Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 113 of 199

2306Sunan At-Tirmidhi

نیک اعمال میں جلدی کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحْرَّرِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ، وَقَدْ رَوَى بِشْرُ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ هَذَا، وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَمَّنْ سَمِعَ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: تَنْتَظِرُونَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah;s Messenger ﷺ said, “Hasten you (good) deeds before seven things: poverty and need; wealth and property that makes one neglectful ; disease that incapacitates;old age that amkes infirm; fast approaching death, worst of the awaited unseen,or,the hour calamitous and bitter”

ضعيف، الضعيفة (1666) // ضعيف الجامع الصغير (2315) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2306
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اعرج ابوہریرہ سے مروی حدیث ہم صرف محرز بن ہارون کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - بشر بن عمر اور ان کے علاوہ لوگوں نے بھی اسے محرز بن ہارون سے روایت کیا ہے، ٤ - معمر نے ایک ایسے شخص سے سنا ہے جس نے بسند «سعيدا المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں «هل تنتظرون» کی بجائے «تنتظرون» ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٩٥١) (ضعیف) (سند میں ” محرر۔ یا محرز۔ بن ہارون “ متروک الحدیث راوی ہے )
2307Sunan At-Tirmidhi

موت کو یاد کرنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ ، يَعْنِي الْمَوْتَ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Remember often the cutter of the taste- which is death”

حسن صحيح، ابن ماجة (4258)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2307
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: موت کی یاد اور اس کا تصور انسان کو دنیاوی مشاغل سے دور اور معصیت کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے، اس لیے بکثرت موت کو یاد کرنا چاہیئے اور اس کے پیش آنے والے معاملات سے غافل نہیں رہنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٣ (١٨٢٥)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣١ (٤٢٥٨) (تحفة الأشراف: ١٥٠٨٠)، و مسند احمد (٢/٢٩٣) (حسن صحیح )
2308Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ هَانِئًا مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تُذْكَرُ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ.

ہانی مولی عثمان کہتے ہیں کہ عثمان ؓ جب کسی قبرستان پر ٹھہرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہوجاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے ، عثمان ؓ نے مزید کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا ١ ؎۔

Abdullah ibn Bujayr (RA) reported on the authority of Hani, the freedman of Sayyidina Uthman (RA): When Uthman stood by a grave, he wept so much that his beard would get wet. So, it was said to him” Paradise and the Fire are also mentioned but you do not weep, yet you weep here (why)? He said, “ Surely, Allah’s Messenger ﷺ said , ‘The grave s the first stop of the several stops before the hereafter, and deliverance from it means that after it is an easy sailing, but if one does not get deliverance from it then the following stages are more severe than it’.” He also said, I have not seen a sight more frightening than the sight of the grave. [Ibn e Majah 4267]

حسن، ابن ماجة (4267)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2308
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ہشام بن یوسف کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان ؓ کا یہ حال کہ قبر کے عذاب کا اتنا خوف اور ڈر لاحق ہو کہ اسے دیکھ کر زار و قطار رونے لگیں باوجود یہ کہ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ہمارا یہ حال ہے کہ اس عذاب کو بھولے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ منازل آخرت میں سے پہلی منزل ہے، اللہ رب العالمین ہم سب کو قبر کے عذاب سے بچائے آمین۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٢ (٤٢٦٧) (تحفة الأشراف: ٩٨٣٩)، و مسند احمد (١/٦٤) (حسن )
2309Sunan At-Tirmidhi

جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا خواہش مند اللہ بھی اس سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي مُوسَى، قَالَ: حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا ١ ؎۔

Sayyidina Ubadahh ibn Samit (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone loves to meet Allah , Allah also loves to meet him. And if anyone dislikes to meet Allah then Allah also dislikes to meet him.”

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2309
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ام المؤمنین عائشہ، انس اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نسائی کتاب الجنائز باب رقم ١٠ ، حدیث رقم ١٨٣٨ میں ہے: ام المؤمنین عائشہ ؓ نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ موت کے وقت کا معاملہ ہے جب بینائی چھن جائے، جاں کنی کا عالم ہو اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو جس کو اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بشارت دی جائے اس وقت جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہے گا اور جس کو اللہ کے عذاب کی وارننگ دی جائے وہ اللہ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا، یعنی مومن کو اللہ سے ملنے میں خوشی اور کافر کو گھبراہٹ اور ڈر لاحق ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٠٦٦ (صحیح )
2310Sunan At-Tirmidhi

نبی ﷺ کا امت کو خوف دلانا

حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، هَكَذَا رَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتک الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ!، اے محمد کی بیٹی فاطمہ! اے عبدالمطلب کی اولاد! اللہ کی طرف سے تم لوگوں کے نفع و نقصان کا مجھے کچھ بھی اختیار نہیں ہے، تم میرے مال میں سے تم سب کو جو کچھ مانگنا ہو وہ مجھ سے مانگ لو ١ ؎۔

Sayyidina Aisha (RA) narrated when this verse “and warn your clan, the nearest kin” (26:214) was revealed, Allah’s Messenger ﷺ said, “O Saifyah daughterod abdul Muttalib, O Fatimah daughter of Muhammad , O children of Abdul Muttalib, I cannot help you before Allah in the least. (However), you may askme for whatever you like of my wealth” [Ahmed 2592, Muslim 205, Nisai 3647]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2310
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ان میں سے بعض نے اسی طرح ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے، اور بعض نے «عن هشام عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کی ہے اور «عن عائشة» کا ذکر نہیں کیا، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تں ہی عذاب دینا چاہے تو میں تمہیں اس کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، کیونکہ میں کسی کے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں، البتہ دنیاوی وسائل جو مجھے اللہ کی جانب سے حاصل ہیں، ان میں سے جو چاہو تم لوگ مانگ سکتے ہو، میں دینے کے لیے تیار ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٩ (٢٠٥)، سنن النسائی/الوصایا ٦ (٣٦٧٨) ویأتي عند المؤلف برقم ٣١٨٤ (تحفة الأشراف: ١٧٢٣٧)، و مسند احمد (٦/١٧٨) (صحیح )
2311Sunan At-Tirmidhi

خوف اللہ سے رونے کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَهُوَ مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ، رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جاسکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے اور اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں دونوں اکٹھا نہیں ہوسکتے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ No man who weeps from fear of Allah will go to the Fire till the milk returns to the udder. And dust in the path of Allah and smoke of hell cannot come together” [ Tirmidhi 1639, Nisai 3107, Ibn e Majah 2774, Ahmed 10565]

صحيح، المشکاة (3828)، التعليق الرغيب (2 / 166)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2311
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوریحانہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں مدنی ہیں، ثقہ ہیں، ان سے شعبہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نہ کبھی دودھ تھن میں واپس ہوگا اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا جہنم میں ڈالا جائے گا، اسی طرح راہ جہاد میں نکلنے والا بھی جہنم میں نہیں جاسکتا، کیونکہ جہاد مجاہد کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے، معلوم ہوا کہ جہاد کی بڑی فضیلت ہے، لیکن یہ ثواب اس مجاہد کے لیے ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچتا رہا ہو۔ معلوم ہوجائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٦٣٣ (صحیح )
2312Sunan At-Tirmidhi

نبی کا فرمان کہ اگر تم لوگ وہ کچھ جان لو جو کچھ میں جانتا ہوں توہنسنا کم کر دو

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْمُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشِ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَيُرْوَى مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانے کا حق بھی ہے، اس لیے کہ اس میں چار انگل کی بھی جگہ نہیں خالی ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ بھی جان لو تو ہنسو گے کم اور رؤ گے زیادہ اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو گے، اور یقیناً تم لوگ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے میدانوں میں نکل جاتے ، (اور ابوذر ؓ) فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) Reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ I see what you do not see and I hear what you do not hear. The heaven laments and it has a right to lament. There is no in space you fingers, but an angel has placed his forehead on it for prostration to Allah. By Allah, if you know what i know, you would laugh little and weep much and would not enjoy women on beds but would have gone out to the plains calling to Allah in prayer” Abu Dharr (RA) said , “I wished were a tree and chopped to pieces” [Ibn e Majah 4190, Ahmed 21572]

حسن دون قوله: لوددت ....، ابن ماجة (4190)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2312
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس کے علاوہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ ابوذر ؓ فرمایا کرتے تھے: کاش میں ایک درخت ہوتا کہ جسے لوگ کاٹ ڈالتے ، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، ابن عباس اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٩ (٤١٩٠) (تحفة الأشراف: ١١٩٨٦) (حسن) (حدیث میں ” لوددت … “ کا جملہ مرفوع نہیں ہے، ابو ذر ؓ کا اپنا قول ہے )
2313Sunan At-Tirmidhi

نبی کا فرمان کہ اگر تم لوگ وہ کچھ جان لو جو کچھ میں جانتا ہوں توہنسنا کم کر دو

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ جان لیتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah;s Messenger ﷺ said, “If you know that which I know then you would certainly laugh little and weep much” [ Bukhari 6485, Ahmed 9583]

صحيح فقه السيرة (479)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2313
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٤٩)، وانظر مسند احمد (٢/٢٥٧، ٣١٣) (صحیح )
2314Sunan At-Tirmidhi

جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لئے کوئی بات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کبھی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس میں وہ خود کوئی حرج نہیں سمجھتا حالانکہ اس کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جائے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ Indeed a man speaks some words seeing no harm in them but Allah will cast him in fire down seventy years deep” [Ibn e Majah 3970, Bukhari 6477, Ahmed 7219]

حسن صحيح، ابن ماجة (3970)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2314
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک شخص دوسروں کو ہنسانے کے لیے اور ان کی دلچسپی کی خاطر اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے یا بناوٹی اور جھوٹی بات کہتا ہے، اور کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ باعث گناہ اور لائق سزا ہے حالانکہ وہ اپنی اس بات کے سبب جہنم کی سزا کا مستحق ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ دوسروں کو ہنسانے اور انہیں خوش کرنے کے لیے کوئی ایسی ہنسی کی بات نہیں کرنی چاہیئے جو گناہ کی بات ہو اور باعث عذاب ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٢٣ (٦٤٧٧، ٦٤٧٨)، صحیح مسلم/الزہد ٦ (٢٩٨٨) (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٣)، و مسند احمد (٢/٢٣٦، ٣٥٥، ٣٧٩) (حسن صحیح )
2315Sunan At-Tirmidhi

جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لئے کوئی بات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ فَيَكْذِبُ، وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: تباہی و بربادی ہے اس شخص کے لیے جو ایسی بات کہتا ہے کہ لوگ سن کر ہنسیں حالانکہ وہ بات جھوٹی ہوتی ہے تو ایسے شخص کے لیے تباہی ہی تباہی ہے ١ ؎۔

Bahz ibn Hakim reported on the authority of his father from his grandfather that Allah;s Messenger ﷺ said, “Woe to him whom recounts a tale to make people laugh speaking lies. Woe to him! Woe to him!” [Ahmed 20066, Abu Dawud 4990]

حسن غاية المرام (376)، المشکاة (4838 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2315
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ہنسی کی وہ بات جو جھوٹی ہے قابل مذمت ہے، لیکن بات اگر سچی ہے تو اس کے ذریعہ کبھی کبھار ہنسی کی فضا ہموار کرنا اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چناچہ رسول اللہ ﷺ سے بعض مواقع پر ہنسی کی بات کرنا ثابت ہے، جیسے ایک بار آپ نے ایک بڑھیا سے فرمایا کہ کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی، اسی طرح عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت ہنسے پر مجبور کردیا جب آپ اپنی ازواج مطہرات سے ناراض تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٨٨ (٤٩٩٠) (تحفة الأشراف: ١١٣٨١)، و مسند احمد (٥/٣)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٦٦ (٢٧٤٤) (حسن )
2316Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ يَعْنِي رَجُلًا: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَلَا تَدْرِي فَلَعَلَّهُ تَكَلَّمَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ، أَوْ بَخِلَ بِمَا لَا يَنْقُصُهُ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک صحابی کی وفات ہوگئی، ایک آدمی نے کہا: تجھے جنت کی بشارت ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شاید تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے کوئی ایسی بات کہی ہو جو بےفائدہ ہو، یا ایسی چیز کے ساتھ بخل سے کام لیا ہو جس کے خرچ کرنے سے اس کا کچھ نقصان نہ ہوتا ۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik narrated : One of the companions died, so another gave tidings of Paradise (for him). Allah’s Messenger ﷺ said, “How do you know he might have spoken the meaningless or may have been niggardly when spending was not harmful”

ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 11)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2316
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٩٣) (صحیح) (امام ترمذی نے حدیث پر غریب ہونے کا حکم لگایا ہے، اور ایسے ہی تحفة الأشراف میں ہے، نیز ترمذی نے لکھا ہے کہ أعمش کا سماع انس سے نہیں ہے (تحفة الأشراف) لیکن منذری کہتے ہیں کہ اس حدیث کے بارے میں امام ترمذی نے فرمایا: حديث حسن صحیح اور خود منذری نے کہا کہ سند کے رواة ثقات ہیں، دوسرے طرق اور شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب ٢٨٨٢، ٢٨٨٣، وتراجع الألبانی ٥١١ )
2317Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے ١ ؎۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allah;s Messenger ﷺ , “ Of the excellence of a man’s Islam is that he shuns the meaningless” [Ibn e Majah 3976]

صحيح، ابن ماجة (3976)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2317
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اس حدیث کو ابوسلمہ کی روایت سے جسے وہ ابوہریرہ ؓ سے اور ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو باتیں اس سے متعلق نہیں ہیں اور نہ ہی جن سے دینی یا دنیاوی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے ان کی ٹوہ میں نہ لگا رہے بلکہ ان سے دور رہے یہی اس کے اسلام کی خوبی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٧٦) (تحفة الأشراف: ١٥٢٣٤) (صحیح )
2318Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكَهُ مَا لَا يَعْنِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ مُرْسَلًا، وَهَذَا عِنْدَنَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ.

علی بن حسین (زین العابدین) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو چھوڑ دے جو اس سے غیر متعلق ہوں ۔

Qutaybah also reported from Maalik from Zuhri and he form Ali ibn Husayn that Allah;s Messenger ﷺ said, “ It is enough for a man to be an excellent Muslim that he gives up the meaningless” [ Ahmed 1732]

صحيح بما قبله (2317)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2318
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - زہری کے شاگردوں میں سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن الزهري عن علي بن حسين عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مالک کی حدیث کی طرح مرسلا روایت کی ہے، ٢ - ہمارے نزدیک یہ حدیث ابوسلمہ کی ابوہریرہ سے مروی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎، ٣ - علی بن حسین (زین العابدین) کی ملاقات علی ؓ سے ثابت نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اصل حدیث ثابت ہے، اس کی بحث «زهد وكيع» رقم ٣٦٤ میں دیکھئیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (١٩١٣٤) (صحیح) (علی بن حسین زین العابدین تابعی ہیں اس لیے یہ حدیث مرسل ہے، مگر سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے )
2319Sunan At-Tirmidhi

کم گوئی کی فضلیت کے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَال: سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّصَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ فَيَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو نَحْوَ هَذَا، قَالُوا: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ جَدِّهِ.

صحابی رسول بلال بن حارث مزنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی اللہ کی رضا مندی کی ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ اس کی وجہ سے اس کا مرتبہ کہاں تک پہنچے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کی اس بات کی وجہ سے اس کے حق میں اس دن تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا، اور تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ اس کی وجہ سے اس کا وبال کہاں تک پہنچے گا جب کہ اللہ اس کی اس بات کی وجہ سے اس کے حق میں اس دن تک کے لیے ہے جس دن وہ اس سے ملے گا اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے ١ ؎۔

Bilal (RA) Ibn Harith Muazani (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ Indeed one of you speaks a word pleasing to Allah and he cannot imagine (how high) a rank it attains. Allah records for him thereby His pleasure till the day He meets Him, And, one of you speaks a word that angers Allah, and he cannot imagine where it will carry, Allah records against Him His anger till the day He meets him” [Ibn e Majah 3969]

صحيح، ابن ماجة (3969)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2319
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور اسے اسی طرح سے کئی لوگوں نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کیا ہے یعنی «عن محمد بن عمرو عن أبيه عن جده عن بلال بن الحارث» کی سند سے، ٣ - اس حدیث کو مالک نے «عن محمد بن عمرو عن أبيه عن بلال بن الحارث» کی سند سے روایت کیا ہے لیکن اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں ہے، ٤ - اس باب میں ام حبیبہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فضول باتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے، اور کوشش کرنی چاہیئے کہ حسب ضرورت مفید اور سچ بات زبان سے نکلے، بات کرتے وقت رضائے الٰہی پیش نظر رہے، کیونکہ وہ بات جو جھوٹ اور فضول ہوگی وہ اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٦٩) (تحفة الأشراف: ٢٠٢٨) (صحیح )
2320Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی بے وقعتی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی وقعت اگر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا ١ ؎۔

Sayyidina Sahl Ibn Sa’d (RA) reported that Allah;s Messenger ﷺ said, “ If in Allah’s sight , the world had so much worth as wing of mosquito then a infidel would never have drunk even a drop of water” [ Ibn e Majah 4110]

صحيح، الصحيحة (940)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2320
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ یہ حقیر سے حقیر چیز ہے، اس کی حقارت کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ کی نگاہ میں اس کی کوئی قدر و قیمت ہوتی تو اسے صرف اپنے محبوب بندوں کو نوازتا، جب کہ حال یہ ہے کہ اسے اپنے دشمنوں یعنی کفار و مشرکین کو دیتا ہے، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ دینے والا اپنے دشمن کو وہ چیز دے جو اس کے نزدیک قدر و قیمت والی ہو، کافروں کو جنت کی ایک ادنی نعمت سے اسی لیے محروم رکھا گیا ہے کیونکہ جنت اللہ کے محبوب بندوں کے لیے ہے، نہ کہ اس کے دشمنوں کے لیے، معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک دنیا اور اس کے مال و اسباب کی قطعاً کوئی اہمیت نہیں ہے، لہٰذا اہل ایمان کے نزدیک بھی اس کی زیادہ اہمیت نہیں ہونی چاہیئے بلکہ اسے آخرت کی زندگی سنوارنے کا ایک ذریعہ سمجھنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣ (٤١١٠) (تحفة الأشراف: ٤٦٩٩) (صحیح )
2321Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی بے وقعتی

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ وَقَفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّخْلَةِ الْمَيِّتَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا ، قَالُوا: مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَالدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا ، وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمُسْتَوْرِدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ.

مستورد بن شداد ؓ کہتے ہیں کہ میں بھی ان سواروں کے ساتھ تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس کھڑے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ اسے دیکھ رہے ہو کہ جب یہ اس کے مالکوں کے نزدیک حقیر اور بےقیمت ہوگیا تو انہوں نے اسے پھینک دیا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی بےقیمت ہونے کی بنیاد ہی پر لوگوں نے اسے پھینک دیا ہے، آپ نے فرمایا: دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر اور بےوقعت ہے جتنا یہ اپنے لوگوں کے نزدیک حقیر اور بےوقعت ہے ۔

Sayyidina Mustawrid ibn Shaddad (RA) reported that he was among the unit that accompanied Allah;s Messenger ﷺ who stopped at a dead lamb. He said, “ Do you see how its owners have abandoned it as worthless?” They said, “ O Messenger ﷺ of Allah ,they threw it away because it is worthless” He said , “ The world is worthless in Allah;s sight more than this lamb to its owner” [ Ibn e Majah 4111, Ahmed 18035]

صحيح، ابن ماجة (4111)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2321
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - مستورد ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں جابر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣ (٤١١١) (تحفة الأشراف: ١١٢٥٨) وانظر مسند احمد (٤/٢٢٩، ٢٣٠) (صحیح )
2322Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی بے وقعتی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَال: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ قُرَّةَ، قَال، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ضَمْرَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا ذِكْرُ اللَّهِ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بیشک دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کی یاد اور اس چیز کے جس کو اللہ پسند کرتا ہے، یا عالم (علم والے) اور متعلم (علم سیکھنے والے) کے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah;s Messenger ﷺ say, “ The world is accursed, and accursed is whatever it contains except mention of Allah, that which is dear to Him and the scholar or the student” [ Ibn e Majah 4112]

حسن، ابن ماجة (4112)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2322
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزیں جو اللہ کی یاد سے غافل کردینے والی ہوں سب کی سب اللہ کے نزدیک ملعون ہیں، گویا لعنت دنیا کی ان چیزوں پر ہے جو ذکر الٰہی سے غافل کردینے والی ہوں، اس سے دنیا کی وہ نعمتیں اور لذتیں مستثنیٰ ہیں جو اس بری صفت سے خالی ہیں، مثلاً مال اگر حلال طریقے سے حاصل ہو اور حلال مصارف پر خرچ ہو تو یہ اچھا ہے، بصورت دیگر یہی مال برا اور لعنت کے قابل ہے، وہ علم بھی اچھا ہے جو بندوں کو اللہ سے قریب کر دے بصورت دیگر یہ بھی برا ہے، اس حدیث سے علماء اور طلبائے علوم دینیہ کی فضیلت ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣ (٤١١٢) (تحفة الأشراف: ١٣٥٧٢) (حسن )
2323Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی بے وقعتی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَال: سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَوَالِدُ قَيْسٍ أَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَوْفٍ، وَهُوَ مِنَ الصَّحَابَةِ.

مستورد بن شداد فہری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی سمندر کا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Mustawrid (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The world in relation to the hereafter is not but like the example of one of you putting his finger in the sea. Then let him see with what it returns.” [Ahmed 18030, Muslim 2858, Ibn e Majah 4108]

صحيح، ابن ماجة (4108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2323
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسماعیل بن ابی خالد کی کنیت ابوعبداللہ ہے، ٣ - قیس کے والد ابوحازم کا نام عبد بن عوف ہے اور یہ صحابی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں آخرت کی نعمتوں اور اس کی دائمی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی قدر و قیمت اور اس کی زندگی کا تناسب بیان کیا گیا ہے، یہ تناسب ایسے ہی ہے جیسے ایک قطرہ پانی اور سمندر کے پانی کے درمیان تناسب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صفة الجنة ١٤ (٢٨٥٨)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣ (٤١٠٨) (تحفة الأشراف: ١١٢٥٥)، و مسند احمد (٤/٢٢٩، ٢٣٠) (صحیح )
2324Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ دنیا مومن کے لئے جیل اور کافر کے لئے جنت ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) ہے اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The world is a prison for a believer and Paradise for an infidel.” [Muslim 2956, Ahmed 8296]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2324
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ جس طرح قید خانہ کا قیدی اس کے قواعد و ضوابط کا پابند ہوتا ہے اسی طرح یہ دنیا مومن کے لیے ایک قید خانہ کی مثل ہے، اس میں مومن شہوات و خواہشات نفس سے بچتا ہوا مومنانہ و متقیانہ زندگی گزارتا ہے، اس کے برعکس کافر ہر طرح سے آزاد رہ کر خواہشات و شہوات کی لذتوں میں مست رہتا ہے گویا دنیا اس کے لیے جنت ہے جب کہ مومن کے لیے قید خانہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٥٦)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣ (٤١١٣) (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٥)، و مسند احمد (٢/٣٢٣، ٣٨٩، ٤٨٥) (صحیح )
2325Sunan At-Tirmidhi

دنیا کی مثال چار شخصوں کی سی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ سَعِيدٍ الطَّائِيِّ أَبِي الْبَخْتَرِيّ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ الْأَنَّمَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ثَلَاثَةٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، قَالَ: مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَةٍ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَظْلَمَةً فَصَبَرَ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ، قَالَ: إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ، يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوکبشہ انماری ؓ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میں تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں اور میں تم لوگوں سے ایک بات بیان کر رہا ہوں جسے یاد رکھو ، کسی بندے کے مال میں صدقہ دینے سے کوئی کمی نہیں آتی (یہ پہلی بات ہے) ، اور کسی بندے پر کسی قسم کا ظلم ہو اور اس پر وہ صبر کرے تو اللہ اس کی عزت کو بڑھا دیتا ہے (دوسری بات ہے) ، اور اگر کوئی شخص پہنے کے لیے سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ اس کے لیے فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔ (یا اسی کے ہم معنی آپ نے کوئی اور کلمہ کہا) (یہ تیسری بات ہے) اور تم لوگوں سے ایک اور بات بیان کر رہا ہوں اسے بھی اچھی طرح یاد رکھو: یہ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے: ایک بندہ وہ ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مال اور علم کی دولت دی، وہ اپنے رب سے اس مال کے کمانے اور خرچ کرنے میں ڈرتا ہے اور اس مال کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے ١ ؎ اور اس میں سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھتا ہے ٢ ؎ ایسے بندے کا درجہ سب درجوں سے بہتر ہے۔ اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے علم دیا، لیکن مال و دولت سے اسے محروم رکھا پھر بھی اس کی نیت سچی ہے اور وہ کہتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں اس شخص کی طرح عمل کرتا لہٰذا اسے اس کی سچی نیت کی وجہ سے پہلے شخص کی طرح اجر برابر ملے گا، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال و دولت سے نوازا لیکن اسی علم سے محروم رکھا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، اس مال کے کمانے اور خرچ کرنے میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا ہے، نہ ہی صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اس مال میں اللہ کے حق کا خیال رکھتا ہے تو ایسے شخص کا درجہ سب درجوں سے بدتر ہے، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال و دولت اور علم دونوں سے محروم رکھا، وہ کہتا ہے کاش میرے پاس مال ہوتا تو فلاں کی طرح میں بھی عمل کرتا (یعنی: برے کاموں میں مال خرچ کرتا) تو اس کی نیت کا وبال اسے ملے گا اور دونوں کا عذاب اور بار گناہ برابر ہوگا ۔

Sayyidina Abu Kabshah Anmari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I swear about three things and I narrate to you a hadith, so keep it in memory. A man’s property does not diminish because of sadaqah (that he pays); when a man is wronged and he endures it patiently, Allah increases him in honour: and when a man opens a door to begging, Allah opens for him a door to poverty” or words to that effect. And I narrate to you a hadith, so keep it in memory. The world comprises four kinds of people: (1) a man on whom Allah has bestowed wealth and knowledge and in (using) them, he fears his Lord and joins ties of relationship and gives the right of Allah, this man is in the most excellent category. (2) a man on whom Allah has bestowed knowledge, but does not bestow wealth and he is true in his intentions, saying, “If I had wealth then I would act as so-and-so,” this being his intention, so their rewards are equal; (3) a man on whom Allah has bestowed wealth, but does not bestow knowledge, and he tramples with his wealth ignorantly, not fearing his Lord, not joining ties of relationship and not giving rights of Allah, so he is in the worst of categories; (4) and, a man whom Allah has given neither wealth nor knowledge and he says, “If I had wealth I would do as so-and-so does,” this being his intention, their burden is alike.” [Abu Dawud 1645, TMuslim 4228, Ahmed 18053]

صحيح، ابن ماجة (4228)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2325
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کرتا ہے اور اعزہ و اقرباء کا خاص خیال رکھتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی فریضہ زکاۃ کی ادائیگی کرتا ہے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے جو کچھ اس پر واجب ہوتا ہے خرچ کرتا ہے اور اس میں سے عام صدقات و خیرات بھی کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأخرج ابن ماجہ نحوہ في الزہد ٢٦ (٤٢٢٨) (تحفة الأشراف: ١٢١٤٥) (صحیح )