ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The closest that a person can be to his Lord, the Mighty and Sublime, is when he is prostrating, so increase in supplication then".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1137
ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا، تو ایک بار آپ ﷺ نے فرمایا: جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو ، میں نے کہا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے علاوہ اور بھی کچھ؟ میں نے عرض کیا: بس یہی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو ١ ؎۔
Rabiah bin Kab Al-Aslami said: "I used to bring to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) water for wudu and serve him. He said: Ask of me. I said: I want to be with you in Paradise. He said: Is there anything else? I said: That is all. He said: Help me to fulfill your wish by prostrating a great deal".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1138
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کثرت سے سجدے کیا کرو اس لیے کہ نماز کی عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، شاید تمہاری کثرت سجود سے مجھے تمہارے لیے اپنی رفاقت کی سفارش کا موقع مل جائے۔
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبان ؓ سے ملاقات کی، تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے فائدہ پہنچائے، یا مجھے جنت میں داخل کرے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے بدلے، اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں: پھر میں ابو الدرداء ؓ سے ملا اور میں نے ان سے وہی سوال کیا جو ثوبان ؓ سے کرچکا تھا، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔
Madan bin Talha Al-Yamuri said: "I met Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "Tell me of an action that will benefit me or gain me admittance to Paradise. He remained silent for a while, then he turned to me and said: You should prostrate, because I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "There is no one who prostrated once to Allah, the Mighty and Sublime, except that Allah will raise him one degree in status thereby, and erase one sin thereby". Madan said: "Then I met Abu Ad-Darda and asked him the same question I had asked Thawban". He said to me: "You should prostrate, for I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "There is no one who prostrates once to Allah (SWT), but Allah (SWT) will raise him one degree thereby and erase one sin thereby".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1139
عطاء بن یزید کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان دونوں میں سے ایک نے شفاعت کی حدیث بیان کی، اور دوسرے خاموش رہے، انہوں نے کہا: فرشتے آئیں گے، شفاعت کریں گے، اور انبیاء و رسل بھی شفاعت کریں گے، نیز انہوں نے پل صراط کا ذکر کیا، اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: پل صراط پار کرنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلوں سے فارغ ہوگا، اور جہنم سے جسے نکالنا چاہے گا نکال لے گا، تو اللہ فرشتوں کو اور رسولوں کو حکم دے گا کہ وہ شفاعت کریں، قابل شفاعت لوگ اپنی نشانیوں سے پہچان لیئے جائیں گے، آگ ابن آدم کی ہر چیز کھاجائے گی سوائے سجدہ کی جگہ کے، پھر ان پر چشمہ حیات کا پانی انڈیلا جائے گا، تو وہ اگنے لگیں گے جیسے سیلاب کے خش و خاشاک میں دانہ اگتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ata bin Yazid said: "I was sitting with Abu Hurairah and Abu Saeed. One of them narrated the Hadith about intercession and the other was listening. He said: Then the angels will come and intercede, and the messengers will intercede. And he mentioned the Sirat, and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I will be the first one to cross it, and when Allah has finished passing judgment among His creation, and has brought forth from the Fire those whom He wants to bring forth, Allah will command the angels and the messengers to intercede, and they will be recognized by their signs, for the Fire will consume all of the son of Adam apart from the place of prostration. Then the water of life will be poured on them, and they will grow like seeds on the banks of a rainwater stream".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1140
Notes · وضاحت
١ ؎: جس طرح سیلاب کے کوڑا کرکٹ میں دانہ اُگ کر جلد ہی ترو تازہ ہوجاتا ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی اس پانی کی برکت سے بھلے چنگے ہوجائیں گے، اور آگ کے نشانات مٹ جائیں گے۔
شداد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب اور عشاء کی دونوں نمازوں میں سے کسی ایک نماز کے لیے نکلے، اور حسن یا حسین کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں (زمین پر) بٹھا دیا، پھر آپ نے نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی، اور نماز شروع کردی، اور اپنی نماز کے دوران آپ نے ایک سجدہ لمبا کردیا، تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ پر ہے، اور آپ سجدے میں ہیں، پھر میں اپنے سجدے کی طرف دوبارہ پلٹ گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کردیا کہ ہم نے سمجھا کوئی معاملہ پیش آگیا ہے، یا آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی، البتہ میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لی تھی تو مجھے ناگوار لگا کہ میں جلدی کروں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلے ۔
It was narrated from Abdullah bin Shaddad, this his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came out to us for one of the nighttime prayers, and he was carrying Hasan or Husain. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came forward and put him down, then he said the Takbir and started to pray. He prostrated during his prayer, and made the prostration lengthy". My father said: "I raised my head and saw the child on the back of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) while he was prostrating so I went back to my prostration. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) finished praying, the people said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), you prostrated during the prayer for so long that we thought that something had happened or that you were receiving a revelation. He said: No such thing happened. But my son was riding on my back and I did not like to disturb him until he had enough".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1141
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر ؓ کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Al-Aswad from his father-and Alqamah-that: Abdullah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say the Takbir every time he went down and got up, or stood or sat; he said the Salam on his right and his left: As-salamu alaykum wa rahmatulah (peace be upon you and the mercy of Allah ), until the whiteness of his cheek could be seen." He said: "And I saw Abu Bakr and Umar, may Allah (SWT) be pleased with them both, doing the same".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1142
مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے یعنی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ١ ؎۔
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith that: When the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) started to pray, he raised his hands, and when he bowed, he did likewise, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he raised his head from prostration, he did likewise, meaning he raised his hands.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1143
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے، اور جب رکوع کرتے تو بھی، اور رکوع کے بعد بھی، اور دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔
It was narrated from Salim that his father said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) started to pray he said the takbir and raised his hands, and when he bowed, and after bowing, but he did not raise them between the two prostrations".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1144
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑے ہوگئے، آپ نے اللہ أكبر ذو الملکوت والجبروت والکبرياء والعظمة کہا، پھر آپ نے سورة البقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ نے رکوع میں:سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم کہا، اور جب آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو: لربي الحمد لربي الحمد کہا، اور آپ اپنے سجدہ میں سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى اور دونوں سجدوں کے درمیان رب اغفر لي رب اغفر لي کہتے تھے۔
A man from (the tribe of) Abs narrated from Hudhaifah that: He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and stood by his side, and he said: "Allahu Akbar Dhul-malakut wal-jabarut wal-kibriya wal azamah (Allah is Most Great, the One Who has all sovereignty, power, magnificence, and might.)" Then he recited Al-Baqarah, then he bowed, and his bowing lasted almost as long as his standing, and he said when bowing: Subahana Rabbial-azim, Subhana Rabbial-azim (Glory be to my Lord Almighty, Glory be to my Lord Almighty)". When he raised his head he said: "Li Rabbial-hamd, Li Rabbial-hamd (To my Lord be praise, to my Lord be praise)". And when he prostrated he said: "Subahana Rabbial-Ala, Subahna Rabbial-Ala (Glory be to my Lord Most High, glory be to my Lord Most High)". And between the two prostrations he would say: "Rabbighfirli, Rabbighfirli (Lord forgive me, Lord forgive me)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1145
نضر بن کثیر ابوسہل ازدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ میں مسجد خیف میں میرے پہلو میں نماز پڑھی، تو انہوں نے جب پہلا سجدہ کیا، اور سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے بالمقابل اٹھایا، مجھے یہ بات عجیب لگی تو میں نے وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میں نے کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟، تو وہیب نے ان سے کہا: آپ ایسا کام کرتے ہیں جسے ہم نے کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور میرے والد نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
An-Nadr bin Kathir Abu Sahl Al-Aszidi said: "Abdullah bin Tawus prayed beside me at Mina, in Masjid Al-Khaif, and when he made the first prostration he raised his head and raised his hands up to his face. I found that strange and I said to Wuhaib bin Khalid: "This man does something that I have never seen anyone do." Wuhaib said to him: You do something that I have never seen anyone do. Abdullah bin Tawus said: I saw my father do it, and my father said: "I saw Ibn Abbas do it and Abullah bin Abbas said: I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) doing it".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1146
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٧ (٧٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧١٩) (صحیح) (اس کے راوی ” نضر بن کثیر “ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح لغیرہ ہے )
براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز یعنی آپ کا رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کا قیام اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔
It was narrated that Al-Bara said: "In the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) his bowing, his prostration, standing after he raised his head from bowing and (sitting) between the two prostrations, were almost the same".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1148
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آپ کے بغل کی سفیدی نظر آتی، اور جب بیٹھتے تو اپنی بائیں ران زمین پر لگا کر بیٹھتے۔
It was narrated that Maimunah said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prostrated, he would hold his arms out to his sides, so that the whiteness of his armpits could be seen from behind. And when he sat he rested on his left thigh".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1147
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان ؓ عنہم بھی۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say the takbir every time he got up, went down, stood and sat. Abu Bakr, Umar, and Uthman (did likewise)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1149
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے اٹھتے تو جس وقت کھڑے ہوتے اللہ اکبر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جس وقت اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمده کہتے، پھر کھڑے ہو کر کہتے: ربنا لک الحمد پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ آپ اسے پوری کرلیتے، اور جس وقت دوسری رکعت سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو (بھی) اللہ اکبر کہتے۔
Abu Hurairah said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood to pray, he said the takbir, when he (started), then he said the takbir when he bowed, then he said: Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), when he stood up from bowing. Then he said when he was standing: Rabbana lakal-hamd. Then he said the takbir when he went down in prostration, then he said the takbir when he raised his head, and he did that throughout the entire prayer until he finished it, and he said the takbir when he stood up after the first two rakahs, after sitting".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1150
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث ؓ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے، تو وہ پہلی رکعت میں آخری سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے وقت بیٹھے (جلسہ استراحت کرتے) ١ ؎۔
It was narrated that Abi Qibalah said: "Abu Sulaiman Malik bin Al-Huwairith came to our masjid and said: "I want to show you how I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray". He said: "He sat during the first Rakah when he raised his head from the second prostration".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1151
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بیٹھک کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسنون نہیں، اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آپ اسے بالقصد نہیں کرتے تھے بلکہ اخیر عمر میں کبر سنی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ صحیحین کی روایت میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے، اور جو روایتیں اس کے خلاف آئی ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں، اور اگر نبی اکرم ﷺ اور بعض صحابہ کرام ؓ سے اس کا ترک تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ اس کے مسنون ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ جو چیز واجب نہ ہو اسے کبھی کبھی ترک کرنا جائز ہے۔
مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں ہوتے تو جب تک بیٹھ کر سیدھے نہیں ہوجاتے نہیں اٹھتے۔
It was narrated that Malik bin Al-Huwairith said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) pray, and when he was in an odd-numbered rakah, he did not get up until he had settled in a sitting position".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1152
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث ؓ ہمارے پاس آتے تو کہتے: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو وہ بغیر وقت کے نماز پڑھتے، جب وہ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر سیدھے ہوجاتے، پھر کھڑے ہوتے تو زمین پر اپنا ہاتھ ٹیکتے۔
It was narrated that Abu Qibalah said: "Malik bin Al-Huwairith used to come to us and say: "Shall I not tell you about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)?" He was praying at a time other than the time of prayer, and when he raised his head from the second prostration in the first rakah, he settled in a seated position, then he stood up, and he supported himself on the ground (while doing so)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1153
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٥٢، (تحفة الأشراف: ١١١٨٥) (صحیح )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو گھٹنوں کو ہاتھ سے پہلے زمین پر رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اسے شریک سے یزید بن ہارون کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated that Wail bin Hujr said: I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he prostrated, place his knees on the ground before his hands, and when he got up, he lifted his hands before his knees".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1154
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٩٠ (ضعیف) (شریک القاضی حافظے کے کمزور راوی ہیں اس لیے جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جاتی )
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ انہیں نماز پڑھاتے تھے، تو جب جب جھکتے اور اٹھتے اللہ اکبر کہتے، پھر جب وہ سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتے: قسم اللہ کی، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔
t was narrated from Abu Salamah: That Abu Hurairah used to lead them in prayer, and he said the takbir when he went down and came up. When he had finished he said: By Allah (SWT), I am the one among you whose prayer most closely resembles that of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1155
ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ان دونوں نے ابوہریرہ ؓ کے پیچھے نماز پڑھی، جب انہوں نے رکوع کیا تو اللہ اکبر کہا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا، پھر سجدہ کیا تو اللہ اکبر کہا، اور سجدہ سے اپنا سر اٹھایا تو اللہ اکبر کہا، پھر جس وقت رکعت پوری کر کے کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، پھر کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نماز میں ازروئے مشابہت تم میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ قریب ہوں، برابر آپ کی نماز ایسے رہی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہوگئے، یہ الفاظ سّوار کے ہیں۔
It was narrated from Abu Bakr bin Abdur-Rahman and from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that: They prayed behind Abu Hurairah, may Allah (SWT) be pleased with him, and he when he bowed, he said the Takbir, when he raised his head he said: Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd. Then he prostrated and said the takbir, then he raised his head and said the takbir, then he said the takbir when he stood up following that Rakah. Then he said: By the One in Whose Hand is my soul, I am the one among you whose prayer most closely resembles that of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). And this is how he continued to pray until he left this world".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1156