انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کی طرف اٹھ کر بڑھے، اور چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! بارش نہیں ہو رہی ہے، اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ تو آپ نے دعا کی: اللہم اسقنا اللہم اسقنا اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اس وقت ہم کو آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا (مگر آپ کے دعا کرتے ہی) بدلی اٹھی، اور پھیل گئی، پھر برسنے لگی، رسول اللہ ﷺ اترے، اور آپ نے نماز پڑھی، اور لوگ فارغ ہو کر پلٹے تو دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی۔ تو دوسرے جمعہ کو جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، تو لوگ پھر چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! گھر گرگئے، راستے ٹھپ ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ اب اسے ہم سے روک لے، تو رسول اللہ ﷺ مسکرائے، اور آپ نے دعا فرمائی: اللہم حوالينا ولا علينا اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا ہم پر نہ برسا تو بادل مدینہ سے چھٹ گئے، اور اس کے اطراف میں برسنے لگے، اور مدینہ میں ایک بوند بارش کی نہیں پڑ رہی تھی۔ میں نے مدینہ کو دیکھا کہ وہ ایسا لگ رہا تھا گویا وہ تاج پہنے ہوئے ہے۔
It was narrated from Thabit that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was delivering the Khutbah one Friday when the people stood up and shouted: O Prophet of Allah! There has been no rain and the animals have died. Pray to Allah (SWT) to send us rain. He said: O Allah, send us rain; O Allah, send us rain. By Allah (SWT), we could not see even a wisp of a cloud in the sky, then a cloud appeared and grew, and it rained. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came down and prayed, and the people departed, and it continued to rain until the following Friday. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up to deliver the Khutbah, they called out to him and said: O Prophet (صلی اللہ علیProphet of destroyed and the routes are cut off. Pray to Allah to take it away from us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) smiled and said: O Allah, around us and not on us! Then is dispersed from Al-Madinah and rain fell around Al-Madinah but not a single drop fell on Al-Madinah. I looked, and it was in something like a ring."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1517
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف رخ کر کے کھڑا ہوگیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال (جانور) ہلاک ہوگئے، اور راستے بند ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: اللہم أغثنا اللہم أغثنا اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم کو آسمان میں کہیں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا، اور ہمارے اور سلع پہاڑی کے بیچ کسی گھر یا مکان کی آڑ نہ تھی، اتنے میں ڈھال کے مانند بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے درمیان میں پہنچا تو پھیل گیا، اور برسنے لگا۔ انس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ میں اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ آپ کی طرف چہرہ کر کے کھڑا ہوگیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کا سلام و صلاۃ (درود و رحمت) ہو آپ پر! مال ہلاک ہوگئے (جانور مرگئے) ، اور راستے بند ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہم سے اسے روک لے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: اللہم حوالينا ولا علينا اللہم على الآکام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا، اے اللہ! ٹیلوں، چوٹیوں، گھاٹیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا یہ کہنا تھا کہ بادل چھٹ گئے، اور ہم نکل کر دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس ؓ سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا، تو انہوں نے کہا: نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: A man entered the masjid when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was standing and delivering the Khutbah. He turned to face the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) standing and said: O Messenger of Allah, our wealth has been destroyed and the routes have been cut off. Pray to Allah (SWT) to send us rain. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands then said: "O Allah, send us rain." Anas said: "By Allah, we had not seen even a wisp of a cloud in the sky and there were no houses or buildings between us and (the mountain of ) Sal. Then a cloud like a shield appeared, and when it reached the middle of the sky it spread and it began to rain." Anas said: "By Allah, we did not see the sun for a week. Then a man entered through that door on the following Friday, when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was standing and delivering the Khutbah. He turned to face him standing and said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), may Allah (SWT) send blessings upon you. Our wealth has been destroyed and the routes have been cut off. Pray to Allah (SWT) to withold (the rain) from us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands and said: O Allah, around us and not on us.; O Allah, on the hills and mountains, the bottoms of the valleys and where the trees grow. Then it stopped raining and we went out walking in the sun." Sharik said: I asked Anas: Was he the same man? He said: No."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1518
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں جزم ہے، اور اس سے پہلے ایک روایت گزر چکی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا لا أدری ہو الذی قال لرسول اللہ ﷺ استسق لنا أم لا دونوں میں اس طرح تطبیق دی گئی ہے کہ شاید انہیں بھول جانے کے بعد یاد آیا ہو، یا یاد رہا ہو پھر بھول گئے ہوں یا لا یہاں لا أدری کے معنی میں ہو۔
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ استسقاء کی غرض سے نکلے، تو آپ نے لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کی، اور اپنی چادر الٹی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن ابی ذئب کہتے ہیں: حدیث میں یہ بھی ہے: وقرأ فيهما اور ان دونوں میں قرأت کی ۔
It was narrated that Ibn Shihab said: "Abbad bin Tamim told me that he heard his paternal uncle, who was one of the companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out one day to pray for rain. He turned his back toward the people, praying to Allah (SWT), and he turned to face the Qiblah. He turned his rida around, then he prayed two rakahs." (One of the narrators) Ibn Abi Dhib said in the Hadith: "And he recited in them both."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1519
عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قبلہ کی طرف منہ کیا۔
It was narrated from Abdullah bin Zaid that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went out to pray for rain, and he prayed two rakahs facing the Qiblah. (Sahih
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1520
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں، تو ابن عباس ؓ نے کہا: وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے؟ رسول اللہ ﷺ عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ١ ؎۔
It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that: His father said: "One of the governors sent me to Ibn Abbas to ask him about the prayer for rain. He said: What kept him from asking me? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out humbly, (dressed) in a state of humility, submissiveness and beseeching, and he prayed two rakahs as in the Eid prayer, but he did not deliver a Khutbah like this Khutbah of yours."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1521
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں نفی قید کی ہے، مقید کی نہیں جیسا کہ اس پر وہ احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں خطبہ کی تصریح ہے۔
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی۔
It was narrated from Abbad bin Tamim from his paternal uncle that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went out and prayed for rain, then he prayed two rakahs in which he recited loudly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1522
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش ہوتی تو کہتے: اللہم اجعله صيبا نافعا اے اللہ! خوب برسا اور اسے فائدہ مند بنا ۔
It was narrated from Aishah that: When it rained the Messenger of Allah would say: "Allahummajalhu Sayyiban nafi`a. (O Allah, make it beneficial rain)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1523
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١١٣ (٥٠٩٩) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢١ (٣٨٨٩) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٦)، مسند احمد ٦/٤١، ٩٠، ١١٩، ١٣٧، ١٣٨، ١٦٦، ١٩٠، ٢٢٢ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب بھی میں نے اپنے بندوں کو بارش کی نعمت سے نوازا تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ لوگ کہتے رہے: فلاں ستارے نے ایسا کیا ہے، اور فلاں ستارے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, said: I have never sent down My favor to My slaves but a group of them became disbelievers who say; "The stars and by stars."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1524
Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ ستاروں میں کوئی طاقت نہیں، وہ تو جماد ہیں، یہ نعمت تو اس ذات باری تعالیٰ نے دی ہے جس نے ستاروں، ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا ۔
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said: "It rained during the time of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Have you nt heard what your Lord said this night? He said: I have never sent down any blessing upon My slaves but some of them become disbelievers thereby, saying: We have been given rain by such and such a star. As for the one who believes in Me and praises Me for giving rain, that is the one who believes in Me and disbelieves in the stars. But the one who says: We have been given rain by such and such a star he has disbelieved in Me and believed in the stars."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1525
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال تک بارش روکے رکھے، پھر اسے چھوڑے تو بھی لوگوں میں سے ایک گروہ کافر ہی رہے گا، کہے گا: ہم تو مجدح ستارے کے سبب برسائے گئے ہیں۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If Allah (SWT) were to withhold rain from His slaves for five years and then send it, some of the people would become disbelievers, saying: "We have been given rain by the star of Al-Mijdah."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1526
Notes · وضاحت
١ ؎: مجدح ستارے ان ستاروں میں سے ایک ستارے کا نام ہے جو عربوں کے نزدیک بارش پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بارش بند ہونے کی دعا کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤١٤٨)، مسند احمد ٣/٧، سنن الدارمی/الرقاق ٤٩ (٢٨٠٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” عتاب “ لین الحدیث ہیں )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک سال بارش نہیں ہوئی تو کچھ مسلمان جمعہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش نہیں ہو رہی ہے، زمین سوکھ گئی ہے، اور جانور ہلاک ہوگئے ہیں، تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور اس وقت آسمان میں ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوب دراز کیا یہاں تک کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، آپ اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کے لیے دعا کر رہے تھے۔ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے (کہ بارش ہونے لگی) یہاں تک کہ جس جوان کا گھر قریب تھا اس کو بھی اپنے گھر جانا مشکل ہوگیا، اور برابر دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی، جب اگلا جمعہ آیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! گھر گرگئے، اور سوار محبوس ہو کر رہ گئے، تو رسول اللہ ﷺ ابن آدم (انسان) کے جلد اکتا جانے پر مسکرائے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: اللہم حوالينا ولا علينا اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور (اب) ہم پر نہ برسا تو مدینہ سے بادل چھٹ گئے۔
It was narrated that Anas said: "There was no rain for a year, so some of the Muslims went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) one Friday and said: O Messenger of Allah, there has been no rain; the land has become bare and our wealth has been destroyed. He raised his hands, and we did not see any cloud in the sky. He stretched forth his hands until I could see the whiteness of his armpits, praying to Allah (SWT) for rain. When we finished praying Jumuah, even a young man whose house nearby was worried about how he would get home. That lasted for a week, then on the following Friday they said: O Messenger of Allah, houses have been destroyed and all travel has been ceased. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) smiled at how quickly the sons of Adam become weary, and he said with his hands raised: O Allah, around us and not on us, and it dispersed from Al-Madinah."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1527
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کو قحط سالی سے دو چار ہونا پڑا، رسول اللہ ﷺ منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک اعرابی (بدو) کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال (جانور) ہلاک ہوگئے، اور بال بچے بھوکے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اس وقت ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو ابھی نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ بادل پہاڑ کے مانند امنڈنے لگا، اور آپ ابھی اپنے منبر سے اترے بھی نہیں کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ کی داڑھی سے ٹپک رہا ہے، ہم پر اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد والے دن یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی، تو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! عمارتیں منہدم ہوگئیں، اور مال و اسباب ڈوب گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اور آپ نے یوں دعا کی: اللہم حوالينا ولا علينا اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور (اب) ہم پر نہ برسا چناچہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بادل کی جانب جس طرف سے بھی اشارہ کیا، وہ وہاں سے چھٹ گئے یہاں تک کہ مدینہ ایک گڈھے کی طرح لگنے لگا، اور وادی پانی سے بھر گئی، اور جو بھی کوئی کسی طرف سے آتا یہی بتاتا کہ خوب بارش ہوئی ہے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "There was a drought during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). While the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was giving the Khutbah on the minbar one Friday, a Bedouin stood up and said: O Messenger of Allah wealth has been destroyed and our children are hungry; pray to Allah for us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands, and we could not see even a wisp of a cloud in the sky, but by the One in Whose hand is my soul, he did not lower (his hands) before clouds like mountains appeared, and he did not come down from his minbar before we saw the rain dripping from his beard. It rained that day and the next day, and the day after, until the following Friday. Then that Bedouin"- or he said, "Someone else"- "stood up and said: O Messenger of Allah, buildings have been destroyed and wealth has drowned; pray to Allah (SWT) for us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands and said: O Allah, around us and not on us. He did not point in any direction but the clouds dispersed, until Al-Madinah became like a hole. And the valleys ran with water and no one came from any direction but he told us of the heavy rains."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1528
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم سعید بن عاصی کے ساتھ طبرستان میں تھے، ہمارے ساتھ حذیفہ بن یمان ؓ بھی تھے، سعید نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ تو خذیفہ ؓ نے کہا: میں نے، تو انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گروہ کو جو آپ کے پیچھے صف باندھے تھا ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرا گروہ آپ کے اور دشمنوں کے مابین ڈٹا ہوا تھا، تو جو گروہ آپ کے ساتھ تھا اسے آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہوں پر چلے گئے جو دشمن کے سامنے صف باندھے تھے، اور وہ لوگ ان کی جگہ آگئے تو آپ نے انہیں (بھی) ایک رکعت پڑھائی۔
It was narrated that Thalabah bin Zahdam said: "We were with Saeed bin Al-Asi in Tabaristan, and Hudhaifah bin Al-Yaman was with us. He said: Which of you offered the fear prayer with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? Hudhaifah said: I did, and he described it. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) offered the fear prayer, leading one group who had formed rows behind him in praying one rakah, while the other group was between him and the enemy. So he led the group that was near him in praying one rakah, then they left and took the place of others, and the others came and he led them in praying one rakah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1529
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم سعید بن عاصی کے ساتھ طبرستان میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں میں سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز کس نے پڑھی ہے؟ حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے، پھر حذیفہ ؓ کھڑے ہوگئے، اور لوگوں نے ان کے پیچھے دو صف بنائی، ایک صف ان کے پیچھے تھی، اور ایک صف دشمن کے مقابلہ میں تھی، تو انہوں نے ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسری صف والوں کی جگہ پر لوٹ گئے، اور وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آگئے، پھر انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، اور ان لوگوں نے قضاء نہیں کی ١ ؎۔
It was narrated that Thalabah bin Zahdam said: "We were with Saeed bin Al-Asi in Tabaristan, and Hudhaifah bin Al-Yaman was with us. He said: Which of you offered the fear prayer with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? Hudhaifah said: I did. So Hudhaifah stood and the people formed two rows behind him, one row behind him and one row facing the enemy. He led those who were behind him in praying one rakah, then they went and took the place of the others, and the others came and he led them in praying one rakah, and they did not make it up."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1530
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت ہی پر بس کیا کسی نے دوسری رکعت نہیں پڑھی۔
زید بن ثابت ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے حذیفہ ؓ کی نماز کے مثل روایت کی ہے۔
Narrated from Zaid bin Thabit: A prayer like that of Hudhaifah was narrated from Zaid bin Thabit from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1531
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: (٣٧٣٤)، مسند احمد ٥/١٨٣ (صحیح) (اس کی سند میں ” قاسم “ لین الحدیث ہیں، اور سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ درجہ کی حدیث ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم ﷺ کی زبان پر حضر میں چار رکعت نماز فرض کی، اور سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Allah (SWT) enjoined the prayer on the tongue of your Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): four (rakahs) while a resident, two rakahs while traveling, and one rakah during times of fear."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1532
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذی قرد ١ ؎ میں نماز پڑھی، لوگوں نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں، ایک صف آپ کے پیچھے اور ایک دشمن کے مقابلے میں، تو آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے کھڑے تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسری صف والوں کی جگہ پر چلے گئے، اور وہ لوگ ان کی جگہ پر آگئے، تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، اور لوگوں نے قضاء نہیں کی۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed at Dhi Qarad and the people formed two rows behind him, one row behind him and one row facing the enemy. He led those who were behind him in praying one rakah, then they went and took the place of the others, and the others came and he led them in praying one rakah, and they did not make it up.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1533
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ سے دو منزل کی دوری پر ایک جگہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٨٦٢)، مسند احمد ١/٢٣٢، ٣٥٧ و ٥/١٨٣ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (خوف کی نماز پڑھانے) کھڑے ہوئے، لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے رکوع کیا، اور ان میں سے بھی کچھ لوگوں نے رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو جن لوگوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کرلیا تھا وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، اور اپنے بھائیوں کی حفاظت میں لگ گئے، اور دوسرا گروہ آیا پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رکوع کیا، اور سجدہ کیا، اور سبھی لوگ نماز ہی میں تھے، اللہ اکبر کہتے تھے، لیکن ایک دوسرے کی حفاظت (بھی) کرتے تھے۔
It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah bin Utbah that: Abdullah bin Abbas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood and the people stood with him, and he said the takbir and they said the takbir. Then he bowed, and some of them bowed, then he prostrated and they prostrated, then he stood for the second rakah and those who had prostrated with him moved back and guarded their brothers, and the other group came and bowed and prostrated with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). All the people were praying and saying the takbir, but they were guarding one another."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1534
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ خوف کی نماز صرف دو سجدوں پر مشتمل تھی، جیسے آج کل تمہارے ان اماموں کی پیچھے تمہارے نگہبان پڑھتے ہیں، مگر وہ باری باری آگے پیچھے آئے، اس طرح کہ پہلے ایک گروہ (نماز کے لیے آپ کے ساتھ) کھڑا ہوا حالانکہ وہ سب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ کے ساتھ ان میں سے ایک گروہ نے سجدہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور سبھی لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، تو آپ کے ساتھ ان لوگوں نے سجدہ کیا جو آپ کے ساتھ پہلی بار کھڑے تھے، پھر جب رسول اللہ ﷺ اور وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا تھا بیٹھے تو جو لوگ کھڑے تھے (اور سجدہ نہیں کیا تھا) انہوں نے خود سے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ بیٹھے تو رسول اللہ ﷺ نے سب کے ساتھ سلام پھیرا۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The fear prayer was no more than two prostrations like the prayer of these guards of yours today behind the Imams of yours, except that it was one group after another. One group stood, although they were all behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and one group prostrated with him, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up and they all stood with him. Then he bowed and they all bowed with him, then he prostrated and those who had been standing the first time prostrated with him. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and those who had prostrated with him at the end of their prayer sat, those who had been standing prostrated by themselves, then they sat and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said the taslim with all of them.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1535
سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے پیچھے بنی اور ایک صف دشمن کے بالمقابل بنی، پھر آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسری صف والے آئے تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر لوگ کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی۔
It was narrated from Salih bin Khawwat, from Sahl bin Abi Hathmah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led them in offering the fear prayer. Some formed a row behind him and some formed a row facing the enemy. He led them in praying one rakah, then they moved away and the others came, and he led them in praying one rakah, then they got up and each (group) made up the other rakah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1536