Sunan An Nasai 944

نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث

944Sunan An Nasai

فضائل قرآن کریم

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کتنی بری بات ہے کہ کوئی کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ١ ؎، بلکہ اسے کہنا چاہیئے کہ وہ بھلا دیا گیا، تم لوگ قرآن یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے رسی سے کھل جانے والے اونٹ سے بھی زیادہ جلدی نکل جاتا ہے ۔

It was narrated from Abdullah (RA) that: The Prophet Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)said: "It is not right for any one of you to say: I have forgotten such and such a verse. Rather, he has been caused to forget. Study the Quran, for it escapes from the heart of man faster than a camel escapes from its fetter".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 943
Notes · وضاحت
١ ؎: بھول گیا سے غفلت لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے، اس کے برخلاف بھلا دیا گیا میں حسرت و افسوس اور ندامت کا اظہار ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢٣ (٥٠٣٢)، ٢٦ (٥٠٣٩) مختصراً، صحیح مسلم/المسافرین ٣٢ (٧٩٠)، سنن الترمذی/القراءات ١٠ (٢٩٤٢)، (تحفة الأشراف: ٩٢٩٥)، مسند احمد ١/٣٨٢، ٤١٧، ٤٢٣، ٤٢٩، ٤٣٨، سنن الدارمی/الرقاق ٣٢ (٢٧٨٧)، فضائل القرآن ٤ (٣٣٩٠) (صحیح )