مسلمانوں پر جزیہ نہیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ .
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ١ ؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Two qiblahs are not suitable on one land and there is no jizyah on the Muslims”. [Ahmed2576, Abu Dawud 3053]
ضعيف، الإرواء (1244) // 1257 //، الضعيفة (4379) // ضعيف الجامع الصغير (6239)، ضعيف أبي داود (655 / 3032) نحوه //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 633
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک سر زمین پر دو قبلے کا ہونا درست نہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک سر زمین پر دو دین والے بطور برابری کے نہیں رہ سکتے کوئی حاکم ہوگا کوئی محکوم۔ ٢ ؎: نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے کا مطلب یہ ہے کہ ذمیوں میں سے کوئی ذمی اگر جزیہ کی ادائیگی سے پہلے مسلمان ہوگیا ہو تو اس سے جزیہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخراج ٢٨ (٣٠٣٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٩٩)، مسند احمد (١/٢٨٥) (ضعیف) (سند میں قابوس ضعیف ہیں)