سب سے افضل نماز لمبی قرأت والی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ
عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے افضل نماز لمبی قرأت والی نماز ہے۔
Jabir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most excellent prayer is that in which the duration of standing is longer.
سب سے افضل نماز لمبی قرأت والی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ
ابوبکر بن ابی شبیہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسی نماز سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے لمبی قرأت والی نماز، ابوبکر نے نا الاعمش کی جگہ عن الاعمش کا لفظ کہا ہے۔
Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked about the prayer which was most excellent. He said: That in which the standing is longer. (This hadith is narrated by another chain of transmitters too.)
رات کی اس گھڑی کے بیا میں جس میں دعا ضرور قبول کی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِکَ کُلَّ لَيْلَةٍ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس وقت جو مسلمان آدمی اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرما دیں گے اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے۔
Jabir said he heard Allahs Messenger ﷺ say: There is an hour during the night in which no Muslim individual will ask Allah for good in this world and the next without His giving it to him; and that applies to every night.
رات کی اس گھڑی کے بیا میں جس میں دعا ضرور قبول کی جاتی ہے۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ اللَّيْلِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی زبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت جو مسلمان بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرمائیں گے۔
Jabir reported: I heard the Apostle of Allah ﷺ as saying: There is an hour during the night in which no Muslim bondman will ask Allah for good in this world and the next but He will grant it to him.
رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی کُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، ابی عبداللہ اغر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک وتعالی ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، جس وقت رات کے آخر کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے بخش دوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Our Lord, the Blessed and the Exalted, descends every night to the lowest heaven when one-third of the latter part of the night is left, and says: Who supplicates Me so that I may answer him? Who asks Me so that I may give to him? Who asks Me forgiveness so that I may forgive him?
رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا کُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَنَا الْمَلِکُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَلَا يَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُضِيئَ الْفَجْرُ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، سہیل، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جس وقت رات کا ابتدائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے معاف کر دوں، اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہوجاتی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah descends every night to the lowest heaven when one-third of the first part of the night is over and says: I am the Lord; I am the Lord: who is there to supplicate Me so that I answer him? Who is there to beg of Me so that I grant him? Who is there to beg forgiveness from Me so that I forgive him? He continues like this till the day breaks.
رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَی شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَی هَلْ مِنْ دَاعٍ يُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ حَتَّی يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ
اسحاق بن منصور، ابومغیرہ، اوزاعی، یحیی، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آدھی رات یا رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اسے عطا کیا جائے، کیا ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے، کیا ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ اسے بخش دیا جائے، یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When half of the night or two-third of it is over. Allah, the Blessed and the Exalted, descends to the lowest heaven and says: Is there any beggar, so that he be given? Is there any supplicator so that he be answered? Is there any beggar of forgiveness so that he be forgiven? (And Allah continues it saying) till it is daybreak.
رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَرْجَانَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ اللَّهُ فِي السَّمَائِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ أَوْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيمٍ وَلَا ظَلُومٍ قَالَ مُسْلِم ابْنُ مَرْجَانَةَ هُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمَرْجَانَةُ أُمُّهُ
حجاج بن شاعر، محاضر، ابومورع، سعد بن سعید، ابن مرجانہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آدھی رات یا رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان دنیا میں نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں یا وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کروں، پھر فرماتا ہے کہ کون اسے (اللہ کو) قرض دے گا جو کبھی مفلس نہ ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم کرے گا، امام مسلم نے فرمایا کہ ابن مر جانہ وہ سعید بن عبداللہ ہے اور مرجانہ ان کی ماں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah descends to the lowest heaven at half of the night or at one-third of the latter part and says: Who is there to supplicate Me so that I answer him? Who is there to ask Me so that I grant him? And then says: Who will lend to One Who is neither indigent nor tyrant? (This hadith has been narrated by Sad bin Said with the same chain of transmitters with this addition:" Then the Blessed and the Exalted (Lord) stretches His Hands and says: Who will lend to One Who is neither indigent nor tyrant? )
رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلَا ظَلُومٍ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان بن بلال، سعد بن سعید اس سند کے ساتھ حضرت سعد ؓ بن سعید ؓ سے اسی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے اور یہ زائد ہے کہ پھر اللہ تبارک وتعالی اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ کون ہے جو اسے قرض دیتا ہے جو کبھی مفلس نہ ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم کرے گا۔ (اللہ جل جلالہ)
Abu Said and Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah waits till when one-third of the first part of the night is over; He descends to the lowest heaven and says: It there any supplicator of forgiveness? Is there any penitent? Is there any petitioner (for mercy and favour)? Is there any solicitor? -till it is daybreak.
رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَکْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ يَرْوِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّی إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ نَزَلَ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ دَاعٍ حَتَّی يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ
عثمان، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، منصور، ابی اسحاق، حضرت ابوسعید، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مہلت عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ رات کا تہائی حصہ گز رجاتا ہے تو آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے؟ یہاں تک کہ فجر ہوجاتی ہے۔
Abu Said and Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah waits till when one-third of the first part of the night is over; He descends to the lowest heaven and says: It there any supplicator of forgiveness? Is there any penitent? Is there any petitioner (for mercy and favour)? Is there any solicitor? -till it is daybreak.
رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَنْصُورٍ أَتَمُّ وَأَکْثَرُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ منصور کی حدیث پوری اور زائد ہے۔
This hadith is narrated by Ishaq with the same chain of transmitters except this that the hadith transmitted by Mansur (the above one) is more comprehensive and lengthy.
رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
یحییٰ بن یحییٰ مالک ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے ایمان اور ثواب سمجھ کر رمضان کی رات کو قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who observed prayer at night during Ramadan, because of faith and seeking his reward from Allah, his previous sins would be forgiven.
رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ ثُمَّ کَانَ الْأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَی ذَلِکَ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابوسلمہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں قیام کی ترغیب دیا کرتے تھے سوائے اس کے کہ اس میں آپ ﷺ بہت تاکیدی حکم فرماتے ہوں اور فرماتے کہ جو آدمی رمضان میں ایمان اور ثواب سمجھ کر قیام کرے تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے رسول اللہ ﷺ وصال فرما گئے اور آپ ﷺ کا یہ حکم اسی طرح باقی رہا پھر حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت اور حضرت عمر ؓ کی خلافت کے آغاز میں اسی طرح یہ حکم باقی رہا۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ used to exhort (his Companions) to pray (at night) during Ramadan without commanding them to observe it as an obligatory act, and say: He who observed the night prayer in Ramadan because of faith and seeking his reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven. When Allahs Messenger ﷺ died, this was the practice, and it continued thus during Abu Bakrs caliphate and the early part of Umars caliphate.
رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
زہیر بن حرب، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who observed the fasts of Ramadan with faith and seeking reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven, and he who observed prayer on Lailat-ul- Qadr with faith and seeking reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven.
رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَيُوَافِقُهَا أُرَاهُ قَالَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ
محمد بن رافع، شبابہ، ورقاء، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو آدمی شب قدر میں قیام کرتا ہے اور اس کی شب قدر سے موافقت ہوجائے راوی نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان اور ثواب کی نیت ہو تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who prayed on the Lailat-ul-Qadr (the Majestic Night) knowing that it is (the same night). I (believe) that he (the Holy Prophet ﷺ also) said: (He who does) it with faith and seeking reward (from Allah), his sins would be forgiven.
رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّی بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّی مِنْ الْقَابِلَةِ فَکَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْکُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْکُمْ قَالَ وَذَلِکَ فِي رَمَضَانَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ ﷺ کے ساتھ کچھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی پھر آپ ﷺ نے اگلی رات نماز پڑھی تو لوگ زیادہ ہوگئے پھر لوگ تیسری یا چوتھی رات بھی مسجد میں جمع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف نہ لائے پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں دیکھا تھا تو مجھے تمہاری طرف نکلنے کے لئے کسی نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کردی جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ رمضان المبارک ہی کے بارے میں تھا۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed one night in the mosque and people also prayed along with him. He then prayed on the following night and there were many persons. Then on the third or fourth night (many people) gathered there, but the Messenger of Allah ﷺ did not come out to them (for leading the Tarawih prayer). When it was morning he said: I saw what you were doing, but I desisted to come to you (and lead the prayer) for I feared that this prayer might become obligatory for you. (He the narrator) said: It was the month of Ramadan.
رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّی فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّی رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِکَ فَاجْتَمَعَ أَکْثَرُ مِنْهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْکُرُونَ ذَلِکَ فَکَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا کَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا قَضَی الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُکُمْ اللَّيْلَةَ وَلَکِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْکُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے درمیانی حصہ میں نکلے، آپ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ آدمیوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تو صبح لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے، رسول اللہ ﷺ دوسری رات نکلے تو پہلی رات سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے تو انہوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو لوگوں نے صبح کو اس بات کا ذکر کیا، تیسری رات میں مسجد والے بہت زیادہ جمع ہوگئے تو آپ ﷺ باہر نکلے، لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد صحابہ کرام ؓ سے بھر گئی تو آپ ﷺ مسجد والوں کی طرف نہ نکلے، مسجد والوں میں سے کچھ آدمی پکار کر کہنے لگے نماز! رسول اللہ ﷺ پھر بھی ان کی طرف نہ نکلے یہاں تک کہ آپ ﷺ فجر کی نماز کے لئے نکلے تو جب فجر کی نماز پوری ہوگئی تو صحابہ کرام کی طرف آپ ﷺ متوجہ ہوئے پھر تشہد پڑھا اور فرمایا اما بعد کہ تمہاری آج کی رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہ تھی لیکن مجھے ڈر لگا کہ کہیں تم پر رات کی نماز فرض نہ کردی جائے پھر تم اس کے پڑھنے سے عاجز آجاؤ۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ came out during the night and observed prayer in the mosque and some of the people prayed along with him. When it was morning the people talked about this and so a large number of people gathered there. The Messenger of Allah ﷺ went out for the second night, and they (the people) prayed along with him. When it was morning the people began to talk about it. So the mosque thronged with people on the third night. He (the Holy Prophet) came out and they prayed along with him. When it was the fourth night, the mosque was filled to its utmost capacity but the Messenger of Allah ﷺ did not come out. Some persons among then cried:" Prayer." But the Messenger of Allah ﷺ did not come to them till he came out for the morning prayer. When he had completed the morning prayer, he turned his face to the people and recited Tashahhud (I bear testimony that there is no god but Allah and I bear testimony that Muhammad is His Messenger) and then said: Your affair was not hidden from me in the night, but I was afraid that (my observing prayer continuously) might make the night prayer obligatory for you and you might be unable to perform it.
شب قدر میں قیام کی تاکید اور اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ جو کہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدَةُ عَنْ زِرٍّ قَالَ سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ يَقُولُا وَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا مَنْ قَامَ السَّنَةَ أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ أُبَيٌّ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنِي وَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَائَ لَا شُعَاعَ لَهَا
محمد بن مہران رازی، ولید بن مسلم، اوزاعی، عبدہ، زر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابی بن کعب کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور ان سے کہا گیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے وہ لَيْلَةَ الْقَدْرِ کو پہنچ گیا، حضرت ابی فرمانے لگے اس اللہ کی قسم کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ شب قدر رمضان میں ہے وہ بغیر استثناء کے قسم کھاتے اور فرماتے اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ وہ کونسی رات ہے وہ وہی رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے قیام کا حکم فرمایا وہ رات کہ جس کی صبح ستائیس (تاریخ) ہوتی ہے اور اس شب قدر کی علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح روشن ہوتی ہے تو اس میں شعاعیں نہیں ہوتیں۔
Zirr (b. Hubaish) reported: I heard from Ubayy bin Kab a statement made by Abdullah bin Masud in which he said: He who gets up for prayer (every night) during the year will hit upon Lailat-ul-Qadr. Ubayy said: By Allah I there is no god but He, that (Lailat-ul-Qadr) is in Ramadhan (He swore without reservation:) By Allah, I know the night; it is the night on which the Messenger of Allah ﷺ commanded us to pray. It is that which precedes the morning of twenty-seven and its indication is that the sun rises bright on that day without rays.
شب قدر میں قیام کی تاکید اور اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ جو کہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا وَأَکْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَإِنَّمَا شَکَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدہ بن ابی لبابہ، زر بن حبیش سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابی بن کعب نے مجھے شب قدر کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم میں اس رات کو جانتا ہوں اور مجھے زیادہ علم ہے کہ وہ وہی رات ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قیام کا حکم فرمایا وہ ستائیسویں کی رات ہے اور شعبہ کو اس بات میں شک ہے کہ ابی بن کعب نے فرمایا کہ وہ رات جس میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قیام کا حکم فرمایا شعبہ نے کہا کہ یہ حدیث میرے ایک ساتھی نے ان سے نقل کی ہے۔
Ubayy b Kab reported: By Allah, I know about Lailat-ul Qadr and I know it fully well that it is the twenty-seventh night (during Ramadan) on which the Messenger of Allah ﷺ commanded us to observe prayer. (Shubah was in doubt about these words:" the night on which the Messenger of Allah ﷺ [may peace be upon him] commanded us to observe the prayer." This has been transmitted to me by a friend of mine.)
شب قدر میں قیام کی تاکید اور اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ جو کہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ إِنَّمَا شَکَّ شُعْبَةُ وَمَا بَعْدَهُ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت ابن عباس ؓ، شعبہ نے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل فرمائی اور شعبہ کا شک اور اس کے بعد والے الفاظ ذکر نہیں فرمائے۔
Shubah reported this hadith with the same chain of transmitters, but he made no mention that Shubah was in doubt and what follows subsequently.