Sunan An Nasai 4306

شکار اور ذبیحوں سے متعلق

4306Sunan An Nasai

اگر شکار تیر کھا کر غائب ہوجائے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ سَهْمَكَ فِيهِ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ.

عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنا تیر اس (شکار) میں دیکھو اور اس کے علاوہ اس میں کوئی نشان نہ دیکھو اور تمہیں یقین ہوجائے کہ اسی سے وہ مرا ہے تو اسے کھاؤ۔

It was narrated from Adiyy bin Hatim that the Messenger of Allah ﷺ said: "If you see your arrow in it. And you do not see any other mark, and you know that (Your arrow) killed it, then eat it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4301
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )