نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ کَثِيرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَی رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ عَلَی غَيْرِ الْقِبْلَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْکَ إِلَّا أَنِّي کُنْتُ أُصَلِّي
ابوکامل، جحدری، حماد بن زید، کثیر بن عطاء، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ ﷺ نے مجھے ایک کام سے بھیجا جب میں واپس آیا تو آپ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کا چہرہ مبارک قبلہ کی طرف بھی نہیں تھا میں نے آپ ﷺ پر سلام کیا تو آپ ﷺ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا پھر جب نماز سے فارغ ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نماز میں تھا جس کی وجہ سے میں تمہارے سلام کا جواب نہ دے سکا۔
Jabir reported: We were in the company of the Messenger of Allah ﷺ , and he sent me on an errand, and when I came back (I saw him) saying prayer on his ride and his face was not turned towards Qibla. I greeted him but he did not respond to me. As he completed the prayer, he said: Nothing prevented me from responding to your greeting but the fact that I was praying.
نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادٍ
محمد بن حاتم، معلی بن منصور، عبدالوارث بن سعید، کثیر بن شنظیر، عطاء، حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک کام کے لئے بھیجا باقی حدیث وہی ہے جو گزر چکی ہے۔
This hadith that the Messenger of Allah ﷺ sent Jabir on an errand has been reported by him through another chain of transmitters.
دوران نماز شیطان پر لعنت کرنا اور اس سے پناہ مانگنا اور نماز میں عمل قلیل کرنے کے جواز میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِکُ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمْکَنَنِي مِنْهُ فَذَعَتُّهُ فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَی جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّی تُصْبِحُوا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ أَوْ کُلُّکُمْ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا و قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ
اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک بڑا جن میری نماز توڑنے کے لئے میری طرف بڑھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قبضہ میں کردیا میں نے اس کا گلا دبا دیا اور میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ جب صبح ہو تو سب لوگ اسے دیکھ لیں پھر مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان کی یہ دعا یاد آگئی اے پروردگار مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے پھر اللہ تعالیٰ نے اس جن کو ذلیل ورسوا کرتے ہوئے بھگا دیا۔
Abu Hurairah (RA) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: A highly wicked one amongst the Jinn escaped yester night to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman: "My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Quran, xxxvii. 35).
دوران نماز شیطان پر لعنت کرنا اور اس سے پناہ مانگنا اور نماز میں عمل قلیل کرنے کے جواز میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَوْلُهُ فَذَعَتُّهُ وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ فَدَعَتُّهُ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، شعبہ، ابن جعفر، حضرت شیبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted by Ibn Abi Shaiba.
دوران نماز شیطان پر لعنت کرنا اور اس سے پناہ مانگنا اور نماز میں عمل قلیل کرنے کے جواز میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ ثُمَّ قَالَ أَلْعَنُکَ بِلَعْنَة اللَّهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ کَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ الصَّلَاةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَمِعْنَاکَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْکَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِکَ وَرَأَيْنَاکَ بَسَطْتَ يَدَکَ قَالَ إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَائَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قُلْتُ أَلْعَنُکَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
محمد بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن وہب، معاویہ بن صالح، ربیعہ بن یزید، ابی ادریس خولانی، ابودرداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ( أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ ) آپ ﷺ فرماتے تھے میں اللہ تعالیٰ کی تجھ سے پناہ مانگتا ہوں پھر فرمایا کہ میں تجھ پر تین مرتبہ اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا جیسے کوئی چیز لے رہے ہوں جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم نے آپ ﷺ سے نماز میں کچھ کہتے ہوئے سنا جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنا اور ہم نے آپ ﷺ کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے بھی دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ میرا منہ جلائے تو میں نے ( أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ ) تین مرتبہ کہا پھر میں نے کہا کہ میں تجھ پر اللہ تعالیٰ کی پوری لعنت بھیجتا ہوں وہ تین مرتبہ تک پیچھے نہیں ہٹا پھر میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا اللہ کی قسم اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح تک بندھا رہتا اور مدینہ والوں کے لڑکے اس کے ساتھ کھیلتے۔
Abu Darda reported: Allahs Messenger ﷺ stood up (to pray) and we heard him say: "I seek refuge in Allah from thee." Then said: "curse thee with Allahs curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allahs enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times: "I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times: "I curse thee with Allahs full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. Thereafter I meant to seize him. I swear by Allah that had it not been for the supplication of my brother Sulaiman he would have been bound, and made an object of sport for the children of Madinah.
نماز میں بچوں کے اٹھانے کے جواز اور جب تک ناپاکی ثابت نہ ہو کپڑوں کے پاک ہونے اور علم قلیل اور اس طرح کے متفرق افعال سے نماز کے باطل نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِکٌ نَعَمْ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، قتیبہ بن سعید، مالک بن عامر، عبداللہ بن زبیر، یحییٰ بن یحیی، مالک، عامر بن عبداللہ بن زبیر، عمرو بن سلیم زرقی، ابوقتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ امامہ (جو کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت زیبب ؓ کی بیٹی ہیں) کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے یہ حضرت ابوالعاص ؓ کی بیٹی تھیں جب آپ ﷺ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو اسے زمین پر بٹھا دیتے۔
Abu Qatadah (RA) reported: I saw the Messenger of Allah ﷺ saying the prayer while he was carrying Umama, daughter of Zainab, daughter of the Messenger of Allah ﷺ . and Abul-As bin al-Rabi. When he stood up, he took her up and when he prostrated he put her down, Yahya said: Malik replied in the affirmative.
نماز میں بچوں کے اٹھانے کے جواز اور جب تک ناپاکی ثابت نہ ہو کپڑوں کے پاک ہونے اور علم قلیل اور اس طرح کے متفرق افعال سے نماز کے باطل نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَابْنِ عَجْلَانَ سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ وَهِيَ ابْنَةُ زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَاتِقِهِ فَإِذَا رَکَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنْ السُّجُودِ أَعَادَهَا
محمد بن ابی عمر، سفیان عثمان بن ابی سلیمان، ابن عجلان، عامر بن عبداللہ بن زبیر، عمرو بن سلیم زرقی ابوقتادہ انصاری سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کا امام بنے ہوئے اور امامہ حضرت ابوالعاص ؓ کی بیٹی اور آپ ﷺ کی (نواسی) آپ ﷺ کی بیٹی حضرت زینب ؓ کی بیٹی کو آپ ﷺ کے کندھے پر بیٹھا دیکھا اور جب آپ رکوع کرتے تو اسے آپ ﷺ نیچے بٹھا دیتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پھر اسے اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔
Abu Qatadah (RA) al-Ansari reported: I saw the Apostle ﷺ leading the people in prayer with Umama, daughter of Abul-As and Zainab, daughter of the Apostle of Allah ﷺ , on his shoulder. When he bowed, he put her down, and when he got up after prostration, he lifted her again.
نماز میں بچوں کے اٹھانے کے جواز اور جب تک ناپاکی ثابت نہ ہو کپڑوں کے پاک ہونے اور علم قلیل اور اس طرح کے متفرق افعال سے نماز کے باطل نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُکَيْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَی عُنُقِهِ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا
ابوطاہر، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، مخرمہ، عمرو بن سلیم، ابوقتادہ انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور حضرت ابوالعاص ؓ کی بیٹی امامہ آپ ﷺ کی گردن پر تھیں پھر جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو اسے نیچے بٹھا دیتے۔
Abu Qatadah (RA) reported: I saw the Messenger of Allah ﷺ leading the people in prayer with Umama daughter of Abul-As on his neck; and when he prostrated he put her down.
نماز میں بچوں کے اٹھانے کے جواز اور جب تک ناپاکی ثابت نہ ہو کپڑوں کے پاک ہونے اور علم قلیل اور اس طرح کے متفرق افعال سے نماز کے باطل نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُا بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ فِي تِلْکَ الصَّلَاةِ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن مثنی، ابوبکر حنفی، عبدالحمید بن جعفر، سعید مقبری، عمرو بن سلیم، ابوقتادہ انصاری فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لے آئے باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نماز میں لوگوں کے امام بنے۔
Abu Qatadah (RA) reported: As we were sitting in the mosque, the Messenger of Allah ﷺ came to us, and the rest of the hadith is the same except that he made no mention that he led people in this prayer.
نماز میں ایک دو قدم چلنے اور کسی ضرورت کے وجہ سے امام کا مقتدیوں سے (نسبتاً) بلند جگہ پر ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَفَرًا جَائُوا إِلَی سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ وَمَنْ عَمِلَهُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ فَحَدِّثْنَا قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی امْرَأَةٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ إِنَّهُ لَيُسَمِّهَا يَوْمَئِذٍ انْظُرِي غُلَامَکِ النَّجَّارَ يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أُکَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ فَهِيَ مِنْ طَرْفَائِ الْغَابَةِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ فَکَبَّرَ وَکَبَّرَ النَّاسُ وَرَائَهُ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَی حَتَّی سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ حَتَّی فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، یحیی، عبدالعزیز بن ابی حازم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ؓ کے پاس آئے اور منبر کے بارے میں آپس میں جھگڑنے لگے کہ وہ کس لکڑی کا تھا انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ کس قسم کی لکڑی کا تھا اور کس نے اسے بنایا تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو پہلے دن اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا میں نے اس سے کہا اے ابوالعباس ہمیں بیان کرو۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی طرف اپنا قاصد بھیجا راوی ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ؓ اس دن اس عورت کا نام لے رہے تھے، کہ تو اپنے لڑکے کو جو کہ بڑھئی ہے کہہ دے کہ میرے لئے ایک منبر بنا دے کہ جس پر میں بیٹھ کر لوگوں سے بات کروں چناچہ اس لڑکے نے تین سیڑھیوں کا ایک منبر بنادیا پھر رسول اللہ ﷺ کے حکم پر وہ منبر اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور منبر کی لکڑی غابہ کے مقام کی جھاؤ کی لکڑی تھی اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور آپ ﷺ منبر پر تھے پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا الٹے پاؤں نیچے اتر کر منبر کی جڑ میں سجدہ کیا پھر آپ ﷺ لوٹے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوگئے پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگو میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم میری اقتدا کرو اور تم میری طرح نماز پڑھنا سیکھ لو۔
Abu Hazim is reported on the authority of his father: Some people came to Sahl bin Sad and began to differ about the wood of which the (Prophets pulpit was made. He (Sahl bin Sad) said: By Allah, I know of which wood it is made and who made it, and the day when I saw the Messenger of Allah ﷺ seated himself on it on the first day. I said to him: O Abu Abbas (kunyah of Sabl bin Sad), narrate to us (all these facts), He said: The Messenger of Allah ﷺ sent a person to a woman asking her to allow her slave, a carpenter, to work on woods (to prepare a pulpit) so that I should talk to the people (sitting on it). Abu Hazim said: He (Sahl bin Sad) pointed out the name of (that lady) that day. So he (the carpenter) made (a pulpit) with these three steps. Then the Messenger of Allah ﷺ commanded it to be placed here (where it is lying now). It was fashioned out of the wood of al-Ghaba. And I saw the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) standing upon it and glorifying Allah and the people also glorified Allah after him, while he was on the pulpit. He then raised (his head from prostration) and stepped back (on his heels) till he prostrated himself at the base of pulpit, and then returned (to the former place and this movement of one or two steps continued) till the prayer was complete. He then turned towards the people and said: O people, I have done it so that you should follow me and learn (my mode of) prayer.
نماز میں ایک دو قدم چلنے اور کسی ضرورت کے وجہ سے امام کا مقتدیوں سے (نسبتاً) بلند جگہ پر ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد، عبداللہ بن عبدالقاری قرشی، ابوحازم، سہل بن سعد ساعدی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ابوحازم سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
Abu Hazim reported: They (the people) came to Sahl bin Sad and they asked him of what thing the pulpit of the Apostle of Allah ﷺ was made, and the rest of the hadith is the same.
نماز کے دوران کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حکم بن موسی، عبداللہ بن مبارک، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد، ابواسامہ، ہشام، محمد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی نماز کی حالت میں کوکھ پر ہاتھ رکھے اور ابوبکر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported from the Apostle of Allah ﷺ that he forbade keeping ones hand on ones waist while praying, and in the narration of Abu Bakr (RA) (the words are): The Messenger of Allah ﷺ forbade to do so.
نماز کی حالت میں کنکریاں صاف کرنے اور مٹی برابر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُعَيْقِيبٍ قَالَ ذَکَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْحَ فِي الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْحَصَی قَالَ إِنْ کُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام دستوائی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، معیقیب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سجدہ کی جگہ میں سے کنکریاں صاف کرنے کے بارے میں فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی پڑجائے تو صرف ایک بار کرو۔
Muaiqib quoted the Apostle of Allah ﷺ mentioning the removal of pebbles from the ground where he prostrated himself. He (the Prophet) said: It you must do so, do it only once.
نماز کی حالت میں کنکریاں صاف کرنے اور مٹی برابر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُعَيْقِيبٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَسْحِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ وَاحِدَةً
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، معیقب فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے نماز میں کنکریاں صاف کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ۔
Muaiqib said: They asked the Apostle ﷺ about the removal of (pebbles) in prayer, whereupon he said: If you do it, do it only once.
نماز کی حالت میں کنکریاں صاف کرنے اور مٹی برابر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِيهِ حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ
عبیداللہ بن عمرقواریری، خالد بن حارث، ہشام اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
Tried much yet could not catch it.
نماز کی حالت میں کنکریاں صاف کرنے اور مٹی برابر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ إِنْ کُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسی، شیبان، یحیی، ابوسلمہ، معیقب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدہ والی جگہ سے مٹی برابر کرنے والے ایک آدمی سے فرمایا اگر تمہیں ایسا کرنا ہی پڑجائے تو ایک مرتبہ کرو۔
Muaiqib said:
They asked the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) about the removal of (pebbles) in prayer, whereupon he said: If you do it, do it only once.
مسجد میں نماز کی حالت میں اور نماز کے علاوہ تھوکنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَکَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّی
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مالک، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف دیوار میں تھوک لگا ہوا دیکھا آپ ﷺ نے اسے کھرچ دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے چہرے کے سامنے نہ تھوکے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے سامنے ہوتے ہیں جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ saw spittle on the wall towards Qibla, and scratched it away and then turning to the people said: When any one of you prays, he must not spit in front of him, for Allah is in front of him when he is engaged in prayer.
مسجد میں نماز کی حالت میں اور نماز کے علاوہ تھوکنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَی نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ إِلَّا الضَّحَّاکَ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ، قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث، بن سعد، زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، ایوب ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک ابن عثمان، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، ابن عمر سے نبی سے اس سند کے ساتھ کچھ الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ saw sputum sticking to the Qibla wall of the mosque, the rest of the hadith is the same.
مسجد میں نماز کی حالت میں اور نماز کے علاوہ تھوکنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَکَّهَا بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَی أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ أَمَامَهُ وَلَکِنْ يَبْزُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَی
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری، حمید بن عبدالرحمن، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مسجد میں قبلہ رخ میں بلغم لگا دیکھا آپ ﷺ نے اسے ایک کنکری کے ساتھ کھرچ دیا پھر آپ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی اپنی دائیں طرف یا اپنے سامنے کی طرف تھوکے بلکہ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے۔
Abu Said al-Khudri reported: The Apostle of Allah ﷺ saw sputum sticking to the Qibla of the mosque. He scratched it off with a pebble and then forbade spitting on the right side or in front, but (it is permissible) to spit on the left side or under the left foot.
مسجد میں نماز کی حالت میں اور نماز کے علاوہ تھوکنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ قَالَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی نُخَامَةً بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
Abu Hurairah (RA) and Abu Said narrated that the Messenger of Allah ﷺ saw sputum, and the rest of the hadith is the same.