Sunan At-Tirmidhi 637

زکوۃ کا بیان

637Sunan At-Tirmidhi

زیور کی زکوة

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَيْدِيهِمَا سُوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُمَا: أَتُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ ؟ قَالَتَا: لَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ؟ قَالَتَا: لَا، قَالَ: فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ، وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَاب، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم دونوں اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم پسند کرو گی کہ اللہ تم دونوں کو آگ کے دو کنگن پہنائے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو تم دونوں ان کی زکاۃ ادا کرو ۔

Amr ibri Shu’ayb reported from his father who from his grandfather that two women came to Allah’s Messenger ﷺ . They had two bracelets in their hands. He asked them, “Have you both paid the zakah against these? They said “No!” So, he asked them, “Would you like that Allah should make you wear bracelets of fire?’ They said, “No!” So, he said, “Pay zakah against them. [Ahmed6679, Abu Dawud 1563]

حسن بغير هذا اللفظ، الإرواء (3 / 296) // 817 //، المشکاة (1809)، صحيح أبي داود (1396)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 637
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو مثنیٰ بن صباح نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے اور مثنیٰ بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٧٣٠) (حسن) (یہ حدیث اس سیاق سے ضعیف ہے، سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، مگر دوسری سند اور دوسرے سیاق سے یہ حدیث حسن ہے، الإرواء ٣/٢٩٦، صحیح ابی داود ١٣٩٦)