قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنْ الْمَکَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَی مَکَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ
یحییٰ بن یحیی، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں غلہ خریدتے پھر آپ ﷺ ہمارے پاس ایک آدمی کو بھیجتے جو ہمیں مکان خرید سے اس چیز کو اٹھالے جانے کا حکم کرتے کسی اور کو بیچنے سے پہلے۔
Ibn Umar (RA) reported: We used to buy foodgrains during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ . He (the Holy Prophet) would then send to us one who commanded us to take them (the foodgrains) to a place other than the one where we had bought them before we sold it.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اشْتَرَی طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَسْتَوْفِيَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے غلہ خریدا تو وہ اس کو پورا پورا لے لینے سے پہلے فروخت نہ کرے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who buys foodgrain should not sell that before taking possession of it.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
قَالَ وَکُنَّا نَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنْ الرُّکْبَانِ جِزَافًا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّی نَنْقُلَهُ مِنْ مَکَانِهِ
فرمایا ہم سواروں سے غلہ بغیر ناپ تول کے اندازاً خریدتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم اس کو بیچیں یہاں تک کہ ہم اس کو اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل نہ کرلیں۔
He (the narrator) said: We used to buy foodgrain from the caravans in bulk, but Allahs Messenger ﷺ forbade us to re-sell that until we had shifted it to some other place.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اشْتَرَی طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَسْتَوْفِيَهُ وَيَقْبِضَهُ
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، عمر بن محمد، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کوئی غلہ خریدا تو وہ پورا پورا لینے اور قبضہ کرلینے تک فروخت نہ کرے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who bought foodgrain should not sell it until he had taken full possession of it (after measuring it).
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ و قَالَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَقْبِضَهُ
یحییٰ بن یحیی، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، علی، اسماعیل، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غلہ خریدنے کے بارے میں فرمایا کہ اس کو قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرو۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying,: He who bought foodgrain should not sell it until he had taken possession of it.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُمْ کَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا طَعَامًا جِزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَکَانِهِ حَتَّی يُحَوِّلُوهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس بات پر مارا جاتا تھا کہ جب وہ کوئی غلہ اندازاً خریدتے اور اس کو اس جگہ سے منتقل کرنے سے پہلے فروخت کردیتے۔
Ibn Umar (RA) reported that they were beaten during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ if they had bought foodgrains in bulk and then sold them in the spot without shifting them (to some other place).
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَاعُوا الطَّعَامَ جِزَافًا يُضْرَبُونَ فِي أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَکَانِهِمْ وَذَلِکِ حَتَّی يُؤْوُوهُ إِلَی رِحَالِهِمْ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ کَانَ يَشْتَرِي الطَّعَامَ جِزَافًا فَيَحْمِلُهُ إِلَی أَهْلِهِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دیکھا جو وہ کسی غلہ کو اندازاً خریدتے تو ان کو مارا جاتا اس بات پر کہ وہ اس کو اسی جگہ فروخت کریں یہاں تک کہ اس کو اپنے گھروں میں یا کسی دوسری جگہ منتقل کرلیتے ابن شہاب کہتے ہیں مجھے عبیداللہ بن ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ ان کے والد غلہ اندازاً خریدتے تو اس کو اپنے گھر اٹھا لاتے تھے۔
Salim bin Abdullah (RA) reported his father havingsaid this: I saw people being beaten during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ in case they bought the foodgrain in bulk, and then sold them at that spot before taking it to their places. This hadith is narrated on the authority of Ubaidullah binAbdullah bin Umar through another chain of transmitters (and the words are):" His father (Ibn Umar) used to buy foodgrains in bulk and then carried them to his people."
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اشْتَرَی طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَکْتَالَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ مَنْ ابْتَاعَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوکریب، زید بن حباب، ضحاک بن عثمان، بکیر بن عبداللہ بن اشج، سلیمان بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے غلہ خریدا تو وہ اس کو وزن کرنے سے پہلے فروخت نہ کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who bought foodgrain should not sell it until he had measured it. In the narration of Abu Bakr (RA) there the word is Ibta instead of Ishtara.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا فَقَالَ مَرْوَانُ مَا فَعَلْتُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصِّکَاکِ وَقَدْ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّی يُسْتَوْفَی قَالَ فَخَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ فَنَهَی عَنْ بَيْعِهَا قَالَ سُلَيْمَانُ فَنَظَرْتُ إِلَی حَرَسٍ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ
اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن حارث مخزومی، ضحاک بن عثمان، بکیر بن عبداللہ بن اشج، سلیمان بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے کہا کیا تو نے سود کی بیع کو حلال کردیا ہے؟ مروان نے کہا میں نے کیا کیا ہے؟ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ تو نے سند (پروانہ) کی بیع کو حلال نہیں کیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے غلہ کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرلیا جائے تو مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں اس کی بیع سے منع کیا سلیمان نے کہا میں نے سپاہیوں کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے ہاتھوں سے ان سندات کو وصول کر رہے تھے۔
Abu Hurairah (RA) (Allah be please with him) is reported to have said to Marwan: Have you made lawful the transactions involving interest? Thereupon Marwan said: I have not done that. Thereupon Abu Hurairah (RA) ﷺ said: You have made lawful the transactions with the help of documents only, whereas Allahs Messenger ﷺ forbade the transaction of foodgrains until full possession is taken of them. Marwan then addressed the people and forbade them to enter into such transactions (as are done with the help of documents). Sulaiman said: I saw the sentinels snatching (these documents) from the people.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ابْتَعْتَ طَعَامًا فَلَا تَبِعْهُ حَتَّی تَسْتَوْفِيَهُ
اسحاق بن ابراہیم، روح، جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے تھے جب تو کوئی غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک تو اس کو پورا پورا وصول نہ کرلے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When you purchase foodgrains, do not sell them until you have taken possession of them.
مجہول المقدار کھجور کے ڈھیر کی دوسری کھجور کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنْ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَکِيلَتُهَا بِالْکَيْلِ الْمُسَمَّی مِنْ التَّمْرِ
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس کھجور کے ڈھیر کا وزن معلوم نہ ہو اس کو معلوم الوزن کھجور کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
Jabir binAbdullah (RA) is reported to have said that Allahs Messenger ﷺ forbade the sale of a heap of dates the weight of which is unknown in accordance with the known weight of dates.
مجہول المقدار کھجور کے ڈھیر کی دوسری کھجور کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ مِنْ التَّمْرِ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ
اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح منع فرمایا لیکن اس میں حدیث مبارکہ کے آخر میں من التَّمْر کا لفظ نہیں۔
This hadith is narrated on the authority of Jabir binAbdullah (RA) but with this variation that no mention is made of the dates (which one finds) at the end of the previous hadith.
بائع اور مشتری کے لئے خیار مجلس کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَی صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) میں سے ہر ایک کو دوسرے پر بیع کو فسخ کرنے کا حق واختیار ہے جب تک کہ جدا نہ ہوں سوائے بیع الخیار کے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Both parties in a business transaction have the right to annul it so long as they have not separated; except in transactions which have been made subject to the right of parties to annul them.
بائع اور مشتری کے لئے خیار مجلس کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحیی، قطان، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، ابن عمران اسانید سے بھی ابن عمر ؓ کی یہی حدیث روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters.
بائع اور مشتری کے لئے خیار مجلس کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَکَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَی ذَلِکِ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُکْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دو آدمی بیع کرتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو خیار مجلس ہے جب تک جدا نہ ہوں اس حال میں کہ وہ دونوں اکٹھے تھے یا ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے دے اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا اور ان دونوں نے اس پر بیع کرلی تو اب بیع واجب ہوگئی اور اگر وہ بیع کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہوگئے اور ان میں کسی نے بیع کو فسخ نہ کیا تو بھی بیع لازم ہوگئی۔
Ibn Umar (Allah be pleased with thcm) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When two persons enter into a transaction, each of them has the right to annul it so long as they are not separated and are together (at the place of transaction) ; or if one gives the other the right (to annul the transaction) But if one gives the other the option, the transaction is made on this condition (i. e. one has the right to annul the transaction), it becomes binding. And if they are separated after they have made the bargain and none of them annulled it, even then the transaction is binding.
بائع اور مشتری کے لئے خیار مجلس کے ثبوت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَمْلَی عَلَیَّ نَافِعٌ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَکُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا کَانَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ نَافِعٌ فَکَانَ إِذَا بَايَعَ رَجُلًا فَأَرَادَ أَنْ لَا يُقِيلَهُ قَامَ فَمَشَی هُنَيَّةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ
زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، سفیان، زہیر، سفیان بن عیینہ، ابن جریج، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب دو آدمی بیع کرتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک بیع سے خیار دیا جاتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوجائیں یا ان میں بیع بشرط خیار ہو جب ان کی بیع بشرط خیار ہوگی تو لازم ہوجائے گی نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ جب کسی سے بیع کرتے اور چاہتے کہ یہ فسخ نہ ہو تو کھڑے ہوتے اور تھوڑی دور جا کر واپس اس کی طرف لوٹ آتے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When two persons enter into a transac. tion, each one of them has the right to annul it so long as they are not separated, or their transaction gives one another (as a condition) the right of annulling, and if their transaction, has the right of annulling it the transaction becomes binding. Ibn Abi Umar made this addition that whenever he ( Ibn Umar (RA) ) entered into a transaction with a person with the intention of not breaking it, he walked a while and then returned to him.
بائع اور مشتری کے لئے خیار مجلس کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّی يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعُ الْخِيَارِ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحیی، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر بیع کرنے والوں کی بیع اس وقت تک لازم نہ ہوگی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں سوائے بیع الخیار کے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is no transaction between two persons entering a transaction until they separate, but only when there is an option to annul it.
بائع اور مشتری کے لئے خیار مجلس کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِکَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ کَذَبَا وَکَتَمَا مُحِقَ بَرَکَةُ بَيْعِهِمَا
ابن مثنی، یحییٰ بن سعید، شعبہ، عمرو بن علی، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، قتادہ، ابی خلیل، عبداللہ بن حارث، حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوجائیں پس اگر وہ دونوں سچ بولیں اور بیان کردیں عیوب وغیرہ تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور عیوب کو چھپایا تو ان کی بیع کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔
Hakim bin Hazim (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Both parties in a business transaction have the right to annul it so long as they have not separated; and if they speak the truth and make everything clear they will be blessed in their transaction; but if they tell a lie and conceal anything the blessing on their transaction will be blotted out.
بائع اور مشتری کے لئے خیار مجلس کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ مُسْلِم بْن الْحَجَّاج وُلِدَ حَکِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْکَعْبَةِ وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً
عمرو بن علی، عبدالرحمن بن مہدی، ہمام، ابی التیاح، عبداللہ بن حارث، حضرت حکیم بن حزام ؓ یہی حدیث دوسری سند سے مروی ہے امام مسلم بن حجاج کہتے ہیں کہ حکیم بن حزام ؓ کعبہ میں پیدا ہوئے اور ایک سو بیس سال زندہ رہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Hakim bin Hizam (Imam Muslim) said: Hakim bin Hizam was born inside the Ka’bah and lived for one hundred and twenty years.
جس بیع میں دھوکہ دیا جائے اس کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا ذَکَرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ فَکَانَ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لَا خِيَابَةَ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحیی، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ذکر کیا کہ اس کو بیع میں دھوکہ دیا جاتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص تجھ سے بیع کرے تو تو کہہ دے کہ فریب نہیں ہے پھر وہ جب بیع کرتا تو کہہ دیتا کہ دھوکہ نہ ہوگا لیکن لَا خِلَابَةَ نہ بول سکنے کی وجہ سے لَاخَلَابَتَّہ کہتا تھا۔
Abdullah bin Dinar narrated that he heard Ibn Umar (RA) saying: A man mentioned to the Messenger of Allah ﷺ that he was deceived in a business transaction, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: When you enter into a transaction, say: There should be no attempt to deceive.