اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
قتیبہ بن سعید، لیث، ح، محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا کھانا کھلاؤ اور سلام کرو ہر شخص کو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Amr that a man asked the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) which of the merits (is superior) in Islam. He (the Holy Prophet) remarked: That you provide food and extend greetings to one whom you know or do not know.
اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
ابوطاہر احمد بن عمرو، ابن عمرو بن سرح المصری، ابن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، ابن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا مسلمان سب سے بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
Abdullah bin Amr (RA) bin al-As is reported to have said: Verily a person asked the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) who amongst the Muslims was better. Upon this (the Holy Prophet) remarked: From whose hand and tongue the Muslims are safe.
اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ عَبْدٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
حسن الحلوانی، عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن جریج، ابوالزبیر، جابر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔
It is narrated on the authority of Jabir that he heard the (Holy Prophet) say: A Muslim is he from whose hand and tongue the Muslims are safe.
اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
سعید بن بن یحییٰ بن سعید اموی اپنے والد سے، ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسی، ابوبردہ، ابوموسیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کس شخص کا اسلام سب سے بہتر ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
It is narrated on the authority of Abu Musa Ashari: I asked the Messenger of Allah ﷺ which (attribute) of Islam is more excellent. Upon this he remarked: One in which the Muslims are safe, protected from the tongue and hand of (other Muslims). Ibrahim bin Said al-Jauhari has narrated this hadith with the same words in addition to these. The Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) was asked as to who amongst the Muslims is better, and the rest of the hadith was narrated like this.
اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
حَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ فَذَکَرَ مِثْلَهُ
ابراہیم بن سعید جوہری، ابواسامہ، برید بن عبداللہ اس روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسا مسلمان افضل ہے تو آپ ﷺ نے اس طرح ذکر فرمایا۔
Ibrahim b. Said al-Jauhari has narrated this hadith with the same words in addition to these. The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) was asked as to who amongst the Muslims is better, and the rest of the hadith was narrated like this.
ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ مَنْ کَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْئَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَأَنْ يَکْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْکُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ کَمَا يَکْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن یحییٰ بن ابوعمرو، محمد بن بشار، ثقفی، ابن ابی عمر، عبدالوہاب، ایوب، ابوقلابہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی اس کو ان کی وجہ سے ایمان کی لذت حاصل ہوگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اسے دیگر سب چیزوں سے محبوب ہوں جس شخص سے محبت کرے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کرے جب اللہ تعالیٰ نے اسے کفر سے نجات دے دی تو پھر دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کو اتنا برا سمجھے جتنا آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔
It is reported on the authority of Anas that the Prophet ﷺ of Allah (may peace and blessings be upon him) said: There are three qualities for which anyone who is characterised by them will relish the sweetness of faith: he to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who loves a man for Allahs sake alone; and he who has as great an abhorrence of returning to unbelief after Allah has rescued him from it as he has of being cast into Hell.
ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ کَانَ يُحِبُّ الْمَرْئَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَمَنْ کَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ کَانَ أَنْ يُلْقَی فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْکُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی اس کو ایمان کا مزہ آجائے گا جس شخص سے محبت کرے صرف اللہ کے لئے کرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس کو تمام عالم سے زیادہ محبوب ہوں جب اللہ تعالیٰ نے کفر سے نجات دے دی تو پھر کفر کی طرف لوٹنے سے زیادہ آگ میں ڈالے جانے کو اچھا سمجھے۔
It is reported on the authority of Anas that the Prophet ﷺ of Allah (may peace and blessings be upon him) said: There are three qualities for which anyone who is characterised by them will relish the sweetness of faith: he to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who loves a man for Allahs sake alone; and he who has as great an abhorrence of returning to unbelief after Allah has rescued him from it as he has of being cast into Hell.
ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا
اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، حماد، ثابت، انس سے یہ روایت بھی اسی طرح منقول ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ دوبارہ یہودی یا نصرانی ہونے سے آگ میں لوٹ جانے کو زیادہ بہتر سمجھے۔
A similar hadith has been reported on the authority of Anas (with another chain of transmitters) with the exception of these words: that he again becomes a Jew or a Christian.
اس بات کے بیان میں کہ مومن وہی ہے جسے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر والوں، والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہو
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ الرَّجُلُ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیہ، ح، شیبان بن ابی شیبہ، عبدالوارث، عبدالعزیز، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بندہ کوئی شخص مومن نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے تمام متعلقین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔
It is reported on the authority of Anas that the Messenger of Allah ﷺ said: No bondsman believes, and, in the hadith narrated by Abdul Warith, no person believes, till I am dearer to him than the members of his household, his wealth and the whole of mankind.
اس بات کے بیان میں کہ مومن وہی ہے جسے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر والوں، والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
It is reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: None of you is a believer till I am dearer to him than his child, his father and the whole of mankind.
اس بات کے بیان میں کہ ایمان کی خصلت یہ ہے کہ اپنے لئے جو پسند کرے اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ قَالَ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہو وہی اپنے بھائی کے لئے یا پڑوسی کے لئے پسند کرے۔
It is arrested on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: one amongst you believes (truly) till one likes for his brother or for his neighbour that which he loves for himself.
اس بات کے بیان میں کہ ایمان کی خصلت یہ ہے کہ اپنے لئے جو پسند کرے اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی يُحِبَّ لِجَارِهِ أَوْ قَالَ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، حسین معلم، قتادہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ مومن نہیں ہوگا جب تک اپنے ہمسایہ یا اپنے بھائی کے لئے وہی بات دل سے نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔
It is narrated on the authority of Anas that the Prophet ﷺ (may peace blessings be upon him) observed: By Him in whose Hand is my life, no, bondsman (truly) believes till he likes for his neighbour, or he (the Holy Prophet) said: for his brother, whatever he likes for himself.
ہمسایہ کو تکلیف دینے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر بن ایوب، اسماعیل، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی ضرر رسانیوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessing be upon him) observed: He will not enter Paradise whose neighbour is not secure from his wrongful conduct.
ہمسایہ اور مہمان کی عزت کرنا اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کا بیان
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ
حرملہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا ایمان اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ہو پس اسے چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر اسے خاموش رہنا چاہئے اور جس شخص کا ایمان اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ہو اسے چاہئے کہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے اور جس شخص کا ایمان اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ہو اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who believes in Allah and the Last Day should either utter good words or better keep silence; and he who believes in Allah and the Last Day should treat his neighbour with kindness and he who believes in Allah and the Last Day should show hospitality to his guest
ہمسایہ اور مہمان کی عزت کرنا اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْکُتْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، ابی حصین، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا احترام کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: He who believes in Allah and the Last Day does not harm is neighbour, and he who believes in Allah and the Last Day shows hospitality to his guest and he who believes in Allah and the Last Day speaks good or remains silent.
ہمسایہ اور مہمان کی عزت کرنا اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي حَصِينٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلْيُحْسِنْ إِلَی جَارِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا جو گزشتہ حدیث میں گزرا مگر اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کرے۔
Another hadith similar to one narrated (above) by Abu Husain is also reported by Abu Hurairah (RA) with the exception of these words: He (the Prophet) said: He should do good to the neighbour.
ہمسایہ اور مہمان کی عزت کرنا اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کا بیان
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَی جَارِهِ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْکُتْ
زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن عیینہ، سفیان، عمرو، نافع بن جبیر، حضرت ابوشریح خزاعی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔
It is narrated on the authority of Abu Shuraih al-Khuzai that the Prophet ﷺ (may peace and blessings of Allah be upon him) observed: He who believes in Allah and the Last Day should do good to his neighbour and he who believes in Allah and the Last Day should show hospitality to the guest and he who believes in Allah and the Last Day should either speak good or better remain silent.
اس بات کے بیان میں کہ بری بات سے منع کرنا ایمان میں داخل ہے اور یہ کہ ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ قَدْ تُرِکَ مَا هُنَالِکَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَی مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قیس بن مسلم، حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ عید کے دن سب سے پہلے نماز سے قبل جس شخص نے خطبہ شروع کیا وہ مروان تھا ایک آدمی کھڑا ہو کر مروان سے کہنے لگا کہ نماز خطبہ سے پہلے ہونی چاہئے مروان نے جواب دیا وہ دستور اب چھوڑ دیا گیا ہے حاضرین میں سے ابوسعید ؓ بولے اس شخص پر شریعت کا جو حق تھا وہ اس نے ادا کردیا اب چاہے مروان مانے یا نہ مانے میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص تم میں سے کوئی بات شریعت کے خلاف دیکھے تو وہ ہاتھ سے اس کو بدل دے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو زبان سے ایسا کرے اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے ہی اس کو برا جانے مگر یہ ضعیف ترین ایمان کا درجہ ہے۔
It is narrated on the authority of Tariq bin Shihab: It was Marwan who initiated (the practice) of delivering Khutbah (address) before the prayer on the Id day. A man stood up and said: Prayer should precede Khutbah. He (Marwan) remarked, This (practice) has been done away with. Upon this Abu Said remarked: This man has performed (his duty) laid on him. I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: He who amongst you sees something abominable should modify it with the help of his hand; and if he has not strength enough to do it, then he should do it with his tongue, and if he has not strength enough to do it, (even) then he should (abhor it) from his heart, and that is the least of faith.
اس بات کے بیان میں کہ بری بات سے منع کرنا ایمان میں داخل ہے اور یہ کہ ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي قِصَّةِ مَرْوَانَ وَحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ
ابوکریب، محمد ابن العلاء، ابومعاویہ، اعمش، اسماعیل بن رجاء اپنے والد سے، ابوسعید خدری، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، ابوسعید خدری ؓ سے بھی یہ روایت بالکل اسی طرح مذکور ہے۔
The same hadith of the Holy Prophet ﷺ (may peace and blessings be upon him) has been reported by Abu Said al-Khudri in connection with the story of Marwan.
اس بات کے بیان میں کہ بری بات سے منع کرنا ایمان میں داخل ہے اور یہ کہ ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا کَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَيْسَ وَرَائَ ذَلِکَ مِنْ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَحَدَّثْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَأَنْکَرَهُ عَلَيَّ فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَنَزَلَ بِقَنَاةَ فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ کَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ صَالِحٌ وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِکَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ
عمروالناقد، ابوبکر بن نضر، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابوصالح بن کیسان، حارث، جعفر بن عبداللہ بن حکم، عبدالرحمن بن مسور، ابورافع، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے پہلے جس امت میں نبی بھیجا گیا ہے اس کی امت میں سے اس کے کچھ دوست اور صحابی بھی ہوئے ہیں جو اس کے طریقہ پر کار بند اور اس کے حکم کے پیرو رہے ہیں لیکن ان صحابیوں کے بعد کچھ لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں جن کا قول فعل کے خلاف اور فعل حکم نبی کے خلاف ہوا ہے جس شخص نے ہاتھ سے ان مخالفین کا مقابلہ کیا وہ بھی مومن تھا جس نے زبان سے ان مخالفین کا مقابلہ کیا وہ بھی مومن تھا جس نے زبان سے جہاد کیا وہ بھی مومن تھا اس کے علاوہ رائی کے دانہ کے برابر ایمان کا کوئی درجہ نہیں ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت ابن عمر ؓ کے سامنے بیان کی انہوں نے نہ مانا اور انکار کیا اتفاق سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ آگئے اور قناہ وادی مدینہ میں اترے تو حضرت ابن عمر ؓ حضرت عبداللہ بن مسعود کی عیادت کو مجھے اپنے ساتھ لئے گئے میں ان کے ساتھ چلا گیا جب ہم وہاں جا کر بیٹھ گئے تو میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسا کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کی تھی حضرت صالح فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ابورافع ؓ سے اسی طرح بیان کی گئی ہے۔
It is narrated on the authority Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: Never a Prophet ﷺ had been sent before me by Allah towards his nation who had not among his people (his) disciples and companions who followed his ways and obeyed his command. Then there came after them their successors who said whatever they did not practise, and practised whatever they were not commanded to do. He who strove against them with his hand was a believer: he who strove against them with his tongue was a believer, and he who strove against them with his heart was a believer and beyond that there is no faith even to the extent of a mustard seed. Abu Rafi said: I narrated this hadith to Abdullah bin Umar; he contradicted me. There happened to come Abdullah bin Masud who stayed at Qanat, and Abdullah b Umar wanted me to accompany him for visiting him (as Abdullah bin Masud was ailing), so I went along with him and as we sat (before him) I asked Ibn Masud about this hadith. He narrated it in the same way as I narrated it to Ibn Umar.