مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِيَائِ بِسِتٍّ أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھ وجوہ سے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم عطا فرمائے گئے، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا اور میرے لئے تمام روئے زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ بنادی گئی اور مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت ختم کردی گئی۔ (یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں)
Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been given superiority over the other prophets in six respects: I have been given words which are concise but comprehensive in meaning; I have been helped by terror (in the hearts of enemies): spoils have been made lawful to me: the earth has been made for me clean and a place of worship; I have been sent to all mankind and the line of prophets is closed with me.
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا
ابوطاہر، حرملہ ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جَوَامِعِ الْکَلِمِ کے ساتھ مبعوث کیا گیا، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی، خواب میں زمین کے خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئیں، حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تو دنیا سے تشریف لے گئے اور تم وہ خزانے نکال رہے ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I have been commissioned with words which are concise but comprehensive in meaning; I have been helped by terror (in the hearts of enemies): and while I was asleep I was brought the keys of the treasures of the earth which were placed in my hand. And Abi Hurairah added: The Messenger of Allah ﷺ has left (for his heavenly home) and you are now busy in getting them.
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ حَدَّثَنَا
حاجب بن ولید، محمد بن حرب، زبیدی، زہری، سعید بن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔
This hadith has been narratted by Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters.
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن مسیب، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا۔
This hadith has been narratted by Abu Huraira by another chain of transmitters.
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَی الْعَدُوِّ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ
ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابویونس مولیٰ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دشمن کے مقابلہ میں رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جَوَامِعِ الْکَلِمِ عطا فرمائے گئے اور سونے کی حالت میں زمین کے خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئی ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I have been helped by terror (in the heart of the enemy); I have been given words which are concise but comprehensive in meaning; and while I was asleep I was brought the keys of the treasures of the earth which were placed in my hand.
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس حدیث کا ذکر کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جَوَامِعِ الْکَلِمِ عطا فرمائے گئے ہیں۔
Hammam bin Munabbih reported: That is what Abu Hurairah (RA) reported to us from the Messenger of Allah ﷺ and he narrated (some) ahadith one of which is that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been helped by terror (in the hearts of enemies) and I have been given words which are concise but comprehensive in meaning.
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَی مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ قَالَ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّی أَلْقَی بِفِنَائِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَکَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَی مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِکُمْ هَذَا قَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَی اللَّهِ قَالَ أَنَسٌ فَکَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ کَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِکِينَ وَخِرَبٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِکِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ فَکَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْفَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
یحییٰ بن یحیی، شیبان بن فروخ، عبدالوارث، یحیی، عبدالوارث ابن سعید، ابی تیاح، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ پہنچے اور شہر کے بالائی علاقہ کے ایک محلہ میں تشریف لے گئے آپ ﷺ نے وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا پھر آپ ﷺ نے قبیلہ بنو نجار کو بلوایا وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے حضرت انس ؓ کہتے ہیں یہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا تھا آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور بنو نجار آپ کے ارد گرد تھے آپ ﷺ حضرت ابوایوب کے گھر کے صحن میں اترے حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ جہاں نماز کا وقت پاتے وہیں نماز پڑھ لیتے تھے یہاں تک کہ بکریوں کے باڑہ میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا اور بنو نجار کو بلوایا جب وہ آئے تو فرمایا تم اپنا باغ مجھے فروخت کردو انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم تو آپ ﷺ سے اس باغ کی قیمت نہیں لیں گے ہم اس کا معاوضہ صرف اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ اس باغ میں جو چیزیں تھیں انہیں میں بتاتا ہوں اس میں کچھ کھجوروں کے درخت، مشرکین کی قبریں اور کھنڈرات تھے پس رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے درختوں کے کاٹنے کا حکم دیا وہ کاٹ دئے گئے مشرکین کی قبریں اکھاڑ کر پھینک دی گئیں اور کھنڈرات ہموار کر دئیے گئے اور کھجور کی لکڑیاں قبلہ کی طرف گاڑھ دی گئیں اور اس کے دونوں طرف پتھر لگا دئیے گئے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رجزیہ کلمات پڑھ رہے تھے۔ اے اللہ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ came to Madinah and stayed in the upper part of Madinah for fourteen nights with a tribe called Banu Amr b Auf. He then sent for the chiefs of Banu al-Najir, and they came with swords around their necks. He (the narrator) said: I perceive as if I am seeing the Messenger of Allah ﷺ on his ride with Abu Bakr (RA) behind him and the chiefs of Banu al-Najjar around him till he alighted in the courtyard of Abu Ayyub. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ﷺ said prayer when the time came for prayer, and he prayed in the fold of goats and sheep. He then ordered mosques to be built and sent for the chiefs of Banu al-Najjar, and they came (to him). He (the Holy Prophet) said to them: O Banu al-Najjar, sell these lands of yours to me. They said: No, by Allah. we would not demand their price, but (reward) from the Lord. Anas said: There (in these lands) were trees and graves of the polytheists, and ruins. The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) ordered that the trees should be cut, and the graves should be dug out, and the ruins should be leveled. The trees (were thus) placed in rows towards the qibla and the stones were set on both sides of the door, and (while building the mosque) they (the Companions) sang rajaz verses along with the Messenger of Allah ﷺ :
O Allah: there is no good but the good of the next world, So help the Ansar and the Muhajirin.
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَبْلَ أَنْ يُبْنَی الْمَسْجِدُ
عبیداللہ بن معاذ عبنری، شعبہ، ابوتیاح، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد بننے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ used to pray in the folds of the sheep and goats before the mosque was built.
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيْبٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن یحیی، خالد بن حارث، شعبہ، ابی تیاح، انس ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان اسی طرح نقل کیا ہے۔
Abu al-Tiyyah reported: I heard from Anas a narration like this from the Messenger of Allah ﷺ .
بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا حَتَّی نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ وَحَيْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَکُمْ شَطْرَهُ فَنَزَلَتْ بَعْدَمَا صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَحَدَّثَهُمْ فَوَلَّوْا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواحوص، ابی اسحاق، حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سولہ مہینہ تک نماز پڑھی یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ جو سورت البقرہ میں نازل ہوئی اور تم جہاں کہیں بھی ہو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلو یہ آیت کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب نبی ﷺ نے نماز پڑھ لی لوگوں میں سے ایک آدمی یہ حکم سن کر چلا راستہ میں انصار کی ایک جماعت کو نماز پڑھتے ہوئے پایا اس آدمی نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو وہ لوگ سنتے ہی بیت اللہ کی طرف پھرگئے۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported: I said prayer with the Apostle ﷺ turning towards Bait-ul-Maqdis for sixteen months till this verse of Surah Baqarah was revealed:" And wherever you are turn your faces towards it" (ii. 144). This verse was revealed when the Apostle ﷺ had said prayer. A person amongst his people passed by the people of Ansar as they were engaged in prayer. He narrated to them (this command of Allah) and they turned their faces towards the Ka’bah.
بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفْنَا نَحْوَ الْکَعْبَةِ
محمد بن مثنی، ابوبکر بن خلاد، یحییٰ ابن مثنی، یحییٰ بن سعید، سفیان، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سولہ یا سترہ مہینوں تک نماز پڑھی پھر ہمیں کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔
Abu Ishaq reported: I heard al-Bara saying: We prayed with the Messenger of Allah ﷺ (with our faces) towards Bait-ul-Maqdis for sixteen months or seventeen months. Then we were made to change (our direction) towards the Ka’bah.
بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِقُبَائٍ إِذْ جَائَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَةَ فَاسْتَقْبَلُوهَا وَکَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَی الْکَعْبَةِ
شیبان بن فروخ، عبدالعزیز بن مسلم، عبداللہ بن دینار، ابن عمر، قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ صبح کی نماز قباء میں پڑھ رہے تھے اسی دوران ایک آنے والے نے آکر کہا کہ رات کو رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے اور بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے پہلے ان کے منہ شام کی طرف تھے پھر کعبہ کی طرف گھوم گئے۔
Ibn Umar reported: As the people were praying at Quba a man came to them and said: It has been revealed to the Messenger of Allah ﷺ during the night and he has been directed to turn towards the Ka’bah. So turn towards it. Their faces were towards Syria and they turned round towards Ka’bah.
بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِذْ جَائَهُمْ رَجُلٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، موسیٰ بن عقبہ، نافع ابن عمر، عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر ؓ سے ایک اور سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
Ibn Umar reported: As the people were engaged in the morning prayer a man came to them. The rest of the hadith is the same.
بیت المقدس سے کعبة اللہ کی طرف قبلہ بدلنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَتْ قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِي السَّمَائِ فَلَنُوَلِّيَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُکُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَقَدْ صَلَّوْا رَکْعَةً فَنَادَی أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ فَمَالُوا کَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے پس یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی تحقیق ہم آپ ﷺ کا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا ہوا دیکھ رہے ہیں ہم ضرور آپ ﷺ کو اس طرف پھیر دیں گے جس طرف کا آپ ﷺ قبلہ پسند کرتے ہیں پس آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے، بنو سلمہ میں سے ایک آدمی ادھر سے گزر رہا تھا وہ فجر کی نماز میں رکوع کی حالت میں تھے اور ایک رکعت بھی پڑھ لی تھی اس آدمی نے بلند آواز سے کہا کہ قبلہ بدل گیا ہے یہ سنتے ہی وہ لوگ اسی حالت میں قبلہ کی طرف پھرگئے۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ used to pray towards Bait-ul-Maqdis, that it was revealed (to him):" Indeed We see the turning of the face to heaven, wherefore We shall assuredly cause thee to turn towards Qibla which shall please thee. So turn thy face towards the sacred Mosque (Ka’bah)" (ii. 144). A person from Banu Salama was going; (he found the people) in ruku (while) praying the dawn prayer and they had said one rakah. He said in a loud voice: Listen! the Qibla has been changed and they turned towards (the new) Qibla (Ka’bah) in that very state.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَکَرَتَا کَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُولَئِکِ إِذَا کَانَ فِيهِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَی قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْکِ الصُّوَرَ أُولَئِکِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید قطان، ہشام، ان کے والد، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس میں تصویریں لگی ہوئی تھیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا یہی حال تھا کہ جب ان میں کوئی نیک مرجاتا تھا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور وہیں تصویر بناتے یہی لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین مخلوق ہوں گے۔
Aisha reported: Umm Habiba and Umm Salamah made a mention before the Messenger of Allah ﷺ of a church which they had seen in Abyssinia and which had pictures in it. The Messenger of Allah ﷺ said: When a pious person amongst them (among the religious groups) dies they build a place of worship on his grave, and then decorate it with such pictures. They would be the worst of creatures on the Day of Judgment in the sight of Allah.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُمْ تَذَاکَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَذَکَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ کَنِيسَةً ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، وکیع، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات میں آپ ﷺ کے پاس لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے تو حضرت ام سلمہ ؓ اور حضرت ام حبیبہ ؓ نے بھی ایک گرجا کا ذکر کیا پھر وہی حدیث ذکر فرمائی جو گزر چکی۔
Aisha reported: They (some Companions of the Holy Prophet) were conversing with one another in the presence of the Messenger of Allah ﷺ (during his last) illness. Umm Salamah and Umm Habiba made a mention of the church and then (the hadith was) narrated.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذَکَرْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ
ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام، ان کے والد، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اسے ماریہ کہا جاتا ہے باقی حدیث وہی ہے جیسے گزر چکی۔
Aisha reported: The wives of the Apostle of Allah ﷺ (may peace be Upon him) made a mention of the church which they had seen in Abyssinia which was called Marya, and the rest of the hadith is the same.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَتْ فَلَوْلَا ذَاکَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَلَوْلَا ذَاکَ لَمْ يَذْکُرْ قَالَتْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ہاشم بن قاسم، شیبان، ہلال بن ابی حمید، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں آپ ﷺ کھڑے نہیں ہوئے (یعنی دوبارہ تندرست نہیں ہوئے) اس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اگر آپ کو اس بات کا خیال نہ ہوتا تو آپ ﷺ اپنی قبر مبارک کو ظاہر کردیتے سوائے اس کے کہ آپ ﷺ کو اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں آپ ﷺ کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ said during his illness from which he never recovered: Allah cursed the Jews and the Christians that they took the graves of their prophets as mosques. She (Aisha) reported: Had it not been so, his (Prophets) grave would have been in an open place, but it could not be due to the fear that it may not be taken as a mosque.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَمَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، یونس، مالک، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ و برباد کر دے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Let Allah destroy the Jews for they have taken the graves of their apostles as places of worship.
قبروں پر مسجد بنانے اور ان پر مردوں کی تصویریں رکھنے اور ان کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
قتیبہ بن سعید، عبیداللہ بن اصم، یزید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہود و نصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Let there be curse of Allah upon the Jews and the Christians for they have taken the graves of their apostles as places of worship.