Sunan An Nasai 4297

شکار اور ذبیحوں سے متعلق

4297Sunan An Nasai

کتے کی قیمت لینے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَأَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.

ابومسعود عقبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت ١ ؎ زانیہ عورت کی کمائی ٢ ؎ اور کاہن کی اجرت ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Abu Bakr bin Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham that her heard Abu Mas ud Uqbah say: "The Messenger of Allah ﷺ forbade the price of a dog, the gift of a female fornicator and the fees of a fortune-teller."( Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4292
Notes · وضاحت
١ ؎: کتا نجس و ناپاک جانور ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے جس میں پہلی مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خریدو فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر، جائیداد اور جانوروں کی رکھوالی کے لیے ہو۔ مگر ایسے کتوں کی بھی تجارت ناپسندیدہ ہے، اور جس حدیث میں اس کی رخصت کی بات آئی ہے اس کی صحت میں سخت اختلاف ہے، (جیسے حدیث نمبر ٤٣٠٠ ) ٢ ؎ چونکہ زنا بڑے گناہوں اور فحش کاموں میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ٣ ؎: علم غیب رب العالمین کے لیے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا بڑا گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل طریقے سے لوگوں سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، الإجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، الطلاق ٥١(٥٣٤٦)، الطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (البیوع ٣٠) (١٥٦٧)، سنن ابی داود/البیوع ٤١(٣٤٢٨)، ٦٥(٣٤٨١)، سنن الترمذی/النکاح ٣٧ (١١٣٣)، البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، الطب ٢٣ (٢٠٧١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩(٢١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٠)، موطا امام مالک/البیوع ٢٩ (٦٨)، مسند احمد ١/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، سنن الدارمی/البیوع ٣٤ (٢٦١٠)، ویأتي عند المؤلف في البیوع ٩١ (برقم ٤٦٧٠) (صحیح )