مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے وضو کیا، اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، وہ اسے نبی اکرم ﷺ تک مرفوع کر رہے تھے۔
Al-Muttalib bin ‘Abdullah bin Hantab (narrated) that ‘Abdullah bin ‘Umar performed Wudu washing each part of the body three times, and he attributed that to the Prophet ﷺ . (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 81
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٦ (٤١٤)، (تحفة الأشراف: ٧٤٥٨)، مسند احمد ٢/٨، ١٣٢ (صحیح )
مغیرہ ؓ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ نے میری پیٹھ پر ایک چھڑی لگائی ١ ؎ اور آپ مڑے تو میں بھی آپ کے ساتھ مڑ گیا، یہاں تک کہ آپ ایک ایسی جگہ پر آئے جو ایسی ایسی تھی، اور اونٹ کو بٹھایا پھر آپ چلے، مغیرہ ؓ کہتے ہیں: تو آپ چلتے رہے یہاں تک کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئے، پھر آپ (واپس) آئے، اور پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میرے پاس میری ایک چھاگل تھی، اسے لے کر میں آپ کے پاس آیا، اور آپ پر انڈیلا، تو آپ نے اپنے دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، چہرہ دھویا، اور دونوں بازو دھونے چلے، تو آپ ایک تنگ آستین کا شامی جبہ پہنے ہوئے ہوئے تھے (آستین چڑھ نہ سکی) تو اپنا ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالا، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے - مغیرہ ؓ نے آپ کی پیشانی کے کچھ حصے اور عمامہ کے کچھ حصے کا ذکر کیا، ابن عون کہتے ہیں: میں جس طرح چاہتا تھا اس طرح مجھے یاد نہیں ہے، پھر آپ ﷺ نے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: اب تو اپنی ضرورت پوری کرلے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حاجت نہیں، تو ہم آئے دیکھا کہ عبدالرحمٰن بن عوف لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور وہ نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، تو میں بڑھا کہ انہیں آپ ﷺ کی آمد کی خبر دے دوں، تو آپ ﷺ نے مجھے منع فرما دیا، چناچہ ہم نے جو نماز پائی اسے پڑھ لیا، اور جو حصہ فوت ہوگیا تھا اسے (بعد میں) پورا کیا۔
Al-Mughira said: “We were with the Prophet ﷺ on a journey, and he tapped me on the back with a stick he had with him, then he turned off (route) and I turned off with him until he came to such and such an area. Then he made his camel stop and went away until he disappeared from me, then he came back and said: ‘Do you have water with you?’ I had a water skin with me, so I brought it out and poured it for him. He washed his hands and face and began to wash his arms, but he was wearing a Syrian Jubbah that had narrow sleeves, so he brought his arms out from beneath the Jubbah and washed his hands and arms, and wiped his forelock a little and his turban a little.” — Ibn ‘Awn said: “I cannot remember it well — then he wiped over his Khuffs.” Then he said: ‘What do you need?’ I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I do not need anything.’ Then we came and ‘Abdur Rahman bin ‘Awf was leading the people in Salah, and he had led them in one Rak’ah of the Subh (Fajr) prayer. I wanted to tell him that the Prophet ﷺ had arrived but he did not let me, so we prayed what we had caught up with and made up what we had missed.” (Sahih)
صحيح ق لکن ليس عند خ ذکر الناصية والعمامةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 82
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مار سے تیز مار مراد نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ پیٹھ میں چھڑی کو نچی یہ بتانے کے لیے کہ ادھر مڑنا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٩ (تحفة الأشراف: ١١٥١٤) (صحیح) (بخاری کی روایت میں ” ناصیہ “ اور ” عمامہ “ کا ذکر نہیں ہے )
ابواوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے (اپنی ہتھیلیوں پر) تین بار پانی ٹپکایا۔
It was narrated from (Aws bin) Abi Aws that his grandfather said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ trickle water into his hand until it started to drip from his hand, three times.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 83
حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا، انہیں دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی تک اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے، اور دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ١ ؎۔
It was narrated that Humran bin Aban said: “I saw ‘Uthman bin ‘Affan (RA), may Allah be pleased with him, performing Wudu. He poured water on his hands three times and washed them, then he rinsed his mouth and his nose, then he washed his face three times, then he washed his right arm to the elbow three times, then the left likewise. Then he wiped his head, then he washed his right foot three times, then the left likewise. Then he said: ‘I saw the Messenger of Allah ﷺ performing Wudu’ like I have just done. Then he said: ‘Whoever performs Wudu’ as I have done, then prays two Rak’ahs without letting his thoughts wander, his previous sins will be forgiven.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 84
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسا خیال جو دنیاوی امور سے متعلق ہو اور نماز سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، اور اگر خود سے کوئی خیال آجائے اور اسے وہ ذہن سے جھٹک دے تو یہ معاف ہوگا، ایسے شخص کو ان شاء اللہ یہ فضیلت حاصل ہوگی کیونکہ یہ اس کا فعل نہیں۔ گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے: اس سے مراد وہ صغائر ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے نہ ہو۔
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان ؓ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، اور اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھ پر انڈیلا، پھر انہیں تین بار دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ پانی میں ڈالا ١ ؎ اور کلی کی، اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں میں سے ہر پیر کو تین تین بار دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
It was narrated from Humran that he saw ‘Uthman call for (water for) Wudu then he poured water on his hands from the vessel and washed them three times. Then he put his right hand in the water and rinsed his mouth and his nose. Then he washed his face three times, and his arms up to the elbow three times. Then he wiped his head, and washed each of his feet three times. Then he said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ performing ﷺ Wudu like I have just done.” Then he said:“Whoever performs Wudu as I have done, then stands and prays two Rak’ahs without letting his thoughts wander, his previous sins will be forgiven.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 85
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے داہنے ہاتھ سے پانی لے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنے ناک میں پانی سڑ کے (ناک میں پانی ڈالے) ، پھر اسے جھاڑے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When any one of you performs Wudu let him put water in his nose then blow it out.” (Sahih)
لقیط بن صبرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے متعلق بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: پوری طرح وضو کرو، اور ناک میں پانی سڑکنے (ڈالنے) میں مبالغہ کرو، اِلّا یہ کہ تم روزے سے ہو ۔
It was narrated from ‘Asim bin Laqit bin Sabirah that his father said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, tell me about Wudu.” He said: ‘Perform Wudu’ well, and exaggerate in sniffing water up into your nose, except when you are fasting.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 87
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٥ (١٤٢، ١٤٣، ١٤٤)، الصوم ٢٧ (٢٣٦٦)، سنن الترمذی/الصوم ٦٩ (٧٨٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٤ (٤٠٧)، ٥٤ (٤٤٨)، (وعندہ ” وخلل بین الأصابع “ بدل ” وبالغ في الاستنشاق “ )، (تحفة الأشراف: ١١١٧٢)، وھکذا عند المؤلف في باب ٩٢ (١١٤)، مسند احمد ٤/٣٢، ٣٣، ٢١١، سنن الدارمی/الطہارة ٣٤ (٧٣٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو وضو کرے تو اسے چاہیئے کہ ناک جھاڑے، اور جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو اسے چاہیئے کہ طاق استعمال کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever performs Wudu’ then let him sniff water in the nose and blow it out, and whoever uses small stones (to remove filth) then make it odd (numbered).” (Sahih)
سلمہ بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلا استعمال کرو ۔
It was narrated from Salamah bin Qais that the Messenger of Allah ﷺ said: “When you perform Wudu’, sniff water in your nose and blow it out, and when you use small stones (to remove filth), then make it odd (numbered).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 89
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٢١ (٢٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٤ (٤٠٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٦)، مسند احمد ٤/٣١٣، ٣٣٩، ٣٤٠ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر وضو کرے تو (پانی لے کر) تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے پانسے میں رات گزارتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When any one of you wakes from sleep to perform Wudu’, then let him sniff water in his nose and blow it out three times, for the Shaitan spends the night on his nose.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 90
Notes · وضاحت
١ ؎: اسے حقیقت پر محمول کرنا ہی راجح اور اولیٰ ہے، اس لیے کہ یہ جسم کے منافذ میں سے ایک ہے جس سے شیطان دل تک پہنچتا ہے، استنثار سے مقصود اس کے اثرات کا ازالہ ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں مجازی معنی مقصود ہے، وہ یہ کہ غبار اور رطوبت (جو ناک میں جمع ہو کر گندگی کا سبب بنتے ہیں) کو شیطان سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ پانسے گندگی جمع ہونے کی جگہ ہیں جو شیطان کے رات گزارنے کے لیے زیادہ مناسب ہیں، لہٰذا انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ اسے صاف کرلے تاکہ اس کے اثرات زائل ہوجائیں۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے تین بار جھاڑا، پھر کہنے لگے: یہ اللہ کے نبی کریم ﷺ کا وضو ہے۔
It was narrated that ‘Ali called for (water for) Wudu’, then he rinsed his mouth and nose, and he sniffed up water and blew it out using his left hand. He did that three times, then he said: “This is how the Prophet of Allah ﷺ purified himself.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 91
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١١١، ١١٢، ١١٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ٣٧ (٤٨)، مسند احمد ١/ ١١٠، ١٢٢، ١٢٣، ١٣٥، ١٣٩، ١٥٤، سنن الدارمی/الطہارة ٣١ (٧٢٨)، و عبداللہ بن أحمد ١/ ١١٣، ١١٤، ١١٥، ١١٦، ١٢٣، ١٢٤، ١٢٥، ١٢٧، ١٤١، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٩٢، ٩٣، ٩٤) (صحیح )
عبد خیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن ابی طالب ؓ کے پاس آئے، آپ نماز پڑھ چکے تھے، مگر آپ نے وضو کا پانی طلب کیا، ہم لوگوں نے (دل میں یا آپس میں) کہا: وہ اسے کیا کریں گے؟ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں، (ایسا کر کے) وہ ہمیں صرف سکھانا چاہتے ہوں گے، چناچہ ایک برتن جس میں پانی تھا، اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھویا، پھر جس ہتھیلی سے پانی لیتے تھے اسی سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرہ تین بار دھویا، اور دایاں ہاتھ تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ تین بار اور اپنے سرکا ایک بار مسح کیا، پھر دایاں پیر تین بار دھویا، اور بایاں پیر تین بار دھویا، پھر کہنے لگے: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔
It was narrated that ‘Abd Khair said: “We came to ‘ Ali Ibn Abi Talib (RA) , may Allah be pleased with him, and he had prayed. He called for water and we said: ‘What is he going to do with it when he has (already) prayed? He only wants to teach us.’ A vessel of water and a basin were brought to him. He poured some water onto his hand and washed it three times, then he rinsed his mouth and nose three times from the hand with which he took the water. Then he washed his face three times, and he washed his right hand three times, and his left hand three times, and wiped his head once, then he washed his right foot three times and his left foot three times. Then he said: ‘Whoever would like to learn how the Messenger of Allah ﷺ did Wudu’, this is it.” (Sahih)
علی ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کرسی لائی گئی تو وہ اس پر بیٹھے، پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا، اپنے دونوں ہاتھ پر تین بار پانی انڈیلا، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑی، اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر پانی لے کر اپنے سرکا مسح کیا، (شعبہ - جو حدیث کے راوی ہیں - نے اپنی پیشانی سے اپنے سر کے آخر تک ایک بار مسح کر کے دکھایا، پھر کہا: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں کو (گدی سے پیشانی تک) واپس لائے یا نہیں؟ ) اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا، پھر علی ؓ نے کہا: جسے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ وضو دیکھنے کی خواہش ہو تو یہی آپ کا وضو ہے۔
It was narrated from ‘Abd Khair, that ‘Ali (RA) was brought a chair, and he sat down on it, then he called for a vessel of water which he tilted onto his hand three times, then he rinsed his mouth and nose with one hand, three times, he washed his face three times, washed each forearm three times, and took some of the water and wiped his head. On one occasion (One of the narrators) Shu’bah, indicated (that he wiped) from his forelock to the back of his head, then said: “I do not know whether he brought his hands back or not. And he washed each foot three times, then he said: ‘Whoever would like to see how the Messenger of Allah ﷺ purified himself, this is how he purified himself.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman said: “This is a mistake. What is correct is Khalid bin ‘Alqamah, not Malik bin ‘Urfutah.”
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے کرسی منگائی، پھر وہ اس پر بیٹھے، پھر ایک برتن میں پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو کر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پیر تین تین بار دھوئے، پھر کہا: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو دیکھے تو یہی آپ کا وضو ہے۔
It was narrated that ‘Abd Khair said: “I saw ‘Ali call for a chair and he sat down, then he called for water in a vessel and washed his hands three times, then he rinsed his mouth and nose with one hand, three times. Then he washed his face three times, and his hands three times. Then he dipped his hand in the vessel and wiped his head, then he washed each foot three times. Then he said: ‘Whoever would like to see how the Messenger of Allah ﷺ performed Wudu this is his Wudu.“ (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 94
حسین بن علی ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد علی ؓ نے مجھ سے وضو کا پانی مانگا، تو میں نے اسے (وضو کے پانی کو) انہیں لا کردیا، آپ نے وضو کرنا شروع کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو اس سے پہلے کہ انہیں اپنے وضو کے پانی میں داخل کریں تین بار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور تین بار (پانی لے کر) ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ (بھی) اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر دونوں ٹخنوں تک اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر (دھویا) ، پھر آپ اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: مجھے (برتن) دو، چناچہ میں نے وہ برتن بڑھا دیا جس میں ان کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا، تو آپ نے وضو کا باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پیا، تو مجھے تعجب ہوا، جب آپ نے میری طرف دیکھا تو بولے: تعجب نہ کرو، میں نے تمہارے نانا نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا، وہ اپنے اس وضو کے اور اس سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کے متعلق کہہ رہے تھے۔
AI-Husain bin ‘Ali (RA) said: “My father ‘Ali called me to bring (water for) Wudu, so I brought it to him, and he started by washing his hands three times, before putting them into the water. Then he rinsed his mouth three times and sniffed water into his nose and blew it out three times. Then he washed his face three times, then his right hand up to the elbow three times, then his left likewise. Then he wiped his head once, then he washed his right foot up to the ankle three times, then the left likewise. Then he stood up and said: ‘Pass me the vessel.’ So I passed the vessel containing the remaining water for his Wudu’ to him, and he drank from it standing up. I was surprised and when he noticed that he said: ‘Do not be surprised, for I saw your father the Prophet ﷺ doing what you have seen me doing,’ referring to his Wudu and drinking the leftover water while standing.” (Sahih)
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ انہیں (خوب) صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے، اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پی لیا، پھر کہنے لگے کہ میں نے چاہا کہ میں تم لوگوں کو دکھلاؤں کہ نبی اکرم ﷺ کا وضو کیسا تھا۔
It was narrated that Abu Hayyah — Ibn Qais — said: “I saw ‘Ali perform Wudu. He washed his hands until they looked clean, then he rinsed his mouth three times and his nose three times, and he washed his face three times, and he washed each forearm three times. Then he wiped his head, then he washed his feet up to the ankles. Then he stood up, took the leftover water for his Wudu’ and drank from it while standing. Then he said: ‘I wanted to show you how the Prophet ﷺ performed Wudu.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 96
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥٠ (١١٦) مختصرًا، سنن الترمذی/فیہ ٣٧ (٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٢١)، مسند احمد ١/١٢٠، ١٢٥، ١٢٧، ١٤٢، ١٤٨، و عبداللہ بن أحمد ١/١٢٧، ١٥٦، ١٥٧، ١٥٨، ١٦٠، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ١١٥) (صحیح )
عمرو بن یحییٰ المازنی کے والد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ سے پوچھا۔ وہ ١ ؎ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں اور (عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے وضو کرتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید ؓ نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے پانی منگایا، اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا، انہیں دو دو بار دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر جس جگہ سے شروع کیا تھا وہیں انہیں لوٹا لائے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
It was narrated from ‘Amr bin Yahya Al-Mazini that his father said to ‘Abdullah bin Zaid bin ‘Asim (RA) — who was one of the Companions of the Prophet ﷺ and the grandfather of ‘Amr bin Yahya: “Can you show me how the Messenger of Allah ﷺ used to perform Wudu?” ‘ Abdullah bin Zaid (RA) said: “Yes. He called for (water for) Wudu and poured some onto his hand, washing each hand twice. Then he rinsed his mouth and nose three times, then he washed his face three times, then he washed each hand twice, up to the elbow. Then he wiped his head with his hands, back and forth, starting at the front of his head and moving his hands to the nape of his neck, then bringing them back to the place he started. Then he washed his feet.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 97
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ کی ضمیر عبداللہ بن زید بن عاصم کی طرف لوٹ رہی ہے، لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہے کیونکہ عمرو بن یحییٰ کے دادا کا نام عمارہ ہے جیسا کہ دوسری روایات سے ظاہر ہے، اس لیے صحیح یہ ہے کہ ضمیر سائل (عمارہ یا عمرو) کی طرف لوٹتی ہے نہ کہ مسئول کی طرف، صحیح بخاری میں اس کی صراحت موجود ہے کہ سائل یحییٰ نہیں بلکہ عمارہ یا عمرو ہیں۔
یحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے (ان کے باپ عمارہ نے) عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ سے کہا - (وہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید ؓ نے کہا: جی ہاں! چناچہ انہوں نے پانی منگایا، اور اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیل کر اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لے آئے یہاں تک کہ اسی جگہ لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
It was narrated from ‘Amr bin Yahya that his father said to ‘Abdullah bin Zaid bin ‘Asim (RA) — who was one of the Companions of the Prophet ﷺ and the grandfather of ‘Amr bin Yahya “Can you show me how the Messenger of Allah ﷺ used to perform Wudu? ‘ Abdullah bin Zaid (RA) said: “Yes. He called for (water for) Wudu and poured some onto his right hand, washing his hands twice. Then he rinsed his mouth and nose three times, then washed his face three times, then he washed his hands twice, up to the elbows. Then he wiped his head with his hands, back and forth, starting at the front of his head and moving his hands to the nape of his neck, then bringing them back to the place he started. Then he washed his feet.” (Sahih)
عبداللہ بن زید ؓ (جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ١ ؎) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے وضو کیا، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے، اور دو بار ٢ ؎ اپنے سر کا مسح کیا۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Zaid, who was shown the call to prayer (in a dream), said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ perform Wudu he washed his face three times and his hands twice, he washed his feet twice and wiped his head twice.” (Sahih)
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 99
Notes · وضاحت
١ ؎: الذي أرى الندائ یہ راوی کی غلطی ہے، اس لیے کہ وضو والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ؓ ہیں، اور اذان والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عبدربہ ؓ ہیں، اس لیے اس سند میں زید بن عاصم مازنی ؓ مراد ہیں۔ ٢ ؎: دو بار سے مراد پیچھے سے آگے لانا، اور آگے سے پیچھے لے جانا ہے، یہ فی الواقع ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر مرتین (دو بار) سے کردی ہے۔
ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں، چناچہ آپ ؓ نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے وضو کرتے تھے؟ چناچہ آپ ؓ نے تین بار کلی کی، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا، اور تین بار بایاں، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا، سالم کہتے ہیں: میں بطور مکاتب (غلام) کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: ام المؤمنین! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے، وہ بولیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے، اور پھر آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔
Abu ‘Abdullah Salim Sabalan said: Aishah (RA) liked my honesty and hired me, and she showed me how the Messenger of Allah ﷺ used to perform Wudu She rinsed her mouth, sniffed water into her nose and blew it out three times, and washed her face three times. Then she washed her right hand three times and her left hand three times. Then she put her hand on the front of her head and wiped her head once, front to back. Then she rubbed her ears with her hands, then she passed her hands over her cheeks.” Salim said: “I came to her as a slave with a contract of manumission, and she did not hide herself from me. She would sit before me and talk to me, until I came to her one day and said: ‘Pray for blessing for me, Mother of the Believers.’ She said: ‘Why is that?’ I said: ‘Allah has set me free.’ She said: ‘May Allah bless you.’ Then she lowered the Hijab before me, and I never saw her again after that day.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 100