عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو ١ ؎۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported having asked, “O Messenger of Allah ﷺ how to get salvation?” He said, “Control your tongue, keep yourself to your home and weep over your sins”. [Ahmed 22298]
صحيح، الصحيحة (888)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2406
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں زبان کی حفاظت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے، کیونکہ اسے کنٹرول میں نہ رکھنے کی صورت میں اس سے بکثرت گناہ صادر ہوتے ہیں، اس لیے لایعنی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے اور کوشش یہ ہو کہ ہمیشہ زبان سے خیر ہی نکلے، ایسے لوگوں اور مجالس سے دور رہنا چاہیئے جن سے شر کا خطرہ ہو، بحیثیت انسان غلطیاں ضرور ہوں گی ان کی تلافی کے لیے رب العالمین کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٩٢٨)، وانظر مسند احمد (٤/١٤٨)، و (٥/٢٥٩) (صحیح) (یہ سند مشہور ضعیف اسانید میں سے ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے الصحیحة رقم: ٨٩٠ )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے ١ ؎۔
Abu Sa’eed Khudri (RA) reported in a marfu’ from, “When morning dawns on the son of Aadam, all his limbs humble themselves before his tongue and implore (it), ‘Fear Allah for we depend on you. If you stay straight, we are straight, but if you are crooked then we are crooked.’” [Ahmed 11908]
١ ؎: اس حدیث میں زبان کو سارے اعضاء کے سدھار کا مرکز بتایا گیا ہے، حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کا مرکز دل ہے، توفیق کی صورت یہ ہے کہ زبان کو جسم کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے مجازا اسے سارے اعضاء کا مرکز کہا گیا، ورنہ مرکز دل ہے نہ کہ زبان۔
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں ١ ؎۔
Sayyidina Sahl ibn Sa’d (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ If anyone guarantees me what is between his jaws and what is between his legs then I guarantee him Paradise.” [Ahmed 22886, Bukhari 6474]
١ - یہ حدیث سہل بن سعد کی روایت سے حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ زبان اور شرمگاہ گناہوں کے صدور کا اصل مرکز ہیں، اسی لیے ان کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے، اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے ان دونوں کی حفاظت کی ضمانت دینے والوں کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے اللہ نے اس کی ٹانگوں اور ڈاڑھوں کے درمیان کی چیز کے شر و فساد سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ ,”He whom Allah has protected from the mischief of that which is between his jaws and that what is between his legs will enter Paradise.”
حسن صحيح، الصحيحة (510)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2409
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابوہریرہ ؓ سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمان ہے، یہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کوفی ہیں اور سہل بن سعد سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمہ بن دینار ہے جو زاہد مدنی ہیں۔
سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے ایسی بات بیان فرمائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، آپ نے فرمایا: کہو: میرا رب (معبود حقیقی) اللہ ہے پھر اسی عہد پر قائم رہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو مجھ سے کس چیز کا زیادہ خوف ہے؟ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اسی کا زیادہ خوف ہے ۔
Sayyidina Sufyan ibn Abdullah Thaqafi (RA) narrated: I said, “O Messenger of Allah, teach me something to which I may hold fast.” He said, ‘Say, ‘My Lord is Allah’ and stick to it”. I said, “O Messenger of Allah, what do you apprehend most from me?” He held is tor “This!” [Ahmed 15418, Muslim 38,Ibn e Majah3972]
صحيح، ابن ماجة (3972)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2410
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث سفیان بن عبداللہ ثقفی سے کئی سندوں سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ١٤ (٣٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٧٢) (تحفة الأشراف: ٤٤٧٨)، و مسند احمد (٣/٤١٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہوگا ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not engage in much conversation without mention of Allah because that hardens heart and the hard-hearted is the furthest from Allah.”
ضعيف، الضعيفة (920)، المشکاة (2276 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6265) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2411
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٧١٢٣) (ضعیف) (سند میں ابراہیم میں قدرے کلام ہے، یہ حدیث رسول ﷺ نہیں بلکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اقوال میں سے ہے جس کو ابراہیم نے حدیث رسول بنادیا ہے، دیکھیے الضعیفة: ٩٠٨، و ٩٢٠ )
ام المؤمنین حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انسان کی ساری باتیں اس کے لیے وبال ہیں ان میں سے اسے امربالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے سوا اسے کسی اور کا ثواب نہیں ملے گا ۔
Sayyidina Umm Habibah (RA) the wife of the Prophet ﷺ reported that Prophet ﷺ said, “Every speech of the son of Aadam is against him, not for him, except enjoining the reputable and forbidding evil and remembrance of Allah.”
ضعيف، ابن ماجة (3974) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (861)، ضعيف الجامع الصغير (4283) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2412
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے اسے ہم صرف محمد بن یزید بن خنیس کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٧٤) (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٧) (ضعیف) (سند میں ” محمد بن یزید بن خنیس “ لین الحدیث ہیں )
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سلمان اور ابو الدرداء کے مابین بھائی چارہ کروایا تو ایک دن سلمان نے ابوالدرداء ؓ کی زیارت کی، دیکھا کہ ان کی بیوی ام الدرداء معمولی کپڑے میں ملبوس ہیں، چناچہ انہوں نے پوچھا کہ تمہاری اس حالت کی کیا وجہ ہے؟ ان کی بیوی نے جواب دیا: تمہارے بھائی ابوالدرداء ؓ کو دنیا سے کوئی رغبت نہیں ہے کہ جب ابو الدرداء گھر آئے تو پہلے انہوں نے سلمان ؓ کے سامنے کھانا پیش کیا اور کہا: کھاؤ میں آج روزے سے ہوں۔ سلمان ؓ نے کہا: میں نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ تم بھی میرے ساتھ کھاؤ۔ چناچہ سلمان نے بھی کھایا۔ پھر جب رات آئی تو ابوالدرداء ؓ تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے، تو سلمان نے ان سے کہا: سو جاؤ وہ سو گئے۔ پھر تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا سو جاؤ، چناچہ وہ سو گئے، پھر جب صبح قریب ہوئی تو سلمان نے ان سے کہا: اب اٹھ جاؤ چناچہ دونوں نے اٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر سلمان نے ان سے کہا: تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر صاحب حق کو اس کا حق ادا کرو ، اس کے بعد دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس گفتگو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: سلمان نے سچ کہا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Juhayfah narrated: Allah’s Messenger ﷺ established fraternal ties between Salman and Abu Darda. Once, Salman visited Abu Darda and observed Umm Darda in a hackneyed condition, so he asked, “What is wrong with you? Worn-out?” She Said, “Abu Darda has no worldly ambition.” When Abu Darda came, he served the meal to Salman and said, “I will not eat till you eat.” So, he ate. When it was night, Abu Darda stood ip in prayer but Salman said to him, “Sleep,” so he slept, but soon got up to pray. Salman said to him, “Sleep”, so he slept. When it was morning, Salman said to him. “Stand up, now.” So, he stood up and they offered salah and he said, “Indeed, your soul has a right over you, your Lord has a right over you, your guest has a right over you. So give every owner of right” They came to the Prophet ﷺ and he related what had transpired to him and he said, “Salam has spoken the truth.” [Bukhari 1968]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2413
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں بہت سارے فوائد ہیں: ایک بھائی کا دوسرے بھائی کی زیارت کرنا تاکہ اس کے حالات سے آگاہی ہو، عبادت کا وہی طریقہ اپنانا چاہیئے جو مسنون ہے تاکہ دوسروں کے حقوق کی پامالی نہ ہو، زیارت کے وقت اپنے بھائی کو اچھی باتوں کی نصیحت کرنا اور اس کی کوتاہیوں سے اسے باخبر کرنا، کسی پریشان حال کی پریشانی کی بابت اس سے معلومات حاصل کرنا، رات کی عبادت کا اہتمام کرنا وغیرہ۔
عبدالوہاب بن ورد سے روایت ہے کہ ان سے مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا: معاویہ ؓ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس ایک خط لکھا کہ مجھے ایک خط لکھئیے اور اس میں کچھ وصیت کیجئے۔ چناچہ عائشہ ؓ نے معاویہ ؓ کے پاس خط لکھا: دعا و سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو لوگوں کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو تو لوگوں سے پہنچنے والی تکلیف کے سلسلے میں اللہ اس کے لیے کافی ہوگا اور جو اللہ کی ناراضگی میں لوگوں کی رضا کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو اسے تکلیف دینے کے لیے مقرر کر دے گا ، (والسلام علیک تم پر اللہ کی سلامتی نازل ہو) ١ ؎۔
Abdullah ibn Wahhad ibn Ward reported from a man of Madinah who said: Mu’awiyah wrote to Ayshah (RA) “Write to me a letter giving me instructions, but do not make it too much over me.” So, she worte to him, “Peace be on you! To proceed, I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘He who seeks Allah’s pleasure in people’s anger, (finds that) Allah suffices him against people’s confrontaion. But, as for him who seeks the pleasure of the people in Allah’s wrath, Allah entrusts him to the people. And peace be on you.”
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا مندی ہر چیز پر مقدم ہے، اس لیے اگر کوئی ایسا امر پیش ہو جسے انجام دینے سے اللہ کی رضا مندی حاصل ہوگی لیکن لوگوں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا تو لوگوں کو نظر انداز کر کے اللہ کی رضا مندی کا طالب بنے، کیونکہ ایسی صورت میں اسے اللہ کی نصرت و تائید حاصل رہے گی، اور اگر بندوں کے غیض و غضب سے خائف ہو کر اللہ کی رضا کو بھول بیٹھا تو ایسا شخص رب العالمین کی نصرت و تائید سے محروم رہے گا، ساتھ ہی اسے انہی بندوں کے ذریعہ ایسی ایذا اور تکلیف پہنچائے گا جو اس کے لیے باعث ندامت ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٨١٥) (صحیح) (سند میں ایک راوی ” رجل من أھل المدینة “ مبہم ہے، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: ٢٣١١ )
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کا رب اس سے قیامت کے روز کلام کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر بائیں جانب دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو جہنم کی گرمی سے اپنے چہرے کو بچانا چاہے تو اسے ایسا کرنا چاہیئے، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو ١ ؎۔
Sayyidina Adi ibn Hatim reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is none of you with whom his Lord will not speak on the Day of Resurrection and there will not be between them or an interpreter. He will look to his right and not see anything but that which he has forwarded, and he will look to his left and not see anything but that which he has forwarded. Then he will look ahead of him and the Fire will confront him.” Allah’s Messenger said further, “He among you who can save his face from the Fire even with a piece of date let him do it.” [Bukhari 6539,M 1016, Ibn e Majah 185, 1843, Ahmed 18274]
صحيح، ابن ماجة (185)
صحيح، ابن ماجة (185)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2415
ابوسائب کہتے ہیں کہ ایک دن اس حدیث کو ہم سے وکیع نے اعمش کے واسطہ سے بیان کیا پھر جب وکیع یہ حدیث بیان کر کے فارغ ہوئے تو کہا: اہل خراسان میں سے جو بھی یہاں موجود ہوں انہیں چاہیئے کہ وہ اس حدیث کو خراسان میں بیان کر کے اور اسے پھیلا کر ثواب حاصل کریں۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2415
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
کہ یہ بات انہوں نے اس لیے کہی کیونکہ جہمیہ اس حدیث کا انکار کرتے ہیں ٢ ؎۔ ابوسائب کا نام سلمہ بن جنادہ بن سلم بن خالد بن جابر بن سمرہ کوفی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہنم سے بچاؤ کا راستہ اختیار کرے، اس لیے زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرے، اور نیک عمل کرتا رہے، کیونکہ یہ جہنم سے بچاؤ اور نجات کا ذریعہ ہیں۔
٢ ؎: جہمیہ اس حدیث کا انکار اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اس میں کلام الٰہی کا اثبات ہے اور جہمیہ اس کے منکر ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٩ (٦٥٣٩)، والتوحید ٢٤ (٧٤٤٣)، و ٣٦ (٧٥١٢)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٠ (١٠١٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٥)، والزکاة ٢٨ (١٨٤٣) (تحفة الأشراف: ٩٨٥٢)، و مسند احمد (٤/٢٥٦) (صحیح)
تفرد بہ المؤلف (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The feet of the son of Adam will not move away from his Lord on the Day of Resurretion till he is asked about five things about his life, how he spent it; about his youth, how he paseed it; about his wealth, how he eared it; and on what he poured it; and what he did with that which he learnt.”
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اسے ہم «عن ابن مسعود عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے صرف حسین بن قیس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور حسین بن قیس اپنے حفظ کے قبیل سے ضعیف ہیں، ٣ - اس باب میں ابوبرزہ اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کے مطابق جن چیزوں سے متعلق استفسار ہوگا ان میں سب سے پہلے اس زندگی کے بارے میں سوال ہوگا جس کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے، اس لیے اسے حیات مستعار سمجھتے ہوئے اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں گزارنا چاہیئے، کیونکہ اس کا حساب دینا ہے، جوانی میں انسان اپنے آپ کو محرمات سے بچائے، اس میں کوتاہی کرنے کی صورت میں اللہ کی گرفت سے بچنا مشکل ہوگا، اسی طرح مال کے سلسلہ میں اسے کماتے اور خرچ کرتے وقت دونوں صورتوں میں اللہ کا ڈر دامن گیر رہے، علم کے مطابق عمل کی بابت سوال ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ دین و شریعت کا علم حاصل کرے، کیونکہ یہی اس کے لیے مفید اور نفع بخش ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٣٤٦) (صحیح) (سند میں حسین بن قیس ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھیے: الصحیحة رقم: ٩٤٦ )
ابوبرزہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا ۔
Sayyidina Abu Barzah Aslami (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “(On the Day of Resurrection) the feet of a slave will not move till he is asked about his life how he spent it; and about his knowledge, what he did with it, and about his wealth, how he earned it and on what he used it, and about his body, in what way he wore it off.”
صحيح، الصحيحة (946)، التعليق الرغيب (1 / 76)، الروض النضير (648)، تخريج اقتضاء العلم العمل (15 / 1)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2417
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سعید بن عبداللہ بن جریج بصریٰ ہیں اور وہ ابوبرزہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، ابوبرزہ کا نام نضلہ بن عبید ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا: کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پہ تہمت باندھی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، اور کسی کو مارا ہوگا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ “Do you know who is poor?” He was told, “The poor among us, O Messenger of Allah, is he who has no dirham and no possessions.” He said, “The poor of my ummah is one who comes on the Day of Resurrection with salah and fasting and zakah, but also comes with abuses (he has hurled) on this one, accusations on that one, devouring of some property, blood of someone, slaying of another. So he sits and loses this piety (to someone) and that piety (to another) so that when e his good deeds are finished before he has paid off what is against him of sins, he carries their sins thrown to him till he is cast into the fire.”
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کی ساری نیکیاں آخرت میں چھین لی جائیں، اس سے بدلہ لینے والے باقی رہ جائیں، اور اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں، یہی حقیقی مفلس ہے، باقی وہ دنیاوی مفلس جو مال و دولت کی کمی کی وجہ سے مفلس و بےچارگی کی زندگی گزارتا ہے، تو یہ ایسا ہے کہ اس کی زندگی کے سدھر نے کا امکان ہے، اور اگر نہیں بھی سدھری تو اس کا یہ معاملہ اس کی موت تک ہے، کیونکہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٥ (٢٥٨١) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٣)، و مسند احمد (٢/٣٠٣، ٣٣٤، ٣٧٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے بندے پر رحم کرے جس کے پاس اس کے بھائی کا عزت یا مال میں کوئی بدلہ ہو، پھر وہ مرنے سے پہلے ہی اس کے پاس آ کے دنیا ہی میں اس سے معاف کرا لے کیونکہ قیامت کے روز نہ تو اس کے پاس دینار ہوگا اور نہ ہی درہم، پھر اگر ظالم کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اس کی نیکیوں سے بدلہ لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں بھی نہیں ہوں گی تو مظلوموں کے گناہ ظالم کے سر پر ڈال دیئے جائیں گے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “May Allah show mercy to a slave who has wronged his brother for his honour or property. So, he comes to him and retrieves a pardon before he is taken to task when neither dinar nor dirham is legal tender. If he has good deeds they are drawn upon, but if he does not have good deeds then their evil deeds are laden on him.”
ضعيف - بهذا اللفظ -، والصحيح بلفظ: من کانت عنده مظلمة لأخيه فليتحلله ...، الضعيفة (3641) // ضعيف الجامع الصغير (3112) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2419
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث سعید مقبری کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - مالک بن انس نے «عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے دن) حقداروں کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے گا، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The rights will have to be paid in full to their owners so much so that a hornless goat will be compensated by the horned goat.”
صحيح، الصحيحة (1588)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2420
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوذر اور عبداللہ بن انیس ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٥ (٢٥٨٢) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٤)، و مسند احمد (٢/٢٣٥، ٣٠١، ٣٢٣، ٤١١) (صحیح )
مقداد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کردیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہوگا ۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے کون سی میل مراد لی ہے، (زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی) ، پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہوگا ١ ؎، مقداد ؓ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام لگی ہوتی ہے۔
Sayyidina Miqdad a companion of Allah’s Messenger ﷺ reported having heard him say, “When it is the Day of Resurrection, the sun will be drawn nearer to the slaves till it is a mile or two away from them.” Sulaym ibn Aamir said, “I do not know what he meant by two miles the measure of earthly distance or the one with which collyrium is applied to the eyes so said, ‘The sun will melt them so that they will drown Muslim their perspiration to the limits of their deeds. There will be among them those who are taken in up to their heels, and I taken in up to their knees, and those who are taken in up to their backs (waists) and those who are covered up to their faces” Allah’s Messenger gestured with his hand up to his mouth as though reign was tied to it. [Ah23874, Muslim 2864]
صحيح، الصحيحة (1382)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2421
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سائنسی تحقیق کے مطابق سورج زمین سے نو کروڑ میل کے فاصلے پر ہے، قیامت کے دن جب یہ صرف ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا تو اس کی حرارت کا کیا عالم ہوگا؟ یہ اللہ کے علاوہ کون زیادہ جان سکتا ہے، انسان کا حال پسینے میں یہ ہوگا، اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا رحم فرمائے آمین۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنة ١٥ (٢٨٦٤) (تحفة الأشراف: ١١٥٤٣)، و مسند احمد (٦/٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (المطففین: ٦ ) ، اور کہا: اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہوگا ۔
Abu Zakariya Yahya ibn Durust Busri reported from Hammad ibn Zayd fromi from Ayyub from Nafi from Ibn Umar (RA) Hammad said: “A day when mankind shall stand before the Lord of the worlds” (83:6) their perspiration will drown them up to the middle of their ears.
صحيح، ابن ماجة (4278)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2422
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٧ (٦٥٣١)، وتفسیر المطففین (٤٩٣٨)، صحیح مسلم/الجنة ١٥ (٢٨٦٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٣ (٤٢٧٨)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر المطففین (٣٣٣٥) (تحفة الأشراف: ٧٥٤٢)، و مسند احمد (٢/١٢، ١٩، ٣١، ٦٤، ٧٠، ١٠٥، ١١٢، ١٢٥، ١٢٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کا حشر اس حال میں ہوگا کہ وہ ننگے بدن، ننگے پیر اور ختنہ کے بغیر ہوں گے، پھر آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا کنا فاعلين» جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، اور ہم اسے ضرور کر کے ہی رہیں گے (الانبیاء: ١٠٤ ) ، انسانوں میں سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا، اور میری امت کے بعض لوگ دائیں اور بائیں طرف لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں، تو کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی نئی باتیں نکالیں، اور جب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہو یہ لوگ ہمیشہ دین سے پھرتے رہے ہیں ١ ؎، تو اس وقت میں وہی کہوں گا جو (اللہ کے) نیک بندے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہی تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحکيم» اگر تو انہیں عذاب دے تو یقیناً یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں تو بخش دے تو یقیناً تو غالب اور حکمت والا ہے (المائدہ: ١١٨ ) ۔
Sayyidina lbn Abbas reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The people will be assembled on the Day of Resurrection barefoot, naked and uncircumcised as they were created.” He then recited: As we originated the first creation, so we shall restore it a promise (binding) on us, surely we shall be doing (it) . (21:104) And the first of the creatures to be clothed will be Ibrahim.O And, my sahabah will from the right side and the left side, and I will say, “O Lord, my companions!O Ar said, you do not know what they innovated after you.O They did not cease to turn 1 heels since you had separated from them. So, I will say as the righteous slave had said: If You chastise them, surely they are Your slaves, and if You forgive them, surely You are the Mighty, the Wise. (5:118) [Ahmed 2096, Bukhari 3349, Muslim 2860, Nisai 2081]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2423
Notes · وضاحت
١ ؎: ابراہیم (علیہ السلام) کے کپڑے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے اتارے گئے تھے، اور انہیں آگ میں ڈالا گیا تھا، اس لیے قیامت کے دن سب سے پہلے انہیں لباس پہنایا جائے گا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر انسان کا ایمان و عمل درست نہ ہو تو وہ عذاب سے نہیں بچ سکتا اگرچہ وہ دینی اعتبار سے کسی عظیم ہستی کی صحبت میں رہا ہو، کسی دوسری ہستی پر مغرور ہو کر عمل میں سستی کرنا اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہوسکتی ہے، بڑے بڑے مشائخ کے صحبت یافتہ اکثر و بیشتر اس مہلک مرض میں گرفتار ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دین میں نئی باتیں ایجاد کرنا اور اس پر عامل ہونا عظیم خسارے کا باعث ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٤٩)، و ٤٨ (٣٤٤٧)، وتفسیر المائدة ١٤ (٤٦٢٥)، ١٥ (٤٦٢٦)، تفسیر الأنبیاء ٢ (٤٢٨٤٠)، والرقاق ٤٥ (٦٥٢٤-٦٥٢٦)، صحیح مسلم/الجنة ١٤ (٢٨٦٠)، سنن النسائی/الجنائز ١١٨ (٢٠٨٣)، و ١١٩ (٢٠٨٩)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر الأنبیاء (٣١٦٧) (تحفة الأشراف: ٥٦٢٢)، و مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٢٣، ٢٢٩، ٢٥٣، ٣٩٨)، وسنن الدارمی/الرقاق ٨٢ (٢٨٤٤) (صحیح )
معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ میدان حشر میں پیدل اور سوار لائے جاؤ گے اور اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے ۔
Bahz ibn Hakim (RA) reported on the authority of his father from his grandfather that he heard Allah’s Messenger ﷺ say. ‘You will be assembled on foot and on riding beasts, and some will be dragged by their faces.’
صحيح فضائل الشام (13)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2424
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب کے میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دو بار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے، اور تیسری بار ان لوگوں کے اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑے ہوگا اور کوئی بائیں ہاتھ میں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “On the day of Resurrection, people will be presented three times. The (first) two presentations will involve conversation and excuses. The third time Record of deeds will be handed over quickly, some getting it in their right hands and some in their left.” [Ahmed 19736]
ضعيف، ابن ماجة (4277) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (932) عن أبي موسی، وانظر شرح العقيدة الطحاوية - طبع المکتب الإسلامي - (556)، المشکاة (5557 و 5558)، ضعيف الجامع الصغير (6432) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2425
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حسن کا سماع ابوہریرہ ؓ سے ثابت نہیں ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اس حدیث کو «عن علي الرفاعي عن الحسن عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے، ٣ - یہ حدیث بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ حسن کا سماع ابوموسیٰ اشعری سے بھی ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٥٠) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع ابوہریرہ ؓ سے ثابت نہیں ہے )