ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس سے حساب و کتاب میں سختی سے پوچھ تاچھ ہوگئی وہ ہلاک ہوجائے گا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «فأما من أوتي کتابه بيمينه فسوف يحاسب حسابا يسيرا»: جس شخص کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا (الانشقاق: ٧ ) ۔ آپ نے فرمایا: اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے ۔
Aaisha (RA) reported that she heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He whose reckoning is harsh will perish.” She asked, “O Messenger of Allah, Allah says: (Then as for him who is given his record in his right hand, soon will his account be taken by an easy reckoning). (84:7-8) He said, “That is presentation (of deeds).” [Ahmed 24255, Bukhari 4939, Muslim 2876, Abu Dawud 3093]
صحيح ظلال الجنة (885)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2426
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح حسن ہے، ٢ - ایوب نے بھی ابن ابی ملیکہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٦ (١٠٣)، وتفسیر سورة الانشقاق (٤٩٣٩)، والرقاق ٤٩ (٦٥٣٦)، صحیح مسلم/الجنة ١٨ (٢٨٧٦)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر الانشقاق (٣٣٣٧) (تحفة الأشراف: ١٦٢٥٤)، و مسند احمد (٦/٤٨) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کو قیامت کے روز بھیڑ کے بچے کی شکل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: میں نے تجھے مال و اسباب سے نواز دے، اور تجھ پر انعام کیا اس میں تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا اور اسے بڑھایا اور دنیا میں اسے پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، سو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج! تاکہ میں ان سب کو لے آؤں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جو کچھ تو نے عمل خیر کیا ہے اسے دکھا، وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا، اسے بڑھایا اور دنیا میں پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، مجھے دوبارہ بھیج تاکہ میں اسے لے آؤں، یہ اس بندے کا حال ہوگا جس نے خیر اور بھلائی کی راہ میں کوئی مال خرچ نہیں کیا ہوگا، چناچہ اسے اللہ کے حکم کے مطابق جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔
Sayyidina Anas reported from the Prophet ﷺ that he said, “On the Day of Resurrection the son of a Adam will be brought as the young of a wolf. He will stand before Allah. Allah will say, ‘I granted you wealth and slaves. What did you do?’ He will say, “I accunulated and amassed that and left behind much multiplied. So, send me back and I will bring you all of it.’ He will say to him, ‘Tell Me what did you forward?’ He will answer, ‘My Lord, I am assed it, increased it more than it was. So send me back and I will come back with all of it.” Thus, a slave who will not forward piety is cast with it (wealth) in the fire.”
ضعيف، التعليق الرغيب (3 / 11) // ضعيف الجامع الصغير (6413) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2427
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی روایت کئی لوگوں نے حسن بصری سے کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ ان کا قول ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، ٢ - اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٣١، و ١١٤١) (ضعیف) (سند میں اسماعیل بن مسلم بصری ضعیف راوی ہیں )
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ایک بندے کو لایا جائے گا، باری تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے کان، آنکھ مال اور اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ اور چوپایوں اور کھیتی کو تیرے تابع کردیا تھا، اور قوم کا تجھے سردار بنادیا تھا جن سے بھرپور خدمت لیا کرتا تھا، پھر کیا تجھے یہ خیال بھی تھا کہ تو آج کے دن مجھ سے ملاقات کرے گا؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج میں بھی تجھے بھول جاتا ہوں جیسے تو مجھے دنیا میں بھول گیا تھا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) and Abu Sa’eed reported that Allah’s Messenger said, “On the day of Resurrection, a man will be brought. Allah will ask him, ‘Did I not give you hearing and sight, wealth and children, and subdue to you the animals and the fields. And I let you be the chief and leader of your clan that you may collect one fourth (wealth) from them. Did you imagine that you would meet Me this day of yours?’ He will say, ‘No.’ So, He will say to him, ‘This day I forget you just as you forgot Me.’”
صحيح ظلال الجنة (632)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2428
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح غریب ہے، ٢ - اللہ تعالیٰ کے فرمان: «اليوم أنساک» کا مطلب یہ ہے کہ آج کے دن میں تجھے عذاب میں ویسے ہی چھوڑ دوں گا جیسے بھولی چیز پڑی رہتی ہے۔ بعض اہل علم نے اسی طرح سے اس کی تفسیر کی ہے، ٣ - بعض اہل علم آیت کریمہ «فاليوم ننساهم» کی یہ تفسیر کی ہے کہ آج کے دن ہم تمہیں عذاب میں بھولی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دیں گے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد یہ ہے جب تجھے دنیا میں میری یاد نہ رہی تو میں تجھے کیسے یاد رکھوں گا، اس لیے تو آج سے ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم کی عذاب میں پڑا رہے گا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ: «يومئذ تحدث أخبارها» کی تلاوت کی اور فرمایا: کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کی خبریں کیا ہوں گی؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے خلاف گواہی دے گی، جو کام بھی انہوں نے زمین پر کیا ہوگا، وہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کام کیا ، آپ نے فرمایا: یہی اس کی خبریں ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that once Allah’s Messenger ﷺ recited the verse: (on that day it the earth will relate its tidings) . (99:4) Then he asked, “Can you imagine what tidings it will relate?” They said, “Allah and His Messenger know best.” He said, “Its tidings are that it will testify against every man and woman to the deeds they did on its surface, saying, ‘ He did so and so on such and-such a day’ This is that with which it will be commanded”
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کیا: «صور» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک سنکھ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr ibn Aas reported that a villager came to the Prophet ﷺ and asked about the trumpet. He said, “A horn which will be blown.” [Ahmed 6517, Abu Dawud 4742]
صحيح، الصحيحة (1080)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2430
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - کئی لوگوں نے سلیمان تیمی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، اسے ہم صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٢٤ (٤٧٤٢) (تحفة الأشراف: ٨٦٠٨)، و مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢)، وسنن الدارمی/الرقاق ٧٩ (٢٨٤٠)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر سورة القیامة (٣٣٣٩) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں کیسے آرام کروں جب کہ صور والے اسرافیل (علیہ السلام) «صور» کو منہ میں لیے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے، گویا یہ امر صحابہ کرام ؓ پر سخت گزرا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «حسبنا اللہ ونعم الوکيل علی اللہ توکلنا» یعنی اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا ۔
Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “How may I rest while the one with the trumpet has put it into his mouth, alerted the ear (to hear) when he will be commanded to blow it?” It was as though heavy on the sahabah of the Prophet ﷺ , so he said to them that they should recite: (Sufficient to us is Allah and an excellent guardian He is. We place our trust in Allah.) [Ahmed 11039]
صحيح، الصحيحة (2079)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2431
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - یہ حدیث عطیہ سے کئی سندوں سے ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في تفسیر سورة الزمر (٣٢٤٣) (تحفة الأشراف: ٤١٩٥)، و مسند احمد (٣/٧، ٧٣) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحہ رقم: ١٠٧٩ )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پل صراط پر مومن کا شعار یہ ہوگا: «رب سلم سلم» میرے رب! مجھے سلامت رکھ، مجھے سلامت رکھ ۔
Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah reported that Allah’s Messenger said, “The shi’ar (distinguish call) of the believers on the sirat will be Rabbi sallim (O Lord! Keep safe, keep safe) .” (Sirat is the narrow bridge over Hell which everyone will have to cross over. The righteous believer will pass over it swiftly while the wicked will fall into the fire.)
ضعيف، الضعيفة (1973) // ضعيف الجامع الصغير (3398) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2432
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے غریب ہے، اسے ہم صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق (واسطی ہی) کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٥٣٣) (ضعیف) (سند میں نعمان بن سعد لین الحدیث ہیں اور عبد الرحمن بن اسحاق واسطی ضعیف )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپ نے فرمایا: ضرور کروں گا ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا؟ آپ نے فرمایا: سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا ، میں نے عرض کیا: اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکے، تو فرمایا: تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈنا ، میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکے تو؟ فرمایا: اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: I requested the Prophet ﷺ Muhammad to intercede for me on the Day of Resurrection. He said that he would do it. I asked, “O Messenger of Allah, where should I seek you?” He said, “Look for me first at the sirat.’ I pleaded, “But, if I do not find you at the sirat?” He said, “Look for me at the scale.” he I pleaded again, “If I you there.”“Then,” he said, “Look for me at the pond (Kawthar) , for I shall not be but at these three places.” [Ahmed 12825]
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہوگا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کرسکیں گے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا نہیں دیکھتے کہ تمہاری مصیبت کہاں تک پہنچ گئی ہے، ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب سے تمہارے لیے شفاعت کرے، تو بعض لوگ بعض سے کہیں گے کہ آدم (علیہ السلام) کے پاس چلیں، لہٰذا لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے کہ آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کے اندر اپنی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا جنہوں نے آپ کا سجدہ کیا، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے۔ کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کتنی مصیبت لاحق ہے؟ آدم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، یقیناً اس نے مجھے ایک درخت سے منع فرمایا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، نوح کے پاس جاؤ، چناچہ وہ لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے، اے نوح! آپ زمین والوں کی طرف بھیجے گئے، پہلے رسول تھے، اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ کہا ہے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں کتنی مصیبت لاحق ہے، نوح (علیہ السلام) ان لوگوں سے فرمائیں گے کہ آج میرا رب ایسا غضبناک ہے کہ نہ تو اس سے پہلے ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، میرے لیے ایک مقبول دعا تھی جسے میں نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے استعمال کرلیا، اور آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، چناچہ وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے ابراہیم! آپ زمین والوں میں سے اللہ کے نبی اور اس کے خلیل (یعنی گہرے دوست) ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، اور میں دنیا کے اندر تین جھوٹ بول چکا ہوں (ابوحیان نے اپنی روایت میں ان تینوں جھوٹ کا ذکر کیا ہے) آج میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ کے پاس جاؤ، چناچہ وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے کہ اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ذریعے تمام لوگوں پر فضیلت عطا کی ہے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، دنیا کے اندر میں نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا جسے مارنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا، آج مجھے اپنی جان کی فکر ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، عیسیٰ کے پاس جاؤ، چناچہ وہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول، اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈالا آپ اللہ کی روح ہیں، آپ نے لوگوں سے گود ہی میں کلام کیا، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کر دیجئیے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے: آج کے دن میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے نہ تو ایسا غصہ ہوا اور نہ کبھی ایسا غصہ ہوگا، اور انہوں نے اپنی کسی غلطی کا ذکر نہیں کیا اور کہا کہ آج تو میری ذات کا معاملہ ہے، نفسی نفسی نفسی، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، محمد ﷺ کے پاس جاؤ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: چناچہ وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور اس کے آخری نبی ہیں، آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجئے، کیا آپ ہماری حالت زار کو نہیں دیکھ رہے ہیں، (آگے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں) پھر میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کی تعظیم کے لیے سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ میرے اوپر اپنے محامد اور حسن ثناء کو اس قدر کھول دے گا کہ مجھ سے پہلے اتنا کسی پر نہیں کھولا ہوگا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! اپنے سر کو اٹھاؤ اور سوال کرو، اسے پورا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، چناچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اے میرے رب میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اے میرے رب! میں اپنی امت کی نجات و فلاح مانگتا ہوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کرلیں، جن پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہے، اور یہ سب (امت محمد) دیگر دروازوں میں بھی (داخل ہونے میں) اور لوگوں کے ساتھ شریک ہوں گے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے پٹوں میں سے دو پٹ کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا کہ مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Some meat was presented to Allah’s Messenger and he was offered the foreleg which he liked very much and he bit a piece of it. Then he said: On the Day Resurrection, I shall be the chief of men. Do you see why? Allah will assemble mankind the first and the last in one place. A caller will (be able) to make them hear him while the sight (of a seer) will penetrate them. The sun will draw near to them. So, mankind will be grieved and worried with what they are unable to cope and bear and they will say to each other. “Do you not see what has come over you? Do you not find one who might intercede for you with your Lord?” Then they will say to each other, “You must go to Aadam’ so they will come to Aadam, and say, “You are the father of human beings. Allah created you with His hand and blew into you His spirit and commanded the angels and they prostrated to you. Intercede for us with your Lord. Do you not see what we face? Do you not see what has befallen us?” So, Adam will say to them, “Indeed, my Lord is angry today as He has never been angry before nor will he be as angry again. And He had forbidden me to approach the tree but O disobeyed Him. Nafsi, nafsi, nafsi.O Go to someone other than me. Go to Nuh.” So, they will come to Nuh and say, “O Nuh! you are the first of the Messengers to the people of earth and Allah has named you a grateful slave, intercede for us with your Lord. Do you not see the plight we are in? Do you not see what has befallen us?” So Nuh will say to them, “Indeed my Lord is angry today as He was never angry before this nor will he ever be as angry again. And that there was a prayer for me (which he had assured me would be accepted) and I made it (for my people to be ruined and so lost the opportunity). Nafsi, nafsi, nafsi. Go to someone else. Go to Ibrahim.” So, they will come to him, and say, “O Ibrahim! You are Allah’s Prophet ﷺ and His friend from the people of the earth. So, intercede for us with your Lord. Do you not see what plight we face?” He will say, “My Lord is angry today as He was never angry before and will never be angry after this. And I had lied three times.” Abu Hayyan has mentioned them in hadith. “Nafsi, nafsi, nafsi, Go to other than me, go to Musa.” So they will come to Musa and tell him, “O Musa! You are Messenger. Allah preferred you over all mankind with His messengership and conversation with Him. Intercede for us with your Lord. Do you not see what we are in?” He will say, “My lord is angry today as He has never been nor will be again after today. And I had killed a man not ordered to be killed. Nafsi, nafsi, nafsi! Go to someone else, Go to Eesa.” So, they will come to Eesa and say, “O Eesa! You are Allah’s Messenger and His word that He cast at Maryam, and a spirit from Him, and you spoke to the people from the cradle. Intercede for us with your lord.DO you not see our predicament?” Eesa will say, “Indeed, my Lord is angry today as He has never been before this and will never be as angry after today.” And he will not mention his faulI nafsi, nafsi. Go to someone else, go to Muhammad ﷺ “ They will come to him “ O Muhammad ﷺ , you are Allah’s Messenger and the seal of Prophets and indeed you are forgiven what preceded of your sins and what came afterwards. Intercede for us with your Lord not observe the plight we face?” So, I will go ahead and come under the Throne and fall down in prostration to my Lord. And, Allah will open to me words of his praise and of glorifying Him which He had never taught anyone before me. Then it will be said, “ O Muhammad ﷺ ! raise your head. Ask, it will be given to you. And intercede; your intercession will be approved. Raise your head.” So, I will say, “O Lord, my ummah.” He will say, “O Muhammad ﷺ , admit those of your ummah who are not liable to account through the right gate of the gates Paradise though they may be partners of other people in going through gates besides this of Paradise.” The Prophet ﷺ added, “By Him in whose hand is my life, the distance between every two gate-posts of Paradise is like the distance between Makkah and Hajr and like between Makkah and Busra.” [Bukhari 3361, Muslim 193]
صحيح تخريج الطحاوية (198)، ظلال الجنة (811)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2434
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، انس، عقبہ بن عامر اور ابو سعید خدری ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ کی اس شفاعت کا بیان ہے جب سارے انبیاء اپنی اپنی بعض لغزشوں کے حوالے سے شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے، چونکہ انبیاء (علیہم السلام) ایمان و تقویٰ کے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں، اس لیے ان کی معمولی غلطی بھی انہیں بڑی غلطی محسوس ہوتی ہے، اسی وجہ سے وہ بارگاہ الٰہی میں پیش ہونے سے معذرت کریں گے، لیکن نبی اکرم ﷺ اللہ کے حکم سے سفارش فرمائیں گے، اس سے آپ ﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، آپ کی شفاعت مختلف مرحلوں میں ہوگی، آپ اپنی امت کے حق میں شفاعت فرمائیں گے، جو مختلف مرحلوں میں ہوگی، اس حدیث میں پہلے مرحلہ کا ذکر ہے، جس میں آپ کی شفاعت پر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنت میں لے جانے کی اجازت دے گا جن پر حساب نہیں ہوگا۔
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میری امت کے جو اہل کبائر ہوں گے اور جو اپنے گناہوں کی سزا جہنم میں بھگت رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی بخشش کے لیے میری مخصوص شفاعت ہوگی، باقی رفع درجات کے لیے انبیاء، اولیاء، اور دیگر متقی و پرہیزگار لوگوں کی شفاعت بھی ہوگی جو سنی جائے گی۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہوگی ۔ محمد بن علی الباقر کہتے ہیں: مجھ سے جابر ؓ نے کہا: محمد! جو اہل کبائر میں سے نہ ہوں گے انہیں شفاعت سے کیا تعلق؟
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “My intercession is for the perpetrators of the major sins form my ummah.” Muhammad ibn Ali said that Jabir said to him, ““ O Muhammad ﷺ as for those who are not perpetrators of grave sins , how are they concerned with intercession?” [Ibn e Majah 4310]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث جعفر الصادق بن محمد الباقر کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣١٠) (تحفة الأشراف: ٢٦٠٨)، و مسند احمد (٣/٢١٣) (صحیح )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہوگا اور نہ ان پر کوئی عذاب، (پھر) ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے ۔
Sayyidina Abu Umamah i reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “My Lord promised me that He would admit seventy thousand of my ummah to Paradise without reckoning or punishment, again, with every thousand he will admit seventy thousand and three handfuls of my Lord.” [Ahmed 2281, Ibn e Majah 4286]
صحيح، ابن ماجة (4286)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2437
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٤ (٤٢٨٦) (تحفة الأشراف: ٤٩٢٤)، و مسند احمد (٥/٢٥٠، ٢٦٨) (صحیح )
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، کسی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میرے علاوہ ہوگا ، پھر جب وہ (راوی حدیث) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء ؓ ہیں۔
Abdullah ibn Shaqiq (RA) narrated: I was among a group of people at Eeliya. A man of them said that he had heard Allah’s Messenger say, “More people than the numbers of Banu Tarnim will be admitted to Paradise on the intercession of a man of my ummah.” It was asked, “O Messenger of Allah, (a man) other than you?” He confirmed, “Someone other than me.” When the man (who had narrated the hadith stood up) , Abdullah asked, “Who is he?” The people said, “He is Ibn Abu Jaz’a.” [Ahmed 15857, Ibn e Majah 4316]
صحيح، ابن ماجة (4316)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2438
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ابن ابی جذعاء ؓ کا نام عبداللہ ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣١٦) (تحفة الأشراف: ٥٢١٢) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا کوئی شخص کئی جماعت کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک قبیلہ کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک گروہ کے لیے شفاعت کرے گا، اور کوئی ایک آدمی کے لیے شفاعت کرے گا، یہاں تک کہ سب جنت میں داخل ہوں جائیں گے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed reported that Allah’s Messenger said, “There will be from my ummah such as will intercede for many groups of people, such of them as will intercede for a tribe, such of them as will intercede for a clan (between ten and forty members) such of them as will intercede for just one man till they enter Paradise.”
ضعيف، المشکاة (5602) // ضعيف الجامع الصغير (2002) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2440
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤١٩٧) (ضعیف) (سند میں ” عطیہ عوفی “ ضعیف ہیں )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا (جبرائیل علیہ السلام) میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا یہ کہ مجھے شفاعت کا حق حاصل ہو، چناچہ میں نے شفاعت کو اختیار کیا، یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا خاتمہ شرک کی حالت پر نہیں ہوگا ۔
Sayyidina Awf ibn Maalik Ashja’i (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “There came to me one sent by my Lord. He gave me a choice between admittance of half of my ummah to Paradise and intercession. So I chose to make intercession and that will be for those die without having associated with Allah anything.” [Ahmed 24057]
صحيح، ابن ماجة (4317)
صحيح، ابن ماجة (4317)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2441
اس سند سے بھی عوف بن مالک ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے (اسی میں قصہ ہے) ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2441
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوملیح نے ایک اور صحابی سے روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، (لیکن) اس میں عوف بن مالک کا ذکر نہیں کیا، اس حدیث میں ایک طویل قصہ مذکور ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک میرے حوض پر آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر پیالے ہیں ۔
Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “In my pond there with be pitchers numerous as the stars in heaven.” [Ahmed 13352, Bukhari 5680, Muslim 2303]
صحيح، ابن ماجة (4304)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2442
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٥٣ (٦٥٨٠)، صحیح مسلم/الفضائل ٩ (٢٣٠٣)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٦ (٤٣٠٥) (تحفة الأشراف: ١٥٠٣)، و مسند احمد (٣/٢٢٥، ٢٣٨) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے روز ہر نبی کے لیے ایک حوض ہوگا، اور وہ آپس میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے حوض پر پانی پینے والے زیادہ جمع ہوتے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ میرے حوض پر (اللہ کے فضل سے) سب سے زیادہ لوگ جمع ہوں گے ۔
Sayyidina Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “There is for every prophet pond and they will vie with each other on who has the most people coming to it. I will have the largest number of those who come (to my pond) .”
صحيح تخريج الطحاية (197)، المشکاة (5594)، الصحيحة (1589)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2443
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اشعث بن عبدالملک نے اس حدیث کو حسن بصری کے واسطے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں سمرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٦٠٣) (صحیح) (سند میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: ١٥٨٩ )
ابو سلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے میرے پاس بلاوے کا پیغام بھیجا، چناچہ میں ڈاک سواری خچر پر سوار ہو کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ڈاک سواری خچر کی سواری مجھ پر شاق گزری تو انہوں نے کہا: ابو سلام! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا، لیکن میں نے تمہارے بارے میں یہ سنا ہے کہ تم ثوبان ؓ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہو، چناچہ میری یہ خواہش ہوئی کہ وہ حدیث تم سے براہ راست سن لوں، ابو سلام نے کہا: ثوبان ؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے اردن والے عمان تک کا فاصلہ ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا، سب سے پہلے اس پر فقراء مہاجرین پہنچیں گے، جن کے سر دھول سے اٹے ہوں گے اور ان کے کپڑے میلے کچیلے ہوں گے، جو ناز و نعم عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے اور نہ ان کے لیے جاہ و منزلت کے دروازے کھولے جاتے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا: لیکن میں نے تو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح کیا اور میرے لیے جاہ و منزلت کے دروازے بھی کھولے گئے، میں نے فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اپنے سر کو نہیں دھوتا یہاں تک کہ وہ غبار آلود نہ ہوجائے اور اپنے بدن کے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوتا جب تک کہ میلے نہ ہوجائیں۔
Abu Sallam Hubshi narrated: Umar ibn Abdul Aziz sent for me and I mounted a mule (and went to him) . When I came to him, I said, “O Amir mu-Muminin, the ride was very tiring for me.” He said, ‘O Abu Sallam, I did not intend to tire you but, I have learnt of a hadith from you that you narrate on the authority of Thawban from the Prophet ﷺ about the pond. So, I would love that you enlighten me directly with it.’ So, I narrated to him: Thawban narrated to me that Allah’s Messenger said, “My pond is as the distance between Aden and Amman in Balqa. Its water is more white than milk and more sweet tham honey and its glasses (or cups) are as nunmerous as the stars in the heaven. He who drinks from it once will never again experience thirst. The first people to come to it will be the poor muhajirs with unkempt, disorderly head, dirty clothes, not married to delicate, sensitive women and for whom doors are not opened. Umar interjected, ‘But, I have married such a woman and doors are opened for me. I have married Fatimah bint Abdul Malik, and, of course, I do wash my head till it is ruffled and my clothes that are on my body till they are dirty.” [Ahmed 2289,M 23201]
صحيح المرفوع منه، ابن ماجة (4303) // صحيح سنن ابن ماجة برقم (3472)، ضعيف سنن ابن ماجة برقم (937)، الصحيحة (1082)، السنة لابن أبي عاصم (707 و 708) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2444
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - یہ حدیث معدان بن ابی طلحہ کے واسطے سے «عن ثوبان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے، ٣ - ابو سلام حبشی کا نام ممطور ہے، یہ شامی ہیں اور ثقہ راوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٦ (٤٣٠٣) (تحفة الأشراف: ٢١٢٩) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر اس کا مرفوع حصہ صحیح ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحہ رقم: ١٠٨٢ )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حوض کوثر کے برتن کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً اس کے برتن تاروں سے بھی زیادہ ہیں اس تاریک رات میں جس میں آسمان سے بادل چھٹ گیا ہو، اور اس کے پیالے جنت کے برتنوں میں سے ہوں گے، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اس کا فاصلہ اتنا ہے جتنا عمان سے ایلہ تک کا فاصلہ ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that he submitted, ‘O Messenger of Allah, what are the vessels of the pond?” He said, “By Him who has my soul in His hand, its vessels outnumber the stars of a dark night when there are no clouds. The vessels are of Paradise. He who drinks from them never feels thirsty. The last thing about it is that its breadth is like its length, the distance between Amman and Aylah. Its water is whiter that milk and sweeter than Honey” [Muslim 2301]
صحيح الظلال (721)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2445
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ بن یمان، عبداللہ بن عمرو، ابوبرزہ اسلمی، ابن عمر، حارثہ بن وہب اور مستورد بن شداد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے حوض کا فاصلہ اتنا ہے جتنا کوفہ سے حجر اسود تک کا فاصلہ ہے ۔