Sunan At-Tirmidhi 631

زکوۃ کا بیان

631Sunan At-Tirmidhi

مال مستفاد میں زکوة نہیں جب تک اس پر سال نہ گزر جائے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الطَّلْحِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ . وَفِي الْبَاب عَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر اس کے مالک کے یہاں ایک سال نہ گزر جائے ۔

Ubaydullah ibn Umar narrated that Umar ibn Abdul Aziz (RA) asked him about zakah on honey. So, he said, “We have no honey on which to pay zakah, but Mughirab ibn Haakim informed us, ‘There is no zakah on honey.’” Umar ibn Abdul Aziz (RA) said, “Justice pleases.” He wrote to the people that it was relaxed-from them.

صحيح، ابن ماجة (1792)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 631
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں سراء بنت نبھان غنویہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٧٣١) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف راوی ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث اور مولف کا کلام، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء ٧٨٧، وتراجع الألبانی ٥٠٣)