Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 157 of 1,321

3121Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي النَّاسَ آخِرِ رَمَضَانَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ قَالَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى

خواجہ حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ نے ماہ رمضان کے آخر میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے اہل بصرہ! اپنے روزے کی زکوٰۃ ادا کرو، لوگ یہ سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، پھر فرمایا کہ یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سکھاؤ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور مقرر فرمائی ہے جو آزاد اور غلام، مذکر اور مؤنث سب پر ہے۔

3122Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ أَمْوَالًا كَثِيرَةً وَدِمَاءًٍ

ابن ابی ملیکہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔

3123Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ وَمُعَاذٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قَامَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَنْتَ تُعْلِمُنَا بِالصَّلَاةِ قَدْ كُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ مُعَاذٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد حضرت ابن عباس ؓ نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا: یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے، اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کردیا، اس پر حضرت ابن عباس ؓ کو غصہ آگیا اور وہ فرمانے لگے کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے؟ ہم نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے دو نمازوں کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے۔

3124Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِالْأَبْطَحِ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادئ بطحا میں، میں نے ایک شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے ابو القاسم ﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔

3125Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَتَمَلَّى ثُمَّ صَلَّى وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں شانے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو کیا۔

3126Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِي غَطَفَانَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَثِرُوا ثِنْتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

ابوغطفان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا تو انہیں وضو کرتے ہوئے پایا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔

3127Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنْ الْمَغْنَمِ دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت کے علاوہ میں سے کچھ دے دیتے تھے۔

3128Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ وَجَعِهِ سَبْعًا إِلَّا شَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔

3129Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ و عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَهَلْ كُنَّ النِّسَاءُ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَتَقُولُ إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَى قَدْ قَتَلَ الْغُلَامَ فَلَوْ كُنْتَ تَعْلَمُ مِنْ الْوِلْدَانِ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ الْعَالِمُ قَتَلْتَ وَلَكِنَّكَ لَا تَعْلَمُ فَاجْتَنِبْهُمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَقَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا أَنْ يَضْرِبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلَمْ يَفْعَلْ وَقَدْ كَانَ يَرْضَخُ لَهُنَّ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس ؓ سے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا، نیز یہ کہ کیا خواتین نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتی تھیں؟ اور کیا نبی ﷺ ان کا حصہ مقرر فرماتے تھے؟ اس خط کا جواب حضرت ابن عباس ؓ نے مجھ سے لکھوایا تھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی ﷺ نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی ﷺ نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے) نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو نبی ﷺ نے ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیا ہے البتہ مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہے۔

3130Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا

حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نبی ﷺ کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی ﷺ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دباء، حنتم، مزفت اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ پیغمبر تمہیں جو دے دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔

3131Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا وَكَانَتْ لَيْلَتَهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْفَتَلَ فَقَالَ أَنَامَ الْغُلَامُ وَأَنَا أَسْمَعُهُ قَالَ فَسَمِعْتُهُ قَالَ فِي مُصَلَّاهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے یہاں رات کو رکا، نبی ﷺ عشاء کی نماز پڑھ کر ان کے پاس آگئے، کیونکہ اس دن رات کی باری انہی کی تھی، نبی ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر لیٹ گئے، کچھ دیر بعد فرمانے لگے کیا بچہ سو گیا؟ حالانکہ میں سن رہا تھا، میں نے نبی ﷺ کو مصلی پر یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میرے کانوں، آنکھوں اور زبان میں نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطاء فرما۔

3132Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَرَادَتْ الْحَجَّ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِطِي عِنْدَ إِحْرَامِكِ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي فَإِنَّ ذَلِكِ لَكِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب (نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں (آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ ) نبی ﷺ نے فرمایا تم احرام باندھتے وقت شرط لگالو کہ میں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔

3133Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّةً الْحَجُّ أَوْ فِي كُلِّ عَامٍ قَالَ لَا بَلْ مَرَّةً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔

3134Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى أَهْلِهِ إِلَى مِنًى لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں اپنے گھروالوں کے سات دس ذی الحجہ کی رات ہی کو منیٰ کی طرف روانہ کردیا تھا اور ہم نے فجر کے بعدجمرہ عقبہ کی رمی کرلی تھی

3135Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ رَأَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا سَاجِدًا قَدْ ابْتَسَطَ ذِرَاعَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَكَذَا يَرْبِضُ الْكَلْبُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ

شعبہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرتے ہوئے اپنے بازو زمین پر بچھا دیئے، انہوں نے فرمایا اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ کرتے تھے تو آپ ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)

3136Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَحَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ الْخَيَّاطُ يَعْنِي حَمَّادًا فِي فَضَاءٍ مِنْ الْأَرْضِ فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَنَحْنُ عَلَيْهِ حَتَّى جَاوَزْنَا عَامَّةَ الصَّفِّ فَمَا نَهَانَا وَلَا رَدَّنَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گذر رہے تھے، اس وقت نبی ﷺ صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی ﷺ نے ہمیں منع کیا اور نہ واپس بھیجا۔

3137Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ دَخَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَانُونٌ عَلَيْهِ تَمَاثِيلُ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ الَّذِي عَلَيْكَ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ إِسْتَبْرَقٌ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ قَالَ فَمَا هَذَا الْكَانُونُ الَّذِي عَلَيْهِ الصُّوَرُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا تَرَى كَيْفَ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ

شعبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسور بن مخرمہ ؓ عنہ، حضرت ابن عباس ؓ کی عیادت کے لئے تشریف لائے، حضرت ابن عباس ؓ نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی اور ان کے سامنے ایک انگیٹھی پڑی تھی جس میں کچھ تصویریں تھیں، حضرت مسور کہنے لگے اے ابو العباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب؟ فرمایا یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا بخدا! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمد للہ ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر حضرت مسور ؓ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے۔

3138Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ فَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ فِي مُصَلَّاهَا تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتَدْعُوهُ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَقَالَ يَا جُوَيْرِيَةُ مَا زِلْتِ فِي مَكَانِكِ قَالَتْ مَا زِلْتُ فِي مَكَانِي هَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَكَلَّمْتُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ هُنَّ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ ؓ کا نام برہ تھا نبی ﷺ نے اس نام کو بدل کر جویریہ رکھ دیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز کے بعد نکلے اور حضرت جویریہ ؓ کے پاس آئے، حضرت جویریہ ؓ کہنے لگیں، یا رسول اللہ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے اور وہ کلمات یہ ہیں،" سبحان اللہ عدد خلقہ و سبحان اللہ رضاء نفسہ و سبحان اللہ زنۃ عرشہ وسبحن اللہ مداد کلماتہ والحمد للہ مثل ذلک

3139Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ میدان عرفات سے روانہ ہوئے تو لوگ اپنی سواریاں تیزی سے دوڑانے لگے، نبی ﷺ کے حکم پر ایک شخص نے یہ منادی کی کہ لوگو! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کرلو، پھر نبی ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔

3140Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَحَدُ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيَسَرِ قَالَ لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ هَيْئَتُهُ كَذَا هَيْئَتُهُ كَذَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ يَا عَبَّاسُ افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ قَالَ فَأَبَى وَقَالَ إِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ وَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا فَافْدِ نَفْسَكَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ مِنْهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْسُبْهَا لِي مِنْ فِدَايَ قَالَ لَا ذَاكَ شَيْءٌ أَعْطَانَاهُ اللَّهُ مِنْكَ قَالَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ قَالَ فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ حَيْثُ خَرَجْتَ عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ وَلَيْسَ مَعَكُمَا أَحَدٌ غَيْرَكُمَا فَقُلْتَ إِنْ أُصِبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا فَلِلْفَضْلِ كَذَا وَلِقُثَمَ كَذَا وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلِمَ بِهَذَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میرے والد عباس کو قیدی بنا کر گرفتار کرنے والے صحابی ؓ عنہہ کا نام ابو الیسر کعب بن عمرو تھا، جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ ابو الیسر! تم نے انہیں کیسے قید کیا؟ انہوں نے کہا کہ اس کام میں میری مدد ایک ایسے آدمی نے کی تھی جسے میں نے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں، اس کی ہیئت ایسی ایسی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کام میں تمہاری مدد ایک فرشتے نے کی تھی۔ پھر نبی ﷺ نے حضرت عباس ؓ سے فرمایا اے عباس! اپنا اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم جس کا تعلق بنو فہر سے تھا، کا فدیہ ادا کرو، انہوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ میں تو بہت پہلے کا مسلمان ہوچکا ہوں، مجھے تو قریش نے زبردستی روک رکھا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا آپ کا اصل معاملہ اللہ جانتا ہے، اگر آپ کا دعوی برحق ہے تو اللہ آپ کو اس کا بدلہ دے گا، لیکن ہم تو ظاہر کے ذمہ دار ہیں اس لئے کم ازکم اپنی جان کا فدیہ ادا کرو۔ نبی ﷺ نے ان جو فدیہ لیا تھا، وہ بیس اوقیہ سونا تھا، انہوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ میرا فدیہ آپ الگ کر کے میرے لئے رکھ لیجئے، نبی ﷺ نے انکار کردیا اور فرمایا یہ تو اللہ نے ہمیں آپ سے دلوایا ہے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ میرے پاس کچھ بھی مال و دولت نہیں رہا، فرمایا وہ مال جو تم نے مکہ مکرمہ سے نکلتے وقت ام الفضل کے پاس رکھوایا تھا اور اس وقت تم دونوں کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا، کہاں جائے گا؟ اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں کام آگیا تو اتنا فضل کا ہے، اتنا قثم کا اور اتنا عبداللہ کا، حضرت عباس ؓ یہ سن کر کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میرے اور میری بیوی کے علاوہ کسی شخص کو بھی اس کا کچھ پتہ نہ تھا اور میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔