آنے والے تاجروں سے ملنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَکٍ عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن مبارک، تیمی، ابی عثمان، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تاجروں سے ملنے کو منع فرمایا۔
Abdullah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Do not meet the traders (in the way).
آنے والے تاجروں سے ملنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّی الْجَلَبُ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، ہشام، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قافلہ سے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not meet the merchandise (in the way).
آنے والے تاجروں سے ملنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَلَقَّوْا الْجَلَبَ فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَی مِنْهُ فَإِذَا أَتَی سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ
ابن ابی عمر، ہشام بن سلیمان، ابن جریج، ہشام قردوسی، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ قافلہ سے آگے جا کر نہ ملو جو آگے جا کر ملا اور اس سے مال خرید لیا جب مالک بازار آیا تو اس کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔ یعنی اگر اس کو نقصان معلوم ہوگیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not meet the merchant in the way and enter into business transaction with him, and whoever meets him and buys from him (and in case it is done, see) that when the owner of (merchandise) comes into the market (and finds that he has been paid less price) he has the option (to declare the transaction null and void).
شہری کی دیہاتی کے لئے بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ و قَالَ زُهَيْرٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شہری بستی والے کا مال نہ فروخت کرے زہیر کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کا مال فروخت کرے
Abu Hurairah (RA) reported it directly from Allahs Apostle ﷺ : The townsmanshould not sell for a man from the desert (with a view to taking advantage of his ignorance of the market conditions of the city). And Zuhair reported from the Holy Prophet ﷺ that he forbade the townsman to sell on behalf of the man from the desert.
شہری کی دیہاتی کے لئے بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّی الرُّکْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لَا يَکُنْ لَهُ سِمْسَارًا
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ابن طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قافلہ سے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا اور یہ کہ شہری دیہاتی کا مال فروخت کرے طاؤس کہتے ہیں میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا شہری دیہاتی کی بیع کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے کہا وہ بستی والے کے لئے دلال نہ بنے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The riders (carrying merchandise) should not be met in the way, and townsman should not sell for a man of the desert. The narrator reported. I said to Ibn Abbas (RA) : What do these words really imply-" The townsman for the man of the desert"? He said: That he should work as a broker on his behalf.
شہری کی دیہاتی کے لئے بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَی يُرْزَقُ
یحییٰ بن یحیی، تمیمی، ابوخیثمہ، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شہری دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے۔
Jabir (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The townsman should not sell for a man from the desert, leave the people alone, Allah will give them provision from one another. Yahya reported it with a slight change of words.
شہری کی دیہاتی کے لئے بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے
Jabir (RA) reported a similar hadith from Allahs Apostle ﷺ through another chain of transmitters.
شہری کی دیہاتی کے لئے بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، یونس، ابن سیرین، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں منع کیا گیا اس سے کہ شہری دیہاتی کا مال فروخت کرے اگرچہ وہ اس کا بھائی ہو یا باپ۔
Anas bin Malik (RA) reported: We were forbidden that a townsman should sell for a man of the desert, even if he is his brother or father.
شہری کی دیہاتی کے لئے بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ نُهِينَا عَنْ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، محمد، انس، ابن مثنی، معاذ، ابن عون، محمد، حضرت انس بن مالک ؓ سے اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں کہ ہمیں منع کیا گیا اس بات سے کہ شہری دیہاتی کا مال فروخت کرے۔
Anas bin Malik (RA) said: We were forbidden that a townsman should sell for a man of the desert.
دو دھ جمع کیے ہوئے جانور کی بیع کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُوسَی بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اشْتَرَی شَاةً مُصَرَّاةً فَلْيَنْقَلِبْ بِهَا فَلْيَحْلُبْهَا فَإِنْ رَضِيَ حِلَابَهَا أَمْسَکَهَا وَإِلَّا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، داؤد بن قیس، موسیٰ بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دودھ روکے ہوئے بکری خریدی پھر لے جا کر اس کا دودھ نکالا پس اگر وہ اس کے دودھ سے راضی ہو تو رکھ لے ورنہ واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may peace beupon him) as saying: He who bought a goat having its udder tied up should go back with it, milk it, and, if he is satisfied with its milk, he should retair it, otherwise he should return it along with a sa of dates.
دو دھ جمع کیے ہوئے جانور کی بیع کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ فِيهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَائَ أَمْسَکَهَا وَإِنْ شَائَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے چڑھے ہوئے دودھ والی بکری خریدی تو اس کو تین دن کا خیار ہے اگر چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who buys a goat with its udder tied up has the option to retain the goat if he so desires or return it within three days, and in case he returns it he should do so along with a sa of dates.
دو دھ جمع کیے ہوئے جانور کی بیع کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اشْتَرَی شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَائَ
محمد بن عمرو ابن جبلہ بن ابی دو اد، ابوعامر عقدی، قرہ، محمد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے چڑھے ہوئے دودھ والی بکری خریدی تو اسے تین دن کا خیار ہے پس اگر اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع طعام بھی واپس کرے گندم ضروری نہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: lie who buys a goat having its udder tied up has the option to return it within three days. If he returns it he should pay a sa of dates. Wheat is not essential.
دو دھ جمع کیے ہوئے جانور کی بیع کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اشْتَرَی شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَائَ أَمْسَکَهَا وَإِنْ شَائَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَائَ
ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، محمد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو چڑھے ہوئے دودھ والی بکری خریدے اس کو دو باتوں کا خیار ہے اگر چاہے تو رکھ لے اور اگر چاہے تو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی دے نہ کہ گند م۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who buys a goat having its udder tied up has two courses left for him. He may retain it, and if he desires may return it along with a sa of dates and not wheat.
دو دھ جمع کیے ہوئے جانور کی بیع کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ اشْتَرَی مِنْ الْغَنَمِ فَهُوَ بِالْخِيَارِ
ابن ابی عمر، عبدالوہاب، ایوب اسی حدیث کی دوسری سند ہے لیکن اس میں شاۃ کی بجائے غنم کا لفظ ہے۔ معنی و مفہوم ایک ہی ہے۔
Ayyub narrated with the same chain of transmitters but with this change of words:" He who buys a goat has the option...."
دو دھ جمع کیے ہوئے جانور کی بیع کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَا أَحَدُکُمْ اشْتَرَی لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا هِيَ وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے مروی روایات میں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مصراۃ اونٹنی یا بکری خریدے تو اس کو دونوں کا خیار ہے اس کے دودھ نکال لینے کے بعد تو اسی کے لئے ہے یا اسے ایک صاع کھجور کے ساتھ واپس کر دے۔
Hammam bin Munabbih said: Out of the ahadith which Abu Hurairah (RA) reported to us from Allahs Messenger ﷺ one is this that Allahs Messenger ﷺ said: If one among you buys a she-camel having its udder tied up he has the two options for him after milking it either (to retain it) or return it with a sa of dates.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَقُتَيْبَةُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَسْتَوْفِيَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ کُلَّ شَيْئٍ مِثْلَهُ
یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید، ابوربیع عتکی، قتیبہ، حماد، عمرو بن دینار، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے قبضہ سے پہلے نہ بیچے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا میں ہر چیز کو اسی طرح گمان کرتا ہوں۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who buys foodgrain should not sell it until he has taken possession of it.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابن ابی عمر، احمد بن عبدہ، سفیان، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، سفیان، ثوری، عمرو بن دینار اسی حدیث مبارکہ کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
A hadith like this has been narrated through the same chain of transmitters.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَقْبِضَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ کُلَّ شَيْئٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کوئی غلہ خریدے تو اس کو قبصہ سے پہلے فروخت نہ کرے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں ہر چیز کو غلہ کے حکم کی طرح ہی سمجھتا ہوں۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who buys food-grains should not sell it until he has taken possession of it. Ibn Abbas (RA) said: I regard everything like food (so far as this principle is concerned).
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَکْتَالَهُ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَقَالَ أَلَا تُرَاهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو کُرَيْبٍ مُرْجَأٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، وکیع، سفیان، ابن طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کوئی غلہ خریدا تو وہ اسے وزن کرنے سے پہلے فروخت نہ کرے طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کیوں نہ بیچے تو آپ ؓ نے فرمایا کیا تم انہیں نہیں دیکھتے کہ وہ سونے اور غلہ کے ساتھ میعادی بیع کرتے ہیں ابوکریب نے میعاد ذکر نہیں کیا۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who buys foodgrain should not sell it, until he has weighed it (and then taken possession of it). I (Tawus) said to Ibn Abbas (RA) : Why is it so? Thereupon he said: Dont you see that they (the people) sell food-grains against gold for the stipulated time. Abu Kuraib did not make any mention of the stipulated time.
قبضہ سے پہلے بیعہ کے بیچنے کے بطلان کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَسْتَوْفِيَهُ
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، مالک، یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی غلہ خریدے تو وہ اس کو پورا لے لینے سے پہلے نہ بیچے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who buys foodgrain should not sell it until he has taken full possession of it.