ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، اور نہ کوئی فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے، اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے میں انڈیل لے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No tow-dweller should sell for desert-dweller, no man should outbid his brother; and no woman should ask for her sister (in faith) to be divorced so as to turn over what is in her bowl (deprive her of her share of maintenance).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4507
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک پیالا اور ایک کمبل نیلام کیا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ sold a drinking bowl and a blanket (for a horse of camel) to the highest bidder.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4508
Notes · وضاحت
١ ؎: انس (رض) کی یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، مگر خریدو فروخت کے معاملات میں حرمت کی جو بنیاد ہے بیع مزایدہ (نیلام) پر صادق نہیں آتی، کیونکہ اس معاملہ میں بیچنے والے کی رائے کسی بھاؤ پر حتمی اور آخری نہیں اس لیے دوسرے خریدار کو بھاؤ بڑھا کر سودا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٦ (١٦٤١) ، سنن الترمذی/البیوع ١٠(١٢١٨) ، سنن ابن ماجہ/التجا رات ٢٥(٢١٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٨) ، مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٤، ١٢٦) (ضعیف) ١ ؎ (اس کے راوی ” ابوبکر حنفی “ مجہول ہیں )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ forbade Mulamash and Munabadha.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4509
Notes · وضاحت
١ ؎: زمانہ جاہلیت میں منابذہ، ملامسہ، یا کنکری پھینک کر خریدو فروخت کا عام رواج تھا، ان سارے معاملات میں دھوکا، اور مال و قیمت کی تحدید و تعیین نہیں ہوتی تھی، اس لیے یہ معاملات جھگڑے کا سبب ہوتے ہیں یا کسی فریق کے سخت گھاٹے میں پڑجانے سے اسے سخت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے ان سے شریعت اسلامیہ نے منع کردیا ہے۔
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا، اور وہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھو لے اسے اندر سے دیکھے بغیر (اور بیع ہوجائے) اور منابذہ سے منع فرمایا، اور منابذہ یہ ہے کہ آدمی اپنا کپڑا دوسرے کی طرف بیع کے ساتھ پھینکے اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Sa eed Al- Khudri that: the Messenger of Allah ﷺ forbade Mulamasah, which means touching a garment without looking at it, and Munabadha, which is where one man sells his garment to another man, by throwing it to him, without him checking it or looking at it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4510
Notes · وضاحت
١ ؎: دور جاہلیت میں اس طرح کپڑا چھو کر یا پھینک کر بغیر دیکھے بیع کرلیتے اور ایجاب و قبول نہ ہوتا، اس سے منع کیا گیا۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا، ملامسہ یہ ہے کہ دو آدمی رات کو دو کپڑوں کی بیع کریں، ہر ایک دوسرے کا کپڑا چھو لے۔ منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف کپڑا پھینکے اور اسی بنیاد پر بیع کرلیں۔
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Munabadhah and Mulamash. Mulamasah is when two men trade garments with each other under cover of night, each man touching the garment of the other with his hand> and Munabadhah is when one man throws a garment to another and the other throws a garment to him, and they trade them with each other in that manner.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4513
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ملامسہ سے منع فرمایا۔ اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو چھولے اس کی طرف دیکھے نہیں، اور منابذہ سے منع فرمایا، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کپڑا دوسرے آدمی کی طرف پھینکے اور وہ اسے الٹ کر نہ دیکھے۔
It was narrated that Abu Sa eed A-Khudri said: "The essenger of Allah forbade Mulamasah. And Mulamash means touching a garment without looking at it; (and he forbade) Munabadhah means when a throws his garment to another man without him checking it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4514
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے، رہی دو قسم کی بیع تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں۔ منابذہ یہ ہے کہ وہ کہے : جب میں اس کپڑے کو پھینکوں تو بیع واجب ہوگئی، اور ملامسہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے چھولے اور جب چھولے تو اسے پھیلائے نہیں اور نہ اسے الٹ پلٹ کرے تو بیع واجب ہوگئی۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade two kinds of garments and two kinds of transactions. As for the two kinds of transactions, they are Mulamash and Munabadhah. Munabadha is when a man says, I throw this garment, and the transaction becomes binding, and Mulamasah is when a man touches it with his had, without spreading it out and checking it, and once he touches it, the transaction becomes binding.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4515
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا، اور ہمیں دو قسم کی بیع منابذہ اور ملامسہ سے روکا، اور یہ دونوں ایسی بیع ہیں جنہیں زمانہ جاہلیت میں لوگ کرتے تھے۔
It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade two kinds of garments, and he forbade two kinds of transactions for us: Munabadhah and Mulamasah, which are kinds of transactions which were common during the Jahiliyyah.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4516
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٨٠٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأطعمة ١٩ (٣٧٧٤) (صحیح) (سند میں جعفر اور زہری کے درمیان انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو طرح کی بیع سے منع فرمایا، رہی دونوں بیع تو وہ منابذہ اور ملامسہ ہیں اور ملامسہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے : میں تمہارے کپڑے سے اپنا کپڑا بیچ رہا ہوں اور ان میں کوئی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے بلکہ صرف اسے چھولے، رہی منابذہ تو وہ یہ ہے کہ وہ کہے : جو میرے پاس ہے میں اسے پھینک رہا ہوں اور جو تمہارے پاس ہے اسے تم پھینکو تاکہ ان میں سے ایک دوسرے کی چیز خرید لے حالانکہ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ دوسرے کے پاس کتنا اور کس قسم کا کپڑا ہے۔
It was narrated from Hafs bin Asim, from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade two kids of transactions: Munabadhah and Mulamasha. And he said that Mulamasah means when one man says to another: "I will sell you my garment for your garment," and neither of them looks at the garment of the others, rather he just touches it. And Munabadhah is when he says: "I will throw what I have and you throw what you have," so that they buy from one another, and neither of them knows how much the other has, and so on.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4517
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کنکری کی بیع اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Gharar transaction and Hasah transactions.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4518
Notes · وضاحت
١ ؎: کنکری کی بیع کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کہے : میں تمہاری طرف جب کنکری پھینک دوں تو بیع ہوگئی، یہ ممنوع اس لیے ہے کہ کنکری پھینکنے تک کی جو مدت بیع کے اثبات کے لیے رکھی گئی ہے وہ مجہول ہے، یا پھر یوں کہے کہ میں کنکری پھینکتا ہوں جس مال پر کنکری گرے وہی بیچنا ہے تو یہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ اس صورت میں بھی مال مجہول ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تک پختگی ظاہر نہ ہوجائے پھلوں کی بیع نہ کرو ، آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو (اس سے) منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Uar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not sell fruits until their condition is known. And he forbade (both) the seller and the purchaser (to engage in such a transaction).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4519
Notes · وضاحت
١ ؎: پھلوں کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اگر ان کو درخت پر بیچ دیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ پختگی ظاہر ہونے سے پہلے آندھی طوفان آئے اور سارے یا اکثر پھل برباد ہوجائیں اور خریدار کا نقصان ہوجائے، اور پختگی ظاہر ہونے کے بعد اگر آندھی طوفان آئے بھی تو کم پھل برباد ہوں گے، نیز پختہ پھل اگر گر بھی گئے تو خریدار کی قیمت بھر پیسہ نکل آئے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٢ (٢٢١٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٠٢) ، مسند احمد (٢/ ١٢٣) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھل نہ بیچو جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہوجائے، اور نہ (کھجور کے) درخت کے پھل کا اندازہ کر کے (درخت سے توڑی ہوئی) کھجوروں کو بیچو ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : مجھ سے سالم بن عبداللہ نے اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس جیسی صورت سے منع فرمایا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Do not sell fruits until their condition is known, and do not sell fresh dates (still on the tree) for dried dates." Ibn Shihab said: "Salim bin Abdullah narrated to me, from his father: That Allahs Messenger forbade from …" similarly.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4521
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٢ (٢٢١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٢٨) ، وحدیث ابن شہاب قد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ٨٧ (٢١٩٩ تعلیقًا) ، صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٨٤) ، مسند احمد (٣/٢٦٢، ٣٦٣، وانظر حدیث رقم : ٤٥٢٣ (صحیح )
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو کہتے ہوئے سنا : ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا : پھل مت بیچو یہاں تک کہ اس کی پختگی ظاہر ہوجائے ۔
Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up among us ad said: Do not sell fruits until their condition is known.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4522
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مخابرہ، مزابنہ، محاقلہ سے، اور پکنے سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا، اور پھلوں کو درہم و دینار کے سوا کسی اور چیز کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، اور بیع عرایا میں رخصت دی۔
It was narrated from Ata: "I heard Jabir bin Abdullah (narrate) from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) that he forbade Mukhabarah, Muzabanah and Muhaqalah, an (he forbade) selling fruits until their condition is known, an that they should only sold for Dinars and Dirhams, but he granted a concession regarding the sale of Araya:
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4523
Notes · وضاحت
١ ؎: مخابرہ: بیل میں لگی ہوئی انگور کو کشمش (توڑی ہوئی خشک انگور) سے بیچنا، یا کھیت کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ پیداوار کٹنے کے وقت کھیت کا مالک یہ کہے کہ فلاں حصے میں جو پیداوار ہے وہ میں لوں گا، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک ہی کھیت کے مختلف حصوں میں مختلف انداز سے اچھی یا خراب پیداوار ہوتی ہے، اور کھیت کا مالک اچھی والی پیداوار لینا چاہتا ہے، یہ جھگڑے فساد یا دوسرے فریق کے نقصان کا سبب ہے، اس لیے بٹائی کے اس معاملہ سے روکا گیا، ہاں مطلق پیداوار کے آدھے یا تہائی پر بٹائی کا معاملہ صحیح ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں کیا تھا۔ ٢ ؎ مزابنہ: درخت پر لگے ہوئے پھل کو توڑے ہوئے پھل کے معینہ مقدار سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ محاقلہ: کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلّہ سے بیچنا۔ عرایا: عرایا یہ ہے کہ باغ کا مالک ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین کو کھانے کے لیے مفت دیدے اور باغ کے اندر اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین سے خرید لے اور اس کے بدلے تازہ تر یا خشک کھجور اس کے حوالے کر دے۔
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مخابرہ، مزابنہ، محاقلہ اور کھانے کے لائق ہونے سے پہلے درخت پر لگے پھلوں کو بیچنے سے منع فرما، یا سوائے بیع عرایا کے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Mukhabarah, Muzabanah and Muhaqalah, and selling fruits until they were fit to eat, except in the case of Araya.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4524
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہوجائیں، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ خوش رنگ ہونا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہاں تک کہ لال ہوجائیں اور فرمایا : دیکھو ! اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے (پکنے سے پہلے گرجائیں) تو تم میں کوئی اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے لے گا ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ forbade selling fruits before they ripen. It was said: "O Messenger of Allah what does ripen mean?" he said: when they turn red." And the Messenger of Allah ﷺ said: "What do you think if Allah withholds the fruits (causes it not to ripen), why would any one of you take his brothers wealth?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4526
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب خریدار سے توڑنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو، اگر فوری طور پر توڑ لینے کی شرط لگائی ہو تو اب یہ خریدار کی وجہ سے ہے کہ وہی اپنی قیمت کے بدلے اسی سودے پر راضی ہوگیا۔ اب بیچنے والے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے، اور نہ ہی پھلوں کے کسی آفت کے شکار ہونے کا خطرہ ہے۔