Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 158 of 1,321

3141Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَلَقَ رِجَالٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَقَصَّرَ آخَرُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالُوا فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَاهَرْتَ لَهُمْ الرَّحْمَةَ قَالَ لَمْ يَشُكُّوا قَالَ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر کچھ لوگوں نے حلق کروایا اور کچھ نے قصر، تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ! حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے، ایک صاحب نے عرض کیا قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمائیے، نبی ﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے، صحابہ ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ حلق کرانے والوں میں ایسی کون سی بات ہے کہ آپ ان پر اتنی شفقت فرما رہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا یہ لوگ شک میں نہیں پڑے ہیں، یہ کہہ کر نبی ﷺ واپس چلے گئے۔

3142Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا: پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔

3143Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ لَيْسَ فِيهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حجاج کہتے ہیں ج کہ عطاء بن ابی رباح (رح) اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے اس کپڑے کو پہن لے جسے دھو دیا گیا ہو اور اس میں زعفران کا کوئی ذرہ یا نشان باقی نہ رہا ہو۔ گذشتہ روایت حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مرفوعاً مروی ہے۔

3144Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ فِي يَوْمِ الْعِيدِ أَنْ يُخْرِجَ أَهْلَهُ قَالَ فَخَرَجْنَا فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ ثُمَّ أَتَى الْقِتَانَ فَخَطَبَهُنَّ ثُمَّ أَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَرْأَةَ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا تُعْطِيهِ بِلَالًا يَتَصَدَّقُ بِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی ﷺ کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اپنے اہل خانہ کو بھی عید گاہ لے کر جائیں، ایک مرتبہ ہم لوگ روانہ ہوئے تو آپ ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ ﷺ نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر حضرت بلال ؓ کے پاس جمع کرانے لگیں۔

3145Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ تَجْتَمِعُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَالَ وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَّا قَالُوا عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ بہترین دن جس میں تم سینگی لگوا سکتے ہو، سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے اور فرمایا کہ شب معراج میرا ملائکہ کے جس گروہ پر بھی ذکر ہوا، اس نے مجھ سے یہی کہا کہ اے محمد ﷺ سینگی لگوانے کو اپنے اوپر لازم کرلیجئے۔

3146Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَنَحْنُ آمِنُونَ لَا نَخَافُ شَيْئًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی ﷺ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کیا، اس وقت ہم حالت امن میں تھے، کسی چیز کا قطعا کوئی خوف نہ تھا، لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)

3147Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ ﷺ (روزانہ) سوتے وقت (اثمدنامی) سرمہ لگایا کرتے تھے، آپ ﷺ ہر آنکھ تین سلائی سرمہ لگاتے تھے

3148Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِسَرِفَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا بَعْدَمَا رَجَعَ بِسَرِفَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ ؓ سے مقام سرف میں نکاح فرما ایا اور حج سے واپسی کے بعد مقام سرف ہی میں ان سے خلوت فرمائی۔

3149Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْتَحِلُ بِالْإِثْمِدِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَكْتَحِلُ فِي كُلِّ عَيْنٍ ثَلَاثَةَ أَمْيَالٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ ﷺ (روزانہ) سوتے وقت (اثمد نامی) سرمہ لگایا کرتے تھے، آپ ﷺ ہر آنکھ میں تین سلائی سرمہ لگاتے تھے۔

3150Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ " کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔۔۔۔۔۔ " والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔

3151Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ النَّبِيِّينَ قَبْلَكَ صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ وَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَحَلَّ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کے قریب دو مرتبہ میری امامت کی اور فرمایا اے محمد! ﷺ، یہ آپ کا اور آپ سے پہلے نبیوں کا وقت رہا ہے، چناچہ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال شمس ہوگیا اور ایک تسمہ کے برابر سایہ ہوگیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور اس کے لئے کھانا پینا حلال ہوجاتا ہے۔

3152Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي الْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا: اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ اس سے نبی ﷺ کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔

3153Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ قَالَ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ خَلْفَهُ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث ؓ کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور وضو کیا تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے وضو کر کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔

3154Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے اور نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔

3155Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْفَجْرِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔

3156Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كِسَاءٍ يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔

3157Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَدَبَّرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَجَدَ وَكَانَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے پاس ان کے پیچھے سے آیا اور نبی ﷺ جب سجدے میں جاتے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔

3158Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَلَمْ أُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَرَآنِي وَأَنَا أُصَلِّيهِمَا فَدَنَا وَقَالَ أَتُرِيدُ أَنْ تُصَلِّيَ الصُّبْحَ أَرْبَعًا فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لئے اقامت ہوئی تو میں دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا کیونکہ میں انہیں پڑھ نہیں سکا تھا، نبی ﷺ نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر قریب آکر فرمایا کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھو گے؟

3159Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَوْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ أَخَذَ مِنْ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے حضرت ابوبکر ؓ نے چھوڑی تھی۔

3160Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنْ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا مَنْعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا مُتَرَسِّلًا مُتَضَرِّعًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ لَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ

ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس ؓ کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی ﷺ کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ ﷺ خشوع و خضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب وزینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ ﷺ نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے، البتہ تمہاری طرح خطبہ نہیں دیا تھا۔