ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز صبح کو رسول اللہ ﷺ بہت غمگین اور اداس اٹھے، میمونہ ؓ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ کی حالت آج کچھ بدلی بدلی عجیب و غریب لگ رہی ہے، آپ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھ سے رات میں ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ملنے نہیں آئے، اللہ کی قسم! انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ، آپ اس دن اسی طرح (غمزدہ) رہے، پھر آپ کو کتے کے ایک بچے (پلے) کا خیال آیا جو ہمارے تخت کے نیچے تھا، آپ نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس سے اس جگہ پر چھینٹے مارے، پھر جب شام ہوئی تو آپ کو جبرائیل (علیہ السلام) ملے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: آپ نے مجھ سے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر (مجسمہ) ہو، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔
Maimunah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) narrated: "The Messenger of Allah ﷺ was upset one morning and Maimunah said to him: "O Messenger of Allah, you look upset today., He said: Jibril علیہ السلام, had promised to meet me last night but he did not come, and by Allah, he never failed to keep an appointment,; The day passed, then he thought of a puppy that was beneath a table of ours. He ordered that it be taken out, and then he took some water In his hand and sprinkled it over the place where it had been. That evening, Jibril, peace be upon him, came and met him. The Messenger of Allah ﷺ said to him: You [promised to meet me last night,; He said: Yes, but we do not enter a house in which there is a dog or a picture,; the next day the Messenger of Allah ﷺ Commanded that dogs be killed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4283
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے اجر سے دو قیراط اجر کم ہوگا، سوائے شکاری یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے ۔
It was narrated that IbnUmar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: whoever keeps a dog, two Qirats will be detracted from his reward each day, except a trained hunting dog, or a dog for herding livestock.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4284
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ سفیان بن ابی زہیر شنائی ؓ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس نے ایسا کتا پالا جو نہ کھیت کی حفاظت کرے اور نہ جانوروں کی تو اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوگا ، میں نے عرض کیا: سفیان! کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم! ١ ؎۔
As-Saib bin Yazid narrated that Surfyan bin Abi Zuhair Ash-Shanai I came to visit them and said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever keeps a dog which he does not need for farming or livestock, one Qirt will be deducted from his (good) deeds each day. It was said to him: did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ He said: Yes, by the Lord of this Masjid.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4285
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قیراط اور دو قیراط کا اختلاف شاید زمان و مکان کے اعتبار سے ہے، چناچہ ابتداء میں کتوں کے قتل کا حکم ہوا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ثواب میں سے دو قیراط کی کمی کی خبر دی گئی پھر اس میں تخفیف ہوئی اور ایک قیراط کی خبر دی گئی (واللہ اعلم) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ٣ (٢٣٢٣)، بدء الخلق ١٧ (٣٣٢٥)، صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٦)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٧٦)، موطا امام مالک/الإستئذان ٥ (١٣)، مسند احمد (٥/٢١٩، ٢٢٠)، سنن الدارمی/الصید ٢ (٢٠٤٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے شکار کرنے والے کتے یا جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہوگا ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: whoever keeps a dog except one that is trained for hunting or a dog for herding livestock, two Qirats will be deducted from his reward each day.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4286
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہوگا ۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever keeps a dog. Escept a dog for hunting or herding livestock, two Qirats will be deducted form his reward eachday.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4287
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے شکاری کتے، یا جانوروں یا کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر ایک قیراط کم ہوگا ۔
It was narrated from Abdullah bin Mughaffal that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever keeps a dog, except a dog for hunting, herding livestock or farming, one Qurat will be deducted from his reward each day.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4288
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے شکاری کتے یا کھیتی اور جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو اس کے عمل (اجر) میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever keep s dog except a dog for hunting, farming or herding livestock, one Qurat will be deducted from his good deeds each day.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4289
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی ایسے کتے کو پالا جو نہ تو شکاری ہو نہ جانوروں کی نگرانی کے لیے ہو اور نہ ہی زمین (کھیتی) کی رکھوالی کے لیے، تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہوگا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever keeps a dog that is not a dog used for hunting, herding livestock or guarding land, two qirats will be deducted from his reward each day.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4290
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے یا شکاری کتے کے علاوہ کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے عمل (اجر) میں سے ایک قیراط کم ہوگا ، عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: ابوہریرہ ؓ نے یہ بھی کہا: یا کھیتی کا کتا ۔
It was narrated from Salim bin Abdullah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever keeps a dog, except a dog for herding livestock or a dog for hunting, one Qirat will be deducted from his reward each day." Abdullah said: "Abu Hurairah said: Or a dog for farming.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4291
ابومسعود عقبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت ١ ؎ زانیہ عورت کی کمائی ٢ ؎ اور کاہن کی اجرت ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Abu Bakr bin Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham that her heard Abu Mas ud Uqbah say: "The Messenger of Allah ﷺ forbade the price of a dog, the gift of a female fornicator and the fees of a fortune-teller."( Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4292
Notes · وضاحت
١ ؎: کتا نجس و ناپاک جانور ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے جس میں پہلی مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خریدو فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر، جائیداد اور جانوروں کی رکھوالی کے لیے ہو۔ مگر ایسے کتوں کی بھی تجارت ناپسندیدہ ہے، اور جس حدیث میں اس کی رخصت کی بات آئی ہے اس کی صحت میں سخت اختلاف ہے، (جیسے حدیث نمبر ٤٣٠٠ ) ٢ ؎ چونکہ زنا بڑے گناہوں اور فحش کاموں میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ٣ ؎: علم غیب رب العالمین کے لیے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا بڑا گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل طریقے سے لوگوں سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، الإجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، الطلاق ٥١(٥٣٤٦)، الطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (البیوع ٣٠) (١٥٦٧)، سنن ابی داود/البیوع ٤١(٣٤٢٨)، ٦٥(٣٤٨١)، سنن الترمذی/النکاح ٣٧ (١١٣٣)، البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، الطب ٢٣ (٢٠٧١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩(٢١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٠)، موطا امام مالک/البیوع ٢٩ (٦٨)، مسند احمد ١/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، سنن الدارمی/البیوع ٣٤ (٢٦١٠)، ویأتي عند المؤلف في البیوع ٩١ (برقم ٤٦٧٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں، نہ ہی کاہن کی اجرت، اور نہ ہی زانیہ عورت کی کمائی ۔
Abu Hurairah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The price of a dog, the fees of a fortuneteller and the gift of a female fornicator are not permissible.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4293
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بری کمائی زانیہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت، اور پچھنا لگانے کی اجرت ہے ١ ؎۔
It was narrated that Waqi bin Khadij said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The worst of earnings arte the gift of a female fornicator, the price of a dog and the earnings of a cupper.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4294
Notes · وضاحت
١ ؎: کسب الحجام کے سلسلہ میں شرالکسب کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہونے کے معنی میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے محیصہ ؓ کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ ﷺ نے بذات خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی، پس پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق شر کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ثوم و بصل (لہسن، پیاز) کو خبیث کہا جب کہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ یہ پیشہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی ١ ؎ اور کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا، سوائے شکاری کتے کے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حماد بن سلمہ سے حجاج (حجاج بن محمد) نے جو حدیث روایت کی ہے وہ صحیح نہیں ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade the price of cats and dogs, except hunting. (Da if) Abu Abdur-Rahman said: The Hadith of Hajjaj from Hammad bin Salamah is not authentic:
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4295
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ بلی سے کوئی ایسا فائدہ جو مقصود ہو حاصل ہونے والا نہیں اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے اور یہی اس کے حرام ہونے کی علت اور اس کا سبب ہے۔ ٢ ؎: اس کے راوی ابوالزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور یہ لفظ مسلم کی روایت میں ہے بھی نہیں ہے، انہیں اسباب و وجوہ سے بہت سے ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئیے فتح الباری ( ٤/٤٢٧ ) اور التعلیقات السلفیہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٦٩٧)، ویأتي عند المؤلف في البیوع ٩٠ (برقم: ٤٦٧٢) (صحیح) ” إلا کلب صید “ کا جملہ امام نسائی کے یہاں صحیح نہیں ہے، لیکن البانی صاحب نے طرق اور شواہد کی روشنی میں اس کو بھی صحیح قرار دیا ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٢٩٧١، ٢٩٩٠، وتراجع الالبانی ٢٢٦ )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ شکاری کتے ہیں، آپ نے فرمایا: تمہارے لیے تمہارے کتے جو پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ۔ میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ اسے قتل کر ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ قتل کر ڈالیں ، اس نے کہا: (میں اپنے تیر کمان سے فائدہ اٹھاتا ہوں لہٰذا) مجھے تیر کمان کے سلسلے میں بتائیے، آپ نے فرمایا: جو شکار تمہیں تیر سے ملے تو اسے کھاؤ، اس نے کہا: اگر وہ (شکار تیر کھا کر) غائب ہوجائے؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ غائب ہوجائے، جب تک کہ تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کسی چیز کا نشان نہ پاؤ یا اس میں بدبو نہ پیدا ہوئی ہو ١ ؎۔ ابن سواء کہتے ہیں: میں نے اسے ابو مالک عبیداللہ بن اخنس سے سنا ہے وہ اسے بسند عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ عن النبی کریم ﷺ روایت کرتے ہیں۔
It was narrated from Arm bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that: a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Messenger of Allah, I have trained dogs; advise me concerning them." He said: "Whatever your dogs catch for you, eat," I side: "Even if they kill it?" He said: "Even if they kill it. " He said: "Advise me about my bow. "He said: "Whatever your arrow returns to you, eat." He said: "Even if it gets away from you, so long as you do not find the mark of an arrow other than yours on it, or you find that it has gone rotten."(Another chain).
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4296
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے مؤلف نے باب پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ جب شکار کے لیے کتے استعمال کرنے کی رخصت ہے تو بھر اس کی خریدو فروخت کی بھی رخصت ہے، لیکن جمہور اس استدلال کے خلاف ہیں، پچھلی احادیث میں صراحت ہے کہ کتے کی قیمت لینی دینی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٧٥٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصید ٢(٢٨٥٧)، مسند احمد (٢/١٨٤) (حسن صحیح )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ اسی دوران کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تہامہ کے ذی الحلیفہ میں تھے تو لوگوں کو کچھ اونٹ ملے اور کچھ بکریاں (بطور مال غنیمت) اور رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں کے پیچھے تھے، تو آگے کے لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم غنیمت سے پہلے) انہیں ذبح کیا اور ہانڈیاں چڑھا دیں، اتنے میں رسول اللہ ﷺ پہنچے، آپ نے حکم دیا تو ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا، ابھی وہ اسی میں مصروف تھے کہ اچانک ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگوں کے پاس گھوڑے بہت کم تھے، وہ اس کو پکڑنے دوڑے تو اس نے انہیں تھکا دیا، ایک شخص نے ایک تیر پھینکا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا (تیر لگ جانے سے) اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان چوپایوں میں بعض وحشی ہوجاتے ہیں جنگلی جانوروں کی طرح، لہٰذا جو تم پر غالب آجائے (یعنی تمہارے ہاتھ نہ آئے) اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ١ ؎۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "While we were with the Messenger of Allah ﷺ at Dhul-Hulaifah in Tihamanb, they acquired some camels and sheep (as spoils of war). The Messenger of Allah ﷺ was among the last of the people, and the first of them hastened to slaughter (the animals) and set up pots (For cooking the meat). The Messenger of Allah ﷺ came and ordered that the pots be came and ordered that the pots be overturned, then he divided it making ten sheep equivalent to one camel. While they were like that, a camel ran away. The people had only a few horses, so they went after fit and it and it got away from them. A man shot an arrow at it and stopped it. The Messenger of Allah ﷺ said: Some of these animals arte untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4297
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: جب اختیاری طور پر ذبح نہ کرسکو تو ذبح کی اضطراری شکل اختیار کرو۔
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: جب تم اپنا تیر چلاؤ تو اللہ کا نام لو پھر اگر تم دیکھو کہ وہ اس تیر سے مرگیا تو اسے کھاؤ إلا یہ کہ وہ پانی میں گرجائے، اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ پانی سے مرا ہے یا تیر سے ۔
It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting and he said: When you shoot your arrow, mention the name of Allah, and if you find that it (the game) has been killed, the eat it, unless you find that it fell into some water, and you do not know whether the water killed it or your arrow
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4298
عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: جب تم اپنا تیر چلاؤ یا کتا دوڑاؤ اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ تمہارے تیر سے مرجائے تو اسے کھاؤ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر وہ ایک رات میری پہنچ سے باہر رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنا تیر پاؤ اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کا اثر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ اور اگر وہ پانی میں گرجائے تو نہ کھاؤ۔
It was narrated from Adiyy bin Hatim that he asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting and he said: "When you release your arrow or your dog, mentioned the name of Allah, and when your arrow kills (the game), then eat." He said: "What if it gets away form me for a night, O Messenger of Allah?" He said: "If you find your arrow and you do not find the mark of anything else, then eat it. But if it falls into the water, do not eat it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4299
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں، ہم میں سے ایک شخص شکار کو تیر مارتا ہے تو وہ ایک رات یا دو رات غائب ہوجاتا ہے، وہ اس کا پتا لگاتا ہے یہاں تک کہ اسے مردہ پاتا ہے اور اس کا تیر اس کے اندر ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: جب تم اس میں تیر پاؤ اور اس میں کسی درندے کا نشان نہ ہو اور تمہیں یقین ہوجائے کہ وہ تمہارے تیر سے مرا ہے تو اسے کھاؤ۔
It was narrated tht Adiyy bin Hatim said: "I said: O Messenger of Allah, we are a people who hunt, and one of us may shoot his arrow but (the game) gets way form him for a night or two. What if he follows its tracks, and finds it dead with his arrow in it?" He said: If you find the arrow in it, and you do not find any sign of predators, and you know that your arrow killed it, then eat it."( Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4300
عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنا تیر اس (شکار) میں دیکھو اور اس کے علاوہ اس میں کوئی نشان نہ دیکھو اور تمہیں یقین ہوجائے کہ اسی سے وہ مرا ہے تو اسے کھاؤ۔
It was narrated from Adiyy bin Hatim that the Messenger of Allah ﷺ said: "If you see your arrow in it. And you do not see any other mark, and you know that (Your arrow) killed it, then eat it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4301
عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر میں ایک رات کے بعد اس کے نشانات ڈھونڈتا ہوں، آپ نے فرمایا: جب تم اس کے اندر اپنا تیر پاؤ اور اس میں سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ۔
It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I said: O Messenger of Allah, I shoot game and I follow its tracks after of night. He said: If you find your arrow in it, and no predator has eaten from it, then eat it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4302