷺ said, “If anyone refrains from wearing good garments out of humility towards Allah though he is capable of wearing that then Allah will summon him on the Day of Resurrection at the head of all creatures and give him choice to wear any of the dresses of faith.”
حسن، الصحيحة (717)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2481
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - «حلل الإيمان» سے جنت کے وہ لباس مراد ہیں جو اہل ایمان کو دیئے جائیں گے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نفقہ سب کا سب اللہ کی راہ میں ہے سوائے اس نفقہ کے جو گھر بنانے میں صرف ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,“Every spending is in the path of Allah, except (on) construction. There is no good in it.”
ضعيف، الضعيفة (1061)، التعليق الرغيب (2 / 113) // ضعيف الجامع الصغير (5994) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2482
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٠١) (ضعیف) (سند میں زافر سخت وہم کے شکار ہوجاتے تھے، اور شبیب روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے )
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ہم خباب ؓ کے پاس عیادت کرنے کے لیے آئے، انہوں نے اپنے بدن میں سات داغ لگوا رکھے تھے، انہوں نے کہا: یقیناً میرا مرض بہت لمبا ہوگیا ہے، اگر میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ موت کی تمنا نہ کرو ، تو میں ضرور اس کی تمنا کرتا، اور آپ نے فرمایا: آدمی کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے ، یا فرمایا: گھر بنانے میں ١ ؎۔
Harithah ibn Mudarriab (RA) narrated: We visited Khabbab to enqiure about his health. He had got himself branded seven times. He said, “My illness has prolonged and if I had not heard Allahs Messenger ﷺ say, "Do not yearn for death’. I would have longed for it." He also said, “A man is rewarded for his spending except on dust.” [Ahmed 2111, Bukhari 5672, Ibn e Majah 41631]
صحيح ومضی (970) // هذا رقم الدع اس، وهو عندنا برقم (776 - 984) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2483
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو اپنی ضرورت سے زائد عمارت پر خرچ ہوتا ہے اس پر کچھ بھی ثواب نہیں ملتا، ویسے انسان کو سر چھپانے، گرمی، سردی کی شدت اور بارش وغیرہ سے بچاؤ کے لیے ایک مکان کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہے، حدیث میں مذکورہ وعید ایسی تعمیرات سے متعلق ہے جو ضرورت سے زائد ہوں یا جن پر اسراف سے خرچ کیا جائے۔
ابوحمزہ سے روایت ہے کہ ابراہیم نخعی کہتے ہیں: گھر مکان سب کا سب ہر عمارت باعث وبال ہے، میں نے کہا: اس مکان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جسے بنائے بغیر چارہ نہیں انہوں نے کہا: نہ اس میں کوئی اجر ہے اور نہ کوئی گناہ۔
ضعيف الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2480
حصین کہتے ہیں کہ ایک سائل نے آ کر ابن عباس ؓ سے کچھ مانگا تو ابن عباس نے سائل سے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: تم نے سوال کیا اور سائل کا حق ہوتا ہے، بیشک ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں، چناچہ انہوں نے اسے ایک کپڑا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کو کوئی کپڑا پہناتا ہے تو وہ اللہ کی امان میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی اس پر باقی رہتا ہے ۔
Husain reported that a beggar pleaded with Ibn Abbas (RA) . He asked him, “Do you testify that there is no God but Allah”? He said “Yes.” He asked the beggar if he bore witness that Muhammad is Allah’s Messenger. He said, “Yes.” He asked, “And do you fast during Ramadan"? He said, “Yes.” He said. “You begged and a beggar has a right and it is our duty to give you something. So, he gave him a garment, and said, “I heard Allah’s Messenger ﷺ say, "No Muslim will clothe a Muslim a garment without being in Allah’s protection as long as a rag of this garment is on the man.”
ضعيف، المشکاة (1920)، التعليق الرغيب (3 / 112) // ضعيف الجامع الصغير (5217) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2484
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٤٠٩) (ضعیف) (سند میں خالد بن طہمان مختلط ہوگئے تھے )
عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، چناچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ آپ کو دیکھوں، پھر جب میں نے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا، اور سب سے پہلی بات جو آپ نے کہی وہ یہ تھی لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Salaam (RA) narrated: When the Prophet ﷺ came to Madina with his migration; people rushed to him and exclaimed, “Allah’s Messenger ﷺ has come!’ I also went to see him with the people. When my eyes fell on him, I could not help say. “This cannot be the face of a liar.” At this juncture, he said for the first time, “O People! Spread salaam. Feed people. When people are asleep in the night, offer salah and enter Paradise in peace.” [Ibn e Majah 1334, 3251]
صحيح، ابن ماجة (1334 و 3251)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2485
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہ مومنانہ خصائل و عادات ہیں کہ ان میں سے ہر خصلت جنت میں لے جانے کا سبب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٤ (١٣٣٤)، والأطعمة ١ (٣٢٥١) (تحفة الأشراف: ٥٣٣١)، و مسند احمد (٥/٤٥١) (صحیح )