اس سند سے ابو سعید خدری ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی اور اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
Abd ibn Humayd reported from Yaqub ibn Ibrahim ibn Sa’d, who from his father, who from Salih ibn Kaysan, from Zuhri, from Abu Umamah, from Abu Sa’eed Khudri from the Prophet ﷺ a hadith of the same meaning.
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور عمر تولے گئے، تو ابوبکر بھاری نکلے، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا، ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Bakrah reported that one day the Prophet ﷺ asked, “Which of you has seen a dream?” A man said, “I saw as though a scale descended from the heaven. You and Abu Bakr (RA) were weighed and you outweighed Abu Bakr. Abu Bakr (RA) and Umar (RA) were weighed and Abu Bakr (RA) was heavier. Umar (RA) and Uthman were weighed and Umar (RA) outweighed. Then the scale was raised up”. They discerned grief on the face of Allah’s Messenger ﷺ . [Abu Dawud 46341]
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ورقہ (ورقہ بن نوفل) کے بارے میں پوچھا گیا تو خدیجہ نے کہا: انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated: Someone asked Allah’s Messenger ﷺ about Waraqah. So, Khadijah told him, “He had confirmed you and he died before you declared (your mission)”. So, Allah’s Messenger said, “I was shown him in my dream. He had on him a white dress. If he were of the people of the fire then he would be wearing garments other than that.
ضعيف، المشکاة (4623) // ضعيف الجامع الصغير (792) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2288
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ اگر کوئی مسلمان خواب میں اپنے کسی مرے ہوئے مسلمان بھائی کے جسم پر سفید کپڑا دیکھے تو یہ اس کے حسن حال کی پیشین گوئی ہے کہ وہ جنتی ہے، ورقہ بن نوفل خدیجہ ؓ کے چچیرے بھائی تھے انہوں نے آپ ﷺ کا حال سن کر آپ کی رسالت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ جو فرشتہ تمہارے پاس آتا ہے وہ ناموس اکبر ہے، اپنے بڑھاپے پر افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو اس وقت آپ کا ساتھ ضرور دوں گا جس وقت آپ کی قوم آپ کو گھر سے نکال دے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٦) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن متروک الحدیث راوی ہے، خود متن سے بھی اس حدیث کا منکر ہونا واضح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے نبی اکرم ﷺ کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ (ایک کنویں پر) جمع ہوگئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی (یعنی سب آسودہ ہوگئے ١ ؎ ) ۔
Sayyidina Abdullah Ibn Umar (RA) reported about the Prophets ﷺ dream of Abu Bakr (RA) and Umar (RA) He said, “I saw people gathered (at a well). Abu Bakr (RA) drew a bucket or two (from the well) and he had some weakness. Allah will forgive him. Then Umar (RA) stood up and pulled it and it had turned into a large bucket. I have not seen a strong man do as he did till the people were well replenished, and they went down to their resting places. [Bukhari 7020]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2289
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ ابن عمر ؓ کی روایت سے صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد عمر بن خطاب ؓ کی مضبوط خلافت وامارت کا دور ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے نبی اکرم ﷺ کے خواب کے بارے میں روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے پراگندہ بالوں والی ایک کالی عورت کو دیکھا جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں ٹھہر گئی (مهيعه، جحفه کا دوسرا نام ہے) ، میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ مدینہ کی (بخار والی) وبا ہے جو جحفہ چلی جائے گی ۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) narrated a dream of the Prophet ﷺ . He said, “I saw a black woman with unkempt hair. She went out of Madinah till she stopped at Mahya’ah which is Juhfah. I interpret it as a pestilence will transfer to Juhfah”. [Bukhari 7038]
صحيح، ابن ماجة (3924)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2290
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آخر وقت میں مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، اور خواب ان لوگوں کا سچا ہوگا جن کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، خواب تین قسم کے ہوتے ہیں: اچھے خواب جو اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، وہ خواب جسے انسان دل میں سوچتا رہتا ہے، اور وہ خواب جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خوب دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے، اسے چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھے ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں خواب میں قید دیکھنا اچھا سمجھتا ہوں اور بیڑی دیکھنا برا سمجھتا ہوں، قید کی تعبیر ثابت قدمی ہے، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “In the concluding era, the believer’s dream will not be false. The truest dream will be of one who is truest in speech. And dreams are of three kinds the good dream is from Allah a good tiding, the dream of what man experiences himself and the dream that grieves is from the devil. If one of you sees a dream that grieves him, let him not relate it to anyone and let him get up and offer salah”. Abu Hurairah (RA) also said, “The chain pleases me but the fetters in the neck are repulsive while the chain suggests steadfastness in religion. He reported also that the Prophet ﷺ said, “A believer’s dream is a portion of the forty-six portions of Prophet ﷺ Hood”. [Muslim 2263]
صحيح انظر الحديث (2396 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2291
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ہے اور حماد بن زید نے ایوب سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں، ان کے حال نے مجھے غم میں ڈال دیا، پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں، لہٰذا میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے ان دونوں کنگنوں کی تعبیر (نبوت کا دعویٰ کرنے والے) دو جھوٹوں سے کی جو میرے بعد نکلیں گے: ایک کا نام مسیلمہ ہوگا جو یمامہ کا رہنے والا ہوگا اور دوسرے کا نام عنسی ہوگا، جو صنعاء کا رہنے والا ہوگا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I saw in my dream as though I had two golden bracelets in my hand. This worried me. Then it was revealed to me that I should blow on them. So, I did that and they both flew away. Then I interpreted that as two liars that will emerge after me, one of whom will be called Muslamah, the man of Yamamah and (the other) Ansa, the man of Sana”. [Bukhari 3621]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2292
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کا خواب میں یہ دیکھنا کہ آپ سونے کا دو کنگن پہنے ہوئے ہیں، جب کہ یہ عورتوں کا زیور ہے اس طرف اشارہ تھا کہ دو جھوٹے دعویدار ایسی بات کا دعویٰ کریں گے جس کے وہ حقدار نہ ہوں گے یعنی نبوت کا دعویٰ، اور پھونک مارنے سے ان کا اڑ جانا اس سے اشارہ تھا کہ آپ کے کام کے سامنے ان کی باتوں کا کوئی وزن نہ ہوگا وہ «لاشیٔ» کے مثل ہوں گے اور انہیں ختم کردیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٢١)، والمغازي ٧٠ (٤٣٧٤، ٤٣٧٥)، و ٧١ (٤٣٧٩)، والتعبیر ٣٨ (٧٠٣٤)، و ٤٠ (٧٠٣٧)، صحیح مسلم/الرؤیا ٤ (٢٢٧٤)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١٠ (٣٩٢٢) (تحفة الأشراف: ١٣٥٧٤)، و مسند احمد (٢/٣١٩، ٣٢٨، ٣٤٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے تھے: ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں نے رات کو خواب میں بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، اور لوگوں کو میں نے دیکھا وہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے پی رہے ہیں، کسی نے زیادہ پیا اور کسی نے کم، اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین تک لٹک رہی تھی، اللہ کے رسول! اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ وہ رسی پکڑ کر اوپر چلے گئے، پھر آپ کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑ کر اوپر چلا گیا، پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے پکڑ اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا تو رسی ٹوٹ گئی، پھر وہ جوڑ دی گئی تو وہ بھی اوپر چلا گیا، ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! - میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں - اللہ کی قسم! مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: بیان کرو ، ابوبکر نے کہا: ابر کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے اور اس سے جو گھی اور شہد ٹپک رہا تھا وہ قرآن ہے اور اس کی شیرینی اور نرمی مراد ہے، زیادہ اور کم پینے والوں سے مراد قرآن حاصل کرنے والے ہیں، اور آسمان سے زمین تک لٹکنے والی اس رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ قائم ہیں، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اوپر اٹھا لے گا، پھر اس کے بعد ایک اور آدمی پکڑے گا اور وہ بھی پکڑ کر اوپر چڑھ جائے گا، اس کے بعد ایک اور آدمی پکڑے گا، تو وہ بھی پکڑ کر اوپر چڑھ جائے گا، پھر اس کے بعد ایک تیسرا آدمی پکڑے گا تو رسی ٹوٹ جائے گی، پھر اس کے لیے جوڑ دی جائے گی اور وہ بھی چڑھ جائے گا، اللہ کے رسول! بتائیے میں نے صحیح بیان کیا یا غلط؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے کچھ صحیح بیان کیا اور کچھ غلط، ابوبکر ؓ نے کہا: میرے باپ ماں آپ پر قربان! میں قسم دیتا ہوں آپ بتائیے میں نے کیا غلطی کی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم نہ دلاؤ ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that Sayyidina Abu Hurairah (RA) used to narrate that a man came to the Prophet ﷺ and said, “I saw (in my dream) last night a small cloud from which clarified butter and honey poured down. And I saw people take them in their hands and drink them, some drinking more and some less. And I saw a rope suspended from the heaven down to earth and I saw you, O Messenger of Allah, ﷺ . You grasped it and climbed up. Then a man, after you, grasped it and climbed up. Then another man held it, after him, and climbed up. Then a man held it but it snapped off. However, it was joined-up again and he climbed up”. Abu Bakr (RA) said, “O Messenger of Allah, ﷺ my parents be ransomed to you, by Allah, do let me interpret it’. He said, “(Go ahead) interpret it”. So, he said, “As for the small cloud, it is the cloud of Islam. As for the dripping clarified butter and honey, it is the Qur’an’s softness and sweetness and drinking much and less are those who learn it much and less. As for the rope suspended from the heaven to earth, it is the Truth which you are on. You grasped it and climbed up to Allah. Then a man after you held it and climbed up. Then another man held it and climbed up. Then another held it but it snapped off and was rejoined, and he climbed up. O Messenger of Allah, ﷺ do tell me if I was correct or mistaken”. The Prophet ﷺ said, “You were right in part and mistaken in part”. He said, “I adjure you, O Messenger of Allah, ﷺ may my parents be ransomed to you do inform me where is it that I erred’. The Prophet ﷺ said, “Do not adjure me”. [Bukhari 7046, M2269]
صحيح، ابن ماجة (3918)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2293
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمانا کہ تم نے صحیح بیان کرنے کے ساتھ کچھ غلط بیان کیا تو ابوبکر ؓ سے تعبیر بیان کرنے میں کیا غلطی ہوئی تھی اس سلسلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں: بعض کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی اجازت کے بغیر انہوں نے تعبیر بیان کی یہ ان کی غلطی ہے، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ آپ ﷺ نے انہیں بیان کرنے کی اجازت اپنے اس قول «أعبرها» سے دے دی تھی، بعض کا کہنا ہے کہ ابوبکر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے آپ کے پوچھنے سے پہلے ہی تعبیر بیان کرنے کی خواہش ظاہر کردی یہ ان کی غلطی تھی، بعض کا کہنا ہے تعبیر بیان کرنے میں غلطی واقع ہوئی تھی، صحیح بات یہ ہے کہ اگر ابوبکر ؓ اس خواب کی تعبیر کے لیے اپنے آپ کو پیش نہ کرتے تو شاید آپ ﷺ اس کی تعبیر خود بیان کرتے اور ظاہر ہے کہ آپ کی بیان کردہ تعبیر اس امت کے لیے ایک بشارت ثابت ہوتی اور اس سے جو علم حاصل ہوتا وہ یقینی ہوتا نہ کہ ظنی و اجتہادی، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قسم کو پورا کرنا اسی وقت ضروری ہے جب اس سے کسی شر و فساد کا خطرہ نہ ہو اور اگر بات ایسی ہے تو پھر قسم کو پورا کرنا ضروری نہیں۔
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب ہمیں فجر پڑھا کر فارغ ہوتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ ۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub narrated: After the Prophet ﷺ used to finish the salah of fajr with us, he would turn to face the congregation and ask, “Has anyone of you seen tonight a dream?” [Bukhari 845, M2275, Ahmed 20115]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ایک طویل قصے کے ضمن میں عوف اور جریر بن حازم سے مروی ہے، جسے یہ دونوں رجاء سے، رجاء، سمرہ سے اور سمرہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ٣ - محمد بن بشار نے اسی طرح یہ حدیث وہب بن جریر سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے۔
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتادوں؟ سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے ١ ؎۔
Sayyidina Zayd ibn Kalid Juhanni (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I not inform you of the best of witnesses ? They offer testimony before they are asked”. [Ahmed 17044 Muslim 1719 Abu Dawud 3569 Ibn Majah 2364]Ahmad ibn Hasan reproted from Abdullah ibn Maslamah, from Malik the same hadith.
صحيح
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2295
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2296
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اکثر لوگوں نے اپنی روایت میں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا ہے۔ ٣ - اس حدیث کی روایت کرنے میں مالک کے شاگردوں کا اختلاف ہے، بعض راویوں نے اسے ابی عمرہ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے ابن ابی عمرہ سے، ان کا نام عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری ہے، ابن ابی عمرہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مالک کے سوا دوسرے راویوں نے «عن عبدالرحمٰن بن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کہا ہے «عن ابن أبي عمرة عن زيد بن خالد» کی سند سے اس کے علاوہ دوسری حدیث بھی مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے، ابو عمرہ زید بن خالد جہنی کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ابو عمرہ کے واسطہ سے خالد سے حدیث غلول مروی ہے، اکثر لوگ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ ہی کہتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس گواہی کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص کا کوئی ایسا معاملہ درپیش ہے جس میں کسی گواہ کی ضرورت ہے اور اس کے علم کے مطابق اس معاملہ کا کوئی گواہ نہیں ہے، پھر اچانک ایک دوسرا شخص آئے اور خود سے اپنے آپ کو پیش کرے اور اس معاملہ کی گواہی دے تو اس حدیث میں ایسے ہی گواہ کو سب سے بہتر گواہ کہا گیا ہے، معلوم ہوا کہ کسی کے پاس اگر کوئی شہادت موجود ہے تو اسے قاضی کے سامنے حاضر ہو کر معاملہ کے تصفیہ کی خاطر گواہی دینی چاہیئے اسے اس کے لیے طلب کیا گیا ہو یا نہ طلب کیا گیا ہو۔
١ ؎: مؤلف کے سوا ہر ایک کے یہاں «ابن أبي عمرة» ہی ہے۔
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: سب سے بہتر گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی کا فریضہ ادا کر دے ۔
Sayyidina Zayd ibn Kalid Juhanni reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The best of witnesses is he who gives testimony before being called upon to give it”. [Ahmed 17061]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2297
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور عورت کی گواہی درست اور مقبول نہیں ہے، اور نہ ان مردوں اور عورتوں کی گواہی مقبول ہے جن پر حد نافذ ہوچکی ہے، نہ اپنے بھائی سے دشمنی رکھنے والے کی گواہی مقبول ہے، نہ اس آدمی کی جس کی ایک بار جھوٹی گواہی آزمائی جا چکی ہو، نہ اس شخص کی گواہی جو کسی کے زیر کفالت ہو اس کفیل خاندان کے حق میں (جیسے مزدور وغیرہ) اور نہ اس شخص کی جو ولاء یا رشتہ داری کی نسبت میں متہم ہو ۔
Sayyidiah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The testimony is not admissible of a deceitful man or woman, of one who has received punishment offlogging, the hadd, of an enemy who harbours hatred for his brother, of one who has been proved to have lied, of a servant for his masters, or of one accused of slandering relationship”. [Ibn Majah 2366]
ضعيف، الإرواء (2675)، المشکاة (3781 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6199) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2298
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف یزید بن زیاد دمشقی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یزید ضعیف الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث زہری کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے، ٤ - فزازی کہتے ہیں: «قانع» سے مراد «تابع» ہے، ٥ - اس حدیث کا مطلب ہم نہیں سمجھتے اور نہ ہی سند کے اعتبار سے یہ میرے نزدیک صحیح ہے، ٦ - اس بارے میں اہل علم کا عمل ہے کہ رشتہ دار کے لیے رشتہ کی گواہی درست ہے، البتہ بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی یا باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی کو درست نہیں سمجھتے، ٧ - بعض اہل علم کہتے ہیں: جب گواہی دینے والا عادل ہو تو باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں اسی طرح باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی درست ہے، ٨ - بھائی کی گواہی کے جواز کے بارے میں اختلاف نہیں ہے، ٩ - اسی طرح رشتہ دار کے لیے رشتہ دار کی گواہی میں بھی اختلاف نہیں ہے، ١٠ - امام شافعی کہتے ہیں: جب دو آدمیوں میں دشمنی ہو تو ایک کے خلاف دوسرے کی گواہی درست نہ ہوگی، گرچہ گواہی دینے والا عادل ہو، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج کی حدیث سے استدلال کیا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً مروی ہے کہ دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے، اسی طرح اس (مذکورہ) حدیث کا بھی مفہوم یہی ہے، (جس میں) آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لیے دشمنی رکھنے والے کی گواہی درست نہیں ہے ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٠) (ضعیف) (سند میں یزید بن زیاد دمشقی متروک الحدیث راوی ہے )
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں بڑے بڑے (کبیرہ) گناہوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا ، ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہوجاتے۔
Sayyidina Abu Bakrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I not inform you of the greatest of the grave sins?” They said, “Of course, O Messenger of Allah, ﷺ . “He said, “To associate partner with Allah, to disobey (and displease) parents, and to give false testimony, or to speak lies”. And he did not cease to say that till they said, “Would that he stopped”. [Bukhari 6273]
صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2301
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔
ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور» تو بتوں کی گندگی سے بچے رہو (ان کی پرستش نہ کرو) اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو (الحج: ٣٠ ) ۔
Sayyidina Ayman ibn Khuraym reported that the Prophet ﷺ stood up to deliver a sermon. He said, “O people! False testimony is made the same as ascribing partner to Allah. He recited: So shun the abomination of the idols, and shun the speaking of falsehood. (22 :30) [Ahmed 17615]
ضعيف، ابن ماجة (2372) // ضعيف سنن ابن ماجة (518)، تخريج الإيمان لابن سلام (49 / 118)، طبع المکتب الإسلامي، المشکاة (3779 و 3780) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2299
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ٣ - نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم ﷺ سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٤٨) (ضعیف) (یہ مرسل ہے أیمن بن خریم تابعی ہیں، نیز اس کے راوی فاتک بن فضالہ مستور (مجہول الحال) ہیں )
خریم بن فاتک اسدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو ۔
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2300
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ٢ - خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣٢ (٢٣٧٢) (ضعیف) (سند میں زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں )
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں بڑے بڑے (کبیرہ) گناہوں کے بارے میں نہ بتادوں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا ، ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ آخری بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگوں نے دل میں کہا: کاش! آپ خاموش ہوجاتے۔
صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2301
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی حدیث آئی ہے۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: سب سے اچھے لوگ میرے زمانہ کے ہیں (یعنی صحابہ) ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تابعین) ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی اتباع تابعین) ١ ؎، آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا ہونا چاہیں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Imran ibn Husayn reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The best of people are my generation, then those that succeed them, then those who will succeed them then those who wil I succeed them. Three times. Then a people will come after them who will like elderliness and love it. They will offer testimony before being asked for it”. [Ahmed 19841]
صحيح مضی (2334)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2302
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اعمش کے واسطہ سے علی بن مدرک کی روایت سے غریب ہے، ٢ - اعمش کے دیگر شاگردوں نے «عن الأعمش عن هلال بن يساف عن عمران بن حصين» کی سند سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے صحابہ کرام کی فضیلت تابعین پر، اور تابعین کی فضیلت اتباع تابعین پر ثابت ہوتی ہے۔ ٢ ؎: ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ لفظ دو یا تین بار دہرایا، اگر تین بار دہرایا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے خود اپنا زمانہ مراد لیا، پھر صحابہ کا پھر تابعین کا، پھر اتباع تابعین کا، اور اگر آپ نے صرف دو بار فرمایا تو اس کا وہی مطلب ہے جو ترجمہ کے اندر قوسین میں واضح کیا گیا ہے۔ ٣ ؎: اس حدیث سے از خود شہادت دینے کی مذمت ثابت ہوتی ہے، جب کہ حدیث نمبر ٢١٩٥ سے اس کی مدح و تعریف ثابت ہے، تعارض اس طرح دفع ہوجاتا ہے کہ مذمت مطلقاً اور از خود شہادت پیش کرنے کی نہیں بلکہ جلدی سے ایسی شہادت دینے کی وجہ سے ہے جس سے جھوٹ ثابت کرسکیں اور باطل طریقہ سے کھا پی سکیں اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اسے ہضم کر سکں، معلوم ہوا کہ حقوق کے تحفظ کے لیے دی گئی شہادت مقبول اور بہتر وعمدہ ہے جب کہ حقوق کو ہڑپ کر جانے کی نیت سے دی گئی شہادت قبیح اور بری ہے۔
اس سند سے بھی عمران بن حصین سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اور یہ محمد بن فضیل کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
صحيح مضی (2334 )
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2302
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے اچھے اور بہتر لوگ ہمارے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر جھوٹ عام ہوجائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا، اور قسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا ۔ اور نبی اکرم ﷺ کی وہ حدیث کہ سب سے بہتر گواہ وہ ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تو اس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی (حق بات کی خاطر) دلوائی جائے تو وہ گواہی دے، گواہی دینے سے باز نہ رہے، بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2303
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
حدیث کے الفاظ «يعطون الشهادة قبل أن يسألوها» سے جھوٹی گواہی مراد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گواہی طلب کیے بغیر وہ گواہی دیں گے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina ibn e Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There are two blessings that of which many people are careless: health and leisure” [Ahmed 3207, Bukhari 6412, Ibn e Majah 4170]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2304
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی قدر نہیں کرتے ہیں ایک تندرستی اور دوسری فراغت ہیں بلکہ یوں ہی انہیں ضائع کردیتے ہیں جب کہ تندرستی کو بیماری سے پہلے اور فرصت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١ (٦٤١٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٥ (٤١٧٠) (تحفة الأشراف: ٥٦٦٦)، و مسند احمد (١/٢٥٨، ٣٤٤)، وسنن الدارمی/الرقاق ٢ (٢٧٤٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا: تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہوجاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بےنیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو سچے مسلمان ہوجاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ asked, “Who will learn from these words and act upon them,or teach to one who will act upon them? I said, “I , O Messenger of Allah” So, he took me by hand and conuting five he said, “ Guard against the things that are forbidden, you will be the most devout of men, and be pleased with what Allah has allotted you, you will be the richest of men: and be kind to your neighbour ,you will be a believer : and love for people what you love for yourself, you will be a Muslim and do not laugh much for much laughter causes the heart to die” [ Ibn e Majah 4193]
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - حسن بصری کا سماع ابوہریرہ سے ثابت نہیں، ٣ - اسی طرح ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے ان سب کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ٤ - ابوعبیدہ ناجی نے اسے حسن بصری سے روایت کرتے ہوئے اس کو حسن بصری کا قول کہا ہے اور یہ نہیں ذکر کیا کہ یہ حدیث حسن بصری ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٧)، و مسند احمد (٢/٣١٠) (حسن) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” حسن بصری “ کا سماع ابوہریرہ ؓ سے نہیں ہے، نیز ” ابو طارق “ مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ ٩٣٠ )