Sunan An Nasai 99

پاکی کا بیان

99Sunan An Nasai

سر پر کتنی مرتبہ مسح کرنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ.

عبداللہ بن زید ؓ (جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ١ ؎) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے وضو کیا، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے، اور دو بار ٢ ؎ اپنے سر کا مسح کیا۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Zaid, who was shown the call to prayer (in a dream), said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ perform Wudu he washed his face three times and his hands twice, he washed his feet twice and wiped his head twice.” (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 99
Notes · وضاحت
١ ؎: الذي أرى الندائ یہ راوی کی غلطی ہے، اس لیے کہ وضو والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ؓ ہیں، اور اذان والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عبدربہ ؓ ہیں، اس لیے اس سند میں زید بن عاصم مازنی ؓ مراد ہیں۔ ٢ ؎: دو بار سے مراد پیچھے سے آگے لانا، اور آگے سے پیچھے لے جانا ہے، یہ فی الواقع ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر مرتین (دو بار) سے کردی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٩٧، (تحفة الأشراف: ٥٣٠٨) (شاذ )