Musnad Imam Ahmad 3129

عبداللہ بن عباس کی مرویات

3129Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ و عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَهَلْ كُنَّ النِّسَاءُ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَتَقُولُ إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَى قَدْ قَتَلَ الْغُلَامَ فَلَوْ كُنْتَ تَعْلَمُ مِنْ الْوِلْدَانِ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ الْعَالِمُ قَتَلْتَ وَلَكِنَّكَ لَا تَعْلَمُ فَاجْتَنِبْهُمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَقَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا أَنْ يَضْرِبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلَمْ يَفْعَلْ وَقَدْ كَانَ يَرْضَخُ لَهُنَّ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس ؓ سے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا، نیز یہ کہ کیا خواتین نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتی تھیں؟ اور کیا نبی ﷺ ان کا حصہ مقرر فرماتے تھے؟ اس خط کا جواب حضرت ابن عباس ؓ نے مجھ سے لکھوایا تھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی ﷺ نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی ﷺ نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے) نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو نبی ﷺ نے ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیا ہے البتہ مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہے۔