Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 156 of 1,321

3101Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَاسْتَنَّ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَاسْتَنَّ وَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى سِتًّا ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رات کو نیند سے بیدار ہوئے، مسواک کی، دو رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، پھر بیدار ہوئے، مسواک کی، وضو کیا، دو رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، اس طرح آپ ﷺ نے چھ رکعتیں پڑھیں، پھر تین وتر پڑھے اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھیں۔

3102Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ قَتَادَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُ فِي فُتْيَاهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ عِرَاقِيٌّ وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ادْنُهْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ

نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتویٰ کی نسبت نبی ﷺ کی طرف نہیں کر رہے تھے، اس دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، حضرت ابن عباس ؓ نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہوگیا تو فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا، ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔

3103Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ إِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز یہ کہ جب اس کا مالک اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔

3104Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے تم پر شراب، جوا اور کو بہ (طبل) کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

3105Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَ رَجُلًا فِي شَيْءٍ فَقَالَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے جواب میں یہ کلمات فرمائے کہ تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

3106Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کے یہاں رات گذاری، نبی ﷺ رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، پھر سورت آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی " ان فی خلق السموات والارض۔۔۔۔۔۔ سبحنک فقنا عذاب النار " پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزدید دہرایا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔

3107Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَتِهِ قَالَ يَحْيَى قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ يَجِيئُكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَلَا تُكَلِّمُوهُ فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ فَقَالَ عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ قَالَ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ بِهِمْ قَالَ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِمْ فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَمَا فَعَلُوا وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے کوئی بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! ﷺ تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ جھوٹ پر قسم کھالیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔

3108Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ فَلَمْ نَسْمَعْ مِنْهُ حَرْفًا

حضرت ابن عباسی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی لیکن ہم نے اس میں نبی کریم ﷺ کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔

3109Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَأَفْطَرَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر روزہ رکھا، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ ﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے روزہ ختم کردیا اور لوگوں کو بھی روزہ ختم کرلینے کا حکم دیا ( اور بعد میں قضاء کرلی)

3110Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَظَهْرُهُ إِلَى الْمُلْتَزَمِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حرم شریف میں خطبہ دیا، اس وقت آپ ﷺ کی پشت ملتزم کی طرف تھی۔

3111Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالُوا لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دین سرا سر خیر خواہی کا نام ہے، لوگوں نے پوچھا کس کے لئے؟ فرمایا اللہ کے لئے، اس کے رسول کے لئے اور ائمہ مؤمنین کے لئے۔

3112Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔

3113Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ ؓ سے نکاح فرمایا۔

3114Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أَعْطَاهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی ﷺ اسے کبھی نہ دیتے۔

3115Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالَ فَصَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے مغرب کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا اور حجر اسود کا استلام کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے، لوگوں نے پیچھے سبحان اللہ کہا تو وہ کہنے لگے کہ تمہیں کا ہوا؟ (پھر خود ہی سمجھ گئے اور واپس آکر) بقیہ نماز پڑھا دی اور آخر میں سہو کے دو سجدے کر لئے، حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے روگردانی نہیں کی۔

3116Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ و عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی ﷺ اسے کبھی نہ دیتے۔

3117Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَأَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا مِنْ لَحْمٍ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يُحْدِثْ وُضُوءًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ضباعہ بنت زبیر کے یہاں شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

3118Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سفر کے دوران نمازوں کو جمع فرما لیا کرتے تھے۔

3119Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ وَيَقُولُ إِنَّمَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ

حضرت ابن عباس ؓ ابطح میں پڑاؤ کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے، وہ تو ایک پڑاؤ ہے جہاں نبی ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی وجہ سے منزل کی تھی۔

3120Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ زَوْجِهَا بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ وَلَمْ يُحْدِثْ صَدَاقًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کو ان کے شوہر ابو العاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) دو سال بعد پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کردیا، از سر نو مہر مقرر نہیں کیا۔