عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةَ الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَالْخَوْفِ رَكْعَةً عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید الفطر یا عید الاضحی کے موقع پر نبی ﷺ لوگوں کو دو رکعتیں پڑھا کر واپس چلے گئے، اس سے پہلے آپ کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ سے سفر کیا، آپ ﷺ کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھیں (قصر فرمائی)
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اس لئے جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل پڑو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى دُمُوعِهِ عَلَى خَدَّيْهِ تَحْدُرُ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُونِي بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَوْ الْكَتِفِ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَقَالُوا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ نے جمعرات کا دن یاد کرتے ہوئے کہا جمعرات کا دن کیا تھا؟ یہ کہہ کر وہ رو پڑے حتی کہ میں نے ان کے رخساروں پر موتیوں کی لڑی کی طرح بہتے ہوئے آنسو دیکھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے، لوگ کہنے لگے کہ کیا ہوگیا، کیا نبی ﷺ بھی بہکی بہکی باتیں کرسکتے ہیں؟
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بِالْحَمْلِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عورت کے حاملہ ہونے کے باوجود بھی لعان کروایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْعَبْسِيُّ عَنِ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْفَضْلِ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنْ الْآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَضِلُّ الرَّاحِلَةُ وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کرلینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہوجاتی ہے، کبھی کوئی بیمارہوجاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آجاتی ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی قبر مبارک میں سرخ رنگ کی ایک چادر بچھائی گئی تھی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضُ فَالْبَسُوهَا أَحْيَاءً وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَخَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَثَمَنِ الْخَمْرِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ ثَمَنُ الْكَلْبِ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ وَثَمَنُ الْخَمْرِ حَرَامٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ قَالَ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَبْتَاعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو آگے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دراہم دراہم کے بدلے ہوں اور غلہ مؤخر ہو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ مَرَّ بِقُرَيْشٍ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي دَارِ النَّدْوَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّكُمْ هَزْلَى فَارْمُلُوا إِذَا قَدِمْتُمْ ثَلَاثًا قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا رَمَلُوا ثَلَاثًا قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ أَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ نَتَحَدَّثُ أَنَّ بِهِمْ هَزْلًا مَا رَضِيَ هَؤُلَاءِ بِالْمَشْيِ حَتَّى سَعَوْا سَعْيًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب حدیبیہ کے سال مکہ مکرمہ تشریف لائے تو قریش کے پاس سے گذر ہوا، وہ لوگ دار الندوہ میں بیٹھے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ یہ لوگ آپس میں تمہاری جسمانی کمزوری کی باتیں کر رہے ہیں، اس لئے جب تم خانہ کعبہ پہنچو تو طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا، چناچہ صحابہ ؓ نے ایسا ہی کیا، مشرکین کہنے لگے کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے ہم باتیں کر رہے تھے کہ یہ لاغر اور کمزور ہوچکے ہیں، یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں بلکہ یہ تو دوڑ رہے ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْلَى بِالْيَمِينِ
ابن ابی ملیکہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر ہوتے تو دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُكَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يُلَاحِظُ امْرَأَةً عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ عَلَى عَيْنِ الْغُلَامِ قَالَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ حَفِظَ فِيهِ بَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرفہ کی شام نبی ﷺ نے فضل کو دیکھا کہ عورتوں کو کن اکھیوں سے دیکھ رہے ہیں، نبی ﷺ نے ان کی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا عُرْوَةُ سَلْ أُمَّكَ أَلَيْسَ قَدْ جَاءَ أَبُوكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحَلَّ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت عروہ بن زبیر (رح) سے فرمایا اے عروہ! اپنی والدہ سے پوچھئے، کیا آپ کے والد نبی ﷺ کے ساتھ نہیں آئے تھے؟ کہ انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا؟