نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نُودِيَ بِالْأَذَانِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّی لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ اذْکُرْ کَذَا اذْکُرْ کَذَا لِمَا لَمْ يَکُنْ يَذْکُرُ حَتَّی يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي کَمْ صَلَّی فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُکُمْ کَمْ صَلَّی فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پشت پھیر کر گوز مارتے ہوئے بھاگتا ہے تاکہ وہ اذان نہ سن لے جب اذان پوری ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر تکبیر ہوتی ہے تو پھر پشت پھیر کر بھاگ جاتا ہے جب تکبیر پوری ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور نمازی کو وسوسہ ڈالتا ہے اور اس کی بھولی ہوئی باتوں کو یاد کراتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو یہاں تک کہ نمازی کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے نماز میں کتنی رکعات پڑھی ہیں جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں تو بیٹھنے کی حالت میں دو سجدے کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When there is a call to prayer the devil runs back breaking the wind so that he may not hear the call, and when the call is complete he comes back. And when the takbir is pronounced he again runs back, and when takbir is over he comes back and distracts a man saying: Remember such and such, remember such and such, referring to something the man did not have in his mind. with the result that he does not know how much he has prayed; so when any one of you is not sure how much he has prayed. he should perform two prostrations while sitting (qada).
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّی وَلَهُ ضُرَاطٌ فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَکَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ مَا لَمْ يَکُنْ يَذْکُرُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عمرو، عبد ربہ بن سعید، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے تکیبر پڑھی جاتی ہے تو شیطان پشت پھیر کو گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں یہ زائد ہے کہ پھر وہ آکر اسے اپنی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہ تھیں۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: The devil takes to his heels breaking wind when the prayer begins. and the rest is the same but with this addition:" He (the devil) makes him think of pleasant things (or things productive of enjoyment) and of the things wished for, and reminds him of such needs which he had forgotten."
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ کَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبدالرحمن اعرج، عبداللہ بن بحینہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جس میں دو رکعتیں پڑھا کر بغیر قعدہ کئے کھڑے ہوگئے لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے جب آپ ﷺ نے نماز پوری کرلی اور ہم سلام پھیر نے کے انتظار میں تھے کہ آپ ﷺ نے اَللَّهُ أَکْبَرُ کہا پھر بیٹھے ہوئے دو سجدے کئے پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا۔
Abdullah bin Buhaina reported: The Messenger of Allah ﷺ led us two rakahs of prayer in one of the (obligatory) prayers and then got up and did not sit. and the people stood up along with him. When he finished the prayer and we expected him to pronounce salutation. he said:" Allah is Most Great" while sitting and made two prostrations before salutation and then pronounced (the, final) salutation.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسْدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُکَبِّرُ فِي کُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَکَانَ مَا نَسِيَ مِنْ الْجُلُوسِ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، ابن شہاب، اعرج، عبداللہ بن بحینہ اسدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز میں قعدہ کئے بغیر کھڑے ہوگئے جب آپ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو آپ ﷺ نے آخری قعدہ میں سلام سے پہلے دو سجدے کئے ہر سجدہ میں تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدے کئے یہ سجدے اس قعدہ کے بدلے میں تھے جو آپ ﷺ بھول گئے تھے۔
Abdullah bin Buhaina al-Asadi, the ally of Abual-Muttalib, reported: The Messenger of Allah ﷺ stood up in the noon prayer (though) he hadith sit (after the two rakahs). When he completed the prayer he performed two prostrations and said," Allah is the Most Great" in each prostration, while he was sitting before pronouncing salutation, and the people performed prostration along with him. That was a compensation for he had forgotten to observe jalsa (after two rakahs).
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَزْدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلَاتِهِ فَمَضَی فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا کَانَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ
ابوربیع زہرانی، حماد ابن زید، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن، اعرج، عبداللہ بن مالک ابن بحینہ ازدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز کی جن دو رکعت کے بعد بیٹھنے کا اراد تھا آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اس کے بعد آپ ﷺ نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے آپ ﷺ نے دو سجدے کئے۔
Abdullah bin Malik ibn Buhaina al-Asadi reported: The Messenger of Allah ﷺ stood up (at the end of two rakahs) when he had to sit and proceeded on with the prayer. But when he was at the end of the prayer, he performed a prostration before the salutation and then pronounced the salutation.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ کَمْ صَلَّی ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحْ الشَّکَّ وَلْيَبْنِ عَلَی مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ کَانَ صَلَّی خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ وَإِنْ کَانَ صَلَّی إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ کَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ
محمد بن احمد بن ابی خلف، موسیٰ بن داؤد، سلیمان بن بلال، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں تین یا چار تو شک کو چھوڑ کر اور جتنی رکعات کا یقین ہو اس کے مطابق نماز پڑھے پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے اور اگر اس نے پانچ رکعات پڑھ لی ہوں تو ان دو سجدوں کے ساتھ اس کی چھ رکعات ہوجائیں گی اور اگر پوری چار رکعات پڑھی ہوں تو یہ دو سجدے شیطان کے لئے ذلت کا سبب بن جائیں گے۔
Abu Said al-Khudri reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you is in doubt about his prayer and he does not know how much he has prayed, three or four (rakahs). he should cast aside his doubt and base his prayer on what he is sure of. then perform two prostrations before giving salutations. If he has prayed five rakahs, they will make his prayer an even number for him, and if he has prayed exactly four, they will be humiliation for the devil.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي مَعْنَاهُ قَالَ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلَامِ کَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ
احمد بن عبدالرحمن بن وہب، عبداللہ بن وہب، داؤد بن قیس، زید بن اسلم اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters and he said: He should perform two prostrations before the salutation, as it was mentioned by Sulaiman bin Bilal (RA) .
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَکْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّيْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَثَنَی رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ أَنْبَأْتُکُمْ بِهِ وَلَکِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَکِّرُونِي وَإِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ
عثمان، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، حضرت علقمہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ کچھ زیادہ کیا یا کم جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے اس طرح نماز پڑھائی حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں پلٹے اور قبلہ رخ ہو کردو سجدے کئے پھر سلام پھیرا پھر اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف متوجہ کر کے فرمایا اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں بتادیتا لیکن میں تمہاری طرح کا انسان ہوں میں بھول بھی سکتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو لہذا جب بھول جایا کروں تو مجھے یاد دلایا کرو اور جب تم میں کسی کو اپنی نماز میں شک ہو تو خوب غور کرے پھر جو درست ہو اس کے مطابق نماز پوری کرے پھر دو سجدے کرکے سلام پھیر دے۔
Alqama narrated It on the authority of Abdullah (b. Masud) who said: The Messenger of Allah ﷺ said the prayer; (the narrator added): He made some act of omission or commission when he pronounced salutation; it was said to him: Messenger of Allah, is there something new about the prayer? He (the Holy Prophet) said: What is it? They said: You said prayer in such and such away. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) turned his feet and faced the Qibla and performed two prostrations and then pronounced salutations, and then turned his face towards us and said: If there is anything new about prayer (new command from the Lord) I informed you of that. But I am a human being and I forget as you forget, so when I forget, remind me, and when any one of you is in doubt about his prayer. he should aim at what is correct and complete his prayer in that respect and then make two prostrations.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ کِلَاهُمَا عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَی ذَلِکَ لِلصَّوَابِ وَفِي رِوَايَةِ وَکِيعٍ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ
ابوکریب، ابن بشر، محمد بن حاتم، وکیع، مسعر بن منصور اس سند کے ساتھ کچھ کچھ الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters, with a slight modification of words.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ و قَالَ مَنْصُورٌ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَی ذَلِکَ لِلصَّوَابِ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، وہیب بن خالد، منصور اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
This hadith is reported by Mansur with the same chain of transmitters, but with these words: "He should aim at correct (prayer) and it is advisable."
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ
اسحاق بن ابراہیم، عبیداللہ بن سعید اموی، سفیان منصور اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے صرف الفاظ کی تبدیلی ہے۔
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters with the words: "He should aim at what is correct and complete."
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِکَ إِلَی الصَّوَابِ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے راوی نے کہا کہ جو صحیح ہے اس میں غور کرے یہی درستگی کے زیادہ قریب ہے۔
This hadith has been reported by Mansur with the same chain of transmitters and he said: "He should aim at what is according to him correct."
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَی أَنَّهُ الصَّوَابُ
یحییٰ بن یحیی، فضیل بن عیاض، منصور اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Mansur and he said: "He should aim at correctness."
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ هَؤُلَائِ وَقَالَ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ
ابن ابی عمر، عبدالعزیز بن عبدالصمد، منصور اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Mansur and he said:
" He should aim at correctness."
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابی شعبہ، حکم، براہیم، علقمہ، عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پانچ رکعات پڑھا دیں جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیسے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعات پڑھا دیں پس آپ ﷺ نے دو سجدے کئے۔
Abdullah (b. Masud) reported: The Apostle of Allah ﷺ said five rakahs of the noon prayer and when he completed the prayer, it was said to him: Has there been (commanded) an addition in prayer? He said: What is it? They said: You have said five rakahs, so he performed two prostrations.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ صَلَّی بِهِمْ خَمْسًا
ابن نمیر، ابن ادریس، حسن بن عبیداللہ، ابراہیم، علقمہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
Alqama reported: He (the Holy Prophet) had led them five rakahs in prayer.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ صَلَّی بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ کَلَّا مَا فَعَلْتُ قَالُوا بَلَی قَالَ وَکُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ فَقُلْتُ بَلَی قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ لِي وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَاکَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ لَا قَالُوا فَإِنَّکَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَانْفَتَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حسن بن عبیداللہ، ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ ؓ نے ظہر کی نماز کی پانچ رکعات پڑھا دیں جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابوشبل آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دیں انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اس طرح نہیں کیا لوگوں نے کہا آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ میں ایک کونے میں تھا اور میں اس وقت تھا بھی کم سن میں نے بھی کہا کہ آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں وہ کہنے لگے اے کانے تو بھی اسی طرح کہتا ہے میں نے کہا ہاں، یہ سن کر وہ لوٹے اور پھر دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیرا اور پھر کہا کہ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھائیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کردیا آپ ﷺ نے پوچھا کیا بات ہے لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں آپ ﷺ نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا میں تمہاری طرح انسان ہوں میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو ابن نمیر کی حدیث میں یہ زائد ہے کہ جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرے۔
Ibrahim bin Suwaid-reported: Alqama led us in the noon prayer and be offered five rakahs; when the prayer was complete, the people said to him: Abu Shibl, you have offered five rakahs. He said: No, I have not done that. They said: Yes (you said five rakahs). He (the narrator) said: And I was sitting in a corner among people and I was just a boy. I (also) said: Yes, you have offered five (rakahs). He said to me: O, one-eyed, do you say the same thing? I said: Yes. Upon this he turned (his face) and performed two prostrations and then gave salutations, and then reported Abdullah as saying: The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer and offered five rakahs. And as he turned away the people began to whisper amongst themselves. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with you? They said: Has the prayer been extended? He said: No. They said: You have in fact said five rakahs. He (the Holy Prophet) then turned his back (and faced the Qibla) and performed two prostrations and then gave salutations and further said: Verily I am a human being like you, I forget just as you forget. Ibn Numair made this addition: "When any one of you forgets, he must perform two prostrations."
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْکُوفِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّهْشَلِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ أَذْکُرُ کَمَا تَذْکُرُونَ وَأَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ
عون بن سلام کوفی، ابوبکر نہشلی، عبدالرحمن، اسود، عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیسے؟ ہم نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح کا انسان ہوں میں بھی اسی طرح یاد کرتا ہوں جس طرح تم یاد کرتے ہو اور میں بھی بھول جاتا ہوں جس طرح کہ تم بھول جاتے ہو پھر آپ ﷺ نے بھولنے کے دو سجدے کئے۔
Abdullah (b. Masud) reported: The Messenger of Allah ﷺ led us five (rakahs in prayer). We said: Messenger of Allah, has the prayer been extended? He said: What is the matter? They said: You have said five (rakahs). He (the Holy Prophet) said: Verily I am a human being like you. I remember as you remember and I forget just as you forget. He then performed two prostrations as (compensation of) forgetfulness.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّي فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ زیادتی یا کچھ کمی کے ساتھ نماز پڑھائی راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ یہ وہم میری طرف سے ہے آپ ﷺ سے عرض کیا گیا، کہا اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو جب تم میں سے کوئی آدمی بھول جائے تو بیٹھ کردو سجدے کرے پھر رسول اللہ ﷺ قبلہ رخ ہوئے پھر دو سجدے کئے۔
Abdullah (b. Masud) reported: The Messenger of Allah ﷺ said prayer and he omitted or committed (something). Ibrahim (one of the narrators of this hadith) said: It is my doubt, and it was said: Messenger of Allah, has there been any addition to the prayer? He (the Holy Prophet) said: Verily I am a human being like you. I forget just as you forget so when any one of you forgets, he must perform two prostrations, and he (the Holy Prophet) was sitting and then the Messenger of Allah ﷺ turned (his face towards the Qibla) and performed two prostrations.
نماز میں بھولنے اور اس کے لئے سجدہ سہو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَالْکَلَامِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابن نمیر، حفص، معاویہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سلام اور بات کرنے کے بعد بھولنے کے دو سجدے کئے۔
Abdullah bin Masud reported: The Apostle of Allah ﷺ performed two prostrations for forgetfulness after salutation and talking.