Sunan An Nasai 4513

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4513Sunan An Nasai

بیع ملامسہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَأَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ forbade Mulamash and Munabadha.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4509
Notes · وضاحت
١ ؎: زمانہ جاہلیت میں منابذہ، ملامسہ، یا کنکری پھینک کر خریدو فروخت کا عام رواج تھا، ان سارے معاملات میں دھوکا، اور مال و قیمت کی تحدید و تعیین نہیں ہوتی تھی، اس لیے یہ معاملات جھگڑے کا سبب ہوتے ہیں یا کسی فریق کے سخت گھاٹے میں پڑجانے سے اسے سخت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے ان سے شریعت اسلامیہ نے منع کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٣ (٢١٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٢٧)، موطا امام مالک/البیوع ٣٥ (٧٦)، مسند احمد (٢/٢٧٩، ٣١٩، ٤١٩، ٤٦٤، ٤٧٦، ٤٨٠، ٤٩١، ٤٩٦، ٥٢١، ٥٢٩) (صحیح )