عبدالرحمٰن بن نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے زہری سے گرہن کی نماز کے طریقے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی ہے وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے اعلان کیا کہ نماز جماعت سے ہونے والی ہے، تو لوگ جمع ہوگئے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی، آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی، پھر اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، اپنے قیام کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر اللہ اکبر کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور ایک لمبا سجدہ کیا اپنے رکوع کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور اپنا سر اٹھایا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ایک لمبی قرآت کی، یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی لیکن یہ پہلی قرآت سے جو دوسری رکعت میں کی تھی کم تھی، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنا سر اٹھایا، پھر سمع اللہ لمن حمده کہا، پھر اللہ اکبر کہا، اور سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ نے تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا، پھر ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے سے گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو ان میں سے کسی کو گہن لگ جائے تو نماز کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑو ۔
It was narrated that Aishah said: "There was an eclipse of the sun and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered a man to call out: As-salatu jamiah (prayer is about to begin in congregation). The people gathered and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led them in prayer. He said the takbir, then he recited at length. Then he said the takbir and bowed for a long time, as long as he had recited or longer. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him) Then he recited at length, but it was shorter than the first time, then he said the takbir and bowed for a long time, but it was shorter than the first time. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him). Then he said the takbir and prostrated for a long time, as long as he had bowed or longer. Then he said the takbir and raised his head, then he said the takbir and prostrated. Then he said the takbir and stood up, and recited for a long time that was shorter than the first time. Then he said the takbir and bowed for a long time that was shorter than the first time. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah. (Allah hears those who praise Him). Then he recited for a long time that was shorter than the first recitation in the second standing. Then he said the takbir and bowed for a long time that was shorter than the first time. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him). Then he said the takbir and prostrated for a long time that was shorter than the first time. Then he recited the tashahhud, then he said the taslim. Then he stood before them and praised and glorified Allah, then he said: The sun and the moon do not become eclipsed for the death or birth of anyone, but they are two of the signs of Allah (SWT). Whichever of them becomes eclipsed, turn to Allah (SWT), the Mighty and Sublime, and pray."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1497
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گرہن کی نماز پڑھی، تو آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر (اپنا سر رکوع سے) اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر (اپنا سر سجدہ سے) اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور نماز سے فارغ ہوگئے۔
It was narrated that Asma bint Abi Bakr said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed during an eclipse. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up and (remained standing) for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up, then he prostrated for a long time, then he stood up and (remained standing) for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up, then he prostrated for a long time, then he sat up, then he prostrated for a long time, then he sat up and then he finished."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1498
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٠ (٧٤٥) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٢ (١٢٦٥) مطولاً، (تحفة الأشراف: ١٥٧١٧)، مسند احمد ٦/٣٥٠، ٣٥١ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کہیں جانے کے لیے نکلے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو ہم حجرے کی طرف چلے، اور کچھ اور عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہوگئیں، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اور یہ چاشت کا وقت تھا، (آپ نماز پڑھنے کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ نے ایک لمبا قیام کیا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو بھی ایسے ہی کیا، مگر آپ کا یہ قیام اور رکوع پہلی والی رکعت کے قیام اور رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہوگیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو منبر پر بیٹھے، اور منبر پر جو باتیں آپ نے کہیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ لوگوں کو ان کی قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمایا جائے گا ، یہ حدیث مختصر ہے۔
Aishah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) went out and the sun became eclipsed. We went out to the apartment and some women gathered around us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) turned to us, and that was at the time of the forenoon. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raised his head and stood for a shorter time than the first, then he bowed for a shorter time than the first, then he prostrated. Then he stood up again and did the same, except that he stood and bowed for a shorter time than in the first rakah. Then he prostrated and the eclipse ended. When he had finished he sat on the minbar and among the things he said was : The people will be tried in their graves like the trial of the Dajjal."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1499
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا، تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی تو بہت لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا، پھر (رکوع سے سر) اٹھایا، پھر قیام کیا تو بہت لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے (رکوع سے سر) اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو، اور صدقہ خیرات کرو، اور اللہ عزوجل کو یاد کرو ، نیز فرمایا: اے امت محمد! کوئی اللہ تعالیٰ سے زیادہ اس بات پر غیرت والا نہیں کہ اس کا غلام یا اس کی باندی زنا کرے، اے امت محمد! اگر تم لوگ وہ چیز جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
It was narrated that Aishah said: "There was an eclipse of the sun during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood and prayed, standing for a very long time, then he bowed for a very long time. Then he stood up and (remained standing) for a very long time, but shorter than the first time. Then he bowed for a very long time, but shorter than the first time. Then he prostrated, then he raised his head and stood for a long time, but it was shorter than the first time. The he stood up and (remained standing) for a long time, but it was shorter than the first time. Then he prostrated, and when he finished his prayer, the eclipse had ended. He addressed the people and praised and glorified Allah, then he said: The sun and the moon do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then pray, give in charity, and remember Allah, the Mighty and Sublime. And he said: O Ummah of Muhammad! There is no one who is more jealous than Allah (SWT) when His male or female slave commits Zina. O Ummah of Muhammad, if you knew what I know, you would laugh little and weep much."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1500
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگ گیا، تو آپ جلدی سے اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھے، تو لوگ بھی آپ کے ساتھ ہو لیے، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسے لوگ پڑھتے ہیں، پھر جب سورج صاف ہوگیا تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور ان دونوں کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، تو جب تم ان دونوں میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھو، اور دعا کرو یہاں تک کہ جو تمہیں لاحق ہوا ہے چھٹ جائے ۔
It was narrated that Abu Bakrah said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and the sun became eclipsed. He got up and went to the masjid, dragging his garment in haste. The people stood with him and he prayed two rakahs as they usually prayed. When the eclipse ended he addressed us and said The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), with which He strikes fear into His slaves. They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see either of them being eclipsed, then pray and supplicate until it removed it from you."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1502
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ گھبرا کر کھڑے ہوئے، آپ ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آگئی ہے، چناچہ آپ اٹھے یہاں تک کہ مسجد آئے، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو آپ نے اتنے لمبے لمبے قیام، رکوع اور سجدے کیے کہ اتنے لمبے میں نے آپ کو کسی نماز میں کرتے نہیں دیکھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ نہ کسی کے مرنے سے ہوتے ہیں نہ کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے بندوں کو ڈرانے کے لیے بھیجتا ہے، تو جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو اللہ کو یاد کرنے اور اس سے دعا اور استغفار کرنے کے لیے دوڑ پڑو ۔
It was narrated that Abu Musa said: "There was an eclipse of the sun, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) got up in a rush, fearing that it might be the Hour. He went to the masjid, where he stood and prayed, standing, bowing and prostrating for the longest time that I ever saw him do in prayer. Then he said: These signs that Allah (SWT) sends do not occur for the death or birth of anyone, but Allah (SWT) sends them to strike fear into His slaves. If you see any of these things, then hasten to remember Him, call upon Him supplicate and ask for His forgiveness."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1503
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہوگئے، (اور پانی نہ ہونے سے) راستے (سفر) ٹھپ ہوگئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہوگئے، راستے (سیلاب کی وجہ سے) کٹ گئے، اور جانور مرگئے، تو آپ نے دعا کی: اللہم على رءوس الجبال والآکام وبطون الأودية ومنابت الشجر اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا (اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہوجاتا ہے) ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, the livestock have died and the routes have been cut off; pray to Allah (SWT), the Mighty and Sublime. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed to Allah (SWT) and it rained from that Friday until the next. Then a man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: The houses have been destroyed, the routes have been cut off and the livestock have died. He said: O Allah, on the tops of the mountains and hills, in the bottom of the valleys and where the trees grow. So (the rain) was lifted from Al-Madinah like a garment being removed."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1504
عبداللہ بن زید ؓ (جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ١ ؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔
It was narrated from Abbad bin Tamim: "Sufyan said: I asked Abdullah bin Abi Bakr who said: I heard it from Abbad bin Tamim who narrated it from his father, that Abdullah bin Zaid, who was shown the call to prayer (in a dream) said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out to the prayer place to pray for rain. He faced the kiblah and turned his cloak around and prayed two rakahs."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1505
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سفیان بن عیینہ کا اس حدیث کے راوی کے بارے میں یہ کہنا کہ انہیں کو خواب میں اذان دکھائی گئی ان کا وہم ہے، اذان عبداللہ بن زیدبن عبدربہ کو دکھائی گئی، اور اس حدیث کے راوی کا نام عبداللہ بن زید بن عاصم ہے۔
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ (استسقاء کی نماز کے لیے) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ١ ؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that : His father said: "So and so sent me to ask him how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for rain (Istisqa)." He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out beseeching and humble, (dressed) in a state of humility. He did not give a Khutbah like this Khutbah of yours, and he prayed two rakahs."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1506
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ آپ کا خطبہ دعا و استغفار اور اللہ سے عاجزی اور گڑگڑانے پر مشتمل تھا۔
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔
It was narrated from Hisham binIshaq bin Abdullah bin Kinanah that: His father said: "I asked Ibn Abbas how the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for rain. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out (dressed) in a state of humility, beseeching and humble. He sat on the minbar but he did not deliver a Khutbah like this Khutbah of yours, rather he kept supplicating, beseeching and saying the takbir, and he prayed two rakahs as he used to do during the two Eids."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1508
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور دعا کی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قرآت کی تو بلند آواز سے قرآت کی۔
It was narrated from Abbad bin Tamim that : His paternal uncle had told him that he went out with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to pray for rain. He turned his rida around, and turned his back to the people, then he prayed two rakahs and recited loudly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1509
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔
It was narrated from Abbad bin Tamim, from his paternal uncle that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for rain, and prayed two rakahs, and turned his rida around.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1510
عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (جائے نماز کی طرف) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Bakr that: He heard Abbad bin Tamim said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out and prayed for rain, and he turned his rida around when he turned to the Qiblah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1511
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے، آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور (دعا مانگنے کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
It was narrated from Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that: He saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), when he prayed for rain, turn to face the Qiblah, turning his cloak around and raising his hands.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1512
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not raise his hands during any supplication except when praying for rain, when he used to raise his hands so high that the whiteness of his armpits could be seen."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1513
آبی اللحم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔
It was narrated from Abi Al-Lahm that: He saw the Messenger of Allah at Ahjar Az-Zait praying for rain and raising his hands, making supplications.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1514
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے روز مسجد میں تھے، اور رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راستے (سفر) ٹھپ ہوگئے، جانور ہلاک ہوگئے، اور علاقے خشک سالی کا شکار ہوگئے، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے بالمقابل اٹھایا، پھر آپ نے دعا کی: اللہم اسقنا اے اللہ! ہمیں سیراب کر تو قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ ابھی منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ زور دار بارش ہونے لگی، اور اس دن سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ چناچہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا (مجھے یاد نہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ ﷺ سے بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے کہا تھا یا کوئی دوسرا شخص تھا) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے بند ہوگئے ہیں، اور جانور ہلاک ہوگئے ہیں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ (اب) ہم سے بارش روک لے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی: اللہم حوالينا ولا علينا ولکن على الجبال ومنابت الشجر اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا، ہم پر نہ برسا، اور پہاڑوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا ۔ انس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ بادل پھٹ پھٹ کر (آسمان صاف ہوگیا) یہاں تک کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that he said: "While we were in the masjid on Friday and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was addressing the people, a man stood up and said: O Messenger of Allah, the routes have been cut off, our wealth has been destroyed and prices have gone up. Pray to Allah (SWT) to give us rain. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) raised his hands in level with his face and said: O Allah, give us rain. By Allah (SWT), the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had not come down from the minbar before it started to pour with rain, and it rained from that day until the following Friday. Then a man stood up- I do not know if he was the same man who had asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to pray for rain for us or not- and said: O Messenger of Allah, the routes have been cut off, and our wealth has been destroyed because there is too much water. Pray to Allah (SWT ) to stop the rain for us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: O Allah, around us and not on us, rather on the mountains and places where trees grow. By Allah, hardly had the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) spoken these words than the clouds split apart (and vanished) until we could not see anything of them."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1515